(آیت 28) ➊ { ذٰلِكَجَزَآءُاَعْدَآءِاللّٰهِالنَّارُ …:} اللہ کے دشمنوں کی یہی جزا، یعنی آگ ہے، جنھوں نے کفر و شرک کیا، زبان اور ہاتھ کو ہر طرح سے اس کی کتاب سننے سے روکا، اس کے نبی اور ایمان والوں کا مقابلہ کیا، ان سے جنگ کی اور دشمنی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ ➋ { بِاٰيٰتِنَايَجْحَدُوْنَ:} یعنی اس جزا کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتے تھے کہ ہماری آیات حق ہیں، پھر جان بوجھ کر ضد اور عناد کی وجہ سے ان کا انکار کرتے تھے، پھر اللہ ایسے دشمنوں کو سزا دینے میں کیوں کمی کرے گا؟ {”جُحُوْدٌ“} کا معنی جانتے ہوئے انکار کرنا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
28۔ 1 آیتوں سے مراد جیسا کہ پہلے بھی بتلایا گیا ہے وہ دلائل وبراہین واضحہ ہیں جو اللہ تعالیٰ انبیاء پر نازل فرماتا ہے یا وہ معجزات ہیں جو انہیں عطا کیے جاتے ہیں یا دلائل تکوینیہ ہیں جو کائنات یعنی آفاق وانفس میں پھیلے ہوئے ہیں کافر ان سب ہی کا انکار کرتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایمان کی دولت سے محروم رہتے ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
28۔ اللہ کے ان دشمنوں [35] کا بدلہ یہی دوزخ ہے۔ ہمیشہ کے لئے ان کا گھر اسی میں ہو گا۔ یہ بدلہ ہے جو وہ جان بوجھ کر ہماری آیات کا انکار کرتے تھے۔
[35] ایسے لوگ صرف منکر حق ہی نہیں ہوتے بلکہ اللہ کے، اللہ کے رسول کے، اللہ کے دین کے، سب کے پکے دشمن ہوتے ہیں۔ پھر اللہ انہیں سزا دینے میں کیوں کمی کرے گا؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔