(آیت 46) ➊ { وَمَاكَانَلَهُمْمِّنْاَوْلِيَآءَ …:} اس آیت میں مشرکوں کا رد ہے جو اپنے بنائے ہوئے داتاؤں اور مشکل کشاؤں کے بارے میں عقیدہ رکھتے ہیں کہ وہ ان کے حمایتی اور مددگار ہیں، سختی اور مصیبت کے وقت ان کے کام آئیں گے اور انھیں اللہ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اس امید پر یہ ان کی عبادت کرتے اور انھیں پکارتے ہیں، حالانکہ یہ اعتقاد سراسر گمراہی ہے اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی بھی راستہ نہیں۔ ➋ { وَمَنْيُّضْلِلِاللّٰهُفَمَالَهٗمِنْسَبِيْلٍ:} اور جسے اللہ گمراہ کر دے پھر اس کے لیے کوئی بھی راستہ نہیں، نہ دنیا میں ہدایت پانے کا اور نہ آخرت میں عذاب سے نجات کا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ اور ان کے کوئی حمایتی نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کریں۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے اس کے لئے (بچاؤ کی) کوئی راہ نہیں
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔