ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 50

اَوۡ یُزَوِّجُہُمۡ ذُکۡرَانًا وَّ اِنَاثًا ۚ وَ یَجۡعَلُ مَنۡ یَّشَآءُ عَقِیۡمًا ؕ اِنَّہٗ عَلِیۡمٌ قَدِیۡرٌ ﴿۵۰﴾
یا انھیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، یقینا وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ En
یا ان کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں عنایت فرماتا ہے۔ اور جس کو چاہتا ہے بےاولاد رکھتا ہے۔ وہ تو جاننے والا (اور) قدرت والا ہے
En
یا انہیں جمع کردیتا ہے بیٹے بھی اور بیٹیاں بھی اور جسے چاہے بانجھ کر دیتا ہے، وه بڑے علم واﻻ اور کامل قدرت واﻻ ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 49 میں تا آیت 51 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ یا لڑکے اور لڑکیاں ملا کر دیتا ہے اور جسے چاہے بانجھ [70] بنا دیتا ہے۔ یقیناً وہ سب کچھ جاننے والا قدرت والا ہے
[70] اولاد کے بارے میں انسان کی بے بسی :۔
اس سے پہلی آیت کا آغاز یوں فرمایا کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے۔ بالفاظ دیگر اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں جملہ تصرفات صرف اللہ اکیلے کے ہاتھ میں ہیں۔ پھر ان تصرفات کے صرف ایک پہلو کو دلیل کے طور پر پیش فرمایا ہے کہ دیکھ لو انسان اولاد کے بارے میں کس قدر بے بس ہے۔ انسان کی فطری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے ہاں اولاد ہو۔ مگر اللہ جسے بانجھ بنا دے یا اولاد نہ دینا چاہے وہ خواہ کتنے ہی جتن کر دیکھے اس کے ہاں اولاد نہیں ہوتی۔ اس کی دوسری خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس کے ہاں بیٹے ہوں بیٹیاں نہ ہوں۔ لیکن اللہ بعض لوگوں کو بیٹیاں ہی دیئے جاتا ہے اور اس طرح بعض دفعہ بڑے بڑے متکبروں کی اکڑ توڑ کے رکھ دیتا ہے اور وہ کچھ بھی مداوا نہیں کر سکتے۔ اور کسی کو ایک آدھ لڑکی کی خواہش کے باوجود صرف لڑکے ہی لڑکے دے دیتا ہے کبھی کسی کے ہاں جڑواں بچے پیدا ہو جاتے ہیں اور کسی کے ہاں بیک وقت تین، چار، پانچ بچے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ بالخصوص جب سے دنیا میں خاندانی منصوبہ بندی کا چرچا شروع ہوا ہے۔ ایسے واقعات بکثرت سامنے آنے لگے ہیں۔ یہ گویا قدرت کی طرف سے خلاف فطرت کام کرنے والوں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ الغرض انسان اولاد کی تمنا رکھنے کے باوجود اس مسئلہ میں اس قدر بے بس ہے کہ اللہ کے علاوہ کوئی دوسری ہستی کوئی بت کوئی آستانہ اور کوئی پیر پیغمبر اس کی کچھ مدد نہیں کر سکتے۔ بلکہ پیغمبر اس سلسلہ میں خود بھی ایسے ہی بے بس ہیں جیسے عام انسان مثلاً سیدنا لوطؑ اور سیدنا شعیبؑ کی بیٹیاں ہی بیٹیاں تھیں۔ بیٹا کوئی نہ تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے ٭٭
فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے یحییٰ اور عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے۔
پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ «وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ» [19-مريم: 21]‏‏‏‏ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا آدم علیہ السلام صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حواء صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہو گئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اس کی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی۔