(آیت 73){ لَكُمْفِيْهَافَاكِهَةٌكَثِيْرَةٌمِّنْهَاتَاْكُلُوْنَ:} انسان کی مطلوبہ چیزوں یعنی کھانے پینے، نکاح اور آرام و آسائش وغیرہ میں سب سے عام ضرورت اور طلب کھانے کی چیزوں کی ہوتی ہے، جن میں پھلوں کو خاص مقام حاصل ہے، کیونکہ لذت میں انھیں بہت برتری حاصل ہے۔ {”فَاكِهَةٌ“} کے لفظ ہی میں لذت کا مفہوم شامل ہے۔ دنیا میں فواکہ جتنے بھی ہوں کم ہیں، جبکہ آخرت میں مسلمانوں کے لیے فواکہ کثیر تعداد میں ہوں گے، جو اتنے وافر ہوں گے کہ وہ ان میں سے کچھ ہی کھا سکیں گے، یعنی {”مِنْهَاتَاْكُلُوْنَ“} اور وہ کبھی ختم نہیں ہوں گے، فرمایا: «لَامَقْطُوْعَةٍوَّلَامَمْنُوْعَةٍ» [الواقعۃ: ۳۳]”جو نہ کبھی ختم ہوں گے اور نہ ان سے کوئی روک ٹوک ہو گی۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
73۔ وہاں تمہارے لئے بہت سے میوے ہوں گے جنہیں تم کھاؤ گے
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔