فَاَرۡسَلۡنَا عَلَیۡہِمۡ رِیۡحًا صَرۡصَرًا فِیۡۤ اَیَّامٍ نَّحِسَاتٍ لِّنُذِیۡقَہُمۡ عَذَابَ الۡخِزۡیِ فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا ؕ وَ لَعَذَابُ الۡاٰخِرَۃِ اَخۡزٰی وَ ہُمۡ لَا یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۱۶﴾
تو ہم نے ان پر ایک سخت تند ہوا چند منحوس دنوں میں بھیجی، تاکہ ہم انھیں دنیا کی زندگی میں ذلت کا عذاب چکھائیں اور یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوا کرنے والاہے اور ان کی مدد نہیں کی جائے گی۔
تو ہم نے بھی ان پر نحوست کے دنوں میں زور کی ہوا چلائی تاکہ ان کو دنیا کی زندگی میں ذلت کے عذاب کا مزہ چکھا دیں۔ اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی ذلیل کرنے والا ہے اور (اس روز) ان کو مدد بھی نہ ملے گی
بالﺂخر ہم نے ان پر ایک تیز و تند آندھی منحوس دنوں میں بھیج دی کہ انہیں دنیاوی زندگی میں ذلت کے عذاب کامزه چکھا دیں، اور (یقین مانو) کہ آخرت کا عذاب اس سے بہت زیاده رسوائی واﻻ ہے اور وه مدد نہیں کیے جائیں گے
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 16) ➊ { فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيْحًا صَرْصَرًا: ” صَرْصَرًا “ ”صِرٌّ“} (صاد پر کسرہ) سے ہے، سردی کی شدت جو بدن سکیڑ کر رکھ دے، یعنی شدید ٹھنڈی ہوا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «كَمَثَلِ رِيْحٍ فِيْهَا صِرٌّ» [آل عمران: ۱۱۷] ”اس ہوا کی مثال جیسی ہے جس میں سخت سردی ہے۔“ یا {”صَرَّةٌ“} سے ہے، جس کا معنی ”خوفناک چیخ“ ہے، جیسا کہ فرمایا: «فَاَقْبَلَتِ امْرَاَتُهٗ فِيْ صَرَّةٍ» [الذاریات: ۲۹] ”تو اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی۔“ یہاں دونوں معنی اکٹھے ملحوظ ہیں کہ وہ ہوا نہایت ٹھنڈی اور خوفناک چیخ جیسی آواز والی تھی۔ {” صَرْصَرًا “} میں حروف مکرر ہونے سے معنی میں مبالغہ پیدا ہو گیا ہے، یعنی ہم نے ان پر نہایت خوفناک آواز والی شدید ٹھنڈی تیز و تند آندھی بھیجی اور اسی ہوا کو جو ان کی زندگی کے قیام اور دل کی راحت کا باعث تھی اور جسے وہ بالکل معمولی اور بے ضرر سمجھتے تھے، ان کی ہلاکت کا سامان بنا دیا اور ان کی کوئی قوت انھیں بچا نہ سکی۔
➋ {فِيْۤ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ: ” نَحِسَاتٍ “ ”نَحْسٌ“} (نون کے فتحہ اور حاء کے سکون کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ» [القمر: ۱۹] ”ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔“ {” نَحْسٌ“} اور {”مَنْحُوْسٌ“} (بدقسمتی والا) {”سَعْدٌ“} (خوش قسمتی والا) کی ضد ہے۔ فی الحقیقت اپنی ذات میں کوئی چیز منحوس نہیں، یہ صرف اضافی چیز ہے، یعنی ایک ہی شے کسی کے حق میں خوش قسمتی کا باعث ہوتی ہے اور کسی کے حق میں بدقسمتی کا، جیسا کہ آندھی کے یہ ایام قومِ عاد کے حق میں منحوس تھے مگر ہود علیہ السلام اور ایمان والوں کے لیے ان دنوں سے زیادہ خوش قسمتی والا دن اور کون سا ہو گا۔ اس آندھی کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۲)، قمر (۱۸ تا ۲۰)، ذاریات (۴۱، ۴۲) اور سورۂ حاقہ (۶ تا ۸)۔ بعض مسلمان کہلانے والے بھی بعض دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، جیسے دس محرم، کیونکہ اس میں حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، حالانکہ اس دس محرم کو موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نجات حاصل ہوئی، جس کی خوشی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے۔ بعض لوگ صفر کے کچھ دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسا عقیدہ باطل ہے۔
➌ { لِنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} یہ ذلت و رسوائی ان کے غرور اور تکبر کا جواب تھا کہ وہی زمین جس پر وہ بڑے بنے ہوئے تھے اسی پر ان کے بے جان لاشے کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گرے پڑے تھے۔
➍ { وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى …:} یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوائی والا ہے، اس لیے کہ وہ تمام پہلے اور پچھلے لوگوں کے سامنے ہو گا، پھر دنیا میں تو ظاہری اسباب کے ساتھ شاید کوئی مدد کے لیے پہنچ جائے، وہاں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر دنیا کی رسوائی تو ایک وقت تک ہے، جب کہ وہاں کی رسوائی ہمیشہ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھے۔ آمین!
➋ {فِيْۤ اَيَّامٍ نَّحِسَاتٍ: ” نَحِسَاتٍ “ ”نَحْسٌ“} (نون کے فتحہ اور حاء کے سکون کے ساتھ) کی جمع ہے، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا: «فِيْ يَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ» [القمر: ۱۹] ”ایسے دن میں جو دائمی نحوست والا تھا۔“ {” نَحْسٌ“} اور {”مَنْحُوْسٌ“} (بدقسمتی والا) {”سَعْدٌ“} (خوش قسمتی والا) کی ضد ہے۔ فی الحقیقت اپنی ذات میں کوئی چیز منحوس نہیں، یہ صرف اضافی چیز ہے، یعنی ایک ہی شے کسی کے حق میں خوش قسمتی کا باعث ہوتی ہے اور کسی کے حق میں بدقسمتی کا، جیسا کہ آندھی کے یہ ایام قومِ عاد کے حق میں منحوس تھے مگر ہود علیہ السلام اور ایمان والوں کے لیے ان دنوں سے زیادہ خوش قسمتی والا دن اور کون سا ہو گا۔ اس آندھی کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۲)، قمر (۱۸ تا ۲۰)، ذاریات (۴۱، ۴۲) اور سورۂ حاقہ (۶ تا ۸)۔ بعض مسلمان کہلانے والے بھی بعض دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، جیسے دس محرم، کیونکہ اس میں حسین رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، حالانکہ اس دس محرم کو موسیٰ علیہ السلام اور بنی اسرائیل کو نجات حاصل ہوئی، جس کی خوشی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تھے۔ بعض لوگ صفر کے کچھ دنوں کو منحوس سمجھتے ہیں، حالانکہ ایسا عقیدہ باطل ہے۔
➌ { لِنُذِيْقَهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} یہ ذلت و رسوائی ان کے غرور اور تکبر کا جواب تھا کہ وہی زمین جس پر وہ بڑے بنے ہوئے تھے اسی پر ان کے بے جان لاشے کھجور کے کھوکھلے تنوں کی طرح گرے پڑے تھے۔
➍ { وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَخْزٰى …:} یقینا آخرت کا عذاب زیادہ رسوائی والا ہے، اس لیے کہ وہ تمام پہلے اور پچھلے لوگوں کے سامنے ہو گا، پھر دنیا میں تو ظاہری اسباب کے ساتھ شاید کوئی مدد کے لیے پہنچ جائے، وہاں اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ پھر دنیا کی رسوائی تو ایک وقت تک ہے، جب کہ وہاں کی رسوائی ہمیشہ کے لیے ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس ذلت و رسوائی سے محفوظ رکھے۔ آمین!
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
16۔ 1 صر صر، صرۃ (آواز) سے ہے۔ یعنی ایسی ہوا جس میں سخت آواز تھی، یعنی نہایت تند اور تیز ہوا، جس میں آواز بھی ہوتی ہے بعض کہتے ہیں یہ صر سے ہے جس کے معنی برد ٹھنڈک کے ہیں یعنی ایسی پالے والی ہوا جو آگ کی طرح جلا ڈالتی ہے امام ابن کثیر فرماتے ہیں والحق انہا متصفۃ بجمیع ذلک وہ ہوا ان تمام ہی باتوں سے متصف تھی۔ 16۔ 2 نحسات کا ترجمہ، بعض نے متواتر پے درپے کا کیا ہے کیونکہ یہ ہوا سات راتیں اور آٹھ دن مسلسل چلتی رہی، بعض نے گرد و غبار یہ ایام جن میں ان پر سخت ہوا کا طوفان جاری رہا، انکے لئے منحوس ثابت ہوئے۔ یہ نہیں کہ ایام ہی منحوس ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
16۔ پھر ہم نے ان پر چند منحوس [19] دنوں میں سناٹے کی آندھی چھوڑ دی [20] تاکہ ہم انہیں دنیا میں ہی رسوائی کا عذاب چکھائیں اور جو آخرت کا عذاب ہے وہ تو اور زیادہ رسوا کرنے والا ہے۔ اور انہیں کہیں سے مدد بھی نہ ملے گی
[19] کوئی دن بذات خود نحس نہیں ہوتا (ذکر قوم عاد) :۔
یعنی وہ دن قوم عاد کے لیے منحوس تھے، ورنہ کوئی دن بذات خود نہ سعد ہوتا ہے اور نہ نحس جیسا کہ جوتشیوں اور انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات تسلیم کرنے والوں کا نظریہ ہوتا ہے۔ وہی دن جو قوم عاد کے لیے منحوس تھے۔ سیدنا صالحؑ اور مومنوں کے لیے مبارک تھے۔ جس دن فرعون اور اس کے ساتھی بحیرہ قلزم میں غرق ہوئے۔ فرعون اور آل فرعون کے لیے منحوس تھا۔ مگر موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کے لیے مبارک تھا۔ علاوہ ازیں اگر یہ دن بذاتہ منحوس ہوتے تو عذاب صرف قوم عاد کے مجرموں پر ہی نہ آتا بلکہ ساری دنیا پر آتا۔
[20] قوم عاد پر ٹھنڈی اور تیز ہوا کا عذاب :۔
ان لوگوں کو اپنی طاقت اور قد و قامت پر غرور تھا۔ اللہ نے ان کا غرور توڑنے کے لیے ایک کمزور سی مخلوق ہوا کو، جس کی روانی اور جھونکوں کے لیے سب لوگ ترستے ہیں۔ ان پر مسلط کر دیا۔ ٹھنڈی ہوا انسان کو بہت خوشگوار لگتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ہوا کو لگاتار چلنے کا حکم دیا اور اس کی ٹھنڈک بڑھا دی۔ یہی ہوا سخت ٹھنڈی آندھی کی شکل اختیار کر گئی۔ جو ان کے پتھر کے بنے ہوئے مکانوں اور ایوانوں میں گھس گئی۔ اس کی تیزی کا یہ حال تھا کہ اس نے نہ کوئی درخت صحیح و سالم چھوڑا نہ مکان، نہ مواشی اور انسان۔ سب ایک دوسرے پر گرے پڑے تھے۔ گر گر کر مر جاتے تھے اور مر مر کر گرتے جاتے تھے۔ آٹھ دن اور سات راتیں آندھی نے اسی طرح اپنا زور دکھایا۔ اور مغرور قوم کے صرف غرور کو ہی نہ توڑا بلکہ پوری قوم کے افراد کا ستیاناس کر کے رکھ دیا۔ یہ تو تھا ان کے لیے دنیا کا عذاب اور اخروی عذاب جو ان کی کرتوتوں کا اصل بدلہ ہو گا وہ تو اور بھی زیادہ رسوا کرنے والا ہو گا۔ دنیا میں بھی انہیں اللہ کے عذاب سے کوئی چیز نہ بچا سکی تو آخرت میں تو ان کی کسی جانب سے مدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔