ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 4

مَا یُجَادِلُ فِیۡۤ اٰیٰتِ اللّٰہِ اِلَّا الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا فَلَا یَغۡرُرۡکَ تَقَلُّبُہُمۡ فِی الۡبِلَادِ ﴿۴﴾
اللہ کی آیات میں جھگڑا نہیں کرتے مگر وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، تو ان کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈال دے۔ En
خدا کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں۔ تو ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے
En
اللہ تعالیٰ کی آیتوں میں وہی لوگ جھگڑتے ہیں جو کافر ہیں پس ان لوگوں کا شہروں میں چلنا پھرنا آپ کو دھوکے میں نہ ڈالے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 4) ➊ { مَا يُجَادِلُ فِيْۤ اٰيٰتِ اللّٰهِ اِلَّا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا:} كفر کا معنی چھپانا بھی ہے اور انکار بھی اور جھگڑے سے مراد کج بحثی کر کے آیاتِ الٰہی کو جھٹلانا اور انھیں رد کرنا ہے، ورنہ جس جدال اور بحث و مناظرے کا مقصد اللہ تعالیٰ کی آیات کی تصدیق اور حق بات کو ثابت کرنا ہو وہ قابل تعریف ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا: «‏‏‏‏وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ» [النحل: ۱۲۵] اور ان سے اس طریقے کے ساتھ بحث کر جو سب سے اچھا ہے۔ اور نوح علیہ السلام کو ان کی قوم نے کہا: «‏‏‏‏يٰنُوْحُ قَدْ جٰدَلْتَنَا فَاَكْثَرْتَ جِدَا لَنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ» [ھود: ۳۲] اے نوح! بے شک تونے ہم سے جھگڑا کیا، پھر ہم سے بہت جھگڑا کیا، پس لے آ ہم پر جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے، اگر تو سچوں سے ہے۔ ابراہیم علیہ السلام نے اپنے وقت کے بادشاہ کے ساتھ مناظرہ کر کے اسے لاجواب کیا، فرمایا: «اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْ حَآجَّ اِبْرٰهٖمَ فِيْ رَبِّهٖۤ» [البقرۃ: ۲۵۸] کیا تو نے اس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیم سے اس کے رب کے بارے میں جھگڑا کیا۔ ابراہیم علیہ السلام نے سورج، چاند اور ستاروں کی عبادت کرنے والوں کو لاجواب کیا (دیکھیے انعام: ۷۵ تا ۸۳) اور بت پرستوں کو لاجواب کیا۔ (دیکھیے انبیاء: ۵۱ تا ۷۰) یعنی اتنی عظیم کتاب، جس کے اتارنے والے کی صفات کا ذکر اوپر گزرا، کوئی حق بات تسلیم کرنے والا شخص اس کی آیات کو جھٹلانے کے لیے جھگڑا نہیں کرتا، صرف وہی لوگ یہ جرأت کرتے ہیں جو حق کو چھپاتے اور اس کا انکار کرتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلْمِرَاءُ فِي الْقُرْآنِ كُفْرٌ] [أبو داوٗد، السنۃ، باب النہي عن الجدال في القرآن: ۴۶۰۳، عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ] قرآن میں جھگڑا کرنا کفر ہے۔
➋ {فَلَا يَغْرُرْكَ تَقَلُّبُهُمْ فِي الْبِلَادِ:} یعنی ان لوگوں کی خوش حالی اور ان کا عیش و عشرت کے لیے یا تجارت اور دوسرے کاموں کے لیے مختلف شہروں میں پھرنا دیکھ کر کوئی شخص اس غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو کہ یہ اللہ کے پسندیدہ لوگ ہیں، دراصل یہ ان کے لیے مہلت ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۹۶، ۱۹۷)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

4۔ 1 اس جھگڑے سے مراد ناجائز اور باطل جھگڑا ہے جس کا مقصد حق کی تکذیب اور اس کی تردید و تغلیظ ہے ورنہ جس جدال بحث ومناظرہ کا مقصد ایضاح حق، ابطال باطل اور منکرین و معترضین کے شبہات کا ازالہ ہو وہ مذموم نہیں نہایت محمود و مستحسن ہے بلکہ اہل علم کو تو اس کی تاکید کی گئی ہے (لَتُبَيِّنُنَّهٗ للنَّاسِ وَلَاتَكْتُمُوْنَهٗ) 3۔ ال عمران:187) تم اسے لوگوں کے سامنے ضرور بیان کرنا اسے چھپانا نہیں بلکہ اللہ کی نازل کردہ کتاب کے دلائل وبراہین کو چھپانا اتنا سخت جرم ہے کہ اس پر کائنات کی ہر چیز لعنت کرتی ہے البقرہ 4۔ 2 یعنی یہ کافر اور مشرک جو تجارت کرتے ہیں اس کے لئے مختلف شہروں میں آتے جاتے ہیں اور کثیر منافع حاصل کرتے ہیں، یہ اپنے کفر کی وجہ سے جلد ہی مؤاخذہ الٰہی میں آجائیں گے، یہ مہلت ضرور دیئے جا رہے ہیں لیکن انہیں چھوڑا نہیں جائے گا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

4۔ اللہ کی آیات میں صرف وہی لوگ جھگڑا کرتے ہیں جو کافر ہیں لہذا ان کا دنیا کے ملکوں میں چلنا پھرنا آپ کو کسی دھوکے [2] میں نہ ڈال دے۔
[2] یہاں سے حالات حاضرہ پر تبصرہ شروع کیا جا رہا ہے کہ کفار مکہ جو اللہ کی آیات کا کبھی مذاق اڑاتے ہیں کبھی ان میں اعتراضات کر کے شکوک پیدا کرتے ہیں کبھی اسلام کی راہ روکنے کے لئے مسلمانوں کو اذیتیں دیتے ہیں اور کبھی سازشیں تیار کرتے ہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہے جاتے ہیں کہ ہم اگر جھوٹے ہوتے تو اب تک ہم پر اللہ کا عذاب آجانا چاہئے تھا تو ان لوگوں کا تا حال صحیح و سلامت بچے رہنا اور زمین میں دندناتے پھرنا تم لوگوں کو اس وہم اور دھوکہ میں نہ ڈال دے کہ شاید یہ اللہ کی گرفت سے بچ جائیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

انبیاء کی تکذیب کافروں کا شیوہ ہے ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حق کے ظاہر ہوچکنے کے بعد اسے نہ ماننا اور اس میں نقصانات پیدا کرنے کی کوشش کرنا کافروں کا ہی کام ہے۔ یہ لوگ اگر مالدار اور ذی عزت ہوں تو تم کسی دھوکے میں نہ پڑ جانا کہ اگر یہ اللہ کے نزدیک برے ہوتے تو اللہ انہیں اپنی یہ نعمتیں کیوں عطا فرماتا؟ جیسے اور جگہ ہے «لَا يَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي الْبِلَادِ مَتَاعٌ قَلِيلٌ ثُمَّ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۚ وَبِئْسَ الْمِهَادُ» [3-آل عمران: 196، 197]‏‏‏‏ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تجھے دھوکے میں نہ ڈالے یہ تو کچھ یونہی سا فائدہ ہے آخری انجام تو ان کا جہنم ہے جو بدترین جگہ ہے۔ ایک اور آیت میں ارشاد ہے «نُمَتِّعُهُمْ قَلِيلًا ثُمَّ نَضْطَرُّهُمْ إِلَىٰ عَذَابٍ غَلِيظٍ» [31-لقمان: 24]‏‏‏‏ ہم انہیں بہت کم فائدہ دے رہے ہیں بالآخر انہیں سخت عذاب کی طرف بے بس کر دیں گے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دیتا ہے کہ لوگوں کی تکذیب کی وجہ سے گھبرائیں نہیں۔ اپنے سے اگلے انبیاء کے حالات کو دیکھیں کہ انہیں بھی جھٹلایا گیا اور ان پر ایمان لانے والوں کی بھی بہت کم تعداد تھی، حضرت نوح علیہ السلام جو بنی آدم میں سب سے پہلے رسول ہو کر آئے انہیں ان کی امت جھٹلاتی رہی بلکہ سب نے اپنے اپنے زمانے کے نبی علیہ السلام کو قید کرنا اور مار ڈالنا چاہا اور بعض اس میں کامیاب بھی ہوئے۔ اور اپنے شبہات سے اور باطل سے حق کو حقیر کرنا چاہا۔
طبرانی میں فرمانِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس نے باطل کی مدد کی تاکہ حق کو کمزور کرے، اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بری الذمہ ہیں۔ [سلسلة احادیث صحیحه البانی:1020:صحیح،]‏‏‏‏
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے ان باطل والوں کو پکڑ لیا۔ اور ان کے ان زبردست گناہوں اور بدترین سرکشیوں کی بنا پر انہیں ہلاک کر دیا۔ اب تم ہی بتلاؤ کہ میرے عذاب ان پر کیسے کچھ ہوئے؟ یعنی بہت سخت نہایت تکلیف دہ اور المناک، جس طرح ان پر ان کے اس ناپاک عمل کی وجہ سے میرے عذاب اتر پڑے اسی طرح اب اس امت میں سے جو اس آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرتے ہیں ان پر بھی میرے ایسے ہی عذاب نازل ہونے والے ہیں۔ یہ گو نبیوں کو سچا مانیں لیکن جب تیری نبوت کے ہی قائل نہ ہوں ان کی سچائی مردود ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔