(آیت 77) {وَنَادَوْايٰمٰلِكُلِيَقْضِعَلَيْنَارَبُّكَ …: ”قَضٰيعَلَيْهِ“} کا معنی کام تمام کرنا، یعنی موت دے دینا ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَوَكَزَهٗمُوْسٰىفَقَضٰىعَلَيْهِ»[القصص: ۱۵]”تو موسیٰ نے اسے گھونسا مارا تو اس کا کام تمام کر دیا۔“ {”مالك“} جہنم کے خازن (دربان) فرشتے کا نام ہے۔ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی طویل حدیث میں ہے کہ خواب میں جبریل اور میکائیل علیھما السلام نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت سی چیزوں کا مشاہدہ کروایا اور بعد میں ان کی حقیقت بیان کی۔ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [فَانْطَلَقْنَافَأَتَيْنَاعَلٰیرَجُلٍكَرِيْهِالْمَرْآةِكَأَكْرَهِمَاأَنْتَرَاءٍرَجُلاًمَرْآةً،فَإِذَاعِنْدَهُنَارٌيَحُشُّهَاوَيَسْعٰيحَوْلَهَا،قَالَقُلْتُلَهُمَامَاهٰذَا؟]”پھر ہم آگے بڑھے تو ایک آدمی کے پاس پہنچے جو دیکھنے میں بہت بد صورت تھا، اتنا جتنا کہ کوئی دیکھنے میں زیادہ سے زیادہ بدصورت ہو سکتا ہے۔ اس کے پاس آگ ہے، وہ اسے بھڑکا رہا ہے اور اس کے اردگرد دوڑ رہا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے ان دونوں سے پوچھا: ”یہ کون ہے؟“ حدیث کے آخر میں جب فرشتے نے سب چیزوں کے متعلق بتایا تو کہا: [وَأَمَّاالرَّجُلُالْكَرِيْهُالْمَرْآةِالَّذِيْعِنْدَالنَّارِيَحُشُّهَاوَيَسْعٰیحَوْلَهَافَإِنَّهُمَالِكٌخَازِنُجَهَنَّمَ][بخاري، التعبیر، باب تعبیر الرؤیا بعد صلاۃ الصبح: ۷۰۴۷]”آگ کے پاس دیکھنے میں جو بدصورت آدمی تم نے دیکھا جو اسے بھڑکا رہا تھا اور اس کے گرد دوڑ رہا تھا وہ جہنم کا خازن مالک ہے۔“ کفار جہنم کے فرشتوں کو اللہ سے ان کے عذاب میں کچھ نہ کچھ تخفیف کرنے کی دعا کے لیے کہیں گے۔ جب اس سے ناامید ہوں گے تو جہنم کے خازن مالک کو آواز دیں گے کہ اپنے رب سے دعا کر کہ ہمیں موت دے دے۔ وہ کہے گا، تم یہیں رہنے والے ہو۔ غرض وہ اس عذاب سے کسی طرح نجات نہیں پائیں گے۔ دوسری جگہ فرمایا: «وَالَّذِيْنَكَفَرُوْالَهُمْنَارُجَهَنَّمَلَايُقْضٰىعَلَيْهِمْفَيَمُوْتُوْاوَلَايُخَفَّفُعَنْهُمْمِّنْعَذَابِهَاكَذٰلِكَنَجْزِيْكُلَّكَفُوْرٍ»[فاطر: ۳۶]”اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ان کے لیے جہنم کی آگ ہے، نہ ان کا کام تمام کیا جائے گا کہ وہ مر جائیں اور نہ ان سے اس کا کچھ عذاب ہی ہلکا کیا جائے گا۔ ہم ایسے ہی ہر ناشکرے کو بدلا دیا کرتے ہیں۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
77۔ 1 مالک، دروغہ جہنم کا نام ہے۔ 77۔ 2 یعنی ہمیں موت ہی دے دے تاکہ عذاب سے جان چھوٹ جائے۔ 77۔ 3 یعنی وہاں موت کہاں؟ لیکن یہ عذاب کی زندگی موت سے بھی بدتر ہوگی، تاہم اس کے بغیر بھی چارہ نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
77۔ وہ پکاریں گے: ”اے مالک! تمہارا پروردگار ہمارا کام ہی تمام کر دے (تو اچھا ہے) [72] وہ کہے گا: تم ہمیشہ یہیں رہو گے
[72] اہل دوزخ عذاب کی شدت میں کمی یا وقفہ سے سخت مایوس ہو کر دوزخ کے فرشتہ کو، جس کا نام مالک ہو گا، پکار کر کہیں گے، مالک! نہ ہمارے عذاب میں کمی واقعی ہوتی ہے نہ کبھی وقفہ پڑتا ہے تو اپنے پروردگار سے کہہ کہ ہمیں ایک ہی دفعہ مار ڈالے۔ اور یہ عذاب کا قصہ ختم ہو۔ مالک کہے گا۔ تمہارے جرائم کی سزا کے لیے بہت طویل مدت درکار ہے۔ لہٰذا مر جانے کا تصور ذہن سے نکال دو۔ تمہیں زندہ رکھ کر ہی سزا دی جا سکتی ہے۔ لہٰذا تمہیں یہیں رہنا ہو گا اور زندہ ہی رکھا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔