(آیت 27) ➊ {فَلَنُذِيْقَنَّالَّذِيْنَكَفَرُوْاعَذَابًاشَدِيْدًا:} چونکہ یہ ان کا صریح ظلم اور عناد تھا اور ان کی ہدایت کی امید ہی نہ تھی، اس لیے عبرت ناک سزا اور عذاب کے سوا ان کی کوئی جزا نہ تھی۔ {”فَلَنُذِيْقَنَّ“} کی فاء تعلیل کے لیے ہے، یعنی ان کے قرآن سننے سے روکنے کی وجہ سے ہم انھیں شدید عذاب چکھائیں گے۔ ➋ { ”فَلَنُعَذِّبَنَّ“} (ہم انھیں ضرور عذاب دیں گے) کے بجائے {”فَلَنُذِيْقَنَّ“} (ہم انھیں ضرور چکھائیں گے) کا لفظ استعمال فرمایا، کیونکہ جو چیز چکھی جاتی ہے وہ معمولی سی زبان پر لگتی ہے، تو جس کا معمولی سا لگنا اتنا سخت ہو گا وہ پورا عذاب کس قدر سخت ہو گا۔ ➌ { وَلَنَجْزِيَنَّهُمْاَسْوَاَالَّذِيْكَانُوْايَعْمَلُوْنَ:} کفار نے اگرچہ بے شمار گناہ کیے ہوں گے، مثلاً چوری، زنا وغیرہ، مگر ان کے سب سے برے اعمال کفر و شرک اور دوسروں کو ایمان سے روکنا تھے۔ چنانچہ انھیں ملنے والی سزا کفر و شرک اور ایمان سے روکنے کے پیمانے کے مطابق ہو گی، جس کے مقابلے میں دوسرے گناہوں کی سزا کی کچھ حقیقت نہیں ہو گی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
27۔ 1 یعنی ان کے بعض اچھے عملوں کی کوئی قیمت نہ ہوگی، مثلاً اکرام ضعیف، صلہ رحمی وغیرہ، کیونکہ ایمان کی دولت سے وہ محروم رہے تھے، البتہ برے عملوں کی جزا انہیں ملے گی، جن میں قرآن کریم سے روکنے کا جرم بھی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
27۔ ہم ایسے کافروں کو یقیناً سخت عذاب چکھائیں گے اور جو برے سے برے کام وہ کرتے [34] رہے ان کا ضرور بدلہ دیں گے
[34] ان کے برے سے برے کام یہی تھے کہ ایک تو وہ خود اللہ کی آیات کا انکار کر دیتے تھے۔ دوسرے ان کی ہر ممکن کوشش ہوتی تھی کہ کوئی دوسرا بھی اسلام کی دعوت کو قبول نہ کرنے پائے۔ اور اس مقصد کے حصول کے لیے انہوں نے مندرجہ بالا پابندیوں کے علاوہ اور بھی بہت سے مذموم طریقے اختیار کر رکھے تھے اور نئی سے نئی سازشیں تیار کرتے رہتے تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔