وَ مَنۡ یُّضۡلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَہٗ مِنۡ وَّلِیٍّ مِّنۡۢ بَعۡدِہٖ ؕ وَ تَرَی الظّٰلِمِیۡنَ لَمَّا رَاَوُا الۡعَذَابَ یَقُوۡلُوۡنَ ہَلۡ اِلٰی مَرَدٍّ مِّنۡ سَبِیۡلٍ ﴿ۚ۴۴﴾
اور جسے اللہ گمراہ کر دے، پھر اس کے بعد اس کا کوئی مددگار نہیں اور تو ظالموں کو دیکھے گا کہ جب وہ عذاب کو دیکھیں گے تو کہیں گے کیا واپس جانے کی طرف کوئی راستہ ہے۔
En
اور جس شخص کو خدا گمراہ کرے تو اس کے بعد اس کا کوئی دوست نہیں۔ اور تم ظالموں کو دیکھو گے کہ جب وہ (دوزخ کا) عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کیا (دنیا میں) واپس جانے کی بھی کوئی سبیل ہے؟
En
اور جسے اللہ تعالیٰ بہکا دے اس کا اس کے بعد کوئی چاره ساز نہیں، اور تو دیکھے گا کہ ﻇالم لوگ عذاب کو دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے کہ کیا واپس جانے کی کوئی راه ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 44) ➊ { وَ مَنْ يُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِيٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ:} یعنی جس شخص کی ضد اور ہٹ دھرمی کا یہ حال ہو کہ نہ وہ عفو و درگزر کا اعلیٰ درجہ اختیار کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو اور نہ کم از کم عدل و انصاف سے کام لینے پر تیار ہو تو ظاہر ہے کہ وہ خیر سے محروم اور محض شر ہے، ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ بھی خیر کی توفیق نہیں دیتا، بلکہ گمراہی میں دھکیل دیتا ہے اور جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے پھر اس کا کوئی مددگار نہیں جو اسے ہدایت پر لے آئے۔ مزید دیکھیے سورۂ اعراف (۱۷۸، ۱۸۶) اور سورۂ کہف (۱۷)۔
➋ { وَ تَرَى الظّٰلِمِيْنَ:} اور تو ان ظالموں کو دیکھے گا جو عذاب دیکھنے سے پہلے ظلم و فساد اور زمین میں سرکشی سے باز آنے پر کسی طرح تیار نہیں تھے، اس لیے یہ ظالم نہ اپنے مالک کی گرفت سے ڈرتے تھے اور نہ انھیں حساب کتاب کا کوئی خوف تھا۔ {” الظّٰلِمِيْنَ “} سے مراد یہاں کفار و مشرکین ہیں، کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں انھی کے لیے یہ لفظ آتا ہے۔ یہاں اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ آگے ان کے متعلق فرمایا: «اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ» [الشورٰی: ۴۵] ”سن لو! بے شک ظالم لوگ ہمیشہ رہنے والے عذاب میں ہوں گے۔“ اور یہ بات طے شدہ ہے کہ دائمی عذاب کفار و مشرکین ہی کو ہو گا۔ دوسری دلیل یہ کہ ان کے قول کے مقابلے میں مومنون کا قول ذکر فرمایا: «وَ قَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ» [الشورٰی: ۴۵] ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے، کہیں گے اصل خسارے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں گنوا دیا۔“
➌ { لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ يَقُوْلُوْنَ …:} وہی متکبر اور ظالم لوگ جو پہلے نہ رب تعالیٰ سے ڈرتے تھے اور نہ اس کے عذاب یا حساب کتاب سے ڈرتے تھے، جب عذاب دیکھیں گے تو ان کی ساری اکڑ ختم ہو جائے گی اور کہیں گے، کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے کہ ہم دنیا میں جا کر اپنی کوتاہی کی تلافی کر لیں؟ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۲۷، ۲۸) اور سورۂ اعراف (۵۳)۔
➋ { وَ تَرَى الظّٰلِمِيْنَ:} اور تو ان ظالموں کو دیکھے گا جو عذاب دیکھنے سے پہلے ظلم و فساد اور زمین میں سرکشی سے باز آنے پر کسی طرح تیار نہیں تھے، اس لیے یہ ظالم نہ اپنے مالک کی گرفت سے ڈرتے تھے اور نہ انھیں حساب کتاب کا کوئی خوف تھا۔ {” الظّٰلِمِيْنَ “} سے مراد یہاں کفار و مشرکین ہیں، کیونکہ قرآن کی اصطلاح میں انھی کے لیے یہ لفظ آتا ہے۔ یہاں اس کی دلیل ایک تو یہ ہے کہ آگے ان کے متعلق فرمایا: «اَلَاۤ اِنَّ الظّٰلِمِيْنَ فِيْ عَذَابٍ مُّقِيْمٍ» [الشورٰی: ۴۵] ”سن لو! بے شک ظالم لوگ ہمیشہ رہنے والے عذاب میں ہوں گے۔“ اور یہ بات طے شدہ ہے کہ دائمی عذاب کفار و مشرکین ہی کو ہو گا۔ دوسری دلیل یہ کہ ان کے قول کے مقابلے میں مومنون کا قول ذکر فرمایا: «وَ قَالَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ الْخٰسِرِيْنَ الَّذِيْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ اَهْلِيْهِمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ» [الشورٰی: ۴۵] ”اور وہ لوگ جو ایمان لائے، کہیں گے اصل خسارے والے تو وہ ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنی جانوں اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں گنوا دیا۔“
➌ { لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ يَقُوْلُوْنَ …:} وہی متکبر اور ظالم لوگ جو پہلے نہ رب تعالیٰ سے ڈرتے تھے اور نہ اس کے عذاب یا حساب کتاب سے ڈرتے تھے، جب عذاب دیکھیں گے تو ان کی ساری اکڑ ختم ہو جائے گی اور کہیں گے، کیا واپس جانے کا کوئی راستہ ہے کہ ہم دنیا میں جا کر اپنی کوتاہی کی تلافی کر لیں؟ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۲۷، ۲۸) اور سورۂ اعراف (۵۳)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
44۔ اور جسے اللہ گمراہ کر دے [62] تو اس کے بعد کوئی اس کا کارساز نہیں۔ اور آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ جب وہ عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے کہ: کیا واپس [63] پلٹنے کی بھی کوئی راہ ہے؟
[62] یعنی ان لوگوں کو کتاب وہ دی گئی جو ہدایت انسانی کے لیے بہترین کتاب ہے اور رسول وہ بھیجا گیا جس کی سیرت و کردار کی بلندی میں ان کو بھی کوئی شک نہیں۔ پھر بھی اگر یہ لوگ ہدایت قبول نہیں کرتے تو اللہ ایسے لوگوں کو کبھی ہدایت نہیں دیا کرتا۔ [63] یعنی آج دنیا میں یہ اپنی سرکشی کی حالت کو چمٹ تو سکتے ہیں مگر پلٹتے نہیں اور اس دن اپنی حالت کو پلٹنے کی کوئی گنجائش نہ ہو گی تو اس دن پلٹنے کی راہ پوچھیں گے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ پوچھیں گے کیا ہمارے دوبارہ واپس دنیا میں جانے کی کوئی صورت ہے تاکہ ہم بھی نیک عمل کر سکیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اللہ تعالٰی کو کوئی پوچھنے والا نہیں ٭٭
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ وہ جو چاہتا ہے ہوتا ہے اسے کوئی روک نہیں سکتا اور جو نہیں چاہتا نہیں ہوتا اور نہ اسے کوئی کر سکتا ہے وہ جسے راہ راست دکھا دے اسے بہکا نہیں سکتا اور جس سے وہ راہ حق گم کر دے اسے کوئی اس راہ کو دکھا نہیں سکتا اور جگہ فرمان ہے «وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا» [18- الكهف: 17] جسے وہ گمراہ کر دے اس کا کوئی چارہ ساز اور رہبر نہیں۔ پھر فرماتا ہے یہ مشرکین قیامت کے عذاب کو دیکھ کر دوبارہ دنیا میں آنے کی تمنا کریں گے جیسے اور جگہ ہے «وَلَوْ تَرٰٓي اِذْ وُقِفُوْا عَلَي النَّارِ فَقَالُوْا يٰلَيْتَنَا نُرَدُّ وَلَا نُكَذِّبَ بِاٰيٰتِ رَبِّنَا وَنَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ بَلْ بَدَا لَهُم مَّا كَانُوا يُخْفُونَ مِن قَبْلُ ۖ وَلَوْ رُدُّوا لَعَادُوا لِمَا نُهُوا عَنْهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ» [6- الانعام: 28، 27] کاش کہ تو انہیں دیکھتا جب کہ یہ دوزخ کے پاس کھڑے کئے جائیں گے اور کہیں گے ہائے کیا اچھی بات ہو کہ ہم دوبارہ واپس بھیج دئیے جائیں تو ہم ہرگز اپنے رب کی آیتوں کو جھوٹ نہ بتائیں بلکہ ایمان لے آئیں۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ لوگ جس چیز کو اس سے پہلے پوشیدہ کئے ہوئے تھے وہ ان کے سامنے آ گئی۔ بات یہ ہے کہ اگر یہ دوبارہ بھیج بھی دیئے جائیں تب بھی وہی کریں گے جس سے منع کئے جاتے ہیں یقیناً یہ جھوٹے ہیں۔
پھر فرمایا یہ جہنم کے پاس لائے جائیں گے اور اللہ کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان پر ذلت برس رہی ہو گی عاجزی سے جھکے ہوئے ہوں گے اور نظریں بچاکر جہنم کو تک رہے ہوں گے۔ خوف زدہ اور حواس باختہ ہو رہے ہوں گے لیکن جس سے ڈر رہے ہیں اس سے بچ نہ سکیں گے نہ صرف اتنا ہی بلکہ ان کے وہم و گمان سے بھی زیادہ عذاب انہیں ہو گا۔ اللہ ہمیں محفوظ رکھے اس وقت ایماندار لوگ کہیں گے کہ حقیقی نقصان یافتہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ساتھ اپنے والوں کو بھی جہنم واصل کیا یہاں تک کہ آج کی ابدی نعمتوں سے محروم رہے اور انہیں بھی محروم رکھا آج وہ سب الگ الگ عذاب میں مبتلا ہیں دائمی ابدی اور سرمدی سزائیں بھگت رہے ہیں اور یہ ناامید ہو جائیں آج کوئی ایسا نہیں جو ان عذابوں سے چھڑا سکے یا تخفیف کرا سکے ان گمراہوں کو خلاصی دینے والا کوئی نہیں۔