پھر جو عاد تھے وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور انھوں نے کہا ہم سے قوت میں کون زیادہ سخت ہے؟ اور کیا انھوںنے نہیںدیکھا کہ وہ اللہ جس نے انھیں پیدا کیا، قوت میں ان سے کہیں زیادہ سخت ہے اور وہ ہماری آیات کا انکار کیا کرتے تھے۔
جو عاد تھے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے
اب عاد نے تو بے وجہ زمین میں سرکشی شروع کر دی اور کہنے لگے کہ ہم سے زور آور کون ہے؟ کیا انہیں یہ نظر نہ آیا کہ جس نے انہیں پیدا کیا ہے وه ان سے (بہت ہی) زیاده زور آور ہے، وه (آخر تک) ہماری آیتوں کا انکار ہی کرتے رہے
(آیت 15) ➊ {فَاَمَّاعَادٌفَاسْتَكْبَرُوْا۠فِيالْاَرْضِ …:} اللہ تعالیٰ نے قومِ عاد کو ایسے لمبے قد، جسمانی قوت اور دنیوی ترقی کے اسباب عطا فرمائے تھے کہ اس کے فرمان کے مطابق اس جیسی کوئی قوم پیدا ہی نہیں کی گئی، فرمایا: «اَلَمْتَرَكَيْفَفَعَلَرَبُّكَبِعَادٍ۪(6)اِرَمَذَاتِالْعِمَادِ۪(7)الَّتِيْلَمْيُخْلَقْمِثْلُهَافِيالْبِلَادِ» [الفجر: ۶ تا ۸]”کیا تونے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کس طرح کیا۔ (وہ عاد) جو ارم (قبیلہ کے لوگ) تھے، ستونوں والے۔ وہ کہ ان جیسا کوئی شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا۔“ اور فرمایا: «اَتَبْنُوْنَبِكُلِّرِيْعٍاٰيَةًتَعْبَثُوْنَ (128) وَتَتَّخِذُوْنَمَصَانِعَلَعَلَّكُمْتَخْلُدُوْنَ (129) وَاِذَابَطَشْتُمْبَطَشْتُمْجَبَّارِيْنَ» [الشعراء: ۱۲۸ تا ۱۳۰]”کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔ اور بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو، شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے۔ اور جب تم پکڑتے ہو تو بہت بے رحم ہو کر پکڑتے ہو۔“ جب ہود علیہ السلام نے انھیں توحید کی دعوت دی تو انھوں نے یہ جان لینے کے باوجود کہ وہ اللہ کے سچے رسول ہیں، محض اپنی بڑائی اور سرداری کے گمان میں انھیں جھٹلا دیا، کیونکہ انھیں رسول ماننے کی صورت میں ان کی اطاعت اختیار کرنا پڑتی تھی، جس کے لیے وہ تیار نہ تھے۔ ➋ { وَقَالُوْامَنْاَشَدُّمِنَّاقُوَّةً:} جب ہود علیہ السلام نے انھیں اللہ کے عذاب سے ڈرایا تو وہ کہنے لگے کہ ہم سے زیادہ قوت والا کون ہے جس سے ہم خوف کھائیں؟ ہم آنے والا ہر عذاب ہٹا سکتے ہیں۔ آج کل بھی ملحد لوگ آسمانی آفات کے متعلق کہتے ہیں کہ ہم ان کا مقابلہ کریں گے۔ شاہ عبد القار لکھتے ہیں: ”ان کے جسم بڑے بڑے ہوتے تھے، بدن کی قوت پر غرور آیا، غرور کا دم بھرنا اللہ کے ہاں وبال لاتا ہے۔“ (موضح) ➌ {اَوَلَمْيَرَوْااَنَّاللّٰهَالَّذِيْخَلَقَهُمْ …: ”اَوَلَمْيَرَوْا“} کا معنی {”أَوَلَمْيَعْلَمُوْا“} ہے، یہ رؤیت علمی ہے۔ یعنی کیا انھیں معلوم نہ تھا کہ وہ کتنی قوت والے سہی، اس اللہ سے زیادہ قوت والے نہیں ہو سکتے جس نے انھیں پیدا کیا؟ یقینا انھیں یہ معلوم تھا، استفہام انکاری ہے۔ ➍ {وَكَانُوْابِاٰيٰتِنَايَجْحَدُوْنَ: ”جُحُوْدٌ“} کا معنی ”جاننے کے باوجود انکار کرنا“ ہے۔ یعنی دل میں ان کا حق ہونا سمجھتے تھے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کرتے چلے جاتے تھے۔ آیات سے مراد انبیاء پر نازل ہونے والی آیات بھی ہیں، ان کے معجزات بھی اور کائنات میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی قدرت کی پھیلی ہوئی بے شمار نشانیاں بھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 اس فقرے سے ان کا مقصود یہ تھا کہ وہ عذاب روک لینے پر قادر ہیں کیونکہ وہ دراز قد اور نہایت زور آور تھے یہ انہوں نے اس وقت کہا جب ان کے پیغمبر حضرت ہود ؑ نے ان کو انذار و تنبیہ کے لیے عذاب الہی سے ڈرایا۔ 15۔ 1 یعنی کیا وہ اللہ سے بھی زیادہ زور آور ہیں، جس نے انہیں پیدا کیا اور انہیں قوت و طاقت سے نوازا۔ کیا ان کے بنانے کے بعد اس کی اپنی قوت و طاقت ختم ہوگئی ہے؟ یہ استفہام استنکار اور توبیخ کے لیے ہے۔ 15۔ 2 ان معجزات کا جو انبیاء کو ہم نے دیئے تھے یا ان دلائل کا جو پیغمبروں کے ساتھ نازل کیے تھے یا ان آیات تکوینیہ کا جو کائنات میں پھیلی اور بکھری ہوئی ہیں۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ ان میں سے جو قوم عاد تھی اس نے ملک میں ناحق تکبر کیا اور کہنے لگے: ”ہم سے بڑھ کر طاقتور کون ہے؟“ کیا انہوں نے یہ نہ دیکھا کہ جس نے انہیں پیدا کیا وہ ان سے یقیناً زیادہ طاقتور [18] ہے۔ اور وہ (دیدہ دانستہ) ہماری آیات کا انکار کرتے رہے۔
[18] حق کو قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ تکبر ہی ہوا کرتا ہے۔ رسولوں کی بات مان لینے سے ان کی اپنی اپنی سرداریوں اور چودھراہٹوں پر زد پڑتی ہے۔ لہٰذا یہ چودھری ٹائپ لوگ سینہ تان کر رسولوں کی مخالفت پر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور اپنے حلقہ اثر کے لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیتے ہیں اور یہ قوم عاد تو تھے بھی بڑے قدوقامت والے اور بڑے زور آور گھمنڈ میں آ گئے۔ اور رسولوں سے کہنے لگے کہ ہم تمہیں کیا سمجھتے ہیں؟ اس وقت انہیں اتنا خیال نہ آیا کہ رسول تو ان سے طاقت میں کمزور ہو سکتا ہے لیکن جس ہستی نے انہیں اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے وہ تو ان سے کمزور نہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
نئے مضامین کی اپڈیٹس کے لیے ہماری میلنگ لسٹ میں شامل ہوں
قرآن و سنت کی روشنی میں علمی و تحقیقی مضامین براہ راست اپنے ان باکس میں پائیں
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔