ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 89

فَاصۡفَحۡ عَنۡہُمۡ وَ قُلۡ سَلٰمٌ ؕ فَسَوۡفَ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿٪۸۹﴾
پس ان سے درگزر کر اورکہہ سلام ہے، پس عنقریب وہ جان لیں گے۔ En
تو ان سے منہ پھیر لو اور سلام کہہ دو۔ ان کو عنقریب (انجام) معلوم ہوجائے گا
En
پس آپ ان سے منھ پھیر لیں اور کہہ دیں۔ (اچھا بھائی) سلام! انہیں عنقریب (خود ہی) معلوم ہوجائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 89) {فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ …:} یعنی آپ کی فریاد ہم نے سن لی، اب ہم جانیں اور وہ، آپ ان سے درگزر کریں اور ان سے براء ت اور قطع تعلق کے اظہار کے لیے کہہ دیں کہ سلام ہے۔ چنانچہ وہ بہت جلد جان لیں گے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

89۔ 1 یعنی دین کے معاملے میں میری اور تمہاری راہ الگ الگ ہے، تم اگر باز نہیں آتے تو اپنا عمل کئے جاؤ، میں اپنا کام کئے جا رہا ہوں، عنقریب معلوم ہوجائے گا سچا کون ہے اور جھوٹا کون؟

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

89۔ لہٰذا ان سے درگزر کیجئے اور کہئے سلام [81] ہو تمہیں۔ عنقریب انہیں (سب کچھ) معلوم ہو جائے گا۔
[81] یہ سلام دراصل ترک ملاقات کا سلام ہے جو کسی کی شرارتوں اور حرکتوں سے تنگ آکر کہا جاتا ہے کہ تم اپنے حال میں مگن رہو اور مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ یعنی آپ ان کافروں سے اور ان کی کج بحثیوں سے درگزر کیجئے۔ وہ وقت بس آنے ہی والا ہے جب ساری حقیقت کھل کر ان کے سامنے آجائے گی۔ چنانچہ اس حقیقت کا بہت حد تک تو ان مشرکوں کو دنیا میں ہی پتا چل گیا۔ اور پورا پتا آخرت کو لگ جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔