ترجمہ و تفسیر — سورۃ الشوريٰ (42) — آیت 29

وَ مِنۡ اٰیٰتِہٖ خَلۡقُ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضِ وَ مَا بَثَّ فِیۡہِمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ ؕ وَ ہُوَ عَلٰی جَمۡعِہِمۡ اِذَا یَشَآءُ قَدِیۡرٌ ﴿٪۲۹﴾
اور اسی کی نشانیوں میںسے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور وہ جو اس نے ان دونوںمیں کوئی بھی جاندار پھیلادیے ہیں اور وہ ان کو اکٹھا کرنے پر جب چاہے پوری طرح قادر ہے۔ En
اور اسی کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا اور ان جانوروں کا جو اس نے ان میں پھیلا رکھے ہیں اور وہ جب چاہے ان کے جمع کرلینے پر قادر ہے
En
اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش ہے اور ان میں جانداروں کا پھیلانا ہے۔ وه اس پر بھی قادر ہے کہ جب چاہے انہیں جمع کردے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 29) ➊ { مِنْ اٰيٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ:} اس کی تفسیر متعدد مقامات پر گزر چکی ہے۔
➋ {وَ مَا بَثَّ فِيْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ: دَآبَّةٍ دَبَّ يَدِبُّ دَبًّا وَ دَبِيْبًا} (ض) سے اسم فاعل ہے۔ یہ لفظ {دَابٌّ} کا مؤنث ہے، مگر مذکر و مؤنث دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جمع {دَوَابُّ} ہے، کیونکہ اس میں تاء وحدت کے لیے ہے، یعنی چلنے والا جانور خواہ سانپ کی طرح پیٹ کے بل چلے یا دو یا چار ٹانگوں پر چلے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ فَمِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى بَطْنِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰى رِجْلَيْنِ وَ مِنْهُمْ مَّنْ يَّمْشِيْ عَلٰۤى اَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللّٰهُ مَا يَشَآءُ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ» ‏‏‏‏ [النور: ۴۵] اور اللہ نے ہر چلنے والا (جاندار) ایک قسم کے پانی سے پیدا کیا، پھر ان میں سے کوئی وہ ہے جو اپنے پیٹ پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو دو پاؤں پر چلتا ہے اور ان میں سے کوئی وہ ہے جو چار پر چلتا ہے، اللہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، یقینا اللہ ہر چیز پر خوب قادر ہے۔ یہ آیت دلیل ہے کہ { دَآبَّةٍ } سے مراد جانور ہیں فرشتے نہیں۔
زمین میں پھیلائے ہوئے مختلف جانوروں کا مشاہدہ تو ہر آدمی کرتا رہتا ہے، اس آیت میں زمین و آسمان دونوں میں پھیلائے ہوئے جانوروں کا ذکر فرمایا۔ اس لیے بعض مفسرین نے یہ خیال فرما کر کہ آسمانوں میں جانوروں کے وجود کا صراحت کے ساتھ قرآن و حدیث میں ذکر نہیں اس کی مختلف تاویلیں فرمائی ہیں۔ چنانچہ بعض نے فرمایا، اس سے مراد زمین کے جانور ہی ہیں، کیونکہ وہ زمین و آسمان کے اندر ہی ہیں۔ بعض نے فرمایا، اس سے مراد آسمانوں کے فرشتے ہیں، کیونکہ وہ اڑنے کے ساتھ ساتھ چل بھی سکتے ہیں، مگر ان تاویلوں کی ضرورت تب ہے جب آسمانوں میں جانوروں کا وجود ناممکن ہو۔ جب اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے وہ جانور بھی ہیں جو اس نے زمین و آسمان میں پھیلا دیے ہیں تو ہمیں یہ بات ماننے میں کوئی تامل نہیں ہونا چاہیے کہ آسمانوں میں بھی جانور موجود ہیں، خصوصاً جنت میں جہاں ہر نعمت موجود ہے، اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہاں کتنی قسم کے خوبصورت سے خوبصورت جانور موجود ہیں۔
➌ { وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا يَشَآءُ قَدِيْرٌ:} جس طرح زمین و آسمان کے جانوروں کو پیدا کرنا اور پھیلانا اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے اسی طرح انھیں جمع کرنے پر قدرت بھی بہت بڑی نشانی ہے۔ انسان کا حال تو یہ ہے کہ وہ پرندوں کے ایک جھنڈ کے بکھرنے والے پرندوں کو جمع نہیں کر سکتا، نہ شہد کے کسی چھتے سے بکھرنے والی مکھیوں کو جمع کر سکتا ہے، حتیٰ کہ اپنے ہم سبق ساتھیوں کو اکٹھا نہیں کر سکتا، خواہ وہ زندہ ہی ہوں۔ یہ رب تعالیٰ ہی ہے جو تمام جانوروں کو، زندہ ہوں یا مردہ، جمع کرنے پر پوری طرح قادر ہے۔ چنانچہ قیامت کے دن وہ انسانوں کے ساتھ جانوروں کو بھی دوبارہ زندہ فرمائے گا، فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ» [التغابن: ۹]جس دن وہ تمھیں جمع کرنے کے دن کے لیے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

29۔ 1 یعنی روئے زمین پر پھیلے ہوئے، جن و انس تمام جاندار حیوانات شامل ہیں ان سب کو اللہ تعالیٰ قیامت والے دن ایک ہی میدان میں جمع فرما دے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

29۔ اور اس کی نشانیوں میں ایک نشانی اس کا آسمانوں، زمین اور ان جانداروں کا پیدا کرنا ہے جو اس نے ان میں [43] پھیلا دیئے ہیں اور وہی جب چاہے [44] انہیں اکٹھا کر لینے پر بھی قادر ہے۔
[43] اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں میں اللہ کی بے شمار مخلوق موجود ہے۔ جن میں فرشتے سر فہرست ہیں اور درمیانی فضا میں بھی۔ اور اگر آسمانوں اور زمین سے مراد پوری کائنات لی جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ جاندار مخلوق صرف زمین پر ہی موجود نہیں بلکہ اور بھی کئی اجرام میں موجود ہے۔ جس کا انسان کو تا حال علم نہیں ہو سکا۔
[44] یعنی اگر وہ اپنی مخلوق مثلاً انسان کو تمام روئے زمین پر بکھیر سکتا ہے تو پھر انہیں اکٹھا بھی کر سکتا ہے اور اکٹھا کر کے اپنے حضور حاضر بھی کر سکتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

آفات اور تکالیف سے خطاؤں کی معافی ہوتی ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ کی عظمت قدرت اور سلطنت کا بیان ہو رہا ہے۔ کہ آسمان و زمین اسی کا پیدا کیا ہوا ہے اور ان میں کئی ساری مخلوق بھی اسی کی پیدا کی ہوئی ہے فرشتے انسان جنات اور مختلف قسموں کے حیوانات جو کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں قیامت کے دن وہ ان سب کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا۔ جبکہ ان کے حواس گم ہو چکے ہوں گے۔ اور ان میں عدل و انصاف کیا جائے گا پھر فرماتا ہے لوگو! تمہیں جو کچھ مصیبتیں پہنچتی ہیں وہ سب دراصل تمہارے اپنے کئے گناہوں کا بدلہ ہیں اور ابھی تو وہ غفور و رحیم اللہ تمہاری بہت سی حکم عدولیوں سے چشم پوشی فرماتا ہے اور انہیں معاف فرما دیتا ہے «وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّـهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِن دَابَّةٍ» ‏‏‏‏ [35-فاطر: 45]‏‏‏‏ اگر ہر اک گناہ پر پکڑے تو تم زمین پر چل پھر بھی نہ سکو۔ صحیح حدیث میں ہے کہ مومن کو جو تکلیف سختی غم اور پریشانی ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی خطائیں معاف فرماتا ہے یہاں تک کہ ایک کانٹا لگنے کے عوض بھی۔ [صحیح بخاری:5642]‏‏‏‏
جب آیت «‏‏‏‏فَمَنْ يَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَّرَهٗ وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏‏‏‏ [99- الزلزلة: 8، 7]‏‏‏‏، اتری اس وقت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کھانا کھا رہے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے سن کر کھانے سے ہاتھ ہٹا لیا اور کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہر برائی بھلائی کا بدلہ دیا جائے گا؟ آپ نے فرمایا سنو طبیعت کے خلاف جو چیزیں ہوتی ہیں یہ سب برائیوں کے بدلے ہیں اور ساری نیکیاں اللہ کے پاس جمع شدہ ہیں ابو ادریس رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہی مضمون اس آیت میں بیان ہوا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30704]‏‏‏‏
امیر المؤمنین علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں آؤ میں تمہیں کتاب اللہ شریف کی افضل ترین آیت سناؤں اور ساتھ ہی حدیث بھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے یہ آیت تلاوت کی اور میرا نام لے کر فرمایا سن میں اس کی تفسیر بھی تجھے بتا دوں تجھے جو بیماریاں سختیاں اور بلائیں آفتیں دنیا میں پہنچتی ہیں وہ سب بدلہ ہے تمہارے اپنے اعمال کا اللہ تعالیٰ کا حکم اس سے بہت زیادہ ہے کہ پھر انہی پر آخرت میں بھی سزا کرے اور اکثر برائیاں معاف فرما دیتا ہے تو اس کے کرم سے یہ بالکل ناممکن ہے کہ دنیا میں معاف کی ہوئی خطاؤں پر آخرت میں پکڑے [مسند احمد 85/1:ضعیف]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں یہی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ ہی کے قول سے مروی ہے اس میں ہے کہ ابوحجیفہ رحمہ اللہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا میں تمہیں ایک ایسی حدیث سناتا ہوں جسے یاد رکھنا ہر مومن کا فرض ہے پھر یہ تفسیر آیت کی اپنی طرف سے کر کے سنائی مسند میں ہے کہ مسلمان کے جسم میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرماتا ہے۔[مسند احمد:98/4:صحیح]‏‏‏‏
مسند ہی کی اور حدیث میں ہے جب ایماندار بندے کے گناہ بڑھ جاتے ہیں اور اس کے کفارے کی کوئی چیز اس کے پاس نہیں ہوتی تو اللہ اسے کسی رنج و غم میں مبتلا کر دیتا ہے اور وہی اس کے ان گناہوں کا کفارہ ہو جاتا ہے [مسند احمد:157/6:ضعیف]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اس آیت کے اترنے پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ لکڑی کی ذرا سی خراش ہڈی کی ذرا سی تکلیف یہاں تک کہ قدم کا پھسلنا بھی کسی نہ کسی گناہ پر ہے اور ابھی اللہ کے عفو کئے ہوئے بہت سے گناہ تو یونہی مٹ جاتے ہیں۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:30705:مرسل]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم ہی میں ہے کہ جب حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کے جسم میں تکلیف ہوئی اور لوگ ان کی عیادت کو گئے تو حضرت حسن رحمہ اللہ نے کہا آپ کی یہ حالت تو دیکھی نہیں جاتی ہمیں بڑا صدمہ ہو رہا ہے آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ایسا نہ کہو جو تم دیکھ رہے ہو یہ سب گناہوں کا کفارہ ہے اور بھی بہت سے گناہ تو اللہ معاف فرما چکا ہے پھر اسی آیت کی تلاوت فرمائی ہے۔ ابو البلاد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے علاء بن بدر رحمہ اللہ سے کہا کہ قرآن میں تو یہ آیت ہے اور میں ابھی نابالغ بچہ ہوں اور اندھا ہو گیا ہوں آپ رحمہ اللہ نے فرمایا یہ تیرے ماں باپ کے گناہوں کا بدلہ ہے حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قرآن پڑھ کر بھول جانے والا یقیناً اپنے کسی گناہ میں پکڑا گیا ہے۔ اس کی اور کوئی وجہ نہیں پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کر کے فرمایا بتاؤ تو اس سے بڑی مصیبت اور کیا ہو گی کہ انسان یاد کر کے کلام اللہ بھول جائے۔