ترجمہ و تفسیر — سورۃ غافر/مومن (40) — آیت 18

وَ اَنۡذِرۡہُمۡ یَوۡمَ الۡاٰزِفَۃِ اِذِ الۡقُلُوۡبُ لَدَی الۡحَنَاجِرِ کٰظِمِیۡنَ ۬ؕ مَا لِلظّٰلِمِیۡنَ مِنۡ حَمِیۡمٍ وَّ لَا شَفِیۡعٍ یُّطَاعُ ﴿ؕ۱۸﴾
اور انھیں قریب آنے والی گھڑی کے دن سے ڈرا جب دل گلوں کے پاس غم سے بھرے ہوں گے، ظالموں کے لیے نہ کوئی دلی دوست ہو گا اور نہ کوئی سفارشی، جس کی بات مانی جائے۔ En
اور ان کو قریب آنے والے دن سے ڈراؤ جب کہ دل غم سے بھر کر گلوں تک آرہے ہوں گے۔ (اور) ظالموں کا کوئی دوست نہ ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جس کی بات قبول کی جائے
En
اور انہیں بہت ہی قریب آنے والی (قیامت سے) آگاه کر دیجئے، جب کہ دل حلق تک پہنچ جائیں گے اور سب خاموش ہوں گے، ﻇالموں کا نہ کوئی دلی دوست ہوگا نہ سفارشی، کہ جس کی بات مانی جائے گی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 18) ➊ {وَ اَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْاٰزِفَةِ: الْاٰزِفَةِ أَزِفَ يَأْزَفُ} (س) سے اسم فاعل ہے۔ مؤنث اس لیے ہے کہ یہ {اَلسَّاعَةُ} کی صفت ہے۔ چنانچہ قیامت کے متعلق اکثر الفاظ مؤنث استعمال ہوئے ہیں، مثلاً { اَلْحَاۤقَّةُ، اَلْقَارِعَةُ، اَلصَّاۤخَّةُ } اور { الطَّاۤمَّةُ } وغیرہ۔ قیامت کو { الْاٰزِفَةُ } اس لیے فرمایا کہ اس کا آنا بہت قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر قیامت کے قریب آنے سے لوگوں کو خبردار فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ (57) لَيْسَ لَهَا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ كَاشِفَةٌ» ‏‏‏‏ [النجم: ۵۷، ۵۸] قریب آگئی وہ قریب آنے والی۔ جسے اللہ کے سوا کوئی ہٹانے والا نہیں۔ قیامت کے قریب آنے کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انبیاء کی آیت (۱): «‏‏‏‏اِقْتَرَبَ لِلنَّاسِ حِسَابُهُمْ» کی تفسیر۔
➋ { اِذِ الْقُلُوْبُ لَدَى الْحَنَاجِرِ كٰظِمِيْنَ: الْحَنَاجِرِ حَنْجَرَةٌ} کی جمع ہے، حلق۔ { كٰظِمِيْنَ كَظَمَ السِّقَاءَ} کا معنی مشکیزے کو پانی سے بھر کر اس کا منہ بند کر دینا ہے۔ یعنی شدید خوف اور غم کی وجہ سے مجرموں کے دل حلق کو پہنچے ہوئے ہوں گے، پھر وہ نہ تو اپنی جگہ واپس جائیں گے کہ انھیں کچھ آرام ملے اور نہ ہی ان کے بدن سے باہر نکلیں گے کہ موت آنے کے بعد ان کی جان چھوٹے۔
➌ { مَا لِلظّٰلِمِيْنَ مِنْ حَمِيْمٍ: حَمَّ يَحُمُّ} (ن) گرم کرنا۔ دلی دوست یا رشتہ دار کو { حَمِيْمٍ } اس لیے کہتے ہیں کہ اسے اپنے دوست یا رشتہ دار کی وجہ سے دل میں گرمی آتی ہے۔ قیامت کے دن ظالموں کا کوئی دلی دوست نہیں ہوگا، جیسا کہ فرمایا: «اَلْاَخِلَّآءُ يَوْمَىِٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِيْنَ» ‏‏‏‏ [الزخرف: ۶۷] سب دلی دوست اس دن ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے مگر متقی لوگ۔
➍ { وَ لَا شَفِيْعٍ:} ظالمين سے مراد کفار و مشرکین ہیں۔ (دیکھیے انعام: ۸۲۔ لقمان: ۱۳) ان کے حق میں کوئی بھی سفارش نہیں کرے گا، کیونکہ اس دن جو سفارش کی اجازت دی جائے گی وہ انبیاء، فرشتوں اور نیک بندوں کو دی جائے گی اور وہ بھی صرف ایمان والوں کے لیے، کفار و مشرکین کا سفارشی اس دن کوئی نہیں ہو گا۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۴۸)۔
➎ { يُطَاعُ:} جس کی بات مانی جائے یعنی اوّل تو کفار کے حق میں کوئی شفاعت کی جرأت ہی نہیں کرے گا۔ (دیکھیے انبیاء: ۳۸) اگر لا علمی یا کسی شبہ کی وجہ سے سفارش کی اجازت سمجھ کر کوئی نبی یا ولی کسی کافر کے حق میں سفارش کر بھی دے گا تو اس کی سفارش نہیں مانی جائے گی۔ ہاں، سفارش قبول نہ ہونے کی وجہ بتا دی جائے گی، جیسا کہ ابراہیم علیہ السلام قیامت کے دن اپنے والد کے حق میں سفارش کریں گے، مگر وہ قبول نہیں ہو گی۔ اسی طرح حوض کوثر پر آنے والے بعض لوگوں کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفارش کریں گے مگر آپ کو بتایا جائے گا کہ آپ نہیں جانتے کہ انھوں نے آپ کے بعد کیا نیا کام کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفارش سے دست بردار ہو جائیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

18۔ 1 َ اَزِفَۃ کے معنی ہیں قریب آنے والی۔ یہ قیامت کا نام ہے، اس لئے کہ وہ بھی قریب آنے والی ہے۔ 18۔ (2) یعنی اس دن خوف کی وجہ سے دل اپنی جگہ سے ہٹ جائیں گے کا ظمین غم سے بھرے ہوئے یا روتے ہوئے یا خاموش اس کے تینوں معنی کیے گئے ہیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

18۔ اور (اے نبی!) انہیں قریب آ پہنچنے [24] والے دن سے ڈرائیے جب غم کے مارے کلیجے منہ کو آ رہے [25] ہوں گے (اس دن) ظالموں کا نہ کوئی حمایتی ہو گا اور نہ ایسا سفارشی [26] جس کی بات مانی جائے
[24] ﴿اَزِفَ﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿اٰزِفَه ﴿اَزِفَ میں وقت کی تنگی کا مفہوم پایا جاتا ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ گاڑی یا جہاز کے روانہ ہونے میں وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ لہٰذا جلدی کرو۔ اسی طرح قیامت کا دن جو یقینی طور پر آنے والا ہے اسے بس آیا ہی سمجھو اور اس کے لئے جو کچھ سامان کرنا ہے جلدی جلدی کر لو۔
[25] ﴿كَظَم﴾ کا لغوی مفہوم :۔
﴿كَاظِمِيْنَ ﴿كظم﴾ سانس کی نالی کو کہتے ہیں اور ﴿كظم السقاء﴾ بمعنی مشک کو پانی سے لبالب بھر کر اس کا منہ بند کر دینا ہے اور کا ظم، کظیم اور مکظوم اس شخص کو کہتے ہیں جو غم و غصہ سے سانس کی نالی تک بھرا ہوا ہو مگر اسکا اظہار نہ کرے اور اسے دبا جائے۔ یعنی مجرموں کو اپنی دنیا کی زندگی کی کرتوتوں پر اس قدر غم ہو گا جس کی گھبراہٹ کی وجہ سے ان کے کلیجے منہ کو آرہے ہوں گے۔
[26] سفارش کا عوامی عقیدہ :۔
شفاعت کے متعلق مشرکوں نے جو غلط سلط عقیدے گھڑ رکھے ہیں، بالکل بے کار ہیں۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ مثلاً فلاں حضرت کا دامن پکڑ لیا جائے اور اس کی بیعت کر لی جائے تو بس بیڑا پارا ہے۔ وہ اللہ کے حضور سفارش کر کے ہمیں چھڑا لیں گے۔ حالانکہ قرآن کی صراحت کے مطابق یہ معلوم کرنا بھی مشکل ہے کہ جن حضرات کو وہ شفیع سمجھ رہے ہیں وہ خود کس حال میں ہوں گے۔ نیز انہیں شفاعت کی اجازت بھی ملے گی یا نہیں اور اگر بفرض محال یہ تسلیم کر لیا جائے کہ انہیں اجازت مل جائے گی تو پھر بھی یہ کب لازم آتا ہے کہ اس کی بات مان بھی لی جائے گی۔ لہٰذا کسی کی شفاعت پر انحصار کرنا بالکل عبث ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اللہ علیم پر ہر چیز ظاہر ہے ٭٭
«‏‏‏‏الْآزِفَةِ» قیامت کا ایک نام ہے۔ اس لیے وہ بہت ہی قریب ہے جیسے فرمان ہے «اَزِفَتِ الْاٰزِفَةُ» ‏‏‏‏ [53- النجم: 57]‏‏‏‏، یعنی قریب آنے والی قریب ہو چکی ہے، جس کا کھولنے والا بجز اللہ کے کوئی نہیں اور جگہ ارشاد ہے «اِقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ» [54- القمر: 1]‏‏‏‏، قیامت قریب آ گئی اور چاند پھٹ گیا اور فرمان ہے «اِقْتَرَبَ للنَّاسِ حِسَابُهُمْ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ مُّعْرِضُوْنَ» [21- الأنبياء: 1]‏‏‏‏ لوگوں کے حساب کا وقت قریب آ گیا اور فرمان ہے «أَتَىٰ أَمْرُ اللَّـهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوهُ» [16-النحل: 1]‏‏‏‏ اللہ کا امر آ چکا اس میں جلدی نہ کرو اور آیت میں ہے «‏‏‏‏فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِيْۗـــــَٔتْ وُجُوْهُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَقِيْلَ هٰذَا الَّذِيْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ» [67- الملك: 27]‏‏‏‏ جب اسے قریب دیکھ لیں گے تو کافروں کے چہرے سیاہ پڑ جائیں گے۔
الغرض اسی نزدیکی کی وجہ سے قیامت کا نام «ازِفَةِ» ہے۔ اس وقت کلیجے منہ کو آ جائیں گے۔ وہ خوف و ہراس ہو گا کہ کسی کا دل ٹھکانے نہ رہے گا۔ سب پر غضب کا سناٹا ہو گا۔ کسی کے منہ سے کوئی بات نہ نکلے گی۔ کیا مجال کہ بے اجازت کوئی لب ہلا سکے۔ سب رو رہے ہوں گے اور حیران و پریشان ہوں گے۔
جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ شرک کر کے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے ان کا آج کوئی دوست غمگسار نہ ہو گا جو انہیں کام آئے۔ نہ شفیع اور سفارشی ہو گا جو ان کی شفاعت کے لیے زبان ہلائے۔ بلکہ ہر بھلائی کے اسباب کٹ چکے ہوں گے، اس اللہ کا علم محیط کل ہے۔ تمام چھوٹی بڑی چھپی کھلی باریک موٹی اس پر یکساں ظاہر باہر ہیں، اتنے بڑے علم والے سے جس سے کوئی چیز مخفی نہ ہو ہر شخص کو ڈرنا چاہیئے اور کسی وقت یہ خیال نہ کرنا چاہیئے کہ اس وقت وہ مجھ سے پوشیدہ ہے اور میرے حال کی اسے اطلاع نہیں۔ بلکہ ہر وقت یہ یقین کر کے وہ مجھے دیکھ رہا ہے اس کا علم میرے ساتھ ہے اس کا لحاظ کرتا رہے اور اس کے رو کے ہوئے کاموں سے رکا رہے۔ آنکھ جو خیانت کے لیے اٹھتی ہے گو بظاہر وہ امانت ظاہر کرے۔ لیکن رب علیم پر وہ مخفی نہیں سینے کے جس گوشے میں جو خیال چھپا ہو اور دل میں جو بات پوشیدہ اٹھتی ہو اس کا اسے علم ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں اس آیت سے مراد وہ شخص ہے جو مثلاً کسی گھر میں گیا وہاں کوئی خوبصورت عورت ہے یا وہ آ جا رہی ہے یا تو یہ کن اکھیوں سے اسے دیکھتا ہے جہاں کسی کی نظر پڑی تو نگاہ پھیرلی اور جب موقعہ پایا آنکھ اٹھا کر دیکھ لیا پس خائن آنکھ کی خیانت کو اور اس کے دل کے راز کو اللہ علیم خوب جانتا ہے کہ اس کے دل میں تو یہ ہے کہ اگر ممکن ہو تو پوشیدہ عضو بھی دیکھ لے۔ حضرت ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے مراد آنکھ مارنا اشارے کرنا اور بن دیکھی چیز کو دیکھی ہوئی یا دیکھی ہوئی چیز کو ان دیکھی بتانا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں۔ نگاہ جس نیت سے ڈالی جائے اللہ پر روشن ہے۔ پھر سینے میں چھپا ہوا خیال کہ اگر موقعہ ملے اور بس ہو تو آیا یہ بدکاری سے باز رہے گا یا نہیں۔ یہ بھی وہ جانتا ہے۔ حضرت سدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں دلوں کے وسوسوں سے وہ آگاہ ہے، وہ عدل کے ساتھ حکم کرتا ہے قادر ہے کہ نیکی کا بدلہ نیکی دے اور برائی کی سزا بری دے۔ وہ سننے دیکھنے والا ہے۔ جیسے فرمان ہے کہ وہ بروں کو ان کی کرنے کی سزا اور بھلوں کو ان کی بھلائی کی جزا عنایت فرمائے گا۔
جو لوگ اس کے سوا دوسروں کو پکارتے ہیں خواہ وہ بت اور تصویریں ہوں خواہ اور کچھ وہ چونکہ کسی چیز کے مالک نہیں ان کی حکومت ہی نہیں تو حکم اور فیصلے کریں گے ہی کیا؟ اللہ اپنی مخلوق کے اقوال کو سنتا ہے۔ ان کے احوال کو دیکھ رہا ہے جسے چاہے راہ دکھاتا ہے جسے چاہے گمراہ کرتا ہے اس کا اس میں بھی سرا سر عدل و انصاف ہے۔