ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 30

وَ لَمَّا جَآءَہُمُ الۡحَقُّ قَالُوۡا ہٰذَا سِحۡرٌ وَّ اِنَّا بِہٖ کٰفِرُوۡنَ ﴿۳۰﴾
اور جب ان کے پاس حق آیا تو انھوں نے کہا یہ جادو ہے اور بے شک ہم اس سے منکر ہیں۔ En
اور جب ان کے پاس حق (یعنی قرآن) آیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کو نہیں مانتے
En
اور حق کے پہنچتے ہی یہ بول پڑے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 30) {وَ لَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوْا هٰذَا سِحْرٌ …:} جب ان کے پاس حق یعنی قرآن آیا تو کہنے لگے، یہ جادو ہے اور ہم اسے نہیں مانتے۔ قرآن مجید کی دلوں پر زبردست تاثیر کا جب وہ کوئی توڑ نہ کر سکے، جس کی وجہ سے اس پر ایمان لانے والا اپنے رشتہ داروں کو تو چھوڑ سکتا تھا مگر ایمان سے کبھی پیچھے نہ ہٹتا تھا اور نہ ہی وہ اس پر ایمان لانے والوں کو روک سکے، تو بجائے اس کے کہ اس پر ایمان لے آتے اسے جادو کہہ کر جھٹلا دیا کہ یہ سب اثر جادو کا ہے۔ حالانکہ ظالم جانتے تھے کہ کہاں جادو جیسی پلید چیز اور جادوگروں جیسے خبیث لوگ اور کہاں اللہ کا پاکیزہ کلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا پاکیزہ اور بلند اخلاق والا شخص۔ محض عناد اور ضد کی وجہ سے انھوں نے یہ بات کہی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

30۔ 1 قرآن کو جادو قرار دے کر اس کا انکار کردیا اور اگلے الفاظ میں حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر و تنقیص کی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

30۔ اور جب ان کے پاس حق آ گیا تو کہنے لگے کہ: ”یہ تو جادو [29] ہے اور ہم اسے قطعاً نہیں مانتے“
[29] وہ جادو اس لحاظ سے کہتے تھے کہ قرآن کی تعلیم اور اس کی قراءت دل میں اترنے اور تاثیر کے لحاظ سے جادو کا سا اثر رکھتی تھی۔ اور اس بات سے کفار سخت خطرہ محسوس کر رہے تھے اور اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ جو شخص قرآن کی اس دعوت کو قبول کر لیتا تھا۔ وہ اپنے سب رشتہ داروں کو چھوڑنا تو گوارا کر لیتا تھا مگر ایمان سے پیچھے ہٹنا کبھی گوارا نہ کرتا تھا اور کافر اسے اس لیے جادو کہتے تھے کہ یہ تعلیم ایسی ہے جو باپ بیٹے، بہن بھائی غرضیکہ ہر ایک کو دوسرے سے جدا کر دیتی ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔