وَ مَاۤ اَصَابَکُمۡ مِّنۡ مُّصِیۡبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتۡ اَیۡدِیۡکُمۡ وَ یَعۡفُوۡا عَنۡ کَثِیۡرٍ ﴿ؕ۳۰﴾
اور جو بھی تمھیں کوئی مصیبت پہنچی تو وہ اس کی وجہ سے ہے جو تمھارے ہاتھوں نے کمایا اور وہ بہت سی چیزوں سے در گزر کر جاتا ہے۔
En
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے
En
تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وه تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوت کابدلہ ہے، اور وه تو بہت سی باتوں سے درگزر فرما دیتا ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 30) ➊ { وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِيْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ:} اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور نشانیوں کا تذکرہ ہو رہا ہے، اس سلسلے میں لوگوں کے بارش سے ناامید ہونے کے بعد بارش برسانے کا ذکر ہوا ہے۔ اس پر سوال ہو سکتا تھا کہ اللہ تعالیٰ اس قدر مہربان ہے تو وہ بارش روک کیوں دیتا ہے؟ فرمایا، تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے وہ تمھاری کمائی کا نتیجہ ہے۔ وہ گناہ بھی ہو سکتے ہیں اور اونچی شان والے حضرات پر اللہ تعالیٰ کے جس قدر انعامات ہیں ان کا حق ادا کرنے میں کسی طرح کی کمی بھی۔ اس لیے پیغمبر بھی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہیں۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [وَاللّٰهِ! إِنِّيْ لَأَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ وَ أَتُوْبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ أَكْثَرَ مِنْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً] [بخاري، الدعوات، باب استغفار النبي صلی اللہ علیہ وسلم في الیوم واللیلۃ: ۶۳۰۷] ”اللہ کی قسم! میں دن میں ستر(۷۰) بار سے زیادہ اللہ سے استغفار اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔“ انسان پر آنے والی ان مصیبتوں کا انجام مومن و کافر کے حق میں ایک جیسا نہیں ہوتا، بلکہ وہ کافر کے لیے عذاب ہوتی ہیں، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَنُذِيْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» [السجدۃ: ۲۱] ”اور یقینا ہم انھیں قریب ترین عذاب کا کچھ حصہ سب سے بڑے عذاب سے پہلے ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔ “ اور مومن کے لیے گناہوں کی معافی، اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بنتی ہیں۔ ابوسعید خدری اور ابوہریرہ رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [مَا يُصِيْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ، وَلاَ وَصَبٍ، وَلاَ هَمٍّ، وَلاَ حُزْنٍ، وَلاَ أَذًی، وَلاَ غَمٍّ، حَتَّی الشَّوْكَةِ يُشَاكُهَا، إِلاَّ كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ خَطَايَاهُ] [بخاري، المرضٰی، باب ما جاء في کفارۃ المرض: ۵۶۴۱، ۵۶۴۲] ”مومن کو جو بھی دکھ یا چوٹ یا فکر یا حزن یا تکلیف یا غم پہنچتا ہے، حتیٰ کہ کانٹا بھی جو اسے لگتا ہے، تو اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے اس کے کچھ گناہ دور فرما دیتا ہے۔“ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ بچے اور دیوانے پر آنے والی مصیبتیں بھی کیا ان کے اعمال کا نتیجہ ہیں؟ جواب یہ ہے کہ آیت میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو مکلف ہیں، بچے اور دیوانے مکلف ہی نہیں، نہ ان پر آنے والی مصیبتیں ان کے گناہوں کی وجہ سے آتی ہیں، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کے تحت آتی ہیں، جسے وہی بہتر جانتا ہے۔
بیماری اور مصیبت کے اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بننے کی دلیل قرآن مجید کی آیات، مثلاً سورۂ توبہ کی آیت (۱۲۰) کے علاوہ بہت سی احادیث بھی ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخار میں تپ رہے تھے۔ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ کو بہت سخت بخار ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَجَلْ، إِنِّيْ أُوْعَكُ كَمَا يُوْعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ، قُلْتُ ذٰلِكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ أَجَلْ ذٰلِكَ كَذٰلِكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيْبُهُ أَذًی، شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلاَّ كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا] [بخاري، المرضٰی، باب أشد الناس بلاء الأنبیاء ثم الأمثل فالأمثل: ۵۶۴۸] ”ہاں، مجھے اتنا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: ”یہ اس لیے کہ آپ کو دو اجر ملتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! یہی بات ہے، جس مسلم کو بھی کوئی تکلیف پہنچے، کانٹاہو یا اس سے اوپر، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کی برائیاں گرا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔“
➋ { وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۶۱) اور سورۂ فاطر (۴۵) کی تفسیر۔
بیماری اور مصیبت کے اجر اور درجات کی بلندی کا باعث بننے کی دلیل قرآن مجید کی آیات، مثلاً سورۂ توبہ کی آیت (۱۲۰) کے علاوہ بہت سی احادیث بھی ہیں۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم بخار میں تپ رہے تھے۔ میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ کو بہت سخت بخار ہوتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَجَلْ، إِنِّيْ أُوْعَكُ كَمَا يُوْعَكُ رَجُلاَنِ مِنْكُمْ، قُلْتُ ذٰلِكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ أَجَلْ ذٰلِكَ كَذٰلِكَ، مَا مِنْ مُسْلِمٍ يُصِيْبُهُ أَذًی، شَوْكَةٌ فَمَا فَوْقَهَا إِلاَّ كَفَّرَ اللّٰهُ بِهَا سَيِّئَاتِهِ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا] [بخاري، المرضٰی، باب أشد الناس بلاء الأنبیاء ثم الأمثل فالأمثل: ۵۶۴۸] ”ہاں، مجھے اتنا بخار ہوتا ہے جتنا تم میں سے دو آدمیوں کو ہوتا ہے۔“ میں نے کہا: ”یہ اس لیے کہ آپ کو دو اجر ملتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! یہی بات ہے، جس مسلم کو بھی کوئی تکلیف پہنچے، کانٹاہو یا اس سے اوپر، اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ اس کی برائیاں گرا دیتا ہے جیسے درخت اپنے پتے گرا دیتا ہے۔“
➋ { وَ يَعْفُوْا عَنْ كَثِيْرٍ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۶۱) اور سورۂ فاطر (۴۵) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
30۔ 1 بعض گناہوں کا کفارہ تو وہ مصائب بن جاتے ہیں، جو تمہیں گناہوں کی پاداش میں پہنچتے ہیں اور کچھ گناہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ یوں ہی معاف فرما دیتا ہے اور اللہ کی ذات بڑی کریم ہے، معاف کرنے کے بعد آخرت میں اس پر مؤاخذہ نہیں فرمائے گا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
30۔ اور تمہیں جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہی کرتوتوں [45] کے سبب سے آتی ہے اور وہ تمہارے بہت [46] سے گناہوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے
[45] مصائب کی قسمیں اور مختلف اسباب :۔
یہاں ایک عام اصول بیان کر دیا گیا ہے کہ اکثر عذاب مثلاً قحط، وبائیں، زلزلے اور سیلاب وغیرہ لوگوں کے اپنے ہی شامت اعمال کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک قحط کا عذاب اہل مکہ پر بھی نازل ہوا تھا۔ جو سات سال تک مسلط رہا۔ بارشیں بھی بند ہو گئیں اور باہر سے غلہ آنا بھی بند ہو گیا تھا۔ اس عرصہ میں لوگوں کا یہ حال ہو گیا کہ جانوروں کے چمڑے اور ہڈیاں کھانے تک مجبور ہو گئے۔ شدت بھوک کی وجہ سے یہ حال ہو رہا تھا کہ آسمان کی طرف دیکھتے تو دھواں ہی دھواں نظر آتا تھا۔ اور یہ قحط کفار مکہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی وجہ سے نازل ہوا تھا۔ آخر ابو سفیان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر قرابت کا واسطہ دیا اور بارش کے لئے دعا کرنے کی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سے یہ مصیبت دور ہوئی۔ گویا جب اکثر لوگوں کی بد اعمالیوں کی وجہ سے عذاب آتا ہے تو وہ سب مخلوق کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ اس کی مثال یوں سمجھئے کہ انسان کو اکثر بیماریاں غذا میں بد پرہیزی کی وجہ سے لاحق ہوتی ہیں اور دودھ پیتے بچوں کو ماں کی بد پرہیزی کی وجہ سے۔ تاہم اس اصول میں بھی چند مستثنیات موجود ہیں۔ مثلاً ایماندار بندوں پر جو تکلیفیں آتی ہیں وہ ان کی شامت اعمال کا نتیجہ نہیں بلکہ ان کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ حتیٰ کہ مومن کو اگر ایک کانٹا بھی چبھے تو وہ بھی کسی خطا کا کفارہ بن جاتا ہے۔ پھر مصیبتوں اور تکلیفوں کی ایک قسم وہ ہے جو اللہ کے پیغمبروں اور مخلص بندوں کو حق کے راستے میں پیش آتی ہیں۔ ان کے متعلق گناہوں کے کفارہ کا تصور ہی غلط ہے۔ ان کے ذریعہ تو اللہ تعالیٰ ان بزرگ ہستیوں کے درجات بلند کرتا ہے اور ایسے مصائب سب سے زیادہ اللہ کے نبیوں کو پھر درجہ بدرجہ دوسرے مخلص بندوں کو پیش آتے ہیں۔
[46] یعنی اگر اللہ بندوں کے سب برے اعمال کے بدلے ان پر مصائب نازل کرتا تو وہ چند دن بھی جی نہ سکتے تھے۔ یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ وہ اکثر گناہوں پر مؤاخذہ ہی نہیں کرتا ورنہ یہ زمین بھی انسانوں سے بے آباد ہو جاتی۔
[46] یعنی اگر اللہ بندوں کے سب برے اعمال کے بدلے ان پر مصائب نازل کرتا تو وہ چند دن بھی جی نہ سکتے تھے۔ یہ تو اللہ کی رحمت ہے کہ وہ اکثر گناہوں پر مؤاخذہ ہی نہیں کرتا ورنہ یہ زمین بھی انسانوں سے بے آباد ہو جاتی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے۔ کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے۔ اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو! تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» [35-فاطر: 45] اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ [صحیح بخاری:5642]
جب آیت «فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» [99- الزلزلة: 8، 7]، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704]
امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [مسند احمد 85/1:ضعیف]
جب آیت «فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» [99- الزلزلة: 8، 7]، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704]
امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [مسند احمد 85/1:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابوحجیفہ رحمہ اللہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔[مسند احمد:98/4:صحیح]
مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل]
ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔
مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف]
ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل]
ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔