(آیت 76) {وَمَاظَلَمْنٰهُمْوَلٰكِنْكَانُوْا …:} یہاں خیال ہو سکتا تھا کہ اتنی بڑی اور دائمی سزا تو ظلم ہے، اس لیے فرمایا کہ ہم نے ان پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا، کیونکہ یہ محال ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر ظلم کرے، بلکہ وہ خود ہی ظلم کرنے والے تھے، حتیٰ کہ ظالم ہونا ان کی صفت اور پہچان بن گیا، کیونکہ ظلم ان کا دائمی عمل اور ان کی عادت اور جبلت بن چکا تھا، ان کی نیت اور ارادہ یہی تھا کہ جب تک رہیں گے اسی پر قائم رہیں گے، اگر ان کے بس میں ہوتا تو وہ کبھی نہ مرتے اور ہمیشہ ظلم و شرک پر جمے رہتے۔ چونکہ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے، اس لیے انھیں ہمیشہ ظلم کی نیت پر ہمیشہ کا عذاب دیا گیا اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ظالم تھے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ یہ خود [71] ہی ظالم تھے
[71] یعنی ہم نے انہیں ایسے عذاب سے بچاؤ کے لیے پوری طرح بروقت خبردار کر دیا تھا۔ اور اس میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ سمجھنے کو انہیں عقل بھی دی تھی۔ رسول بھی بھیجے تھے اور کتاب ہدایت بھی۔ اس طرح ہم نے ہر طرح سے ان پر حجت تمام کر دی تھی۔ پھر بھی انہوں نے اگر عذاب سے بچنے کی کوشش نہیں کی تو اس میں ہمارا کیا قصور؟ قصور تو ان کا اپنا ہی ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔