(آیت 76) {اُدْخُلُوْۤااَبْوَابَجَهَنَّمَخٰلِدِيْنَفِيْهَا …: ”اُدْخُلُوْۤا“} کی مناسبت سے{”فَبِئْسَمَدْخَلُالْمُتَكَبِّرِيْنَ“} (متکبروں کے داخل ہونے کی جگہ بری) ہونا چاہیے تھا، مگر {”خٰلِدِيْنَفِيْهَا“} کی مناسبت سے {”فَبِئْسَمَثْوَىالْمُتَكَبِّرِيْنَ“} فرمایا، یعنی وہ متکبرین کے رہنے کی بری جگہ ہے۔ {”مَثْوَىالْمُتَكَبِّرِيْنَ“} کے لفظ سے یہ بھی ظاہر ہے کہ جہنم میں ہمیشہ کے لیے داخل ہونے کا باعث تکبر ہے، جس نے انھیں اللہ کی آیات کو جھٹلانے پر اور ان کے بارے میں جدال پر ابھارا، جس جدال کی مذمت اس سورت کا ایک بنیادی موضوع ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
8۔ 1 اس صورت میں قیامت والے دن صرف ایک ہی گروہ ہوتا یعنی اہل ایمان اور اہل جنت کا لیکن اللہ کی حکمت و مشیت نے اس جبر کو پسند نہیں کیا بلکہ انسانوں کو آزمانے کے لئے اس نے انسانوں کو ارادہ و اختیار کی آزادی دی، جس نے آزادی کا صحیح استعمال کیا، وہ اللہ کی رحمت کا مستحق ہوگیا، اور جس نے اس کا غلط استعمال کیا، اس نے ظلم کا ارتکاب کیا کہ اللہ کی دی ہوئی آزادی اور اختیار کو اللہ ہی کی نافرمانی میں استعمال کیا۔ چناچہ ایسے ظالموں کا قیامت والے دن کوئی مددگار نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
76۔ (اب) دوزخ کے دروازوں میں سے داخل ہو جاؤ، تم اس میں ہمیشہ رہو گے۔ تکبر [97] کرنے والوں کا کیسا برا ٹھکانا ہے
[97] تکبر کی تعریف اور متکبرین کا انجام :۔
ان دو آیات سے دو باتیں معلوم ہوتی ہیں ایک یہ کہ قبول حق سے انکار کی سب سے بڑی وجہ تکبر ہوتی ہے۔ اور دوسری یہ کہ دوزخ میں سب سے زیادہ بھرتی متکبرین کی ہو گی۔ اور انہی باتوں کی مزید تفاصیل احادیث میں بھی ملتی ہے: 1۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی بھر بھی تکبر ہو“ ایک شخص کہنے لگا: ہر انسان اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اس کا کپڑا اچھا ہو، اس کی جوتی اچھی ہو۔ (کیا یہ تکبر ہے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ خوب صورت ہے، خوبصورتی کو پسند کرتا ہے۔ تکبر تو یہ ہے کہ تو حق کو ٹھکرا دے اور لوگوں کو حقیر سمجھے“ [مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبر وبیانہ] 2۔ حارثہ بن وہب خزاعی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ وہ ایسے کمزور اور گمنام لوگ ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسے پر قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم پوری کر دے۔ اور کیا میں تمہیں اہل دوزخ کے متعلق نہ بتاؤں۔ ہر اکھڑ مزاج، بد خلق اور متکبر دوزخی ہوتا ہے۔ [بخاری۔ کتاب الادب۔ باب الکبر] 3۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں کہ جس شخص کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ [مسلم۔ کتاب الایمان۔ باب تحریم الکبر و بیانہ]
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔