اَمۡ اَنَا خَیۡرٌ مِّنۡ ہٰذَا الَّذِیۡ ہُوَ مَہِیۡنٌ ۬ۙ وَّ لَا یَکَادُ یُبِیۡنُ ﴿۵۲﴾
تو کیا تم نہیں دیکھتے؟ بلکہ میں اس شخص سے بہتر ہوں، وہ جو حقیر ہے اور قریب نہیں کہ وہ بات واضح کرے۔
En
بےشک میں اس شخص سے جو کچھ عزت نہیں رکھتا اور صاف گفتگو بھی نہیں کرسکتا کہیں بہتر ہوں
En
بلکہ میں بہتر ہوں بہ نسبت اس کے جو بےتوقیر ہے اور صاف بول بھی نہیں سکتا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 52) ➊ {اَمْ اَنَا خَيْرٌ مِّنْ هٰذَا الَّذِيْ هُوَ مَهِيْنٌ: ” مَهُنَ يَمْهُنُ مَهَانَةً “} (ک) کے معنی ہیں {”حَقُرَ وَضَعُفَ۔“ ” مَهِيْنٌ “} بروزن {”فَعِيْلٌ“} حقیر، ضعیف۔ {” اَمْ “} سے پہلے ایک جملہ ہمزہ استفہام پر مشتمل ہوتا ہے، جو یہاں اس مفہوم کا ہو گا کہ ”کیا یہ شخص یعنی موسیٰ(علیہ السلام) بہتر ہے یا میں بہتر ہوں…؟“ {” اَمْ “ ” بَلْ“} کے معنی میں بھی آتا ہے، اس صورت میں معنی یہ ہو گا: ”بلکہ میں بہتر ہوں…۔“
➋ فرعون موسیٰ علیہ السلام کی تحقیر کے لیے زیادہ سے زیادہ جو الفاظ استعمال کر سکتا تھا اس نے وہ کیے۔ ان میں سے لفظ {” هٰذَا “} بھی حقارت کے اظہار کے لیے ہے، یعنی ”اس شخص سے جو حقیر ہے۔“ وہ موسیٰ علیہ السلام کو اس لیے حقیر کہہ رہا تھا کہ ان کے پاس اس جیسی نہ دولت تھی نہ قوت و سلطنت، بلکہ وہ اس کی غلام قوم کے ایک فرد تھے اور غلام تو حقیر ہی سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ عجیب حقیر شخص تھا جس سے فرعون بھی شدید خوف زدہ تھا، ہر عذاب پر اس کے سامنے دعا کے لیے منت و سماجت کرتا تھا، اپنی ساری شان و شوکت، قوت و اقتدار اور افواجِ قاہرہ کے باوجود اسے اپنے دربار میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا تھا، جب کہ اس کے پاس نہ فوج تھی نہ اسلحہ، صرف ایک عصا ہاتھ میں لیے جب چاہتا اس کے سر پر پہنچ جاتا۔ اور یہ عجیب حقیر شخص تھا جس کے متعلق وہ اپنے سرداروں سے کہتا تھا: ”مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔“ (دیکھیے مومن: ۲۶) حالانکہ کسی نے اسے قتل کرنے سے نہیں روکا تھا اور فرعون میں یہ جرأت نہیں تھی کہ انھیں ہاتھ بھی لگا سکے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا مال یا اقتدار حقارت یا عظمت کا پیمانہ ہے ہی نہیں اور نہ ہی موسیٰ علیہ السلام حقیر تھے، بلکہ وہ ظالم خود ہی حقیر و ذلیل تھا جو دنیا کے عارضی متاع پر مغرور ہو کر حق سے انکار پر اڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار بھی دنیا کی دولت نہ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہونا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
➌ {وَ لَا يَكَادُ يُبِيْنُ:} بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کا اشارہ اس لکنت کی طرف تھا جو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں پائی جاتی تھی، مگر یہ بات درست نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دعا کے بعد وہ لکنت دور ہو گئی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ! تمھاری دعا قبول کر لی گئی ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۳۶) قرآن مجید میں فرعون کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام کے کئی مناظرے مذکور ہیں، جن میں انھوں نے نہایت فصیح و بلیغ الفاظ میں اپنا مدعا بیان فرمایا اور ہر موقع پر فرعون کو لاجواب کیا۔ اگرچہ انھوں نے اپنی مدد کے لیے ہارون علیہ السلام کو زیادہ فصیح اللسان ہونے کی وجہ سے مانگ کر لیا تھا، مگر کہیں بھی انھیں اظہار مقصد کے لیے ہارون علیہ السلام کی ضرورت نہیں پڑی۔ رہا فرعون کا ان کے متعلق کہنا کہ ”قریب نہیں کہ وہ اپنی بات واضح کر سکے“ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ کفار و مشرکین کی سمجھ میں پیغمبروں کی بات آتی ہی نہیں، جیسا کہ شعیب علیہ السلام جیسے زبردست خطیب کو ان کی قوم نے کہا: «يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا» [ھود: ۹۱] ”اے شعیب! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے اور بے شک ہم تو تجھے اپنے درمیان بہت کمزور دیکھتے ہیں۔“ فرعون موسیٰ علیہ السلام پر وہی دو طعن کر رہا تھا جو اس سے پہلے شعیب علیہ السلام پر ان کی قوم نے کیے تھے کہ بات سمجھ میں نہ آنا اور ان کی نگاہ میں ان کا حقیر اور ضعیف ہونا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بھی مشرکین کی سمجھ میں نہیں آتی تھی، نہ ہی وہ اپنے جیسے دولت مندوں کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ماننے کے لیے تیار تھے، فرمایا: «وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ (4) اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (5) وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ (6) مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌ (7) ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ (8) اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيْزِ الْوَهَّابِ» [صٓ: ۴ تا ۹] ”اور انھوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ ایک سخت جھوٹا جادوگر ہے۔ کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے۔ اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقینا یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔ کیا ہمارے درمیان میں سے اسی پر نصیحت نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ میری نصیحت سے شک میں ہیں، بلکہ انھوں نے ابھی تک میرا عذاب نہیں چکھا۔ کیا انھی کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں، جو سب پر غالب ہے، بہت عطا کر نے والا ہے۔“
➋ فرعون موسیٰ علیہ السلام کی تحقیر کے لیے زیادہ سے زیادہ جو الفاظ استعمال کر سکتا تھا اس نے وہ کیے۔ ان میں سے لفظ {” هٰذَا “} بھی حقارت کے اظہار کے لیے ہے، یعنی ”اس شخص سے جو حقیر ہے۔“ وہ موسیٰ علیہ السلام کو اس لیے حقیر کہہ رہا تھا کہ ان کے پاس اس جیسی نہ دولت تھی نہ قوت و سلطنت، بلکہ وہ اس کی غلام قوم کے ایک فرد تھے اور غلام تو حقیر ہی سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ عجیب حقیر شخص تھا جس سے فرعون بھی شدید خوف زدہ تھا، ہر عذاب پر اس کے سامنے دعا کے لیے منت و سماجت کرتا تھا، اپنی ساری شان و شوکت، قوت و اقتدار اور افواجِ قاہرہ کے باوجود اسے اپنے دربار میں داخل ہونے سے نہیں روک سکتا تھا، جب کہ اس کے پاس نہ فوج تھی نہ اسلحہ، صرف ایک عصا ہاتھ میں لیے جب چاہتا اس کے سر پر پہنچ جاتا۔ اور یہ عجیب حقیر شخص تھا جس کے متعلق وہ اپنے سرداروں سے کہتا تھا: ”مجھے چھوڑ دو کہ میں موسیٰ کو قتل کر دوں۔“ (دیکھیے مومن: ۲۶) حالانکہ کسی نے اسے قتل کرنے سے نہیں روکا تھا اور فرعون میں یہ جرأت نہیں تھی کہ انھیں ہاتھ بھی لگا سکے۔حقیقت یہ ہے کہ دنیا کا مال یا اقتدار حقارت یا عظمت کا پیمانہ ہے ہی نہیں اور نہ ہی موسیٰ علیہ السلام حقیر تھے، بلکہ وہ ظالم خود ہی حقیر و ذلیل تھا جو دنیا کے عارضی متاع پر مغرور ہو کر حق سے انکار پر اڑا ہوا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے کفار بھی دنیا کی دولت نہ ہونے کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبوت عطا ہونا قبول کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
➌ {وَ لَا يَكَادُ يُبِيْنُ:} بعض مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کا اشارہ اس لکنت کی طرف تھا جو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں پائی جاتی تھی، مگر یہ بات درست نہیں۔ موسیٰ علیہ السلام کی دعا کے بعد وہ لکنت دور ہو گئی تھی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ موسیٰ! تمھاری دعا قبول کر لی گئی ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۳۶) قرآن مجید میں فرعون کے ساتھ موسیٰ علیہ السلام کے کئی مناظرے مذکور ہیں، جن میں انھوں نے نہایت فصیح و بلیغ الفاظ میں اپنا مدعا بیان فرمایا اور ہر موقع پر فرعون کو لاجواب کیا۔ اگرچہ انھوں نے اپنی مدد کے لیے ہارون علیہ السلام کو زیادہ فصیح اللسان ہونے کی وجہ سے مانگ کر لیا تھا، مگر کہیں بھی انھیں اظہار مقصد کے لیے ہارون علیہ السلام کی ضرورت نہیں پڑی۔ رہا فرعون کا ان کے متعلق کہنا کہ ”قریب نہیں کہ وہ اپنی بات واضح کر سکے“ تو اس کی وجہ یہ تھی کہ کفار و مشرکین کی سمجھ میں پیغمبروں کی بات آتی ہی نہیں، جیسا کہ شعیب علیہ السلام جیسے زبردست خطیب کو ان کی قوم نے کہا: «يٰشُعَيْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِيْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِيْنَا ضَعِيْفًا» [ھود: ۹۱] ”اے شعیب! ہم اس میں سے بہت سی باتیں نہیں سمجھتے جو تو کہتا ہے اور بے شک ہم تو تجھے اپنے درمیان بہت کمزور دیکھتے ہیں۔“ فرعون موسیٰ علیہ السلام پر وہی دو طعن کر رہا تھا جو اس سے پہلے شعیب علیہ السلام پر ان کی قوم نے کیے تھے کہ بات سمجھ میں نہ آنا اور ان کی نگاہ میں ان کا حقیر اور ضعیف ہونا۔ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات بھی مشرکین کی سمجھ میں نہیں آتی تھی، نہ ہی وہ اپنے جیسے دولت مندوں کی موجودگی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبی ماننے کے لیے تیار تھے، فرمایا: «وَ عَجِبُوْۤا اَنْ جَآءَهُمْ مُّنْذِرٌ مِّنْهُمْ وَ قَالَ الْكٰفِرُوْنَ هٰذَا سٰحِرٌ كَذَّابٌ (4) اَجَعَلَ الْاٰلِهَةَ اِلٰهًا وَّاحِدًا اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ عُجَابٌ (5) وَ انْطَلَقَ الْمَلَاُ مِنْهُمْ اَنِ امْشُوْا وَ اصْبِرُوْا عَلٰۤى اٰلِهَتِكُمْ اِنَّ هٰذَا لَشَيْءٌ يُّرَادُ (6) مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِي الْمِلَّةِ الْاٰخِرَةِ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا اخْتِلَاقٌ (7) ءَاُنْزِلَ عَلَيْهِ الذِّكْرُ مِنْۢ بَيْنِنَا بَلْ هُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ ذِكْرِيْ بَلْ لَّمَّا يَذُوْقُوْا عَذَابِ (8) اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىِٕنُ رَحْمَةِ رَبِّكَ الْعَزِيْزِ الْوَهَّابِ» [صٓ: ۴ تا ۹] ”اور انھوں نے اس پر تعجب کیا کہ ان کے پاس انھی میں سے ایک ڈرانے والا آیا اور کافروں نے کہا یہ ایک سخت جھوٹا جادوگر ہے۔ کیا اس نے تمام معبودوں کو ایک ہی معبود بنا ڈالا؟ بلاشبہ یہ یقینا بہت عجیب بات ہے۔ اور ان کے سرکردہ لوگ چل کھڑے ہوئے کہ چلو اور اپنے معبودوں پر ڈٹے رہو، یقینا یہ تو ایسی بات ہے جس کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ ہم نے یہ بات آخری ملت میں نہیں سنی، یہ تو محض بنائی ہوئی بات ہے۔ کیا ہمارے درمیان میں سے اسی پر نصیحت نازل کی گئی ہے؟ بلکہ وہ میری نصیحت سے شک میں ہیں، بلکہ انھوں نے ابھی تک میرا عذاب نہیں چکھا۔ کیا انھی کے پاس تیرے رب کی رحمت کے خزانے ہیں، جو سب پر غالب ہے، بہت عطا کر نے والا ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
52۔ 1 یہ حضرت موسیٰ ؑ کی لکنت کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ سورة طہ میں گزرا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
52۔ بھلا میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ایک ذلیل [51] آدمی ہے اور بات بھی صاف طور پر نہیں کر سکتا۔
[51] فرعون کا اپنی قوم میں پروپیگنڈہ :۔
فرعون کے اس اعلان سے واضح طور پر یہ معلوم ہو رہا ہے کہ سیدنا موسیٰؑ کی دعوت کی جڑیں اندر ہی اندر کافی مضبوط ہو چکی تھیں۔ اور وہ اس دعوت سے خائف تھا مگر اپنی رعایا میں اپنا بھرم قائم رکھنا چاہتا تھا۔ اور اپنی قوم سے اسی طرح کا استصواب چاہتا تھا۔ جیسے الیکشن کے دنوں میں امیدوار اپنی خوبیاں اور اپنے حریف کے نقائص بیان کیا کرتے ہیں۔ اس نے اپنا اور سیدنا موسیٰؑ کا تقابل پیش کرتے ہوئے کہا۔ دیکھو! یہ ملک مصر میں میری حکومت کس قدر مضبوط ہے۔ آبپاشی کا نظام بہت عمدہ ہے۔ جس پر تمہاری معیشت کا دارومدار ہے۔ ہم لوگوں نے دریائے نیل سے کئی نہریں ملک بھر میں جا بجا بچھا دی ہیں۔ یہ سب کچھ تو میرے نظام کے تحت ہو رہا ہے۔ پھر تم ایک ایسے شخص کے پیچھے کیوں لگے جا رہے ہو جو میرے مقابلہ میں نہایت کمتر درجہ کا آدمی ہے۔ نہ اس کے پاس مال و دولت ہے اور نہ حکومت اور وہ کھل کر صاف صاف باتیں بھی نہیں کر سکتا۔ تمہیں کچھ تو سوچ و بچار سے کام لینا چاہئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
فرعون کے دعوے ٭٭
فرعون کی سرکشی اور خود بینی بیان ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جمع کر کے ان میں بڑی باتیں ہانکنے لگا اور کہا ”کیا میں تنہا ملک مصر کا بادشاہ نہیں ہوں؟ کیا میرے باغات اور محلات میں نہریں جاری نہیں؟ کیا تم میری عظمت و سلطنت کو دیکھ نہیں رہے؟ پھر موسیٰ علیہ السلام اور اس کے ساتھیوں کو دیکھو جو فقراء اور ضعفاء ہیں۔“
کلام پاک میں اور جگہ ہے «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-25] یعنی ’ اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا ‘۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ’ فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ‘۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔
پھر کہتا ہے ”موسیٰ (علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
کلام پاک میں اور جگہ ہے «فَحَشَرَ فَنَادَىٰ فَقَالَ أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَىٰ فَأَخَذَهُ اللَّـهُ نَكَالَ الْآخِرَةِ وَالْأُولَىٰ» ۱؎ [79-النازعات:23-25] یعنی ’ اس نے جمع کر کے سب سے کہا میں تمہارا بلند و بالا رب ہوں جس پر اللہ نے اسے یہاں کے اور وہاں کے عذابوں میں گرفتار کیا ‘۔ «اَمْ» معنی میں «بَل ْ» کے ہے۔ بعض قاریوں کی قرأت «اَمَآ اَناَ» بھی ہے۔ امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر یہ قرأت صحیح ہو جائے تو معنی تو بالکل واضح اور صاف ہو جاتے ہیں لیکن یہ قرأت تمام شہروں کی قرأت کے خلاف ہے سب کی قرأت «اَم ْ» استفہام کا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ ’ فرعون ملعون اپنے آپ کو کلیم اللہ علیہ السلام سے بہتر و برتر بنا رہا ہے اور یہ دراصل اس ملعون کا جھوٹ ہے ‘۔ «مُهِیْنٌ» کے معنی حقیر، ضعیف، بے مال، بے شان۔
پھر کہتا ہے ”موسیٰ (علیہ السلام) تو صاف بولنا بھی نہیں جانتا اس کا کلام فصیح نہیں وہ اپنا ما فی الضمیر ادا نہیں کر سکتا۔“ بعض کہتے ہیں بچپن میں آپ علیہ السلام نے اپنے منہ میں آگ کا انگارہ رکھ لیا تھا جس کا اثر زبان پر باقی رہ گیا تھا۔ یہ بھی فرعون کا مکر جھوٹ اور دجل ہے۔
حضرت موسیٰ صاف گو صحیح کلام کرنے والے ذی عزت بارعب و وقار تھے۔ لیکن چونکہ ملعون اپنی کفر کی آنکھ سے نبی اللہ علیہ السلام کو دیکھتا تھا اس لیے اسے یہی نظر آتا تھا۔ حقیقتاً ذلیل و غبی تھا۔
گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔
اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ’ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ ‘، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔
دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔
فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
گو موسیٰ علیہ السلام کی زبان میں بوجہ اس انگارے کے جسے بچپن میں منہ میں رکھ لیا تھا کچھ لکنت تھی لیکن آپ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی اور آپ علیہ السلام کی زبان کی گرہ کھل گئی تاکہ آپ علیہ السلام لوگوں کو باآسانی اپنا مدعا سمجھا سکیں۔
اور اگر مان لیا جائے کہ تاہم کچھ باقی رہ گئی تھی کیونکہ دعاء کلیم میں اتنا ہی تھا کہ ’ میری زبان کی اس قدر گرہ کھل جائے کہ لوگ میری بات سمجھ لیں۔ ‘، تو یہ بھی کوئی عیب کی بات نہیں اللہ تعالیٰ نے جس کسی کو جیسا بنا دیا وہ ویسا ہی ہے اس میں عیب کی کون سی بات ہے؟ دراصل فرعون ایک کلام بنا کر ایک مسودہ گھڑ کر اپنی جاہل رعایا کو بھڑکانا اور بہکانا چاہتا تھا۔
دیکھئیے وہ آگے چل کر کہتا ہے کہ ”کیوں جی اس پر آسمان سے ہن (دولت) کیوں نہیں برستا مالداری تو اسے اتنی ہونی چاہیئے کہ ہاتھ سونے سے پر ہوں لیکن یہ محض مفلس ہے اچھا یہ بھی نہیں تو اللہ اس کے ساتھ فرشتے ہی کر دیتا جو کم از کم ہمیں باور کرا دیتے کہ یہ اللہ کے نبی ہیں۔“ غرض ہزار جتن کر کے لوگوں کو بیوقوف بنا لیا اور انہیں اپنا ہم خیال اور ہم سخن کر لیا۔ یہ خود فاسق فاجر تھے۔
فسق و فجور کی پکار پر فوراً ریجھ گئے پس جب ان کا پیمانہ چھلک گیا اور انہوں نے دل کھول کر رب کی نافرمانی کر اور رب کو خوب ناراض کر دیا تو پھر اللہ کا کوڑا ان کی پیٹھ پر برسا اور اگلے پچھلے سارے کرتوت پکڑ لیے گئے یہاں ایک ساتھ پانی میں غرق کر دئیے گئے وہاں جہنم میں جلتے جھلستے رہیں گے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ { جب کسی انسان کو اللہ دنیا دیتا چلا جائے اور وہ اللہ کی نافرمانیوں پر جما ہوا ہو تو سمجھ لو کہ اللہ نے اسے ڈھیل دے رکھی ہے پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی }۔ [ابن ابی حاتم:ضعیف]
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے سامنے جب اچانک موت کا ذکر آیا تو فرمایا ”ایماندار پر تو یہ تخفیف ہے اور کافر پر حسرت ہے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے اسی آیت کو پڑھ کر سنایا۔“ ۱؎ [الدرالمنشور للسیوطی:384/7] عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”انتقام غفلت کے ساتھ ہے۔“
پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ‘۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»
پھر اللہ سبحانہ وتعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ ہم نے انہیں نمونہ بنا دیا کہ ان کے سے کام کرنے والے ان کے انجام کو دیکھ لیں اور یہ مثال یعنی باعث عبرت بن جائے کہ ان کے بعد آنے والے ان کے واقعات پر غور کریں اور اپنا بچاؤ ڈھونڈیں ‘۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ الْمُوَفِّق لِلصَّوَابِ وَإِلَيْهِ الْمَرْجِع وَالْمَآب»