ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزخرف (43) — آیت 20

وَ قَالُوۡا لَوۡ شَآءَ الرَّحۡمٰنُ مَا عَبَدۡنٰہُمۡ ؕ مَا لَہُمۡ بِذٰلِکَ مِنۡ عِلۡمٍ ٭ اِنۡ ہُمۡ اِلَّا یَخۡرُصُوۡنَ ﴿ؕ۲۰﴾
اور انھوں نے کہا اگر رحمان چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انھیں اس کے بارے میںکچھ علم نہیں، وہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں۔ En
اور کہتے ہیں اگر خدا چاہتا تو ہم ان کو نہ پوجتے۔ ان کو اس کا کچھ علم نہیں۔ یہ تو صرف اٹکلیں دوڑا رہے ہیں
En
اور کہتے ہیں اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس کی کچھ خبر نہیں، یہ تو صرف اٹکل پچو (جھوٹ باتیں) کہتے ہیں۔ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 20) ➊ { وَ قَالُوْا لَوْ شَآءَ الرَّحْمٰنُ مَا عَبَدْنٰهُمْ:} یہ اپنی گمراہی اور مشرکانہ گستاخی پر کفارِ مکہ کا ایک اور استدلال تھا، یعنی وہ اپنے آپ کو مجرم سمجھنے کے بجائے سارا الزام تقدیر الٰہی پر دھرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی یہ مشیت تھی اور اس نے ہماری قسمت میں لکھ دیا تھا کہ ہم فرشتوں کو دیویاں سمجھ کر ان کی پرستش کریں۔ تقدیر الٰہی سے اس قسم کا غلط استدلال باطل پرستوں کا ہمیشہ سے شیوہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور چیز ہے اور اس کی پسند دوسری چیز ہے۔ اگر ایسا ہی ہوتا جیسے یہ مشرک کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ کو پیغمبر بھیج کر اور کتابیں نازل فرما کر شرک سے روکنے کی کیا ضرورت تھی۔ (ابن کثیر) مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۴۸) اور سورۂ نحل (۳۵) کی تفسیر۔
➋ { مَا لَهُمْ بِذٰلِكَ مِنْ عِلْمٍ:} یعنی وہ تقدیر کی حقیقت کو نہیں سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کی مشیت کو غلط معنی پہناتے ہیں۔ شاہ عبد القادر لکھتے ہیں: یعنی یہ تو سچ ہے کہ بن چاہے خدا کے کوئی چیز نہیں، پر اس کا بہتر ہونا نہیں نکلتا۔ اس نے قُوت (خوراک) بھی پیدا کی اور زہر بھی، پر زہر کون کھاتا ہے۔ (موضح)
➌ {اِنْ هُمْ اِلَّا يَخْرُصُوْنَ:} یعنی جہالت کی وجہ سے ایسی باتیں بناتے ہیں جن کا کوئی سر پیر نہیں ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

20۔ 1 یعنی اپنے طور پر اللہ کی مشیت کا سہارا، یہ ان کی ایک بڑی دلیل ہے کیونکہ ظاہراً یہ بات صحیح ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا نہ ہوسکتا ہے۔ لیکن یہ اس بات سے بیخبر ہیں کہ اس کی مشیت، اس کی رضا سے مختلف چیز ہے۔ ہر کام یقینا اس کی مشیت ہی سے ہوتا ہے لیکن راضی وہ انہی کاموں سے ہوتا ہے جن کا اس نے حکم دیا ہے نہ کہ ہر اس کام سے جو انسان اللہ کی مشیت سے کرتا ہے، انسان چوری، بدکاری، ظلم اور بڑے بڑے گناہ کرتا ہے، اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کسی کو یہ گناہ کرنے کی قدرت ہی نہ دے فوراً اس کا ہاتھ پکڑ لے، اور اس کے قدموں کو روک دے اس کی نظر سلب کرلے۔ لیکن یہ جبر کی صورتیں ہیں جب کہ اس نے انسان کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی ہے تاکہ اسے آزمایا جائے، تاہم یہ اختیار اللہ دنیا میں اس سے واپس نہیں لے گا، البتہ اس کی سزا قیامت والے دن دے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

20۔ اور کہتے ہیں کہ اگر اللہ چاہتا تو ہم ان کی عبادت نہ کرتے۔ انہیں اس (مشیئت الٰہی) کا کچھ علم نہیں۔ یہ محض تیر تکے چلاتے [20] ہیں۔
[20] گناہوں پر مشیت کی دلیل باطل ہے :۔
جاہلوں کا ہمیشہ سے یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنے مذموم عقائد اور معصیت کے کاموں کے لیے مشیئت الٰہی کا سہارا لیتے ہیں۔ اور اس کی وجہ ان کی یہ جہالت ہے کہ وہ اللہ کی مشیئت اور اللہ کی رضا کے فرق کو نہیں سمجھتے، تبھی ایسی دلیل دیتے ہیں۔ اس لحاظ سے تو ایک ظالم اور ڈاکو انسان بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ جو کچھ میں کر رہا ہوں اس پر اللہ راضی ہے تبھی تو مجھے ایسے کام کرنے کے مواقع دیئے جاتا ہے۔ اور اس لحاظ سے دنیا میں کوئی کام شر رہتا ہی نہیں بلکہ سب کچھ خیر ہی خیر ہونا چاہئے۔ حالانکہ اس بات کو کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔ دنیا میں کفر و شرک اور فتنہ و فساد عام ہے۔ حالانکہ اللہ ان باتوں کو قطعاً پسند نہیں کرتا۔ لہٰذا جو کچھ بھی دنیا کے اندر ہو رہا ہے یہ تو فی الواقع مشیت الٰہی کے تحت ہورہا ہے۔ لیکن جو کچھ ہونا چاہئے یا جو کچھ اللہ کی رضا ہے وہ اللہ کی کتاب میں مذکور ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔