(آیت 49) {وَقَالَالَّذِيْنَفِيالنَّارِلِخَزَنَةِجَهَنَّمَ …:} یعنی آپس کے جھگڑے کو بے سود سمجھ کر سردار اور پیروکار سب جہنم کے دربانوں سے کہیں گے کہ اپنے رب سے ہمارے لیے بھی دعا کرو کہ کسی ایک دن ہی ہمارے عذاب میں تخفیف کر دے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
49۔ اور جو لوگ دوزخ میں ہوں گے وہ جہنم کے محافظوں [63] سے کہیں گے: ”اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ایک دن تو ہمارے عذاب میں کچھ تخفیف کر دے
[63] یعنی جب کمزور اور تابعداری کرنے والوں اور بڑا بننے والوں میں یہ مکالمہ ہو چکے گا تو سب مل کر دوزخ کے فرشتوں سے التجا کریں گے کہ اب تم اپنے پروردگار سے ہمارے حق میں سفارش کرو کہ وہ کسی ایک دن تو ہمارے عذاب میں کچھ تخفیف کر دے۔ اسے ہی ہم اپنے لئے تعطیل یا چھٹی کا دن سمجھ لیں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔