ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 3

غَافِرِ الذَّنۡۢبِ وَ قَابِلِ التَّوۡبِ شَدِیۡدِ الۡعِقَابِ ۙ ذِی الطَّوۡلِ ؕ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۳﴾
گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا، بہت سخت سزا والا، بڑے فضل والا، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ En
جو گناہ بخشنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے اور سخت عذاب دینے والا اور صاحب کرم ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف پھر کر جانا ہے
En
گناه کا بخشنے واﻻ اور توبہ کا قبول فرمانے واﻻ سخت عذاب واﻻ انعام و قدرت واﻻ، جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کی طرف واپس لوٹنا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 2 میں تا آیت 4 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

3۔ 1 گزشتہ گناہ معاف کرنے والا اور مستقبل میں ہونے والی کوتاہیوں پر توبہ قبول کرنے والا ہے یا اپنے دوستوں کے لئے غافر ہے اور کافر اور مشرک اگر توبہ کریں تو ان کی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ 3۔ 2 ان کے لیے جو آخرت پر دنیا کو ترجیح دیں اور تمردو طغیان کا راستہ اختیار کریں یہ اللہ کے اس قول کی طرح ہی ہے (نَبِّئْ عِبَادِيْٓ اَنِّىْٓ اَنَا الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ 49؀ۙ وَاَنَّ عَذَابِيْ هُوَ الْعَذَابُ الْاَلِيْمُ 50؀) 15۔ الحجر:49) میرے بندوں کو بتلا دو کہ میں غفور و رحیم ہوں اور میرا عذاب بھی نہایت دردناک ہے قرآن کریم میں اکثر جگہ یہ دونوں وصف ساتھ ساتھ بیان کیے گئے ہیں تاکہ انسان خوف اور رجا کے درمیان رہے کیونکہ محض خوف ہی خوف انسان کو رحمت و مغفرت الہی سے مایوس کرسکتا ہے اور نری امید گناہوں پر دلیر کردیتی ہے۔ 3۔ 3 طول کے معنی فراخی اور تونگری کے ہیں یعنی وہی فراخی اور تونگری عطا کرنے والا ہے بعض کہتے ہیں اس کے معنی ہیں انعام اور تفضل یعنی اپنے بندوں پر انعام اور فضل کرنے والا ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

3۔ وہ گناہ بخشنے والا، توبہ قبول کرنے والا، سخت سزا دینے والا اور صاحب فضل ہے، اس کے سوا کوئی الٰہ نہیں، اسی کی طرف (سب کو) لوٹ کر جانا ہے [1]
[1] قرآن کو نازل کرنے والے کی چند جامع صفات :۔
آیت نمبر 2 اور 3 اس سورۃ کی تمہید ہیں۔ جن میں مکہ کے حالات حاضرہ اور حق و باطل کے جھگڑوں کا ذکر بھی آگیا ہے اور اس کتاب کے نازل کرنے والے کی چند متعلقہ صفات اس انداز سے بیان کی گئی ہیں کہ دریا کو کوزہ میں بند کر دیا گیا ہے۔ کفار کا بنیادی اعتراض یہ تھا کہ یہ کلام اللہ کی طرف سے نازل شدہ نہیں بلکہ تمہاری اپنی اختراع ہے۔ آغاز ہی میں فرما دیا کہ یہ کتاب کسی کمزور ہستی کی طرف سے نہیں بلکہ اس اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے جو کائنات کی ہر چیز پر غالب ہے اور تمہاری معاندانہ کوششوں اور سازشوں کے علی الرغم اپنے کلمہ کو سربلند اور نافذ کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ ہر چیز کا براہ راست اور پورا پورا علم رکھتا ہے۔ لہٰذا اس کتاب میں اے کفار مکہ! جو خبریں بھی دی گئی ہیں سب درست اور یقینی ہیں تیسری صفت یہ بیان فرمائی کہ وہ اپنے فرمانبردار بندوں کے بہت سے گناہ از خود ہی بخشتا رہتا ہے۔ چوتھی صفت یہ ہے کہ کافر توبہ کر کے حلقہ اسلام میں داخل ہو جائیں ان کی توبہ قبول کر کے ان کے سابقہ گناہوں کو معاف کر دینے والا ہے اور اس صفت کا تعلق صرف نو مسلموں سے نہیں بلکہ جو بندہ بھی اپنے گناہوں پر نادم ہو کر اس کی طرف رجوع کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگے اس کے گناہ بھی معاف کر دیتا ہے۔ پانچویں صفت یہ ہے کہ وہ اپنے باغیوں کو سخت سزا دے کر ان کی اکڑی ہوئی گردنیں توڑ سکتا ہے۔ خواہ وہ یہ عذاب دنیا میں دے یا آخرت میں اور اس کی چھٹی صفت یہ ہے کہ وہ کشادہ دست ہے۔ ہر وقت انعامات کی بارش کرتا رہتا ہے۔ اور اس سے اپنے نافرمانوں کو بھی محروم نہیں فرماتا۔ اتنی صفات بیان کرنے کے بعد ان دو بنیادی جھگڑوں کی حقیقت بیان فرما دی۔ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور کفار مکہ کے درمیان چل رہے تھے۔ ان میں پہلا یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں۔ باقی تمام معبود جھوٹے، باطل اور بے کار ہیں اور دوسرا یہ کہ روز آخرت کا قیام یقینی ہے اور تم سب کو یقیناً اللہ کے حضور پیش ہونا ہو گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔