اِنۡ یَّشَاۡ یُسۡکِنِ الرِّیۡحَ فَیَظۡلَلۡنَ رَوَاکِدَ عَلٰی ظَہۡرِہٖ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوۡرٍ ﴿ۙ۳۳﴾
اگر وہ چاہے ہوا کو ٹھہرا دے تو وہ اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ بے شک اس میں ہر ایسے شخص کے لیے یقینا کئی نشانیاں ہیں جو بہت صبر کرنے والا، بہت شکر کرنے والا ہے۔
En
اگر خدا چاہے تو ہوا کو ٹھیرا دے اور جہاز اس کی سطح پر کھڑے رہ جائیں۔ تمام صبر اور شکر کرنے والوں کے لئے ان (باتوں) میں قدرت خدا کے نمونے ہیں
En
اگر وه چاہے تو ہوا بند کردے اور یہ کشتیاں سمندروں پر رکی ره جائیں۔ یقیناً اس میں ہر صبر کرنے والے شکرگزار کے لیے نشانیاں ہیں
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 34،33) ➊ { اِنْ يَّشَاْ يُسْكِنِ الرِّيْحَ …: ” رَوَاكِدَ “ ”رَكَدَ يَرْكُدُ رُكُوْدًا“} (ن) سے اسم فاعل {”رَاكِدَةٌ“} کی جمع ہے۔ نزول قرآن کے وقت سمندر میں بادبانی کشتیاں اور جہاز چلتے تھے، جن کے چلنے نہ چلنے کا اور سست یا تیز رفتار سے چلنے کا دارو مدار ہوا پر ہوتا تھا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے سمندروں میں جہازوں کو چلانے والی ہواؤں کی تین حالتیں بیان فرمائی ہیں، ایک یہ کہ اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کر دے اور جہاز جہاں کھڑے ہیں وہیں کھڑے رہ جائیں، پھر اللہ تعالیٰ کے سوا کون ہے جو اس ہوا کو چلا دے؟
➋ { اَوْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا:} اس کا عطف {” يُسْكِنِ الرِّيْحَ “} پر ہے، گویا عبارت اس طرح ہے: {”إِنْ يَّشَأْ يُسْكِنِ الرِّيْحَ أَوْ إِنْ يَّشَأْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا “} یعنی ”اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے یا اگر وہ چاہے تو ان کے اعمالِ بد کی وجہ سے تند و تیز طوفانی ہوا کے ساتھ انھیں ہلاک کر دے۔“ یہ ہوا کی دوسری حالت ہے، تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ایک اور آیت میں ہے، فرمایا: «حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ» [یونس:۲۲] ”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے۔“
➌ {وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ:} اس کا عطف بھی {” يُسْكِنِ الرِّيْحَ “} پر ہے: {” أَيْ وَ إِنْ يَّشَأْ يَعْفُ عَنْ كَثِيْرٍ فَلَا يُعَاقِبُهُمْ بِإِسْكَانِ الرِّيْحِ أَوْ بِإِرْسَالِهَا عَاصِفَةً“} یہ تیسری حالت ہے، یعنی اگر وہ چاہے تو بہت سے لوگوں سے درگزر کر دے، پھر نہ ہوا روک کر انھیں سزا دے اور نہ ہی تند و تیز طوفان کے ساتھ انھیں ہلاک کرے، بلکہ انھیں سلامتی کے ساتھ منزلِ مقصود پر پہنچا دے۔ {” يُسْكِنِ “، ” يُوْبِقْهُنَّ “} اور {” يَعْفُ “} تینوں {” اِنْ يَّشَاْ “} شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔
➍ ان آیات میں جہاں مشرکین کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان ہوئے ہیں وہیں مادہ پرست کمیونسٹوں اور دہریوں کا رد بھی ہے، کیونکہ ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہوا نہ اپنی مرضی سے چلتی ہے اور نہ ٹھہرتی ہے، نہ اپنی مرضی سے بادِ موافق ہو کر چلتی ہے اور نہ ہی تند و تیز آندھی کی شکل اختیار کرتی ہے، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اگر ہوا کا چلنا اس کا طبعی فعل ہوتا تو جس طرح آگ جلاتی ہے اور برف ٹھنڈی ہوتی ہے ہوا بھی یا ساکن رہتی اور کبھی نہ چلتی یا چلتی رہتی اور ہمیشہ تند و تیز آندھی کی صورت اختیار کیے رکھتی۔ معلوم ہوا کہ ہوا کا چلنا خود اس کا فعل نہیں بلکہ یہ اس مالک و مختار کے ہاتھ میں ہے جس نے اسے پیدا فرمایا ہے۔
➎ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اتنی واضح اور عظیم نشانیوں کے باوجود مشرک اور دہریے ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ جواب کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ لقمان کی آیت (۳۱) کی تفسیر۔
➏ یہاں یہ سوال پیدا ہو گا کہ آج کل جہاز ہوا سے نہیں چلتے بلکہ انجنوں کی طاقت سے چلتے ہیں، پھر ہوا کے رکنے سے ان پر کیا اثر ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انجن بھی عقب میں ہوا کے ساتھ پانی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے جہازوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ {”الرِّيْحَ “} کا لفظ اس ریح کو بھی شامل ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان انجنوں میں ایسی خرابی پیدا کر دے کہ وہ ایک ہی جگہ کھڑے رہ جائیں۔ (تفسیر ثنائی بتصرف)
➋ { اَوْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا:} اس کا عطف {” يُسْكِنِ الرِّيْحَ “} پر ہے، گویا عبارت اس طرح ہے: {”إِنْ يَّشَأْ يُسْكِنِ الرِّيْحَ أَوْ إِنْ يَّشَأْ يُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا “} یعنی ”اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے یا اگر وہ چاہے تو ان کے اعمالِ بد کی وجہ سے تند و تیز طوفانی ہوا کے ساتھ انھیں ہلاک کر دے۔“ یہ ہوا کی دوسری حالت ہے، تفصیل کے ساتھ اس کا ذکر ایک اور آیت میں ہے، فرمایا: «حَتّٰۤى اِذَا كُنْتُمْ فِي الْفُلْكِ وَ جَرَيْنَ بِهِمْ بِرِيْحٍ طَيِّبَةٍ وَّ فَرِحُوْا بِهَا جَآءَتْهَا رِيْحٌ عَاصِفٌ» [یونس:۲۲] ”یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں ہوتے ہو اور وہ انھیں لے کر عمدہ ہوا کے ساتھ چل پڑتی ہیں اور وہ اس پر خوش ہوتے ہیں تو ان (کشتیوں) پر سخت تیز ہوا آجاتی ہے۔“
➌ {وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ:} اس کا عطف بھی {” يُسْكِنِ الرِّيْحَ “} پر ہے: {” أَيْ وَ إِنْ يَّشَأْ يَعْفُ عَنْ كَثِيْرٍ فَلَا يُعَاقِبُهُمْ بِإِسْكَانِ الرِّيْحِ أَوْ بِإِرْسَالِهَا عَاصِفَةً“} یہ تیسری حالت ہے، یعنی اگر وہ چاہے تو بہت سے لوگوں سے درگزر کر دے، پھر نہ ہوا روک کر انھیں سزا دے اور نہ ہی تند و تیز طوفان کے ساتھ انھیں ہلاک کرے، بلکہ انھیں سلامتی کے ساتھ منزلِ مقصود پر پہنچا دے۔ {” يُسْكِنِ “، ” يُوْبِقْهُنَّ “} اور {” يَعْفُ “} تینوں {” اِنْ يَّشَاْ “} شرط کی جزا ہونے کی وجہ سے مجزوم ہیں۔
➍ ان آیات میں جہاں مشرکین کے لیے اللہ تعالیٰ کی توحید کے دلائل بیان ہوئے ہیں وہیں مادہ پرست کمیونسٹوں اور دہریوں کا رد بھی ہے، کیونکہ ان آیات سے معلوم ہوا کہ ہوا نہ اپنی مرضی سے چلتی ہے اور نہ ٹھہرتی ہے، نہ اپنی مرضی سے بادِ موافق ہو کر چلتی ہے اور نہ ہی تند و تیز آندھی کی شکل اختیار کرتی ہے، بلکہ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوتا ہے۔ اگر ہوا کا چلنا اس کا طبعی فعل ہوتا تو جس طرح آگ جلاتی ہے اور برف ٹھنڈی ہوتی ہے ہوا بھی یا ساکن رہتی اور کبھی نہ چلتی یا چلتی رہتی اور ہمیشہ تند و تیز آندھی کی صورت اختیار کیے رکھتی۔ معلوم ہوا کہ ہوا کا چلنا خود اس کا فعل نہیں بلکہ یہ اس مالک و مختار کے ہاتھ میں ہے جس نے اسے پیدا فرمایا ہے۔
➎ { اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ اتنی واضح اور عظیم نشانیوں کے باوجود مشرک اور دہریے ان سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتے؟ جواب کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ لقمان کی آیت (۳۱) کی تفسیر۔
➏ یہاں یہ سوال پیدا ہو گا کہ آج کل جہاز ہوا سے نہیں چلتے بلکہ انجنوں کی طاقت سے چلتے ہیں، پھر ہوا کے رکنے سے ان پر کیا اثر ہوا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ انجن بھی عقب میں ہوا کے ساتھ پانی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے جہازوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ {”الرِّيْحَ “} کا لفظ اس ریح کو بھی شامل ہے اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان انجنوں میں ایسی خرابی پیدا کر دے کہ وہ ایک ہی جگہ کھڑے رہ جائیں۔ (تفسیر ثنائی بتصرف)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
33۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کر دے اور وہ کشتیاں سطح سمندر پر کھڑی کی کھڑی [47] رہ جائیں۔ اس میں بھی ہر صبر کرنے والے اور شکرگزار کے لئے [48] کئی نشانیاں ہیں
[47] قرآن میں اکثر مقامات پر کشتیوں کی روانی کو اللہ کی آیات میں شمار کیا گیا ہے۔ اس لیے کہ قریش مکہ کو تجارتی سلسلہ میں افریقہ کے ساحلی علاقہ سے تجارت کے لیے بحیرہ احمر کا سفر درپیش رہتا تھا۔ اس دور میں بادبانی کشتیاں ہوتی تھیں جن کی روانی اور رفتار کا انحصار باد موافق پر اور اس کی رفتار پر ہوتا تھا۔ انہیں بتایا یہ جا رہا ہے کہ تمہاری بے بسی کا یہ عالم ہے کہ جب تمہاری کشتی وسط سمندر میں پہنچ جائے اور اللہ تعالیٰ ہوا کو ساکن کر دے تو بتاؤ اس وقت تم کیا کر سکتے ہو؟ [48] صبار اور شکور دونوں مبالغہ کے صیغے ہیں اور یہ دو ایسے الفاظ ہیں جن میں مومن کی ساری زندگی کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا گیا ہے۔ یعنی مومن پر جب بھی کوئی مصیبت یا تکلیف آتی ہے تو وہ صبر اور برداشت سے کام لیتا ہے۔ اور جب بھی اللہ کی کوئی نعمت ملتی ہے یا اسے بھلائی پہنچتی ہے تو وہ اللہ کا احسان مند ہوتا اور اس کا شکر ادا کرنے لگ جاتا ہے۔ اس کے برعکس ایک کافر اور دنیا دار انسان کا یہ وطیرہ ہوتا ہے کہ مصیبت پڑنے پر جزع فزع کرتا، اللہ کی رحمت سے مایوس ہو کر اسے کو سنے لگتا ہے۔ اور جب اسے کوئی بھلائی نصیب ہوتی یا خوشحالی کا دور آتا ہے تو پھر وہ اللہ کو بھول ہی جاتا ہے۔ گویا ایک مومن کو سمندر کے سفر میں صبر اور شکر کا اکثر موقع ملتا رہتا ہے۔ وہ سازگار حالات میں اللہ کا شکر کرتا ہے اور اگر ہوا بند ہو جائے تو اس کی نظر اللہ ہی پر رہتی ہے اور صبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
سمندروں کی تسخیر قدرت الہی کی نشانی ٭٭
اللہ تبارک وتعالیٰ اپنی قدرت کے نشان اپنی مخلوق کے سامنے رکھتا ہے کہ اس نے سمندروں کو مسخر کر رکھا ہے تاکہ کشتیاں ان میں برابر آئیں جائیں۔ بڑی بڑی کشتیاں سمندروں میں ایسی ہی معلوم ہوتی ہیں جیسے زمین میں اونچے پہاڑ۔ ان کشتیوں کو ادھر سے ادھر لے جانے والی ہوائیں اس کے قبضے میں ہیں اگر وہی چاہے تو ان ہواؤں کو روک لے پھر تو بادبان بیکار ہو جائیں اور کشتی رک کر کھڑی ہو جائے ہر وہ شخص جو سختیوں میں صبر کا اور آسانیوں میں شکر کا عادی ہو اس کے لیے تو بڑی عبرت کی جا ہے وہ رب کی عظیم الشان قدرت اور اس کی بےپایاں سلطنت کو ان نشانوں سے سمجھ سکتا ہے اور جس طرح ہوائیں بند کر کے کشتیوں کو کھڑا کر لینا اور روک لینا اس کے بس میں ہے اسی طرح ان پہاڑوں جیسی کشتیوں کو دم بھر میں ڈبو دینا بھی اس کے ہاتھ ہے اگر وہ چاہے تو اہل کشتی کے گناہوں کے باعث انہیں غرق کر دے۔ ابھی تو وہ بہت سے گناہوں سے درگذر فرما لیتا ہے اور اگر سب گناہوں پر پکڑے تو جو بھی کشتی میں بیٹھے سیدھا سمندر میں ڈوبے۔ لیکن اس کی بےپایاں رحمت ان کو اس پار سے اس پار کر دیتی ہے۔
علماء تفسیر نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اسی ہوا کو ناموافق کر دے۔ تیز و تند آندھی چلا دے جو کشتی کو سیدھی راہ چلنے ہی نہ دے ادھر سے ادھر کر دے سنبھالے نہ سنبھل سکے جہاں جانا ہے اس طرف جا ہی نہ سکے اور یونہی سرگشتہ و حیران ہو ہو کر اہل کشتی تباہ ہو جائیں۔ الغرض اگر ہوا بند کر دے تو کھڑے کھڑے ناکام رہیں اگر تیز کر دے تو ناکامی۔
لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔
لیکن یہ اس کا لطف و کرم ہے کہ خوشگوار موافق ہوائیں چلاتا ہے اور لمبے لمبے سفر ان کشتیوں کے ذریعہ بنی آدم طے کرتا ہے اور اپنے مقصد کو پالیتا ہے یہی حال پانی کا ہے کہ اگر بالکل نہ برسائے خشک سالی رہے دنیا تباہ ہو جائے۔ اگر بہت ہی برسا دے تو تر سالی کوئی چیز پیدا نہ ہونے دے اور دنیا ہلاک ہو جائے۔ ساتھ ہی مینہ کی کثرت طغیانی کا مکانوں کے گرنے کا اور پوری بربادی کا سبب بن جائے یہاں تک کہ رب کی مہربانی سے جن شہروں میں اور جن زمینوں میں زیادہ بارش کی ضرورت ہے وہاں کثرت سے مینہ برستا ہے اور جہاں کم کی ضرورت ہے وہاں کمی سے۔
پھر فرماتا ہے کہ ہماری نشانیوں سے جھگڑنے والے ایسے موقعوں پر تو مان لیتے ہیں کہ ہماری قدرت سے باہر نہیں۔ ہم اگر انتقام لینا چاہیں ہم اگر عذاب کرنا چاہیں تو وہ چھوٹ نہیں سکتے سب ہماری قدرت اور مشیت تلے ہیں «فَسُبْحَانَہُ مَا اَعْظَمَ شَاْنَہُ»