ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 49

لِلّٰہِ مُلۡکُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ ؕ یَخۡلُقُ مَا یَشَآءُ ؕیَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ اِنَاثًا وَّ یَہَبُ لِمَنۡ یَّشَآءُ الذُّکُوۡرَ ﴿ۙ۴۹﴾
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔ En
(تمام) بادشاہت خدا ہی کی ہے آسمانوں کی بھی اور زمین کی بھی۔ وہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔ جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے بخشتا ہے
En
آسمانوں کی اور زمین کی سلطنت اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے، وه جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے دیتا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50،49) ➊ { لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَآءُ:} اس سے پہلی آیت میں انسان کا ذکر فرمایا کہ اگر اسے اس کے اپنے اعمالِ بد کے نتیجے میں کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو انسان بہت ناشکرا ہے، وہ فوراً اللہ تعالیٰ کا شکوہ شروع کر دیتا ہے کہ اس نے مجھ سے نعمت چھین لی اور مجھ پر ظلم کیا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کرتا۔ اس کی طرف ظلم کی نسبت سے بڑا ظلم کوئی نہیں، کیونکہ ایک تو انسان کو پہنچنے والی مصیبت اس کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، دوسرے اللہ تعالیٰ آسمان و زمین یعنی پوری کائنات اور اس میں موجود ہر نعمت کا بادشاہ اور مالک ہے۔ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، اپنی جو نعمت جسے چاہے دیتا ہے، جسے چاہے نہیں دیتا یا چھین لیتا ہے۔ بندے پر اس کے اعمال کے نتیجے میں جو مصیبت آئی ہے زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنی کوئی نعمت نہیں دی، یا آئندہ کے لیے روک لی ہے، مثلاً صحت، دولت یا ایمان وغیرہ۔ ظلم تو تب ہوتا جب وہ اس کی ملکیت والی کوئی چیز اسے نہ دیتا یا اس سے لے لیتا۔ جب ہر چیز اس کی ملکیت ہے تو اس کی مرضی، جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے، کسی کے پاس شکوے اور ناشکری کا کیا موقع ہے۔ ایمان کی نعمت سے نوازنا بھی اس کی مرضی پر موقوف ہے، وہ چاہتا تو سب کو یہ نعمت دے دیتا مگر یہ نعمت بھی وہ اسی کو دیتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اس حقیقت کو سمجھ لینے سے تقدیر کے بہت سے مسئلے حل ہو جاتے ہیں اور آدمی اللہ تعالیٰ کے شکوے، اس کی ناشکری اور اسے ظالم کہنے سے بچ جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ يُّدْخِلُ مَنْ يَّشَآءُ فِيْ رَحْمَتِهٖ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِيٍّ وَّ لَا نَصِيْرٍ» ‏‏‏‏ [الشورٰی: ۸] اور اگر اللہ چاہتا تو انھیں ایک ہی امت بنا دیتا اور لیکن وہ اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے جسے چاہتا ہے اور جو ظالم ہیں ان کے لیے نہ کوئی دوست ہے اور نہ کوئی مددگار۔
➋ {يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا …:} یہ اس بات کی مثال ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے دیتا ہے اور جو چاہے دیتا ہے، چنانچہ وہ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، یا لڑکے لڑکیاں دونوں عطا کر دیتا ہے اور جسے چاہے مرد ہو یا عورت عقیم (بانجھ) بنا دیتا ہے، کسی کو اس پر اعتراض یا شکوے کا کوئی حق نہیں۔
➌ { اِنَّهٗ عَلِيْمٌ قَدِيْرٌ:} مخلوق کو نعمت عطا کرنے میں یہ تفاوت اندھی تقسیم نہیں بلکہ اس لیے ہے کہ وہ ہر چیز کا علم اور پوری قدرت رکھنے والا ہے، اس کا ہر فعل اس کے علم و قدرت کے تحت ہے اور اسی علم و قدرت کے ساتھ اس نے بعض کو اولاد سے محروم رکھا، کسی کو ہدایت سے اور کسی کو لڑکی یا لڑکے یا دونوں کی نعمت سے نواز دیا، کسی کو ہدایت کے تمام مرتبوں سے اونچے مرتبے نبوت سے نواز دیا، جس کا ذکر اگلی آیت میں ہے اور یہ سب کچھ اس کی مشیت کے تحت ہے، فرمایا: «اَللّٰهُ يَجْتَبِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَ يَهْدِيْۤ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ» ‏‏‏‏ [الشورٰی: ۱۳] اللہ اپنی طرف چن لیتا ہے جسے چاہتا ہے اور اپنی طرف راستہ اسے دیتا ہے جو رجوع کرے۔
➍ اس آیت میں یہ حقیقت واشگاف الفاظ میں بیان کر دی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی دنیا کے نام نہاد بادشاہوں، جباروں اور سرداروں کے حوالے نہیں کر دی گئی اور نہ ہی اس میں کسی نبی یا ولی، داتا، دستگیر یا دیوی دیوتا کا کوئی حصہ ہے، اس کا مالک اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ کتنے جابر بادشاہ اور سپہ سالار، کتنے انبیاء و اولیاء اور کتنے ماہر ڈاکٹر اور حکیم اولاد سے محروم رہے، کتنے لڑکے کو ترستے رہے اور کتنے لڑکی کی خواہش دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اگر مشرکین اس حقیقت کو سمجھ لیں تو کبھی شرک کی حماقت نہ کریں۔
➎ { يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا } میں لڑکیوں کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ قرار دیا ہے۔ جو لوگ لڑکیوں کو نحوست یا عار کا باعث سمجھتے ہیں انھیں ان الفاظ پر غور کرنا چاہیے اور کسی ایسے جوڑے کے احساسات معلوم کرنے چاہییں جنھیں لڑکی بھی عطا نہیں ہوئی۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

49۔ آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لئے ہے۔ وہ جو چاہے پیدا کرتا ہے جسے چاہے لڑکیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہے لڑکے

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اولاد کا اختیار اللہ کے پاس ہے ٭٭
فرماتا ہے کہ خالق مالک اور متصرف زمین و آسمان کا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا جسے چاہے دے جسے چاہے نہ دے جو چاہے پیدا کرے اور بنائے جسے چاہے صرف لڑکیاں دے جیسے لوط علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے صرف لڑکے ہی عطا فرماتا ہے جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ والسلام۔ اور جسے چاہے لڑکے لڑکیاں سب کچھ دیتا ہے جیسے محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور جسے چاہے لا ولد رکھتا ہے جیسے یحییٰ اور عیسیٰ۔ پس یہ چار قسمیں ہوئیں۔ لڑکیوں والے لڑکوں والے دونوں والے اور دونوں سے خالی ہاتھ۔ وہ علیم ہے ہر مستحق کو جانتا ہے۔ قادر ہے جس طرح چاہے تفاوت رکھتا ہے۔
پس یہ مقام بھی مثل اس فرمان الٰہی کے ہے۔ جو عیسیٰ کے بارے میں ہے کہ «وَلِنَجْعَلَهُ آيَةً لِّلنَّاسِ» [19-مريم: 21]‏‏‏‏ تاکہ کہ ہم اسے لوگوں کے لیے نشان بنائیں یعنی دلیل قدرت بنائیں اور دکھا دیں کہ ہم نے مخلوق کو چار طور پر پیدا کیا آدم علیہ السلام صرف مٹی سے پیدا ہوئے نہ ماں نہ باپ۔ حواء صرف مرد سے پیدا ہوئیں باقی کل انسان مرد عورت دونوں سے سوائے عیسیٰ علیہ السلام کے کہ وہ صرف عورت سے بغیر مرد کے پیدا کئے گئے۔ پس آپ کی پیدائش سے یہ چاروں قسمیں ہو گئیں۔ پس یہ مقام ماں باپ کے بارے میں تھا اور وہ مقام اولاد کے بارے میں اس کی بھی چار قسمیں اور اس کی بھی چار قسمیں سبحان اللہ یہ ہے اس اللہ کے علم و قدرت کی نشانی۔