ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 5

اَفَنَضۡرِبُ عَنۡکُمُ الذِّکۡرَ صَفۡحًا اَنۡ کُنۡتُمۡ قَوۡمًا مُّسۡرِفِیۡنَ ﴿۵﴾
تو کیا ہم تم سے اس نصیحت کو ہٹا لیں، اعراض کرتے ہوئے، اس وجہ سے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہو۔ En
بھلا اس لئے کہ تم حد سے نکلے ہوئے لوگ ہو ہم تم کو نصیحت کرنے سے باز رہیں گے
En
کیا ہم اس نصیحت کو تم سے اس بنا پر ہٹالیں کہ تم حد سے گزر جانے والے لوگ ہو En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 5) ➊ {اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا: ضَرَبَ} کا صلہ جب {عَنْ} آئے تو اس کا معنی {صَرَفَ عَنْهُ} (پھرنا، اعراض کرنا) آتا ہے۔ { صَفْحًا صَفَحَ عَنْهُ} کا مصدر ہے، اس کا معنی بھی اعراض کرنا ہے۔ اب { اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا } کی کئی ترکیبیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ مصدر مفعول مطلق ہے تاکید کے لیے، کیونکہ { اَفَنَضْرِبُ عَنْكُمْ } کا معنی بھی اعراض کرنا ہے اور{ صَفْحًا } کا بھی یہی معنی ہے۔ گویا یہ مصدر مفعول مطلق فعل کے ہم معنی لفظ کے ساتھ ہے، جیسے {قَعَدْتُ جُلُوْسًا} ہے۔ معنی یہ ہو گا کہ کیا ہم یہ نصیحت تم سے ہٹا لیں، بالکل ہٹا لینا؟ اور ایک یہ کہ { صَفْحًا } مفعول لہ یا حال ہے، یعنی کیا ہم تم سے یہ نصیحت اپنے اعراض کی وجہ سے یا اعراض کرتے ہوئے ہٹا لیں؟
➋ { اَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِيْنَ: اَنْ } سے پہلے لام جارہ محذوف ہے اور { كُنْتُمْ } میں استمرار ہے: {أَيْ لِأَنْ كُنْتُمْ} اس لیے کہ تم حد سے بڑھنے والے لوگ چلے آئے ہو۔ آیت کا مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اتنا بلند مرتبہ قرآن تمھاری زبان میں تمھارے سمجھانے کے لیے نازل کیا، مگر تم زیادتی اور اسراف پر ڈٹے رہے اور مسلسل انکار کرتے رہے، تو کیا تمھارے اس مسلسل اسراف و انکار کی وجہ سے ہم اعراض کرتے ہوئے تم سے اس نصیحت کو ہٹا لیں اور تمھیں سمجھانا چھوڑ دیں؟ یعنی ہم ایسا نہیں کریں گے اور نہ یہ ہماری رحمت کا تقاضا ہے، کیونکہ تمھارا اسراف اور گمراہی تو قرآن اتارے جانے کا اصل سبب ہے۔ چنانچہ ان کے انکار کے باوجود قرآن تیئیس برس تک اترتا رہا، بے شمار سعید روحیں اس پر ایمان لائیں اور جو کفر پر ڈٹے رہے ان پر حجت قائم ہو گئی اور ان کی پشتوں سے بھی لا تعداد لوگ اسلام کے حلقۂ گوش بنے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

5۔ 1 اس کے مختلف معنی کئے گئے ہیں مثلاً 1۔ تم چونکہ گناہوں میں بہت بڑھ چکے ہو اور ان پر مصر ہو، اس لئے کہ یہ گمان کرتے ہو کہ ہم وعظ و نصیحت کرنا چھوڑ دیں گے؟ 2۔ یا تمہارے کفر اور اسراف پر ہم تمہیں کچھ نہ کہیں گے اور تم سے درگزر کرلیں گے 3۔ یا تمہیں ہلاک کردیں گے اور کسی چیز کا تمہیں حکم دیں نہ منع کریں، 4۔ چونکہ تم قرآن پر ایمان لانے والے نہیں ہو۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

5۔ تو کیا ہم تمہیں درگزر کرتے ہوئے تمہاری طرف یہ ذکر بھیجنا چھوڑ دیں گے صرف اس لئے کہ تم حد سے بڑھے [5] ہوئے لوگ ہو؟
[5] یعنی اے کفار مکہ! اگر تم اپنی شرارتوں سے باز نہیں آتے۔ قرآن کی آیات کا مذاق اڑاتے ہو، کبھی اسے پہلوں کی کہانیاں قرار دیتے ہو، کبھی اسے بندوں کا کلام کہتے ہو۔ تو کیا ہم تمہاری ایسی شرارتوں کی وجہ سے خلقت کی رہنمائی کا کام چھوڑ دیں گے اور قرآن کو نازل کرنا بند کر دیں گے؟ اس کے نزول کے دو فائدے تو بہرحال ہو ہی رہے ہیں ایک یہ کہ بہت سی سعید روحیں اس سے مستفید ہو رہی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ تم لوگوں پر حجت پوری ہو رہی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔