(آیت 78) {لَقَدْجِئْنٰكُمْبِالْحَقِّوَلٰكِنَّاَكْثَرَكُمْ …:} اس آیت میں اللہ تعالیٰ کا خطاب اہلِ جہنم سے بھی مراد ہو سکتا ہے اور دنیا میں قریش اور دوسرے کفار سے بھی۔ پہلی صورت میں جو فرمایا کہ تم میں سے اکثر حق کو ناپسند کرنے والے تھے تو اس لیے کہ ان کے قلیل لوگ حق کو ناپسند کرنے والے نہیں تھے، وہ تو اپنے اکابر و سادات کی اندھا دھند پیروی کرنے کی وجہ سے کفر پر قائم رہنے والے تھے۔ اکثر وہی تھے جو حق کو پہچانتے تھے مگر اپنے مفادات اور خواہشات سے متصادم ہونے کی وجہ سے اس سے نفرت کرتے تھے۔ دوسری صورت میں دنیا میں کفار کا حال بیان فرمایا کہ ان کے اکثر حق آنے کے بعد اپنی خواہشات کے خلاف ہونے کی وجہ سے اسے ناپسند کرنے والے ہوتے ہیں۔ رہے کم لوگ تو وہ پسند یا ناپسند کی وجہ سے نہیں بلکہ تقلید کی وجہ سے کفر پر جمے رہتے ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
78۔ 1 یہ اللہ کا ارشاد ہے یا فرشتوں کا ہی قول بطور نیابت الٰہی ہے۔ جیسے کوئی افسر مجاز ' ہم ' کا استعمال حکومت کے مفہوم میں کرتا ہے۔ اکثر سے مراد کل ہے یعنی سارے ہی جہنمی، یا پھر اکثر سے مراد رؤسا اور لیڈر ہیں۔ باقی جہنمی ان کے پیروکار ہونے کی حیثیت سے اس میں شامل ہونگے۔ حق سے مراد، اللہ کا وہ دین اور پیغام ہے جو وہ پیغمبروں کے ذریعے سے ارسال کرتا رہا۔ آخری حق قرآن اور دین اسلام ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
78۔ ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے لیکن تم میں [73] سے اکثر حق سے نفرت کرتے تھے“
[73] یہ کلام دوزخ کے فرشتہ مالک کا بھی ہو سکتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ کا نائب ہونے کی حیثیت سے بات کر رہا ہو۔ اور خود اللہ تعالیٰ کا بھی۔ یعنی ایسی سخت سزا تمہیں اس لیے دی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی سچی باتیں تم سننا بھی گوارا نہ کرتے تھے تمہاری اسی اکڑ کا یہ علاج کیا جا رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔