ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 7

وَ کَذٰلِکَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ قُرۡاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنۡذِرَ اُمَّ الۡقُرٰی وَ مَنۡ حَوۡلَہَا وَ تُنۡذِرَ یَوۡمَ الۡجَمۡعِ لَا رَیۡبَ فِیۡہِ ؕ فَرِیۡقٌ فِی الۡجَنَّۃِ وَ فَرِیۡقٌ فِی السَّعِیۡرِ ﴿۷﴾
اور اسی طرح ہم نے تیری طرف عربی قرآن وحی کیا، تاکہ تو بستیوں کے مرکز(مکہ)کو ڈرائے اور ان لوگوں کو بھی جو اس کے ارد گرد ہیں اور تو اکٹھا کرنے کے دن سے ڈرائے جس میں کوئی شک نہیں، ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ بھڑکتی آگ میں۔ En
اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکّے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو رستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ۔ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں
En
اسی طرح ہم نے آپ کی طرف عربی قرآن کی وحی کی ہے تاکہ آپ مکہ والوں کو اور اس کے آس پاس کے لوگوں کو خبردار کردیں اور جمع ہونے کے دن سے جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ڈرا دیں۔ ایک گروه جنت میں ہوگا اور ایک گروه جہنم میں ہوگا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 7) ➊ { وَ كَذٰلِكَ اَوْحَيْنَاۤ اِلَيْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا:} قرآن عربی زبان میں نازل کرنے کی چند حکمتوں کے جاننے کے لیے دیکھیے سورۂ یوسف کی آیت(۲) کی تفسیر۔
➋ { لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا: اُمَّ الْقُرٰى } کا معنی بستیوں کی ماں یا بستیوں کی جڑ یا اصل ہے، یعنی بستیوں کا مرکز۔ مراد مکہ معظمہ ہے، کیونکہ زمین پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے سب سے پہلا گھر یہیں تعمیر ہوا، جسے تمام دنیا کی ہدایت کا مرکز قرار دیا گیا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ اَوَّلَ بَيْتٍ وُّضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِيْ بِبَكَّةَ مُبٰرَكًا وَّ هُدًى لِّلْعٰلَمِيْنَ» [آل عمران: ۹۶]بے شک پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا، یقینا وہی ہے جو بکہ میں ہے، بہت با برکت اور جہانوں کے لیے ہدایت ہے۔ تمام دنیا کے لوگوں کے لیے اس شہر میں موجود بیت اللہ کا حج صاحبِ استطاعت لوگوں پر فرض کیا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے تمام روئے زمین سے بہتر قرار دیا۔ عبد اللہ بن عدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو {حَزْوَرَةٌ } (شہر مکہ کی ایک جگہ) پر کھڑے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَاللَّهِ! إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللّٰهِ وَأَحَبُّ أَرْضِ اللّٰهِ إِلَی اللّٰهِ وَلَوْلاَ أَنِّيْ أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ] [ترمذي، المناقب، باب في فضل مکۃ: ۳۹۲۵، و قال الألباني صحیح] اللہ کی قسم! یقینا تو اللہ کی زمین میں سب سے بہتر اور اللہ کی زمین میں اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور اگر مجھے اس سے نکالا نہ جاتا تو میں نہ نکلتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی ابتدا یہاں سے ہوئی اور آپ کی دعوت کا آغاز یہیں سے ہوا۔
➌ یہاں ایک سوال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو کل عالم اور تمام روئے زمین کے لیے ڈرانے والے تھے، پھر یہاں آپ کے بھیجنے کا مقصد صرف مکہ اور اس کے اردگرد کو کیوں بتایا گیا؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اوّل تو { مَنْ حَوْلَهَا } میں پوری زمین شامل ہے، مکہ پوری زمین کا مرکز ہے، سب اس کی طرف منہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور اس کے حج کے لیے جاتے ہیں۔ اگر { مَنْ حَوْلَهَا } سے قریب قریب ارد گرد کی بستیاں مراد لی جائیں تب بھی آپ کو مکہ اور اس کے ارد گرد ڈرانے کے لیے بھیجنے کی بات کا مقصد یہ نہیں کہ آپ دوسری اقوام کی طرف مبعوث نہیں، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ اَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ» [الشعراء: ۲۱۴] اور اپنے سب سے قریب رشتہ داروں کو ڈرا۔ سب جانتے اور مانتے ہیں کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ آپ صرف قریبی رشتہ داروں کے لیے مبعوث ہوئے تھے، ورنہ اہلِ مکہ و مدینہ کو دعوت دینے کی کیا ضرورت تھی؟ اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ام القریٰ اور اس کے ارد گرد لوگوں کو ڈرانے کے لیے بھیجنے کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کو یہاں تک محدود کرنا نہیں۔ اس بات کا ذکر کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت تمام جن و انس کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر آیا ہے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۱۹)، اعراف (۱۵۸)، فرقان (۱)، احقاف (۲۹ تا ۳۲) اور سورۂ سبا (۲۸)۔
➍ {وَ تُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ: أَنْذَرَ يُنْذِرُ } (ڈرانا) کے دو مفعول ہوتے ہیں، کیونکہ ڈرانے میں دو چیزیں ملحوظ ہوتی ہیں، ایک یہ کہ کسے ڈرایا جا رہا ہے اور دوسری یہ کہ اسے کس چیز سے ڈرایا جا رہا ہے۔ اس آیت میں { لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا } اور { وَ تُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ } دو جملے ہیں، دونوں میں { تُنْذِرَ } کے دو دو مفعول ہیں۔ پہلے جملے میں پہلا مفعول ذکر فرمایا اور دوسرا حذف کر دیا، جو آیت کے الفاظ سے ظاہر ہو رہا ہے: {أَيْ لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرٰي وَ مَنْ حَوْلَهَا الْعَذَابَ} یعنی تاکہ تو امّ القریٰ اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو عذاب سے ڈرا دے۔ دوسرے جملہ میں پہلا مفعول حذف کر دیا اور دوسرا ذکر فرمایا: { أَيْ لِتُنْذِرَ أُمَّ الْقُرٰي وَمَنْ حَوْلَهَا يَوْمَ الْجَمْعِ} یعنی تاکہ تو امّ القریٰ اور اس کے ارد گرد کی بستیوں کو یوم الجمع سے ڈرا دے۔
مطلب یہ ہے کہ اسی طرح ہم نے تیری طرف عربی قرآن وحی کیا، تاکہ تو بستیوں کے مرکز اور اس کے اردگرد کے لوگوں کو گزشتہ اقوام پر آنے والے عذاب سے ڈرائے اور تاکہ تو ام القریٰ اور اس کے اردگرد کی بستیوں کو گزشتہ اقوام جیسے عذاب کے ساتھ ساتھ یوم الجمع سے بھی ڈرائے۔ اتنی لمبی بات کو ان مختصر الفاظ میں سمیٹ دیا: «‏‏‏‏لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ يَوْمَ الْجَمْعِ» اسے احتباک کہتے ہیں اور اس سے کلام میں اختصار، جامعیت اور حسن پیدا ہوتا ہے۔
➎ { يَوْمَ الْجَمْعِ } قیامت کے دن کو کہتے ہیں، کیونکہ اس دن سب پہلے پچھلے جمع ہوں گے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ» [التغابن: ۹] جس دن وہ تمھیں جمع کرنے کے دن کے لیے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے۔
➏ { لَا رَيْبَ فِيْهِ:} جس میں کوئی شک نہیں کیونکہ یہ بات فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ مالک اپنے غلاموں کو کسی کام پر مقرر کرے، پھر وہ ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی کریں تو ضروری ہے کہ وہ کسی دن انھیں اکٹھا کر کے مظلوم کو ظالم سے انصاف دلائے، اگر ایسا نہیں کرے گا تو بے انصاف شمار ہو گا۔ تو احکم الحاکمین کے سب کو جمع کرنے کے دن میں کیا شک ہو سکتا ہے؟ رہی یہ بات کہ کچھ لوگ اس میں شک کرتے ہیں، تو ان کے شک کو کالعدم قرار دیا کہ اس کا کچھ اعتبار نہیں۔
➐ { فَرِيْقٌ فِي الْجَنَّةِ وَ فَرِيْقٌ فِي السَّعِيْرِ:} یہ { يَوْمَ الْجَمْعِ } کا انجام ہے کہ ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

7۔ 1 یعنی جس طرح ہم نے ہر رسول اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، اسی طرح ہم نے آپ پر عربی زبان میں قرآن نازل کیا ہے، کیونکہ آپ کی قوم یہی زبان بولتی اور سمجھتی ہے۔ 7۔ 2 قیامت والے دن کو جمع ہونے والا دن اس لئے کہا کہ اس میں اگلے پچھلے تمام انسان جمع ہونگیں علاوہ ازیں ظالم مظلوم اور مومن و کافر سب جمع ہونگے اور اپنے اپنے اعمال کے مطابق جزا و سزا سے بہرہ ور ہونگے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

7۔ اور اسی طرح ہم نے آپ کی طرف یہ قرآن عربی زبان میں نازل کیا تاکہ آپ اہل مکہ اور اس کے گرد و پیش [5] والوں کو ڈرائیں اور انہیں جمع ہونے کے دن سے بھی ڈرائیں جس (کے واقعہ ہونے) میں کوئی شک نہیں (اس دن) ایک گروہ تو جنت [6] میں جائے گا اور دوسرا دوزخ میں۔
[5] قرآن ساری دنیا کی ہدایت کے لئے :۔
﴿اُمُّ الْقُرَيٰ سے مراد مرکزی بستی یا بڑا شہر اور اس سے مراد مکہ معظمہ ہے۔ جہاں اللہ کا گھر موجود ہے۔ اور تمام دنیا کے لوگوں کے جمع ہونے کے لیے مرکز بنا دیا گیا ہے۔ اور اس کے گرد سے مراد صرف آس پاس کے علاقے یا ملک نہیں بلکہ پوری روئے زمین ہی مراد ہے۔ کیونکہ یہ پوری روئے زمین کا مرکز بنایا گیا ہے۔ گویا اس آیت میں چند بنیادی باتوں کا نہایت اختصار کے ساتھ ذکر کر دیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ قرآن اہل عرب کی اپنی ہی زبان میں نازل کیا گیا ہے۔ تاکہ اس کے سمجھنے سمجھانے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے اور لوگ مخصوص قسم کے علماء کے محتاج ہو کر نہ رہ جائیں بلکہ تمام اہل عرب اس سے براہ راست استفادہ کر سکیں، دوسری یہ کہ آپ کی دعوت صرف اہل مکہ کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے لیے ہے اور تیسری یہ کہ آپ کی بعثت کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آپ دنیا بھر کے لوگوں کو قیامت کے دن واقع ہونے والے واقعات اور ان کے اعمال کی جزا و سزا سے پوری طرح خبردار کر دیں۔
[6] یعنی جتنے بھی انسان اور جنّ پیدا ہوئے ہیں ان سب کو اس دن اکٹھا کر لیا جائے گا۔ دنیا میں تو کئی مذاہب ہیں پھر ہر مذہب کے بیسیوں فرقے ہیں۔ مگر اس دن ساری مخلوق صرف دو گروہوں میں تقسیم ہو گی۔ ایک اہل جنت، دوسرے اہل دوزخ۔ ایک تیسرے فریق اعراف والوں کا ذکر بھی سورۃ اعراف میں آیا ہے لیکن وہ فریق کوئی مستقل فریق نہ ہو گا بلکہ جلد یا بدیر اہل جنت سے مل جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیامت کا آنا یقینی ہے ٭٭
یعنی جس طرح اے نبی آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم تم سے پہلے انبیاء پر وحی الٰہی آتی رہی تم پر بھی یہ قرآن وحی کے ذریعہ نازل کیا گیا ہے۔ یہ عربی میں بہت واضح بالکل کھلا ہوا اور سلجھے ہوئے بیان والا ہے تاکہ تو شہر مکہ کے رہنے والوں کو احکام الٰہی اور اللہ کے عذاب سے آگاہ کر دے نیز تمام اطراف عالم کو۔ آس پاس سے مراد مشرق و مغرب کی ہر سمت ہے مکہ شریف کو ام القرٰی اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ تمام شہروں سے افضل و بہتر ہے اس کے دلائل بہت سے ہیں جو اپنی اپنی جگہ مذکور ہیں ہاں! یہاں پر ایک دلیل جو مختصر بھی ہے اور صاف بھی ہے سن لیجئے۔ ترمذی نسائی، ابن ماجہ، مسند احمد وغیرہ میں ہے سیدنا عبداللہ بن عدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ شریف کے بازار خزورہ میں کھڑے ہوئے فرما رہے تھے کہ اے مکہ! قسم ہے اللہ کی تو اللہ کی ساری زمین سے اللہ کے نزدیک زیادہ محبوب اور زیادہ افضل ہے اگر میں تجھ میں سے نہ نکالا جاتا تو قسم ہے اللہ کی ہرگز تجھے نہ چھوڑتا۔ امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اس حدیث کو حسن صحیح فرماتے ہیں [مسند احمد:305/4:صحیح]‏‏‏‏
اور اس لیے کہ تو قیامت کے دن سے سب کو ڈرا دے جس دن تمام اول و آخر زمانے کے لوگ ایک میدان میں جمع ہوں گے۔ جس دن کے آنے میں کوئی شک و شبہ نہیں جس دن کچھ لوگ جنتی ہوں گے اور کچھ جہنمی یہ وہ دن ہو گا کہ جنتی نفع میں رہیں گے اور جہنمی گھاٹے میں۔
دوسری آیت میں فرمایا گیا ہے «ذٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ ۙ لَّهُ النَّاسُ وَذٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ وَمَا نُؤَخِّرُهُ إِلَّا لِأَجَلٍ مَّعْدُودٍ يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ» ‏‏‏‏ [11-ھود: 105-103]‏‏‏‏ یعنی ان واقعات میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو آخرت کا وہ دن ہے جس میں تمام لوگ جمع کئے جائیں گے اور وہ سب کی حاضری کا دن ہے۔ ہم تو اسے تھوڑی سی مدت معلوم کے لیے مؤخر کئے ہوئے ہیں۔ اس دن کوئی شخص بغیر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بات تک نہ کر سکے گا ان میں سے بعض تو بدقسمت ہوں گے اور بعض خوش نصیب۔
مسند احمد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے پاس ایک مرتبہ دو کتابیں اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر آئے اور ہم سے پوچھا جانتے ہو یہ کیا ہے؟ ہم نے کہا ہمیں تو خبر نہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنے ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ رب العالمین کی کتاب ہے جس میں جنتیوں کے نام ہیں مع ان کے والد اور ان کے قبیلہ کے نام کے اور آخر میں حساب کر کے میزان لگا دی گئی ہے اب ان میں نہ ایک بڑھے نہ ایک گھٹے۔
پھر اپنے بائیں ہاتھ کی کتاب کی طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ جہنمیوں کے ناموں کا رجسٹر ہے ان کے نام ان کی ولدیت اور ان کی قوم سب اس میں لکھی ہوئی ہے پھر آخر میں میزان لگا دی گئی ہے ان میں بھی کمی بیشی ناممکن ہے۔
صحابہ رضی اللہ عنہم نے پوچھا پھر ہمیں عمل کی کیا ضرورت؟ جب کہ سب لکھا جا چکا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ٹھاک رہو بھلائی کی نزدیکی لیے رہو۔ اہل جنت کا خاتمہ نیکیوں اور بھلے اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی اعمال کرتا ہو اور نار کا خاتمہ جہنمی اعمال پر ہی ہو گا گو وہ کیسے ہی کاموں کا مرتکب رہا ہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں مٹھیاں بند کر لیں اور فرمایا تمہارا رب عزوجل بندوں کے فیصلوں سے فراغت حاصل کر چکا ہے ایک فرقہ جنت میں ہے اور ایک جہنم میں اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں بائیں ہاتھوں سے اشارہ کیا گویا کوئی چیز پھینک رہے ہیں۔ [سنن ترمذي:2141،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏ یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
یہی حدیث اور کتابوں میں بھی ہے کسی میں یہ بھی ہے کہ یہ تمام عدل ہی عدل ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ نے جب آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی تمام اولاد ان میں سے نکالی اور چیونٹیوں کی طرح وہ میدان میں پھیل گئی تو اسے اپنی دونوں مٹھیوں میں لے لیا اور فرمایا ایک حصہ نیکوں کا دوسرا بدوں کا۔ پھر انہیں پھیلا دیا دوبارہ انہیں سمیٹ لیا اور اسی طرح اپنی مٹھیوں میں لے کر فرمایا ایک حصہ جنتی اور دوسرا جہنمی یہ روایت موقوف ہی ٹھیک ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
مسند احمد کی حدیث میں ہے کہ ابوعبداللہ نامی صحابی رضی اللہ عنہ بیمار تھے ہم لوگ ان کی بیمار پرسی کے لیے گئے۔ دیکھا کہ وہ رو رہے ہیں تو کہا کہ آپ کیوں روتے ہیں آپ رضی اللہ عنہ سے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دیا ہے کہ اپنی مونچھیں کم رکھا کرو یہاں تک کہ مجھ سے ملو اس پر صحابی رضی اللہ عنہ نے فرمایا یہ تو ٹھیک ہے لیکن مجھے تو یہ حدیث رلا رہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے اللہ تعالیٰ اپنی دائیں مٹھی میں مخلوق لی اور اسی طرح دوسرے ہاتھ کی مٹھی میں بھی اور فرمایا یہ لوگ اس کے لیے ہیں یعنی جنت کے لیے اور یہ اس کے لیے ہیں یعنی جہنم کے لیے اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔ پس مجھے خبر نہیں کہ اللہ کی کس مٹھی میں میں تھا؟ [مسند احمد:176/4:صحیح]‏‏‏‏
اس طرح کی اثبات تقدیر کی اور بہت سی حدیثیں ہیں پھر فرماتا ہے اگر اللہ کو منظور ہوتا تو سب کو ایک ہی طریقے پر کر دیتا یعنی یا تو ہدایت پر یا گمراہی پر لیکن رب نے ان میں تفاوت رکھا بعض کو حق کی ہدایت کی اور بعض کو اس سے بھلا دیا اپنی حکمت کو وہی جانتا ہے وہ جسے چاہے اپنی رحمت تلے کھڑا کر لے ظالموں کا حمایتی اور مددگار کوئی نہیں۔ ابن جریر میں ہے اللہ تعالیٰ سے موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام نے عرض کی کہ اے میرے رب تو نے اپنی مخلوق کو پیدا کیا پھر ان میں سے کچھ کو تو جنت میں لے جائے گا اور کچھ اوروں کو جہنم میں۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ سب ہی جنت میں جاتے جناب باری نے ارشاد فرمایا موسیٰ اپنا پیرہن اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اونچا کیا پھر فرمایا اور اونچا کرو آپ علیہ السلام نے اور اونچا کیا فرمایا اور اوپر اٹھاؤ جواب دیا اے اللہ اب تو سارے جسم سے اونچا کر لیا سوائے اس جگہ کے جس کے اوپر سے ہٹانے میں خیر نہیں فرمایا بس موسیٰ اسی طرح میں بھی اپنی تمام مخلوق کو جنت میں داخل کروں گا سوائے ان کے جو بالکل ہی خیر سے خالی ہیں۔