(آیت 17) ➊ {لَاظُلْمَالْيَوْمَ:} آج کسی قسم کا ظلم نہیں ہو گا کہ کسی کا ثواب کم کر دیا جائے، یا کسی کو اس سے زیادہ عذاب دیا جائے جس کا وہ مستحق ہے۔ ➋ { اِنَّاللّٰهَسَرِيْعُالْحِسَابِ:} اللہ تعالیٰ کو تمام جن و انس کا حساب لینے میں کوئی دیر نہیں لگتی، اس کے لیے تمام انسانوں کا حساب ایسے ہی ہے جیسے ایک آدمی کا حساب لینا، کیونکہ اسے ہر چیز کا علم ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ مخلوق کی طرح عاجز نہیں کہ ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ سن سکے، یا اصل حقیقت کا علم نہ ہونے کی وجہ سے جلدی فیصلہ نہ کر سکے۔ انسان اپنے عجز کی وجہ سے فیصلے میں دیر کرتا ہے، جب کہ فیصلے میں دیر بھی ایک طرح کا ظلم ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ ہر طرح کے عجز سے پاک ہے، اس لیے وہ ایک ہی وقت میں سب کا حساب کر کے جنت والوں کو جنت میں اور جہنم والوں کو جہنم میں بھیج دے گا، فرمایا: «مَاخَلْقُكُمْوَلَابَعْثُكُمْاِلَّاكَنَفْسٍوَّاحِدَةٍ» [لقمان: ۲۸]”نہیں ہے تمھارا پیدا کرنا اور نہ تمھارا اٹھانا مگر ایک جان کی طرح۔“ اور فرمایا: «وَمَاۤاَمْرُنَاۤاِلَّاوَاحِدَةٌكَلَمْحٍۭبِالْبَصَرِ»[القمر: ۵۰]”اور ہمارا حکم تو صرف ایک بار ہوتا ہے، جیسے آنکھ کی ایک جھپک۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
17۔ 1 اس لئے کہ اسے بندوں کی طرح غورو فکر کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
17۔ آج ہر شخص کو اسی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا ہو گا کسی پر آج ظلم [22] نہیں ہو گا۔ بلا شبہ اللہ فوراً حساب لے لینے [23] والا ہے۔
[22] ظلم کی ممکنہ صورتیں :۔
ظلم کی کئی صورتیں ممکن ہیں۔ مثلاً پہلی یہ کہ کسی نے ظلم نہ کیا ہو لیکن اسے خواہ مخواہ سزا دے دی جائے۔ دوسری یہ کہ جرم تو تھوڑا ہو مگر اسے سزا زیادہ دے دی جائے۔ تیسری یہ کہ آدمی مستحق تو اجر کا ہو گا مگر اسے سزا دے دی جائے۔ چوتھی یہ کہ جرم تو زید نے کیا ہو مگر اس کی سزا بکر کو دے دی جائے پانچویں یہ کہ آدمی جتنے اجر کا مستحق ہو اسے اس سے کم دیا جائے۔ چھٹی یہ کہ آدمی سزا کا مستحق ہو مگر اسے سزا نہ دی جائے اور مظلوم منہ دیکھتا رہ جائے۔ غرضیکہ ظلم کی جتنی بھی صورتیں ممکن ہیں ان میں کسی بھی صورت کا ظلم اللہ کی عدالت میں ہونے نہ پائے گا۔
[23] فیصلہ میں دیر لگنے کی وجہ :۔
اللہ تعالیٰ کو ساری مخلوق کا حساب چکانے اور فیصلہ کرنے میں دیر نہیں لگے گی۔ اس لئے کہ دیر لگنے کی دو ہی صورتیں ممکن ہیں ایک یہ کہ انصاف کے تقاضے پورے نہ ہو رہے ہوں جیسے یہاں دنیا کی عدالتوں میں ہوتا ہے کہ کبھی مدعی حاضر نہیں ہوتا اور کبھی مدعا علیہ، کبھی گواہ غیر حاضر ہوتے ہیں اور بار بار کے نوٹسوں کے باوجود عدالت میں حاضر ہی نہیں ہوتے اور اس طرح انصاف کے تقاضے پورے کرتے کرتے ہی سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ اللہ کی عدالت میں یہ بات نہ ہو گی۔ وہاں مدعی، مدعا علیہ اور گواہ سب موجود اور اللہ کے علم میں ہونگے اور جس کی ضرورت ہو گی وہ فوراً حاضر ہو جائے گا یا حاضر کر لیا جائے گا۔ دیر کی دوسری وجہ یہ ہوتی ہے کہ دنیا میں قاضی ایک وقت میں ایک ہی مقدمہ کی سماعت کر سکتا ہے لیکن اللہ کے ہاں یہ معاملہ نہیں۔ وہ جس طرح بیک وقت ہر ایک کو دیکھتا، ہر ایک کی سنتا، ہر ایک کی داد رسی کرتا اور ہر ایک کو رزق دے رہا ہے۔ اسی طرح وہ بیک وقت اپنی تمام مخلوق کے مقدمات کی سماعت بھی کر سکتا ہے اور ان کے فیصلے بھی کر سکتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔