یہ اس لیے کہ وہ لوگ، ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے رہے تو انھوں نے انکار کیا تو اللہ نے انھیں پکڑ لیا۔ بے شک وہ بہت قوت والا، بہت سخت سزا دینے والا ہے۔
En
یہ اس لئے کہ ان کے پاس پیغمبر کھلی دلیلیں لاتے تھے تو یہ کفر کرتے تھے سو خدا نے ان کو پکڑ لیا۔ بےشک وہ صاحب قوت (اور) سخت عذاب دینے والا ہے
یہ اس وجہ سے کہ ان کے پاس ان کے پیغمبر معجزے لے لے کرآتے تھے تو وه انکار کر دیتے تھے، پس اللہ انہیں پکڑ لیتا تھا۔ یقیناً وه طاقتور اور سخت عذاب واﻻ ہے
En
(آیت 22) {ذٰلِكَبِاَنَّهُمْكَانَتْتَّاْتِيْهِمْ …: ”اَلْبَيِّنَاتُ“} کا لفظ عام ہے، اس سے مراد معجزے بھی ہیں، روشن دلیلیں بھی اور واضح احکام و ہدایات بھی۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
22۔ 1 یہ ان کی ہلاکت کی وجہ بیان کی گئی ہے، اور وہ ہے اللہ کی آیتوں کا انکار اور پیغمبروں کی تکذیب۔ اب سلسلہ نبوت و رسالت تو بند ہے۔ تاہم آفاق پر انس میں بیشمار آیات الٰہی بکھری اور پھیلی ہوئی ہیں۔ علاوہ ازیں وعظ و تذکیر اور دعوت و تبلیغ کے ذریعے سے علماء اور داعیان حق ان کی وضاحت اور نشاندہی کے لیے موجود ہیں اس لیے آج بھی جو آیات الہی سے اعراض اور دین و شریعت سے غفلت کرے گا اس کا انجام مکذبین اور منکرین رسالت سے مختلف نہیں ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
22۔ یہ اس لئے ہوا کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلائل [30] لے کر آئے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ چنانچہ اللہ نے انہیں پکڑ لیا۔ اللہ تعالیٰیقیناً بڑی قوت والا اور سخت سزا دینے والا ہے۔
[30] ﴿بينات﴾ کے مختلف معانی :۔
﴿بَيِّنَاتٌ﴾﴿بينة﴾ کی جمع دراصل ایسی دلیل کو کہتے ہیں جس کے سامنے فریق ثانی لاجواب ہو جائے۔ پھر اس لفظ کا اطلاق معجزات انبیاء پر بھی ہو سکتا ہے اور قرآن کی آیات پر بھی کیونکہ بار بار کے چیلنج کے باوجود کافر قرآن کی مثل پیش نہ کر سکے تھے۔ اور ایسے عقلی دلائل پر بھی جو فریقین میں مسلم ہوں۔ اور ایسی واضح ہدایات پر بھی جنہیں دیکھ کر ہر معقول آدمی یہ سمجھ سکے کہ ایسی تعلیم کوئی جھوٹا خود غرض آدمی نہیں دے سکتا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا تیری رسالت کے جھٹلانے والے کفار نے اپنے سے پہلے کے رسولوں کو جھٹلانے والے کفار کی حالتوں کا معائنہ ادھر ادھر چل پھر کر نہیں کیا جو ان سے زیادہ قوی طاقتور اور جثہ دار تھے۔ جن کے مکانات اور عالیشان عمارتوں کے کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔ جو ان سے زیادہ باتمکنت تھے۔ ان سے بڑی عمروں والے تھے، جب ان کے کفر اور گناہوں کی وجہ سے عذاب الٰہی ان پر آیا۔ تو نہ تو کوئی اسے ہٹا سکا نہ کسی میں مقابلہ کی طاقت پائی گئی نہ اس سے بچنے کی کوئی صورت نکلی، اللہ کا غضب ان پر برس پڑنے کی وجہ یہ ہوئی کہ ان کے پاس بھی ان کے رسول واضح دلیلیں اور صاف روشن حجتیں لے کر آئے باوجود اس کے انہوں نے کفر کیا جس پر اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا اور کفار کے لیے انہیں باعث عبرت بنا دیا۔ اللہ تعالیٰ پوری قوت والا، سخت پکڑ والا، شدید عذاب والا ہے۔ ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام عذابوں سے نجات دے۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔