ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 3

کَذٰلِکَ یُوۡحِیۡۤ اِلَیۡکَ وَ اِلَی الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِکَ ۙ اللّٰہُ الۡعَزِیۡزُ الۡحَکِیۡمُ ﴿۳﴾
اسی طرح وحی کرتا ہے تیری طرف اور ان لوگوں کی طرف جو تجھ سے پہلے تھے، وہ اللہ جو سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ En
خدائے غالب و دانا اسی طرح تمہاری طرف مضامین اور (براہین) بھیجتا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں کی طرف وحی بھیجتا رہا ہے
En
اللہ تعالیٰ جو زبردست ہے اور حکمت واﻻ ہے اسی طرح تیری طرف اور تجھ سے اگلوں کی طرف وحی بھیجتا رہا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 3) ➊ { كَذٰلِكَ يُوْحِيْۤ اِلَيْكَ: كَذٰلِكَ } (اسی طرح) سے مراد ایک تو وہ مضامین و معانی ہیں جو اس قرآن یا اس سورت میں ہیں، یعنی آپ کی طرف توحید، آخرت، نبوت اور دوسرے عقائد و اعمال اور واقعات پر مشتمل جو وحی کی گئی ہے یہ کوئی نرالی نہیں کہ کفار کو اس پر تعجب ہو رہا ہے، بلکہ ایسے ہی مضامین کی وحی اللہ تعالیٰ آپ کی طرف اور آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف کرتا چلا آیا ہے۔ بعض وقتی احکام میں فرق ہو سکتا ہے، مگر اصل دعوت جس کے لیے آپ کو اور پہلے تمام پیغمبروں کو مبعوث کیا گیا ایک ہی ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْۤ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ» ‏‏‏‏ [الأنبیاء: ۲۵] اور ہم نے تجھ سے پہلے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر اس کی طرف یہ وحی کرتے تھے کہ حقیقت یہ ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، سو میری عبادت کرو۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ، أُمَّهَاتُهُمْ شَتّٰی وَ دِيْنُهُمْ وَاحِدٌ] [بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏واذکر في الکتاب مریم…» : ۳۴۴۳] انبیاء علاتی (مختلف ماؤں سے پیدا ہونے والے) بھائی ہیں، ان کی مائیں الگ الگ ہیں اور ان کا دین ایک ہے۔ اور { كَذٰلِكَ } (اسی طرح) سے مراد وحی کرنے کا طریقہ بھی ہے، یعنی جس طرح یہ سورت یا یہ کتاب آپ کی طرف وحی کی جا رہی ہے، اللہ تعالیٰ اسی طرح آپ سے پہلے پیغمبروں کی طرف بھی وحی کرتا چلا آیا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے اپنی رسالت کے لیے چن لیتا ہے، پھر اس کے ساتھ وحی کی ان صورتوں میں سے کسی صورت کے ساتھ کلام کرتا ہے جو اس نے اس سورت کے آخر میں کسی بھی بشر کے ساتھ کلام کرنے کی بیان فرمائی ہیں۔ (دیکھیے شوریٰ: ۵۱،۵۲) کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کیوں نازل نہیں کی، یا مجھ سے کلام کیوں نہیں فرمایا۔
عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے پاس وحی کس طرح آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [أَحْيَانًا يَأْتِيْنِيْ مِثْلَ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيُفْصَمُ عَنِّيْ وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْهُ مَا قَالَ، وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِيَ الْمَلَكُ رَجُلاً فَيُكَلِّمُنِيْ فَأَعِيْ مَا يَقُوْلُ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ الْوَحْيُ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيْدِ الْبَرْدِ، فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَ إِنَّ جَبِيْنَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا] [بخاري، بدء الوحي إلی الرسول صلی اللہ علیہ وسلم ، باب: ۲]میرے پاس وحی کبھی تو گھنٹی کی مسلسل آواز کی طرح آتی ہے جو مجھ پر وحی کی سب سے زیادہ سخت صورت ہے، پھر وہ مجھ سے اس حال میں ختم ہوتی ہے کہ جو کچھ مجھے کہا ہے وہ میں یاد کر چکا ہوتا ہوں اور کبھی فرشتہ ایک آدمی کی شکل میں میرے پاس آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے، تو جو کچھ وہ کہتا ہے میں یاد کر لیتا ہوں۔ عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: میں نے آپ کو سخت سردی والے دن میں آپ پر وحی اترنے کی حالت میں دیکھا کہ وہ کیفیت آپ سے ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی پسینے سے ٹپک رہی ہوتی تھی۔
➋ { وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیات (۱۶۳ تا ۱۶۵)۔
➌ {اللّٰهُ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} سورہ نساء کی آیات، جن کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے، ان میں پیغمبروں کی طرف وحی کا ذکر فرما کر بات کا خاتمہ اپنے ہمیشہ سے عزیز و حکیم ہونے کے ساتھ کیا، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِيْزًا حَكِيْمًا» [النساء: ۱۶۵] اور اللہ ہمیشہ سے سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔ قرآن مجید میں جہاں جہاں وحی نازل کرنے کا ذکر ہے اس کے بعد مقام کی مناسبت سے اللہ تعالیٰ کے بعض اسماء و صفات کا ذکر بھی ہے۔ کتاب اللہ نازل کرنے کے ساتھ عزیز و حکیم کے ذکر کی مناسبت کے لیے دیکھیے سورۂ زمر کی پہلی آیت کی تفسیر، ساتھ سورۂ مومن کی پہلی آیت کی تفسیر بھی ملاحظہ فرمائیں۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 یعنی جس طرح یہ قرآن تیری طرف نازل کیا گیا ہے اسی طرح تجھ سے پہلے انبیاء پر آسمانی کتابیں نازل کی گئیں وحی اللہ کا کلام ہے جو فرشتے کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبروں کے پاس بھیجتا رہا ہے ایک صحابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے وحی کی کیفیت پوچھی تو آپ نے فرمایا کہ کبھی تو یہ میرے پاس گھنٹی کی آواز کی مثل آتی ہے اور یہ مجھ پر سب سے سخت ہوتی ہے، جب یہ ختم ہوجاتی ہے تو مجھے یاد ہوچکی ہوتی ہے اور کبھی فرشتہ انسانی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے کلام کرتا ہے اور وہ جو کہتا ہے میں یاد کرلیتا ہوں۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں، میں نے سخت سردی میں مشاہدہ کیا کہ جب وحی کی کیفیت ختم ہوتی تو آپ پسینے میں شرابور ہوتے اور آپ کی پیشانی سے پسینے کے قطرے گر رہے ہوتے۔ (صحیح بخاری)

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ اللہ جو زبردست اور حکمت والا ہے، آپ کی طرف [1] اور آپ سے پہلے (رسولوں) کی طرف اسی طرح وحی کرتا رہا ہے
[1] نام لئے بغیر مابہ النزاع مسائل کے جوابات :۔
مکی دور میں حق و باطل کے درمیان اختلافی مسئلے بنیادی طور پر دو ہی تھے۔ ایک یہ کہ مشرکوں کے بتوں کا کائنات میں کچھ تصرف ہے یا نہیں؟ اور دوسرا یہ کہ کیا انسان کا مر کر جی اٹھنا پھر اپنے پروردگار کے حضور جواب دہی کے لیے پیش ہونا درست ہے یا نہیں؟ یہی دو مسائل تھے جن کا اکثر مجلسوں اور نجی گفتگو میں ہر وقت چرچا رہتا تھا۔ پھر ان میں ایک تیسرا مسئلہ از خود شامل ہو جاتا تھا کہ آیا محمد صلی اللہ علیہ وسلم فی الواقع اللہ کا رسول ہے یا نہیں؟ جو کچھ وہ کلام پیش کرتا ہے۔ فی الواقع اللہ کا کلام ہے؟ اور قرآن کا انداز خطاب یہ ہے کہ اکثر سورتوں میں تمہید کے طور پر کافروں کے اعتراضات کا ذکر کیے بغیر انہیں سوالوں میں سے کسی سوال کے جواب سے اس سورۃ کا افتتاح کرتا ہے۔ اس سورۃ کی تیسری آیت میں دراصل ان تینوں اعتراضات کا اجمالی جواب پیش کر دیا گیا ہے۔ جو یہ ہے کہ جو کچھ توحید اور معاد کے متعلق اس قرآن میں مذکور ہے۔ یہ کوئی نیا نظریہ نہیں بلکہ پہلے تمام انبیاء کو بھی یہی باتیں وحی کی جاتی رہی ہیں۔ اور تیسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ قرآن فی الواقع اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ اور اس کی آیات حکمت سے لبریز ہیں کیونکہ وہ خود حکیم ہے۔ علاوہ ازیں وہ سب پر غالب اور زبردست بھی ہے۔ وہ مخالفین کی مخالفت کے باوجود اپنے کلمہ کا بول بالا کرنے کی قوت اور قدرت بھی رکھتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔