ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 51

اِنَّا لَنَنۡصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا وَ یَوۡمَ یَقُوۡمُ الۡاَشۡہَادُ ﴿ۙ۵۱﴾
بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ En
ہم اپنے پیغمبروں کی اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کی دنیا کی زندگی میں بھی مدد کرتے ہیں اور جس دن گواہ کھڑے ہوں گے (یعنی قیامت کو بھی)
En
یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور ایمان والوں کی مدد زندگانیٴ دنیا میں بھی کریں گے اور اس دن بھی جب گواہی دینے والے کھڑے ہوں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 51) ➊ { اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …:} سورت کی ابتدا سے یہاں تک آیات کا حاصل یہ تھا کہ نوح علیہ السلام کی قوم نے اور ان کے بعد آنے والے رسولوں کی امتوں نے اپنے رسولوں کو جھٹلایا، حق کو شکست دینے کے لیے باطل طریقے سے کج بحثی کی اور ہر ایک نے اپنے رسول کو گرفتار کرنے کا ارادہ کیا، مگر وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے انھیں دنیا میں ہلاک کیا اور آخرت میں ان کے لیے شدید ترین عذاب رکھا۔ موسیٰ علیہ السلام اور ان کا دفاع کرنے والے مومن کی بھی اسی طرح مدد فرمائی، مگر اللہ تعالیٰ کی اپنے لوگوں کے ساتھ امداد مخفی ہوتی ہے۔ پہلے کئی طرح سے ان کی آزمائش ہوتی ہے، پھر انجام ان کے حق میں ہوتا ہے۔ اکثر لوگوں کی نظر چونکہ ظاہری اسباب پر ہوتی ہے اور وہ ایمانی فراست سے محروم ہوتے ہیں، اس لیے وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی مدد نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے ان واقعات کے ذکر کے بعد جن میں {إِنَّ} کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت کا بیان ہے، اب {إِنَّ} اور لام تاکید کے ساتھ اور اپنی عظمت کے اظہار کے لیے اپنا ذکر جمع متکلم کے صیغے کے ساتھ کرتے ہوئے نہایت زور دار الفاظ میں فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا» ‏‏‏‏ کہ بے شک ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں، خواہ وہ کسی کی سمجھ میں آ رہی ہو یا نہ، ہمارا قاعدہ یہی ہے۔
➋ { فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا:} یہاں ایک سوال ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ کئی رسول دنیا میں اپنی قوم پر غالب نہ آ سکے، کئی انبیاء قتل ہوئے، ایمان والوں کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔ پھر اتنی تاکید کے ساتھ یہ کہنے کا کیا مطلب ہے کہ ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے ضرور مدد کرتے ہیں، دنیا کی زندگی میں اور اس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے؟ جواب اس کا یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کی کئی صورتیں ہیں۔ سب سے بڑی مدد تو یہ ہے کہ وہ ہر قسم کے حالات میں حق پر ثابت قدم رہتے ہیں، بڑے سے بڑے لالچ یا بڑی سے بڑی آزمائش، حتیٰ کہ شہادت کی صورت میں بھی ان کے قدم ایمان سے نہیں ڈگمگاتے۔ یہ استقامت اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت کے بغیر کبھی حاصل نہیں ہو سکتی، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ الَّذِيْنَ قَالُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ ثُمَّ اسْتَقَامُوْا تَتَنَزَّلُ عَلَيْهِمُ الْمَلٰٓىِٕكَةُ اَلَّا تَخَافُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَبْشِرُوْا بِالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ (30) نَحْنُ اَوْلِيٰٓؤُكُمْ فِي الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا وَ فِي الْاٰخِرَةِ» ‏‏‏‏ [حٰمٓ السجدۃ: ۳۰، ۳۱] بے شک وہ لوگ جنھوں نے کہا ہمارا رب اللہ ہے، پھر خوب قائم رہے، ان پر فرشتے اترتے ہیں کہ نہ ڈرو اور نہ غم کرو اور اس جنت کے ساتھ خوش ہو جاؤ جس کاتم وعدہ دیے جاتے تھے۔ ہم تمھارے دوست ہیں دنیا کی زندگی میں اور آخرت میں بھی۔ اس کی نصرت ایک مثال اصحاب الاخدود ہیں۔ ایک صورت مدد کی یہ ہے کہ دلیل و برہان کے لحاظ سے وہ ہمیشہ اپنے دشمنوں پر غالب رہتے ہیں، جیسا کہ فرعون نے اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود دلیل کے میدان میں شکست کھائی، حتیٰ کہ وہ جادوگر جو مقابلے پر لائے گئے تھے، سجدے میں گر گئے اور ایمان لے آئے۔ ایک صورت مدد کی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں ایسی ذہنی اور قلبی برتری عطا فرماتا ہے کہ ہر قسم کی قوت و شوکت اور ملک و سلطنت کے باوجود ان کی نظر میں کفار کی حیثیت گھاس کے ایک تنکے سے بھی کم ہوتی ہے۔ ایک صورت مدد کی یہ ہے کہ ان کے دشمنوں سے دنیا میں ان زیادتیوں کا بدلا لیا جاتا ہے جو وہ رسولوں اور ایمان والوں پر کرتے رہے۔ (دیکھیے روم: ۴۷) پھر خواہ وہ بدلا رسول کی موجودگی میں لیا جائے، جیسا کہ قوم نوح اور عاد و ثمود کے ساتھ ہوا، خواہ رسول کے بعد لیا جائے، جیسا کہ بنی اسرائیل کے اپنے بعض رسولوں کو قتل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنے سخت لڑائی والے بندے مسلط کرکے انھیں نہایت عبرت ناک سزا دی، جیسا کہ سورۂ بنی اسرائیل کے شروع میں مذکور ہے، اور جن یہودیوں نے عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دینے کا منصوبہ بنایا ان پر رومیوں کو مسلط کیا گیا، جنھوں نے انھیں ہر طریقے سے ذلیل و خوار کیا اور وہ دنیا میں ایسے منتشر ہوئے کہ آج تک کسی نہ کسی قوم کی پناہ کے بغیر کسی جگہ ان کا قیام مشکل ہے۔ (دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل: ۴ تا ۷) اور مدد کی ایک صورت یہ ہے کہ انھیں دنیا میں مادی لحاظ سے فتح و نصرت اور حکومت و سلطنت عطا کر دی جائے، جیسا کہ داؤد اور سلیمان علیھما السلام کی مدد ہوئی۔ ان صورتوں میں سے کسی نبی کو صرف ایک قسم کی مدد حاصل ہوئی، کسی کو دو قسم کی اور کسی کو زیادہ کی۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہر قسم کی مدد سے فیض یاب ہوئے۔
➌ { وَ يَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ: الْاَشْهَادُ شَاهِدٌ} کی جمع بھی ہو سکتی ہے، جیسے {صَاحِبٌ} کی جمع { أَصْحَابٌ } ہے اور {شَهِيْدٌ } کی بھی، جیسے {شَرِيْفٌ} کی جمع {أَشْرَافٌ} ہے۔ یعنی اس دن بھی ہم اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی مدد کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے۔ مراد قیامت کا دن ہے جب انبیاء، فرشتے، اہلِ ایمان، زمین اور انسان کے اعضا آدمی کے حق میں یا اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اس دن اللہ تعالیٰ مومنوں کو جنت عطا فرما کر اور ان کے دشمنوں کو جہنم میں پھینک کر اپنے رسولوں اور ایمان والوں کی مدد فرمائے گا۔ دیکھیے سورۂ مطففین (۲۹ تا ۳۶)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

51۔ 1 یعنی ان کے دشمن کو ذلیل اور ان کو غالب کریں گے بعض لوگوں کے ذہنوں میں یہ اشکال پیدا ہوسکتا ہے کہ بعض نبی قتل کر دئیے گئے جیسے حضرت یحییٰ و زکریا (علیہما السلام) وغیرہ اور بعض ہجرت پر مجبور ہوگئے جیسے ابراہیم ؑ اور ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وعدہ امداد کے باوجود ایسا کیوں ہوا؟ دراصل یہ وعدہ غالب حالات اور اکثریت کے اعتبار سے ہے اس لیے بعض حالتوں میں اور بعض اشخاص پر کافروں کا غلبہ اس کے منافی نہیں یا مطلب یہ ہے کہ عارضی طور پر یعض دفعہ اللہ کی حکمت و مشیت کے تحت کافروں کو غلبہ عطا فرما دیا جاتا ہے لیکن بالاخر اہل ایمان ہی غالب اور سرخرو ہوتے ہیں جیسے حضرت یحییٰ و زکریا (علیہما السلام) کے قاتلین پر بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو مسلط فرما دیا جنہوں نے ان کے خون سے اپنی پیاس بجھائی اور انہیں ذلیل و خوار کیا جن یہودیوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو سولی دے کر مارنا چاہا اللہ نے ان یہودیوں پر رومیوں کو ایسا غلبہ دیا کہ انہوں نے یہودیوں کو خوب ذلت کا عذاب چکھایا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے رفقا یقینا ہجرت پر مجبور ہوئے لیکن اس کے بعد جنگ بدر، احد، احزاب، غزوہ خیبر، اور پھر فتح مکہ کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے جس طرح مسلمانوں کی مدد فرمائی اور اپنے پیغمبر اور اہل ایمان کو جس طرح غلبہ عطا فرمایا اس کے بعد اللہ کی مدد کرنے میں کیا شبہ رہ جاتا ہے؟ ابن کثیر 51۔ 2 اشہاد شہید گواہ کی جمع ہے جیسے شریف کی جمع اشراف ہے قیامت والے دن فرشتے اور انبیاء (علیہم السلام) گواہی دیں گے یا فرشتے اس بات کی گواہی دیں گے کہ یا اللہ پیغمبروں نے تیرا پیغام پہنچا دیا تھا لیکن ان کی امتوں نے ان کو جھٹلایا۔ علاوہ ازیں امت محمدیہ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی گواہی دیں گے جیسے کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ اس لئے قیامت کو گواہوں کے کھڑا ہونے کا دن کہا گیا ہے۔ اس دن اہل ایمان کی مدد کرنے کا مطلب ہے ان کو ان کے اچھے اعمال کی جزا دی جائے گی اور انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

51۔ ہم یقیناً اپنے رسولوں کی اور ان لوگوں کی جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں [67] بھی مدد کرتے ہیں اور اس دن بھی کریں گے جب گواہ کھڑے [68] ہوں گے
[67] اللہ کی امداد کی صورتیں :۔
دنیا میں رسولوں اور مومنوں کی مدد کی کئی صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ ان کے دشمنوں کو تباہ کر دیا جائے اور انہیں ظالموں کے پنجہ استبداد سے نجات دلا دی جائے۔ دوسری یہ کہ انہیں سیاسی تفوق بھی حاصل ہو جائے۔ اور تیسری یہ کہ دنیا میں انہیں کا بول بولا ہو یعنی جس مقصد کے لئے وہ کھڑے ہوتے ہیں اللہ کی مدد ان کے شامل حال رہتی ہے۔ اور حق پرستوں کی قربانیاں کسی بھی حال میں ضائع نہیں جاتیں۔ ان تینوں صورتوں میں سے کسی نبی کو صرف ایک قسم کی مدد حاصل ہوئی، کسی کو دو قسم کی اور کسی کو تینوں قسم کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ کی طرف سے تینوں طرح کی مدد سے فیض یاب ہوئے۔
[68] یعنی قیامت کے دن جب ہر نبی سے اس کی امت کے متعلق گواہی لی جائے گی۔ علاوہ ازیں ان نیک بندوں کی بھی جن کی معرفت لوگوں کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا گیا۔ اس دن میدان محشر میں جمع شدہ تمام لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ انبیاء اور صلحاء کا مقام عام لوگوں سے کس قدر بلند ہے۔ نیز وہ یہ بھی دیکھ لیں گے کہ اس دن جب کوئی کسی کی مدد نہ کر سکے گا۔ اللہ اپنے نبیوں اور ایمانداروں کی کس طرح مدد اور حوصلہ افزائی کرتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

رسولوں اور اہل ایمان کو دنیا و آخرت میں مدد کی بشارت ٭٭
آیت میں رسولوں کی مدد کرنے کا اللہ کا وعدہ ہے، پھر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض رسولوں کو ان کی قوموں نے قتل کر دیا، جیسے حضرت یحییٰ، زکریا، شعیب صلوات اللہ علیہم و سلامہ، اور بعض انبیاء کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا، جیسے ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام۔ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کہ انہیں اللہ تعالیٰ نے آسمان کی طرف ہجرت کرائی۔ پھر کیا کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ وعدہ پورا کیوں نہیں ہوا؟ اس کے دو جواب ہیں ایک تو یہ کہ یہاں گو عام خبر ہے لیکن مراد بعض سے ہے، اور یہ لعنت میں عموماً پایا جاتا ہے کہ مطلق ذکر ہو اور مراد خاص افراد ہوں۔ دوسرے یہ کہ مدد کرنے سے مراد بدلہ لینا ہو۔ پس کوئی نبی ایسا نہیں گزرا جسے ایذاء پہنچانے والوں سے قدرت نے زبردست انتقام نہ لیا ہو۔
چنانچہ یحییٰ، زکریا علیہ السلام، شعیب علیہ السلام کے قاتلوں پر اللہ نے ان کے دشمنوں کو مسلط کر دیا اور انہوں نے انہیں زیر و زبر کر ڈالا، ان کے خون کی ندیاں بہا دیں اور انہیں نہایت ذلت کے ساتھ موت کے گھاٹ اتارا۔ نمرود مردود کا مشہور واقعہ دنیا جانتی ہے کہ قدرت نے اسے کیسی پکڑ میں پکڑا؟ حضعر عیسیٰ علیہ السلام کو جن یہودیوں نے سولی دینے کی کوشش کی تھی۔ ان پر جناب باری عزیز و حکیم نے رومیوں کو غالب کر دیا۔ اور ان کے ہاتھوں ان کی سخت ذلت و اہانت ہوئی۔
اور ابھی قیامت کے قریب جب آپ اتریں گے تب دجال کے ساتھ ان یہودیوں کی جو اس کے لشکری ہوں گے قتل کریں گے۔ اور امام عادل اور حاکم باانصاف بن کر تشریف لائیں گے صلیب کو توڑیں گے خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ باطل کر دیں گے بجز اسلام کے اور کچھ قبول نہ فرمائیں گے۔ یہ ہے اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان مدد اور یہی دستور قدرت ہے جو پہلے سے ہے اور اب تک جاری ہے کہ وہ اپنے مومن بندوں کی دنیوی امداد بھی فرماتا ہے اور ان کے دشمنوں سے خود انتقام لے کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی کرتا ہے۔
صحیح بخاری شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ عزوجل نے فرمایا ہے جو شخص میرے نبیوں سے دشمنی کرے اس نے مجھے لڑائی کیلئے طلب کیا۔[صحیح بخاری:6502]‏‏‏‏
دوسری حدیث میں ہے میں اپنے دوستوں کی طرف سے بدلہ ضرور لے لیا کرتا ہوں جیسے کہ شیر بدلہ لیتا ہے۔[شرح السنۃ للبغوی:1242]‏‏‏‏۔
اسی بناء پر اس مالک الملک نے قوم نوح سے، عاد سے، ثمودیوں سے، اصحاب الرس سے، قوم لوط سے، اہل مدین سے اور ان جیسے ان تمام لوگوں سے جنہوں نے اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا تھا اور حق کا خلاف کیا تھا بدلہ لیا۔ ایک ایک کو چن چن کر تباہ برباد کیا اور جتنے مومن ان میں تھے ان سب کو بچا لیا۔
امام سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس قوم میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آئے یا ایماندار بندے انہیں پیغام الٰہی پہنچانے کیلئے کھڑے ہوئے اور اس قوم نے ان نبیوں کی یا ان مومنوں کی بے حرمتی کی اور انہیں مارا پیٹا قتل کیا ضرور بالضرور اسی زمانے میں عذاب الٰہی ان پر برس پڑے۔ نبیوں کے قتل کے بدلے لینے والے اٹھ کھڑے ہوئے اور پانی کی طرح ان کے خون سے پیاسی زمین کو سیراب کیا۔
پس گو انبیاء علیہ السلام اور مومنین رحمہ اللہ علیہم یہاں قتل کئے گئے لیکن ان کا خون رنگ لایا اور ان کے دشمنوں کا بھس کی طرح بھرکس نکال دیا۔ ناممکن ہے کہ ایسے بندگان خاص کی امداد و اعانت نہ ہو اور ان کے دشمنوں سے پورا انتقام نہ لیا گیا ہو۔
اشرف الانبیاء حبیب اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی دنیا اور دنیا والوں کے سامنے ہیں کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو غلبہ دیا اور دشمنوں کی تمام تر کوششوں کو بے نتیجہ رکھا۔ ان تمام پر آپ کو کھلا غلبہ عطا فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمے کو بلند و بالا کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دین دنیا کے تمام ادیان پر چھا گیا۔ قوم کی زبردست مخالفتوں کے وقت اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینے پہنچا دیا اور مدینے والوں کو سچا جاں نثار بنا کر پھر مشرکین کا سارا زور بدر کی لڑائی میں ڈھا دیا۔ ان کے کفر کے تمام وزنی ستون اس لڑائی میں اکھیڑ دیئے۔ سردارانِ مشرکین یا تو ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے گئے یا مسلمانوں کے ہاتھوں میں قیدی بن کر نامرادی کے ساتھ گردن جھکائے نظر آنے لگے قید و بند میں جکڑے ہوئے ذلت و اہانت کے ساتھ مدینے کی گلیوں میں کسی کے ہاتھوں پر اور کسی کے پاؤں پر دوسرے کی گرفت تھی۔
اللہ کی حکمت نے ان پر پھر احسان کیا اور ایک مرتبہ پھر موقعہ دیا فدیہ لے کر آزاد کر دیئے گئے لیکن پھر بھی جب مخالفت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے باز نہ آئے اور اپنے کرتوتوں پر اڑے رہے۔ تو وہ وقت بھی آیا کہ جہاں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھپ چھپا کر رات کے اندھیرے میں پاپیادہ ہجرت کرنی پڑی تھی وہاں فاتحانہ حیثیت سے داخل ہوئے اور گردن پر ہاتھ باندھے دشمنان رسول سامنے لائے گئے۔ اور بلاد حرم کی عظمت و عزت رسول صلی اللہ علیہ وسلم محترم کی وجہ سے پوری ہوئی۔ اور تمام شرک و کفر اور ہر طرح کی بے ادبیوں سے اللہ کا گھر پاک صاف کر دیا گیا۔
بالآخر یمن بھی فتح ہوا اور پورا جزیرہ عرب قبضہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں آ گیا۔ اور جوق کے جوق لوگ اللہ کے دین میں داخل ہو گئے۔ پھر رب العالمین نے اپنے رسول رحمتہ العالمین کو اپنی طرف بلا لیا اور وہاں کی کرامت و عظمت سے اپنی مہمانداری میں رکھ کر نوازا صلی اللہ علیہ وسلم ۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نیک نہاد صحابہ رضی اللہ عنہم کو آپ کا جانشین بنایا۔ جو محمدی جھنڈا لیے کھڑے ہو گئے اور اللہ کی توحید کی طرف اللہ کی مخلوق کو بلانے لگے۔ جو روڑا راہ میں آیا اسے الگ کیا۔ جو خار چمن میں نظر پڑا اسے کاٹ ڈالا گاؤں گاؤں شہر شہر ملک ملک دعوت اسلام پہنچا دی جو مانع ہوا اسے منع کا مزہ چکھایا اسی ضمن میں مشرق و مغرب میں سلطنت اسلامی پھیل گئی۔ زمین پر اور زمین والوں کے جسموں پر ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے فتح حاصل نہیں کی بلکہ ان کے دلوں پر بھی فتح پالی اسلامی نقوش دلوں میں جما دیئے اور سب کو کلمہ توحید کے نیچے جمع کر دیا۔ دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کا چپہ چپہ اور کونا کونا اپنے قبضے میں کر لیا۔ دعوت محمدیہ بہرے کانوں تک بھی پہنچ چکی۔ صراط محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اندھوں نے بھی دیکھ لیا۔ اللہ اس پاکباز جماعت کو ان کی اولو العزمیوں کا بہترین بدلہ عنایت فرمائے۔ آمین!
الحمدللہ آج تک اللہ کا دین غالب اور منصور ہے۔ آج تک مسلمانوں میں حکومت اور سلطنت موجود ہے۔ آج تک ان ہاتھوں میں اللہ کا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام موجود ہے۔ اور آج تک ان کے سروں پر رب کا ہاتھ ہے۔ اور قیامت تک یہ وطن مظفر و منصور ہی رہے گا اور جو اس کے مقابلے پر آئے گا منہ کی کھائے گا اور پھر کبھی منہ نہ دکھائے گا یہی مطلب ہے اس مبارک آیت کا۔ قیامت کے دن بھی دینداروں کی مدد و نصرت ہو گی اور بہت بڑی اور بہت اعلیٰ پیمانے تک۔
گواہوں سے مراد فرشتے ہیں، دوسری آیت میں «‏‏‏‏يَوْمَ» بدل ہے پہلی آیت کے اسی لفظ سے۔ بعض قرأتوں میں یوم ہے تو یہ گویا پہلے یوم کی تفسیر ہے۔ ظالموں سے مراد مشرک ہیں ان کا عذر و فدیہ قیامت کے دن مقبول نہ ہو گا وہ رحمت رب سے اس دن دور دھکیل دیئے جائیں گے۔ ان کیلئے برا گھر یعنی جہنم ہو گا۔ ان کی عاقبت خراب ہو گی، موسیٰ علیہ السلام کو ہم نے ہدایت ونور بخشا۔ بنی اسرائیل کا انجام بہتر کیا۔ فرعون کے مال و زمین کا انہیں وارث بنایا کیونکہ یہ اللہ کی اطاعت اور اتباع رسول میں ثابت قدمی کے ساتھ سختیاں برداشت کرتے رہے تھے۔ جس کتاب کے یہ وارث ہوئے وہ عقلمندوں کیلئے سرتاپا باعث ہدایت و عبرت تھی،
اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آپ صبر کیجئے اللہ کا وعدہ سچا ہے آپ کا ہی بول بالا ہو گا انجام کے لحاظ سے آپ ہی غالب رہیں گے۔ رب اپنے وعدے کے خلاف کبھی نہیں کرتا بلا شک و شبہ دین اللہ کا اونچا ہو کر ہی رہے گا۔ تو اپنے رب سے استغفار کرتا رہ۔
آپ کو حکم دے کر دراصل آپ کی امت کو استغفار پر آمادہ کرنا ہے۔ دن کے آخری اور رات کے انتہائی وقت خصوصیت کے ساتھ رب کی پاکیزگی اور تعریف بیان کیا کر، جو لوگ باطل پر جم کر حق کو ہٹا دیتے ہیں دلائل کو غلط بحث سے ٹال دیتے ہیں ان کے دلوں میں بجز تکبر کے اور کچھ نہیں ان میں اتباع حق سے سرکشی ہے۔ یہ رب کی باتوں کی عزت جانتے ہی نہیں۔ لیکن جو تکبر اور جو خودی اور جو اپنی اونچائی وہ چاہتے ہیں وہ انہیں ہرگز حاصل نہیں ہونے کی۔ ان کے مقصود باطل ہیں۔ ان کے مطلوب لاحاصل ہیں۔ اللہ کی پناہ طلب کر، کہ ان جیسا حال کسی بھلے آدمی کا نہ ہو۔ اور ان نخوت پسند لوگوں کی شرارت سے بھی اللہ کی پناہ چاہا کر۔ یہ آیت یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ یہ کہتے تھے دجال انہی میں سے ہو گا اور اس کے زمانے میں یہ زمانے کے بادشاہ ہو جائیں گے۔
پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ فتنہ دجال سے اللہ کی پناہ طلب کیا کرو۔ وہ سمیع و بصیر ہے۔ لیکن آیت کو یہودیوں کے بارے میں نازل شدہ بتانا اور دجال کی بادشاہی اور اس کے فتنے سے پناہ کا حکم۔ سب چیزیں تکلف سے پرہیں۔ مانا کہ یہ تفسیر ابن ابی حاتم میں ہے مگر یہ قول ندرت سے خالی نہیں۔ ٹھیک یہی ہے کہ عام ہے۔ واللہ سبحانہ و تعالیٰ اعلم۔