تَکَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرۡنَ مِنۡ فَوۡقِہِنَّ وَ الۡمَلٰٓئِکَۃُ یُسَبِّحُوۡنَ بِحَمۡدِ رَبِّہِمۡ وَ یَسۡتَغۡفِرُوۡنَ لِمَنۡ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۵﴾
آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیںاور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو زمین میں ہیں، سن لو! بے شک اللہ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
En
قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور فرشتے اپنے پروردگار کی تعریف کے ساتھ اس کی تسبیج کرتے رہتے ہیں اور جو لوگ زمین میں ہیں ان کے لئے معافی مانگتے رہتے ہیں۔ سن رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے
En
قریب ہے آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں اور تمام فرشتے اپنے رب کی پاکی تعریف کے ساتھ بیان کر رہے ہیں اور زمین والوں کے لیے استغفار کر رہے ہیں۔ خوب سمجھ رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی معاف فرمانے واﻻ رحمت واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 5) ➊ { تَكَادُ السَّمٰوٰتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْ فَوْقِهِنَّ: ” وَ هُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيْمُ “} کے بعد یہ فرمانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ آسمان قریب ہیں کہ اپنے اوپر سے پھٹ پڑیں، یعنی اللہ تعالیٰ کے علیّ و عظیم ہونے کی وجہ سے اس کے رعب اور جلال کا یہ عالم ہے کہ آسمان اس کی ہیبت و قوت برداشت نہ کرتے ہوئے پھٹ جائیں۔ اللہ تعالیٰ کی عظمت و ہیبت کا آسمانوں پر جو اثر ہے اس کا کچھ اندازہ اس حدیث سے ہوتا ہے جو ابو ذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [إِنِّيْ أَرٰی مَا لاَ تَرَوْنَ وَأَسْمَعُ مَا لاَ تَسْمَعُوْنَ أَطَّتِ السَّمَاءُ وَحُقَّ لَهَا أَنْ تَئِطَّ مَا فِيْهَا مَوْضِعُ أَرْبَعِ أَصَابِعَ إِلاَّ وَ مَلَكٌ وَاضِعٌ جَبْهَتَهُ سَاجِدًا لِلّٰهِ، وَاللّٰهِ! لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا أَعْلَمُ لَضَحِكْتُمْ قَلِيْلاً وَلَبَكَيْتُمْ كَثِيْرًا وَمَا تَلَذَّذْتُمْ بِالنِّسَاء عَلَی الْفُرُشِ وَلَخَرَجْتُمْ إِلَی الصُّعُدَاتِ تَجْأَرُوْنَ إِلَی اللّٰهِ] [ترمذي، الزھد، باب في قول النبي صلی اللہ علیہ وسلم لو تعلمون …: ۲۳۱۲، و حسنہ الترمذي، و قال الألباني حسن]”میں وہ کچھ دیکھتا ہوں جو تم نہیں دیکھتے اور وہ سنتا ہوں جو تم نہیں سنتے۔ آسمان چرچرا رہا ہے اور اس کا حق ہے کہ چر چرائے، اس میں چار انگلیوں کی جگہ نہیں مگر کوئی نہ کوئی فرشتہ اپنی پیشانی رکھ کر اللہ کے لیے سجدے میں ہے۔ اللہ کی قسم! اگر تم وہ جان لو جو میں جانتا ہوں تو بہت کم ہنسو اور بہت زیادہ روؤ اور تم بستروں پر عورتوں سے لذت حاصل نہ کرو اور تم اللہ کی طرف گڑ گڑاتے ہوئے بیابانوں کی طرف نکل جاؤ۔“ اور ایک مطلب یہ ہے کہ اس عزیز و حکیم اور علیّ و عظیم مالک کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لانے اور اس اکیلے کی عبادت کے بجائے کسی مخلوق کو، جس کے اختیار میں کچھ بھی نہیں مشکل کشا، حاجت روا، داتا، دستگیر، غریب نواز، بگڑی بنانے والا اور ڈوبتے ہوئے کو پار لگانے والا مان لینا، یا اسے اللہ تعالیٰ کی بیوی یا بیٹا یا اس کے ذاتی نور کا ٹکڑا قرار دے کر اس کی عبادت اور اس سے مانگنا شروع کر دینا کوئی معمولی بات نہیں، بلکہ اتنی خوفناک بات ہے کہ قریب ہے یہ بات کہنے پر آسمان اپنے اوپر سے گر پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ ڈھے کر گر پڑیں۔ سورۂ مریم کی آیات (۸۸ تا ۹۵) میں یہ بات تفصیل سے بیان ہوئی ہے، وہ آیات مع تفسیر ملاحظہ فرما لیں۔
➋ {مِنْ فَوْقِهِنَّ:} آسمانوں کے اپنے اوپر سے پھٹنے کا مطلب یہ ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اپنے اوپر کی جانب سے پھٹ جائیں۔ چنانچہ سب سے اوپر والا آسمان پھٹ کر نیچے والے آسمان پر گرے، وہ اس سے نچلے پر گرے، اس طرح تمام آسمان پھٹیں اور نیچے والوں کے اوپر گر جائیں۔ آسمانوں کے اپنے اوپر سے پھٹنے کی وجہ وہاں بے شمار فرشتوں کا سجدہ ریز ہونا اور عرش الٰہی کے قریب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی ہیبت کے آثار کا بہت زیادہ ہونا ہے۔
➌ {وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ:} تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر عیب اور ہر کمی سے پاک قرار دینا اور حمد سے مراد اسے ہر خوبی کا مالک قرار دینا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی توحید ہے اور اس کی طرف منسوب کیے جانے والے تمام عیوب میں سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ کوئی اس کا شریک ہے یا اس کی اولاد یا بیوی ہے۔ سب سے بڑا عیب اس لیے کہ یہ مان لینے کی صورت میں اس کا محتاج اور عاجز ہونا ثابت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے لیے گالی قرار دیا۔ فرشتے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جمال و جلال اور صفاتِ کمال کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
➍ { وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِي الْاَرْضِ:} اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ {” لِمَنْ فِي الْاَرْضِ “} سے مراد مومن ہیں اور فرشتے زمین والوں میں سے صرف ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں، کیونکہ دوسری جگہ فرمایا: «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ» [المؤمن: ۷] ”وہ(فرشتے) جو عرش کواٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا۔ “ مگر بعض مفسرین نے فرمایا: ”آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ (فرشتے ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو زمین میں ہیں) اس میں مومن و کافر دونوں شامل ہیں اور فرشتوں کے مسلم و کافر سب کے لیے استغفار کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام زمین والوں کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، خواہ مومن ہوں یا کافر کہ اے اللہ! ان کے لیے ایسے اسباب مہیا فرما جن کی بدولت ان سے عذاب ٹلے، کافر ہیں تو ایمان لائیں، فاسق ہیں تو توبہ کریں، تاکہ ان کی بخشش ہو جائے۔“ قرطبی نے اس بات کو راجح قرار دیا ہے۔ اس تفسیر پر ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والوں کو مشرکین کے لیے استغفار سے منع فرمایا ہے، آپ استغفار کا کوئی بھی معنی کرلیں فرشتوں کا کفار و مشرکین کے لیے استغفار ممکن ہی نہیں، کیونکہ وہ اپنے رب کے کسی حکم کی نافرمانی کرتے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «لَا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ» [التحریم: ۶] ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انھیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں۔“ اس سوال کا جواب اسی آیت میں موجود ہے جس میں مشرکین کے لیے استغفار سے منع کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ» [التوبۃ: ۱۱۳] ”اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔ “ معلوم ہوا مشرکین کے لیے استغفار اس وقت منع ہے جب ان کا جہنمی ہونا واضح اور یقینی ہو جائے اور ظاہر ہے کسی کے جہنمی ہونے کا یقین اس کے کفر پر مرنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ جب تک کوئی زندہ ہے کسی وقت بھی اسے ایمان کی توفیق عطا ہو سکتی ہے اور یہ علم کہ کس نے کفر پر مرنا ہے کسی انسان، جن یا فرشتے کو نہیں، اس لیے کفار کے لیے ہدایت کی دعا کرنا، جس سے ان کی بخشش ہو جائے، جائز بلکہ سنت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! دوس قبیلے نے نافرمانی کی ہے اور ایمان لانے سے انکار کر دیا ہے، آپ ان پر بد دعا کریں۔“ لوگوں نے کہا: ”دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَللّٰهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ] [بخاري، الجہاد، باب الدعاء للمشرکین بالھدٰی لیتألّفہم: ۲۹۳۷] ”اے اللہ! دوس قبیلے کو ہدایت دے اور انھیں لے آ۔“
➎ اس آیت سے فرشتوں کی صاف دلی اور زمین والوں کے لیے خیر خواہی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھی انسانوں کے باپ کو سجدے کے حکم سے انکار پر ابلیس ملعون ٹھہرا تھا، جب کہ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے سجدہ بھی کیا اور ان کے حق میں دعائیں بھی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ متکبر تھا ملعون ٹھہرا، یہ متواضع تھے مقرب ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی ہی صاف دلی عطا فرمائے اور ہماری طرف سے فرشتوں کو بہترین بدلا عطا فرمائے۔ (آمین)
➏ { اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ:} خبر{” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} پر الف لام اور ضمیر فصل {” هُوَ “} سے قصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ”سن لو! بے شک اللہ تعالیٰ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ یعنی کسی اور میں یہ صفات نہیں ہیں۔ اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اگر یہ بات فرشتوں کے اختیار میں ہوتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی درخواست کیوں کرتے؟
➋ {مِنْ فَوْقِهِنَّ:} آسمانوں کے اپنے اوپر سے پھٹنے کا مطلب یہ ہے کہ قریب ہے کہ یہ آسمان اپنے اوپر کی جانب سے پھٹ جائیں۔ چنانچہ سب سے اوپر والا آسمان پھٹ کر نیچے والے آسمان پر گرے، وہ اس سے نچلے پر گرے، اس طرح تمام آسمان پھٹیں اور نیچے والوں کے اوپر گر جائیں۔ آسمانوں کے اپنے اوپر سے پھٹنے کی وجہ وہاں بے شمار فرشتوں کا سجدہ ریز ہونا اور عرش الٰہی کے قریب ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کی ہیبت کے آثار کا بہت زیادہ ہونا ہے۔
➌ {وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ:} تسبیح سے مراد اللہ تعالیٰ کو ہر عیب اور ہر کمی سے پاک قرار دینا اور حمد سے مراد اسے ہر خوبی کا مالک قرار دینا ہے۔ اس کی سب سے بڑی خوبی توحید ہے اور اس کی طرف منسوب کیے جانے والے تمام عیوب میں سب سے بڑا عیب یہ ہے کہ کوئی اس کا شریک ہے یا اس کی اولاد یا بیوی ہے۔ سب سے بڑا عیب اس لیے کہ یہ مان لینے کی صورت میں اس کا محتاج اور عاجز ہونا ثابت ہوتا ہے، اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے لیے گالی قرار دیا۔ فرشتے ہر وقت اللہ تعالیٰ کی صفاتِ جمال و جلال اور صفاتِ کمال کا ذکر کرتے رہتے ہیں۔
➍ { وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ لِمَنْ فِي الْاَرْضِ:} اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ {” لِمَنْ فِي الْاَرْضِ “} سے مراد مومن ہیں اور فرشتے زمین والوں میں سے صرف ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے ہیں، کیونکہ دوسری جگہ فرمایا: «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَ مَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ يُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ يَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّ عِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَ اتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَ قِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيْمِ» [المؤمن: ۷] ”وہ(فرشتے) جو عرش کواٹھائے ہوئے ہیں اور وہ جو اس کے ارد گرد ہیں اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بخشش کی دعا کرتے ہیں جو ایمان لائے، اے ہمارے رب! تو نے ہر چیز کو رحمت اور علم سے گھیر رکھا ہے، تو ان لوگوں کو بخش دے جنھوں نے توبہ کی اور تیرے راستے پر چلے اور انھیں بھڑکتی ہوئی آگ کے عذاب سے بچا۔ “ مگر بعض مفسرین نے فرمایا: ”آیت کے الفاظ یہ ہیں کہ (فرشتے ان لوگوں کے لیے استغفار کرتے ہیں جو زمین میں ہیں) اس میں مومن و کافر دونوں شامل ہیں اور فرشتوں کے مسلم و کافر سب کے لیے استغفار کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمام زمین والوں کے لیے دعا کرتے رہتے ہیں، خواہ مومن ہوں یا کافر کہ اے اللہ! ان کے لیے ایسے اسباب مہیا فرما جن کی بدولت ان سے عذاب ٹلے، کافر ہیں تو ایمان لائیں، فاسق ہیں تو توبہ کریں، تاکہ ان کی بخشش ہو جائے۔“ قرطبی نے اس بات کو راجح قرار دیا ہے۔ اس تفسیر پر ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ایمان والوں کو مشرکین کے لیے استغفار سے منع فرمایا ہے، آپ استغفار کا کوئی بھی معنی کرلیں فرشتوں کا کفار و مشرکین کے لیے استغفار ممکن ہی نہیں، کیونکہ وہ اپنے رب کے کسی حکم کی نافرمانی کرتے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا: «لَا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ يَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ» [التحریم: ۶] ”وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جو وہ انھیں حکم دے اور وہ کرتے ہیں جو حکم دیے جاتے ہیں۔“ اس سوال کا جواب اسی آیت میں موجود ہے جس میں مشرکین کے لیے استغفار سے منع کیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِيْمِ» [التوبۃ: ۱۱۳] ”اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے، کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں، خواہ وہ قرابت دار ہوں، اس کے بعد کہ ان کے لیے صاف ظاہر ہوگیا کہ یقینا وہ جہنمی ہیں۔ “ معلوم ہوا مشرکین کے لیے استغفار اس وقت منع ہے جب ان کا جہنمی ہونا واضح اور یقینی ہو جائے اور ظاہر ہے کسی کے جہنمی ہونے کا یقین اس کے کفر پر مرنے کے بعد ہی ہو سکتا ہے۔ جب تک کوئی زندہ ہے کسی وقت بھی اسے ایمان کی توفیق عطا ہو سکتی ہے اور یہ علم کہ کس نے کفر پر مرنا ہے کسی انسان، جن یا فرشتے کو نہیں، اس لیے کفار کے لیے ہدایت کی دعا کرنا، جس سے ان کی بخشش ہو جائے، جائز بلکہ سنت ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ طفیل بن عمرو دوسی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے: ”یا رسول اللہ! دوس قبیلے نے نافرمانی کی ہے اور ایمان لانے سے انکار کر دیا ہے، آپ ان پر بد دعا کریں۔“ لوگوں نے کہا: ”دوس قبیلہ ہلاک ہو گیا۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَللّٰهُمَّ اهْدِ دَوْسًا وَائْتِ بِهِمْ] [بخاري، الجہاد، باب الدعاء للمشرکین بالھدٰی لیتألّفہم: ۲۹۳۷] ”اے اللہ! دوس قبیلے کو ہدایت دے اور انھیں لے آ۔“
➎ اس آیت سے فرشتوں کی صاف دلی اور زمین والوں کے لیے خیر خواہی کا اندازہ ہوتا ہے۔ انھی انسانوں کے باپ کو سجدے کے حکم سے انکار پر ابلیس ملعون ٹھہرا تھا، جب کہ اللہ کے حکم سے فرشتوں نے سجدہ بھی کیا اور ان کے حق میں دعائیں بھی کرتے چلے جا رہے ہیں۔ وہ متکبر تھا ملعون ٹھہرا، یہ متواضع تھے مقرب ٹھہرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ایسی ہی صاف دلی عطا فرمائے اور ہماری طرف سے فرشتوں کو بہترین بدلا عطا فرمائے۔ (آمین)
➏ { اَلَاۤ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ:} خبر{” الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ “} پر الف لام اور ضمیر فصل {” هُوَ “} سے قصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، اس لیے ترجمہ کیا گیا ہے: ”سن لو! بے شک اللہ تعالیٰ ہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔“ یعنی کسی اور میں یہ صفات نہیں ہیں۔ اس میں مشرکین کو تنبیہ ہے کہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے، اگر یہ بات فرشتوں کے اختیار میں ہوتی تو وہ اللہ تعالیٰ سے اس کی درخواست کیوں کرتے؟
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
5۔ 1 اللہ کی عظمت و جلال کی وجہ سے۔ 5۔ 2 یہ مضمون سورة مومن کی (اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ) 40۔ غافر:7) میں بھی بیان ہوا ہے۔ 5۔ 3 اپنے دوستوں اور اہل اطاعت کے لئے یا تمام ہی بندوں کے لئے، کیونکہ کفار اور نافرمانوں کی فوراً گرفت نہ کرنا بلکہ انہیں ایک وقت معین تک مہلت دینا، یہ بھی اس کی رحمت و مغفرت ہی کی قسم سے ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
5۔ (جو کچھ یہ مشرکین کہتے ہیں) قریب ہے کہ آسمان اوپر [3] سے پھٹ پڑیں درآنحالیکہ فرشتے اپنے پروردگار کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے اور زمین میں رہنے والوں کے لئے بخشش طلب کرتے رہتے ہیں۔ سن رکھو!! اللہ ہی بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے
[3] اگر کوئی اور الٰہ ہوتا تو آسمان پھٹ پڑتا اور نظام تباہ ہو جاتا :۔
مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ اس طرح وہ اللہ کی دوہری توہین کے مرتکب ہوتے تھے ایک اولاد قرار دینا یا نسبی رشتہ قائم کرنا اور دوسرے اللہ کے لیے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں تجویز کرنا۔ اور بیٹا مملوک نہیں بلکہ ہمسر ہوتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کائنات کا خالق اگر ایک کی بجائے دو بھی ہوتے تو یہ نظام کائنات درہم برہم ہو جاتا پھر ان لوگوں نے تو اللہ کے کئی نسبی رشتہ دار بنا ڈالے تھے۔ ان کے کہنے کے مطابق تو آسمانوں کو کب کا پھٹ پڑنا چاہئے تھا۔ لیکن تدبیر امور کائنات پر مامور فرشتے ایسی باتوں سے اللہ کی ہر وقت پاکیزگی بیان کرتے اور اس کی حمد و ثنا میں مشغول رہتے ہیں۔ پھر وہ اہل زمین کے ایسے گندے خیالات پر ان کے لیے بخشش کی دعا بھی کرتے رہتے ہیں۔ پھر اللہ ان کی دعا قبول کرتا اور ایسے مجرموں سے درگزر کئے جاتا ہے۔ ورنہ ان کے اعمال تو ایسے ہیں کہ ان پر آسمان کے ٹکڑے گرا کر انہیں فوراً ہلاک کر دیا جاتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الْكَبِيرُ الْمُتَعَالِ» [13-الرعد: 9] وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے۔ اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «اَلَّذِيْنَ يَحْمِلُوْنَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَهٗ يُسَبِّحُوْنَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَيُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَيَسْتَغْفِرُوْنَ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَّحْمَةً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِيْنَ تَابُوْا وَاتَّبَعُوْا سَبِيْلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَــحِيْمِ» [40- غافر: 7] یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» [88-سورة الغاشية: 21، 22] تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔