ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 44

فَسَتَذۡکُرُوۡنَ مَاۤ اَقُوۡلُ لَکُمۡ ؕ وَ اُفَوِّضُ اَمۡرِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بَصِیۡرٌۢ بِالۡعِبَادِ ﴿۴۴﴾
پس عنقریب تم یاد کرو گے جو میں تم سے کہہ رہا ہوں اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، بے شک اللہ بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔ En
جو بات میں تم سے کہتا ہوں تم اسے آگے چل کر یاد کرو گے۔ اور میں اپنا کام خدا کے سپرد کرتا ہوں۔ بےشک خدا بندوں کو دیکھنے والا ہے
En
پس آگے چل کر تم میری باتوں کو یاد کرو گے میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، یقیناً اللہ تعالیٰ بندوں کا نگراں ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) ➊ { فَسَتَذْكُرُوْنَ مَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ:} معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرد مومن اس تقریر کے دوران فرعون کی گفتگو سن کر اور قوم کا رویہ دیکھ کر ان کے ایمان لانے اور موسیٰ علیہ السلام کے متعلق قتل کا فیصلہ بدلنے سے مایوس ہو گیا تھا اور اپنے متعلق بھی اسے پورا یقین ہو گیا تھا کہ یہ لوگ مجھے بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ اس لیے اس نے آخری فقرہ اس شخص کے لہجے میں کہا جو اللہ کی راہ میں جان دینے کے لیے تیار کھڑا ہو اور جسے اللہ کی مدد پر پورا یقین ہو۔
➋ {وَ اُفَوِّضُ اَمْرِيْۤ اِلَى اللّٰهِ:} یہی وہ بات ہے جو اللہ کے خاص بندے اس وقت بھی کہتے ہیں جب تمام ظاہری اسباب ختم ہو جائیں، اس وقت بھی ان کا اللہ تعالیٰ پر بھروسا پوری طرح قائم رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی ان کے اعتماد کو کبھی نہیں توڑتا، بلکہ جس طرح چاہتا ہے انھیں بچا لیتا ہے۔ اللہ کے ان بندوں کے الفاظ مختلف ہو سکتے ہیں مگر مفہوم ایک ہی ہوتا ہے کہ ہم نے اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کیا، وہی ہمارے لیے کافی ہے۔ چنانچہ ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں گرائے جانے کے وقت { حَسْبِيَ اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ} کہا۔ [بخاري، التفسیر، باب قولہ تعالٰی: «الذین استجابوا للّٰہ…» ‏‏‏‏: ۴۵۶۴] جنگ احد کے بعد زخم خوردہ ہونے کے باوجود دشمنوں کی آمد کی خبر سن کر ایمان والوں نے یہ بات ان الفاظ میں کہی: «‏‏‏‏حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ» ‏‏‏‏ [آل عمران: ۱۷۳] ہمیں اللہ کافی ہے اور وہ اچھا کار ساز ہے۔ اور اصحاب الاخدود والے لڑکے نے یہی بات ان الفاظ میں کہی تھی: [اَللّٰهُمَّ اكْفِنِيْهِمْ بِمَا شِئْتَ] [مسلم، الزھد، باب قصۃ أصحاب الأخدود…: ۳۰۰۵] اے اللہ! مجھے ان سے کافی ہو جا جس طرح تو چاہے۔ اور آلِ فرعون کے مومن نے کہا: «وَ اُفَوِّضُ اَمْرِيْۤ اِلَى اللّٰهِ اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ» ‏‏‏‏ میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو خوب دیکھنے والا ہے۔
➌ { اِنَّ اللّٰهَ بَصِيْرٌۢ بِالْعِبَادِ:} یعنی وہ تمھارے کفر و شرک اور ظلم و ستم پر اصرار کو اور میری بے چارگی اور اس کی خاطر استقامت کو خوب دیکھ رہا ہے، وہ خود ہی فیصلہ فرما دے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 عنقریب وہ وقت آئے گا جب میری باتوں کی صداقت اور جن باتوں سے روکتا تھا ان کی شناعت تم پر واضح ہوجائے گی پھر تم ندامت کا اظہار کرو گے مگر وہ وقت ایسا ہوگا کہ ندامت بھی کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ 44۔ 2 یعنی اسی پر بھروسہ کرتا اور اسی سے ہر وقت استعانت کرتا ہوں اور تم سے بیزاری اور قطع تعلق کا اعلان کرتا ہوں۔ 44۔ 3 وہ انہیں دیکھ رہا ہے پس وہ مستحق ہدایت کو ہدایت سے نوازتا اور ضلالت کا استحقاق رکھنے والے کو ضلالت سے ہمکنار کرتا ہے ان امور میں جو حکمتیں ہیں ان کو وہی خوب جانتا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ جو کچھ میں تم سے کہہ رہا ہوں عنقریب تم اسے یاد [58] کرو گے اور میں اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ بلا شبہ اللہ اپنے بندوں کو دیکھ رہا ہے۔“
[58] مرد مومن کی تقریر کا فرعون پر رد عمل :۔
اس مرد مومن کی تقریر کا یہ آخری حصہ ہے اور اس سے صاف معلوم ہو رہا ہے کہ اس نے یہ تقریر اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کی تھی۔ اور یہ کہ اب فرعون اسے کسی قیمت پر زندہ نہیں رہنے دے گا۔ دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ مرد مومن کسی معمولی عہدے پر فائز نہ تھا بلکہ کسی انتہائی نازک اور ذمہ دارانہ منصب اس کے سپرد تھا۔ جسے فرعون فوری طور پر گرفتار کرنے کی جرأت نہ کر سکا۔ فرعون کو یہ تو معلوم ہو چکا تھا کہ سیدنا موسیٰؑ کی دعوت اس کی انتہائی پابندیوں اور سختیوں کے باوجود ایوان بالا تک سرایت کر چکی ہے۔ لہٰذا اب یہ معاملہ صرف اکیلے اس مرد مومن کا یا موسیٰؑ ہی کے قتل کا نہ رہا تھا بلکہ اب وہ یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ دعوت اسلامی کے اثرات اس کے اپنے دربار اور اس کی اپنی آل میں کہاں تک نفوذ کر چکے ہیں اس لئے سر دست اس نے ان دونوں کو التواء میں ڈال دیا کہ مبادا ان دونوں میں سے کسی ایک یا دونوں کو قتل کرنے سے کوئی ایسا ہنگامہ نہ اٹھ کھڑا ہو جس پر بعد میں قابو نہ پایا جا سکے۔ اور تیسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جو کچھ اس مرد مومن کے دل میں تھا وہ اس نے پوری جرأت کے ساتھ برملا کہہ ڈالا۔ اور اپنی سچائی کی مزید توثیق کے لئے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ عنقریب تم لوگ میری باتوں کو یاد کرو گے کہ جو کچھ اس آدمی نے باتیں کہی تھیں وہ فی الواقع درست تھیں۔ عنقریب سے مراد روز آخرت بھی ہو سکتا ہے اور وہ دن بھی جبکہ آل فرعون پر عذاب آیا تھا اور وہ بحیرہ قلزم میں غرق کر دیئے گئے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔