اور وہ اپنے چمڑوں سے کہیں گے تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی؟ وہ کہیں گے ہمیں اس اللہ نے بلوا دیا جس نے ہر چیز کو بلوایا اور اسی نے تمھیں پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم واپس لائے جا رہے ہو۔
اور وہ اپنے چمڑوں (یعنی اعضا) سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف کیوں شہادت دی؟ وہ کہیں گے کہ جس خدا نے سب چیزوں کو نطق بخشا اسی نے ہم کو بھی گویائی دی اور اسی نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا اور اسی کی طرف تم کو لوٹ کر جانا ہے۔
یہ اپنی کھالوں سے کہیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف شہادت کیوں دی، وه جواب دیں گی کہ ہمیں اس اللہ نے قوت گویائی عطا فرمائی جس نے ہر چیز کو بولنے کی طاقت بخشی ہے، اسی نے تمہیں اول مرتبہ پیدا کیا اور اسی کی طرف تم سب لوٹائے جاؤ گے۔
(آیت 21) ➊ {وَقَالُوْالِجُلُوْدِهِمْلِمَشَهِدْتُّمْعَلَيْنَا:} اپنے چمڑوں سے یہ بات وہ پوچھنے کے لیے نہیں بلکہ تعجب کے اظہار اور ملامت کے لیے کہیں گے کہ تمھی کو بچانے کے لیے تو ہم اللہ تعالیٰ سے جھوٹ بول رہے تھے اور تمھی ہمارے خلاف شہادت دے رہے ہو۔ ➋ { قَالُوْۤااَنْطَقَنَااللّٰهُالَّذِيْۤاَنْطَقَكُلَّشَيْءٍ:} اعضا ان کے تعجب اور ملامت دونوں کا جواب دیں گے۔ تعجب کا جواب تو یہ دیں گے کہ ہمارا بولنا کوئی تعجب کی بات نہیں، زبان بولتی تھی تو اللہ کے حکم سے اور اس کے گویائی عطا کرنے سے بولتی تھی، اسی طرح ہر بولنے والی چیز اسی کے حکم سے بولتی ہے، تو اب اس نے ہمیں بلوا دیا تو اس میں تعجب کی کون سی بات ہے؟ ➌ { وَهُوَخَلَقَكُمْاَوَّلَمَرَّةٍوَّاِلَيْهِتُرْجَعُوْنَ:} یہ چمڑوں کا کلام بھی ہو سکتا ہے اور آخرت کے منکروں سے اللہ تعالیٰ کا خطاب بھی ہو سکتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
21۔ 1 یعنی جب مشرکین اور کفار دیکھیں گے کہ خود ان کے اپنے اعضا ان کے خلاف گواہی دے رہے ہیں، تو ازراہ تعجب یا بطور عتاب اور ناراضگی کے، ان سے کہیں گے۔ 21۔ 1 بعض کے نزدیک وہو سے اللہ کا کلام مراد ہے اس لحاظ سے یہ جملہ مستانفہ ہے اور بعض کے نزدیک جلود انسانی ہی کا اس اعتبار سے یہ انہی کے کلام کا تتمہ ہے قیامت والے دن انسانی اعضاء کے گواہی دینے کا ذکر اس سے قبل (وَلِلّٰهِمُلْكُالسَّمٰوٰتِوَالْاَرْضِ ۚ وَاِلَىاللّٰهِالْمَصِيْرُ) 24۔ النور:42) (اَلْيَوْمَنَخْتِمُعَلٰٓياَفْوَاهِهِمْوَتُكَلِّمُنَآاَيْدِيْهِمْوَتَشْهَدُاَرْجُلُهُمْبِمَاكَانُوْايَكْسِبُوْنَ) 65) میں بھی گزر چکا ہے اور صحیح احادیث میں بھی اسے بیان کیا گیا ہے مثلا جب اللہ کے حکم سے انسانی اعضا بول کر بتلائیں گے تو بندہ کہے گا بعدا لکن وسحقا فعنکن کنت اناضل (صحیح مسلم، کتاب الزہد) تمہارے لیے ہلاکت اور دوری ہو میں تو تمہاری ہی خاطر چھگڑ رہا اور مدافعت کر رہا تھا اسی روایت میں یہ بھی بیان ہوا ہے کہ بندہ کہے گا کہ میں اپنے نفس کے سوا کسی کی گواہی نہیں مانوں گا اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں اور میرے فرشتے کراما کاتبین گواہی کے لیے کافی نہیں پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء کو بولنے کا حکم دیا جائے گا (حوالہ مذکورہ)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
21۔ وہ اپنی کھالوں سے کہیں گے: تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟“ وہ کہیں گی: ہمیں اسی اللہ نے قوت گویائی دے دی جس نے ہر چیز کو گویائی [25] دی ہے۔ اسی نے تمہیں پہلی بار پیدا کیا اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔
[25] گویائی کے اعضاء اور ان کی ساخت :۔
زبان بھی ویسے ہی گوشت اور پٹھوں کا ایک ٹکڑا ہے جیسے دوسرے اعضاء ہیں۔ اور قوت گویائی میں صرف زبان ہی کام نہیں کرتی۔ بلکہ گلے کی رگیں، جن کی وجہ سے کسی کی آواز سریلی ہوتی ہے کسی کی کرخت، پھر ہونٹ اور تالو وغیرہ سب استعمال میں آتے ہیں۔ تب جا کر انسان بولتا ہے۔ جسم کے اعضاء کا مواد ایک جیسا ہے صرف ساخت کا فرق ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان اعضاء کی ایسی ساخت بنائی ہے جس سے کوئی جا کر بولنے کے قابل ہو جاتا ہے تو جو ہستی ان اعضاء کی ساخت اور بالخصوص پہلی بار کی ساخت پر قادر ہے اس کے لیے بوقت ضرورت کسی دوسرے عضو کی ساخت میں ایسی تبدیلی کر دینا کیا مشکل ہے جس سے وہ بولنے لگے۔ اس طرح جب مجرموں کے دوران جرم مستعمل اعضاء ہی ان کے خلاف گواہی دے دیں گے تو پھر ان کے لیے انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے گی۔ اس طرح علی رؤس الاشہاد ان کا فیصلہ کر کے انہیں سزا دی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔