وَ سۡـَٔلۡ مَنۡ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رُّسُلِنَاۤ اَجَعَلۡنَا مِنۡ دُوۡنِ الرَّحۡمٰنِ اٰلِـہَۃً یُّعۡبَدُوۡنَ ﴿٪۴۵﴾
اور ان سے پوچھ جنھیں ہم نے تجھ سے پہلے اپنے رسولوں میں سے بھیجا، کیاہم نے رحمان کے سوا کوئی معبود بنائے ہیں، جن کی عبادت کی جائے؟
En
اور (اے محمدﷺ) جو اپنے پیغمبر ہم نے تم سے پہلے بھیجے ہیں ان سے دریافت کرلو۔ کیا ہم نے (خدائے) رحمٰن کے سوا اور معبود بنائے تھے کہ ان کی عبادت کی جائے
En
اور ہمارے ان نبیوں سے پوچھو! جنہیں ہم نے آپ سے پہلے بھیجا تھا کہ کیا ہم نے سوائے رحمٰن کے اور معبود مقرر کیے تھے جن کی عبادت کی جائے؟
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 45) ➊ { وَ سْـَٔلْ مَنْ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رُّسُلِنَاۤ …:} یہاں ایک سوال ہے کہ پہلے رسول تو فوت ہو چکے، ان سے کس طرح پوچھا جا سکتا ہے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ رسولوں سے پوچھنے سے مراد ان کی کتابوں سے معلوم کرنا ہے، جیسا کہ اللہ کے فرمان: «فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِيْ شَيْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ» [النساء: ۵۹] (پھر اگر تم کسی چیز میں جھگڑ پڑو تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹاؤ) کا مطلب اب یہ نہیں کہ اگر تمھارا کسی معاملے میں تنازع ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کے پاس لے جاؤ، بلکہ یہ ہے کہ کتاب اللہ اور سنتِ رسول کی طرف رجوع کرو۔ اسی طرح اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ پہلے تمام رسولوں کی تعلیمات کا مطالعہ کرکے دیکھ لو، کیا کسی میں یہ بات ملتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رحمان کے سوا بھی کوئی ہستیاں مقرر کی ہیں کہ ان کی عبادت کی جائے اور کیا کسی بھی پیغمبر نے شرک کی اجازت دی ہے؟ ظاہر ہے اس کا جواب نفی میں ہے۔ شرک کے حق میں نہ کوئی عقلی دلیل موجود ہے نہ نقلی۔ (دیکھیے احقاف: ۴) آیت سے مقصود قریش کو باور کروانا ہے کہ تمام انبیاء اللہ واحد کی عبادت کے داعی تھے، شرک کسی بھی شریعت میں جائز نہیں رہا، جیسا کہ فرمایا: «وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» [الأنبیاء: ۲۵] ”اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔“ اور جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ بَعَثْنَا فِيْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ» [النحل: ۳۶] ”اور بلاشبہ یقینا ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔“
➋ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب آپ کی انبیاء سے ملاقات ہو، جیسے معراج کی رات ہوئی تو آپ ان سے یہ سوال کریں۔ مگر قرآن یا حدیث میں کہیں ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج یا کسی اور موقع پر کسی پیغمبر سے یہ سوال کیا ہو۔ اگر آیت کا یہ مطلب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ضرور سوال کرتے۔ کسی ضعیف روایت میں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبروں سے اس سوال کا ذکر مل بھی جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
➋ بعض مفسرین نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جب آپ کی انبیاء سے ملاقات ہو، جیسے معراج کی رات ہوئی تو آپ ان سے یہ سوال کریں۔ مگر قرآن یا حدیث میں کہیں ذکر نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شبِ معراج یا کسی اور موقع پر کسی پیغمبر سے یہ سوال کیا ہو۔ اگر آیت کا یہ مطلب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے ضرور سوال کرتے۔ کسی ضعیف روایت میں اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغمبروں سے اس سوال کا ذکر مل بھی جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
45۔ 1 جواب یقینا نفی میں ہے۔ اللہ نے کسی بھی نبی کو یہ حکم نہیں دیا۔ بلکہ اس کے برعکس ہر نبی کو دعوت توحید کا حکم دیا گیا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
45۔ اور ہم نے آپ سے پہلے جو رسول بھیجے تھے ان سے پوچھ [44] لیجئے کہ: ”آیا ہم نے رحمن کے سوا کوئی اور الٰہ بنائے ہیں جن کی عبادت کی جائے؟“
[44] بعد از موت انبیاء کی زندگی کے قائلین اور ان کا رد :۔
اس آیت میں ﴿واسْئَلْ﴾ کا مطلب اکثر مفسرین نے دو طرح سے بیان کیا ہے ایک یہ کہ ان ا نبیاء کے وارث علماء یا علمائے بنی اسرائیل سے پوچھ لیجئے۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ ان رسولوں کی کتابوں میں تلاش کر کے دیکھو کہ ان میں کہیں یہ لکھا ہے کہ ہم نے اپنے علاوہ کچھ اور بھی الٰہ بنا دیئے ہیں جن کی عبادت کی جایا کرے۔ لیکن کچھ حضرات ایسے بھی ہیں جو انبیاء و اولیائے کرام کی عرصہ برزخ میں مکمل زندگی ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ یعنی وہ لوگوں کی پکار سنتے بھی ہیں اور ان کا جواب بھی دیتے ہیں۔ بلکہ اس سے بھی آگے ان کے تصرف کا یہ حال ہے۔ وہ پکارنے والے کی مشکل کشائی اور حاجت روائی بھی کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی ایک صاحب اس آیت کا ترجمہ کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ ”اگر انبیاء کرام میں حیات نہ ہوتی۔ وہ خطاب و ندا کو نہ سمجھتے ہوتے اور جواب دینے کی قدرت ان میں نہ ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کو انبیاء و رسل سے دریافت کرنے کا حکم نہ فرماتا“ ایسے حضرات چونکہ عموماً بریلوی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا ہم یہاں ترجمہ احمد رضا خان بریلوی (کنزالایمان) پر حاشیہ نمبر 45 از نعیم الدین مراد آبادی درج کرتے ہیں: ”رسولوں سے سوال کرنے کے معنی یہ ہیں کہ ان کے ادیان و ملل کی تلاش کرو۔ کہیں بھی کسی نبی کی امت میں بت پرستی روا رکھی گئی ہے؟ اور اکثر مفسرین نے اس کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ مومنین اہل کتاب سے دریافت کرو۔ کیا کسی نبی نے غیر اللہ کی عبادت کی اجازت دی؟ تاکہ مشرکین پر ثابت ہو جائے کہ مخلوق پرستی نہ کسی رسول نے بتائی نہ کسی کتاب میں آئی۔ یہ بھی ایک روایت ہے کہ شب معراج سید عالم نے بیت المقدس میں تمام انبیاء کی امامت فرمائی۔ جب حضور نماز سے فارغ ہوئے جبرئیل نے عرض کیا کہ اے سرور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ! اپنے سے پہلے انبیاء سے دریافت فرما لیجئے کہ کیا اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا کسی اور کی عبادت کی اجازت دی؟ حضور نے فرمایا کہ اس سوال کی کچھ حاجت نہیں یعنی اس میں کوئی شک ہی نہیں کہ تمام انبیاء توحید کی دعوت دیتے آئے۔ سب نے مخلوق پرستی کی ممانعت فرمائی“ [سوره زخرف كا حاشيه نمبر 45 از نعيم الدين مراد آبادي]
اب دیکھئے اس حاشیہ میں جس روایت کا ذکر ہے وہ غلط معلوم ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سورۃ زخرف کی یہ آیت واقعہ معراج سے کافی عرصہ بعد نازل ہوئی ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل جس میں واقعہ اسراء کا ذکر ہے، کا ترتیب نزول کے حساب سے نمبر 50 ہے۔ جبکہ سورۃ زخرف کا ترتیب نزول کے حساب سے نمبر 63 ہے۔ معراج کا واقعہ ہجرت سے ڈیڑھ دو سال پہلے کا ہے۔ جبکہ سورۃ ہذا اس وقت نازل ہوئی جبکہ کفار آپ کی جان کے درپے تھے۔ جیسا کہ اس سورۃ کی آیت نمبر 79۔ 80 سے واضح ہے۔ لہٰذا قبل از نزول آیت مذکورہ جبرئیل کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا کہ ان رسولوں سے پوچھ لیجئے اور پھر پوری آیت پڑھ جانا کیسے ممکن ہے؟
اب دیکھئے اس حاشیہ میں جس روایت کا ذکر ہے وہ غلط معلوم ہوتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ سورۃ زخرف کی یہ آیت واقعہ معراج سے کافی عرصہ بعد نازل ہوئی ہے۔ سورۃ بنی اسرائیل جس میں واقعہ اسراء کا ذکر ہے، کا ترتیب نزول کے حساب سے نمبر 50 ہے۔ جبکہ سورۃ زخرف کا ترتیب نزول کے حساب سے نمبر 63 ہے۔ معراج کا واقعہ ہجرت سے ڈیڑھ دو سال پہلے کا ہے۔ جبکہ سورۃ ہذا اس وقت نازل ہوئی جبکہ کفار آپ کی جان کے درپے تھے۔ جیسا کہ اس سورۃ کی آیت نمبر 79۔ 80 سے واضح ہے۔ لہٰذا قبل از نزول آیت مذکورہ جبرئیل کا حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کہنا کہ ان رسولوں سے پوچھ لیجئے اور پھر پوری آیت پڑھ جانا کیسے ممکن ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔