(آیت 4) ➊ { لَهٗمَافِيالسَّمٰوٰتِوَمَافِيالْاَرْضِ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اگر محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) پر یہ کتاب پہلے پیغمبروں کی طرح نازل ہوئی ہے تو ہوتی رہے، ہم پر کیوں لازم ہے کہ ہم اس کے احکام کی پابندی کریں اور اپنی مرضی پر عمل نہ کریں؟ فرمایا، اس لیے کہ آسمانوں میں اور زمین میں جو کچھ ہے سب کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، خود تم بھی اس کی ملکیت ہو۔ بھلا وہ مالک برداشت کر سکتا ہے کہ اس کی ملکیت میں کسی اور کی خدائی چلے اور اس کا مملوک ہو کر کوئی اپنی مرضی کرتا پھرے اور اس کے بھیجے ہوئے احکام پر عمل نہ کرے۔ مزید دیکھیے آیت الکرسی یعنی سورۂ بقرہ کی آیت (۲۵۵) میں اس جملے کی تفسیر۔ ➋ { وَهُوَالْعَلِيُّالْعَظِيْمُ:} بے حد بلندی اور بے انتہا عظمت والا صرف وہی ہے ({الْعَلِيُّالْعَظِيْمُ} خبر پر الف لام آنے سے قصر پیدا ہو گیا کہ وہی علیّ و عظیم ہے) تو وہ کیسے گوارا کر سکتا ہے کہ اس کی بنائی ہوئی مخلوق اس کے مقابلے میں بے حد پست اور بے انتہا حقیر ہو کر اس کے احکام نہ مانے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
4۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اسی کا ہے اور وہ عالی شان [2] اور عظمت والا ہے۔
[2] مملوک الٰہ نہیں ہو سکتا :۔
اس آیت میں بتوں یا ماسوا اللہ کی خدائی کا عقلی دلیل سے رد پیش کیا گیا ہے کہ خالق ارض و سماء تو اللہ کی ذات ہے۔ وہ ان سب چیزوں کا مالک اور وہ چیزیں اس کی مخلوق اور اس کی ملکیت ہیں اور وہ اس تمام کائنات سے بلند تر اور بزرگ تر ہے۔ پھر بھلا اس کی مخلوق کو، اس کی مملوکہ چیز کو اس کے مقابلہ میں حقیر ترین مخلوق کو اس کا شریک کیسے بنایا جا سکتا ہے۔ اور اس کے اختیارات و تصرفات میں ان چیزوں کو کیسے حصہ دار سمجھا جا سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
پھر فرماتا ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق اس کی غلام ہے اس کی ملکیت ہے اس کے دباؤ تلے اور اس کے سامنے عاجز و مجبور ہے «عَالِمُالْغَيْبِوَالشَّهَادَةِالْكَبِيرُالْمُتَعَالِ»[13-الرعد: 9] وہ بلندیوں والا اور بڑائیوں والا ہے وہ بہت بڑا اور بہت بلند ہے وہ اونچائی والا اور کبریائی والا ہے۔ اس کی عظمت اور جلالت کا یہ حال ہے کہ قریب ہے آسمان پھٹ پڑیں۔ فرشتے اس کی عظمت سے کپکپاتے ہوئے اس کی پاکی اور تعریف بیان کرتے رہتے ہیں اور زمین والوں کے لیے مغفرت طلب کرتے رہتے ہیں۔
جیسے اور جگہ ارشاد ہے «اَلَّذِيْنَيَحْمِلُوْنَالْعَرْشَوَمَنْحَوْلَهٗيُسَبِّحُوْنَبِحَمْدِرَبِّهِمْوَيُؤْمِنُوْنَبِهٖوَيَسْتَغْفِرُوْنَلِلَّذِيْنَاٰمَنُوْا ۚ رَبَّنَاوَسِعْتَكُلَّشَيْءٍرَّحْمَةًوَّعِلْمًافَاغْفِرْلِلَّذِيْنَتَابُوْاوَاتَّبَعُوْاسَبِيْلَكَوَقِهِمْعَذَابَالْجَــحِيْمِ» [40- غافر: 7] یعنی حاملان عرش اور اس کے قرب و جوار کے فرشتے اپنے رب کی تسبیح اور حمد بیان کرتے رہتے ہیں اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان والوں کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب تو نے اپنی رحمت و علم سے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے پس تو انہیں بخش دے جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرے راستے کے تابع ہیں انہیں عذاب جہنم سے بچا لے۔ پھر فرمایا جان لو کہ اللہ غفور و رحیم ہے، پھر فرماتا ہے کہ مشرکوں کے اعمال کی دیکھ بھال میں آپ کر رہا ہوں انہیں خود ہی پورا پورا بدلہ دوں گا۔ «فَذَكِّرْإِنَّمَاأَنتَمُذَكِّرٌلَّسْتَعَلَيْهِمبِمُصَيْطِرٍ» [88-سورة الغاشية: 21، 22] تیرا کام صرف انہیں آگاہ کر دینا ہے تو کچھ ان پر داروغہ نہیں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔