ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 62

فَکَیۡفَ اِذَاۤ اَصَابَتۡہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌۢ بِمَا قَدَّمَتۡ اَیۡدِیۡہِمۡ ثُمَّ جَآءُوۡکَ یَحۡلِفُوۡنَ ٭ۖ بِاللّٰہِ اِنۡ اَرَدۡنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡسَانًا وَّ تَوۡفِیۡقًا ﴿۶۲﴾
پھر کیسے گزرتی ہے اس وقت جب انھیں کوئی مصیبت اس کی وجہ سے پہنچتی ہے جو ان کے ہاتھوں نے آگے بھیجا، پھر تیرے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہم نے تو بھلائی اور آپس میں ملانے کے سوا کچھ نہیں چاہا تھا۔ En
تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت سے) ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ والله ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا
En
پھر کیا بات ہے کہ جب ان پر ان کے کرتوت کے باعﺚ کوئی مصیبت آپڑتی ہے تو پھر یہ آپ کے پاس آکر اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہمارا اراده تو صرف بھلائی اور میل ملاپ ہی کا تھا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 63،62) یعنی جب اپنے کرتوتوں کے سبب عتاب الٰہی کا شکار ہو کر مصیبتوں میں پھنستے ہیں تو پھر آکر کہتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ جانے سے مقصد یہ نہیں تھا کہ وہاں سے ہم فیصلہ کروائیں گے، یا آپ سے زیادہ ہمیں وہاں سے انصاف ملے گا، بلکہ مقصد صلح اور ملاپ کرانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرچہ ہم ان کے دلوں کے بھیدوں سے واقف ہیں، جس پر ہم انھیں جزا دیں گے، لیکن اے پیغمبر! آپ ان کے ظاہر کو سامنے رکھتے ہوئے در گزر ہی فرمائیے اور وعظ و نصیحت اور قول بلیغ کے ذریعے سے ان کے باطن کی اصلاح کی کوشش جاری رکھیے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایسے دشمنوں کی سازش کو عفو و درگزر، وعظ و نصیحت اور قول بلیغ ہی کے ذریعے سے ناکام بنانے کی سعی کی جانی چاہیے۔ یاد رہے! یہ اس وقت کی بات ہے کہ جب منافق مغلوب تھے اور اسلام اور اس کے احکام اور عدالتیں غالب تھیں اور منافق دوسرے لوگوں سے فیصلہ کرانے پر پشیمان ہو کر عذر معذرتیں کرتے تھے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

62۔ 1 یعنی جب اپنے اس کرتوت کی وجہ سے عتاب الٰہی کا شکار ہو کر مصیبتوں میں پھنستے ہیں تو پھر آکر کہتے ہیں کہ کسی دوسری جگہ جانے سے مقصد یہ نہیں تھا کہ وہاں سے ہم فیصلہ کروائیں یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ ہمیں انصاف ملے گا بلکہ مقصد صلح اور ملاپ کرانا تھا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

62۔ پھر اس وقت ان کا کیا حال ہوتا ہے جب ان کے اپنے کرتوتوں کی بدولت ان پر کوئی مصیبت آ پڑتی ہے؟ وہ آپ کے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی اور باہمی [94] موافقت کے سوا کچھ نہ تھا
[94] منافق کے قتل کے بعد اس کے وارث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور سیدنا عمرؓ سے قصاص کا مقدمہ کر دیا اور مقدمہ کی بنیاد یہ بنائی کہ ہمارا ارادہ آپ کے فیصلہ کے خلاف سیدنا عمرؓ سے فیصلہ لینا ہرگز نہ تھا بلکہ ہمارا ارادہ یہ تھا کہ سیدنا عمرؓ ان دونوں فریقین کے درمیان صلح اور سمجھوتہ کرا دیں گے اور اپنے اس بیان پر اللہ کی قسمیں بھی کھانے لگے کہ فی الواقع ہمارا سیدنا عمرؓ کے پاس جانے کا مقصد سمجھوتہ ہی تھا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

باب
پھر منافقوں کی مذمت میں بیان ہو رہا ہے کہ ان کے گناہوں کے باعث جب تکلیفیں پہنچتی ہیں اور تیری ضرورت محسوس ہوتی ہے تو دوڑے بھاگے آتے ہیں اور تمہیں خوش کرنے کے لیے عذر معذرت کرنے بیٹھ جاتے ہیں اور قسمیں کھا کر اپنی نیکی اور صلاحیت کا یقین دلانا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آپ کے سوا دوسروں کی طرف ان مقدمات کے لے جانے سے ہمارا مقصود صرف یہی تھا کہ ذرا دوسروں کا دل رکھا جائے آپس کا میل جول نبھ جائے ورنہ دل سے کچھ ہم ان کی اچھائی کے معتقد نہیں۔
جیسے اور آیت میں «‏‏‏‏فَتَرَى الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ يُّسَارِعُوْنَ فِيْهِمْ يَقُوْلُوْنَ نَخْشٰٓى اَنْ تُصِيْبَنَا دَاۗىِٕرَةٌ ۭفَعَسَى اللّٰهُ اَنْ يَّاْتِيَ بِالْفَتْحِ اَوْ اَمْرٍ مِّنْ عِنْدِهٖ فَيُصْبِحُوْا عَلٰي مَآ اَ سَرُّوْا فِيْٓ اَنْفُسِهِمْ نٰدِمِيْنَ» ۱؎ [5-المائدة:52]‏‏‏‏ تک بیان ہوا ہے۔ یعنی { تو دیکھے گا کہ بیمار دل یعنی منافق یہود و نصاریٰ کی باہم دوستی کی تمام تر کوششیں کرتے پھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں ان سے اختلاف کی وجہ سے آفت میں پھنس جانے کا خطرہ ہے پس بہت ممکن ہے اللہ تعالیٰ فتح لائے یا اپنا کوئی حکم نازل فرمائیں اور یہ لوگ ان ارادوں پر پشیمان ہونے لگیں جو ان کے دلوں میں پوشیدہ ہیں }۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ابوبرزہ اسلمی ایک کاہن شخص تھا، یہود اپنے بعض فیصلے اس سے کراتے تھے ایک واقعہ میں مشرکین بھی اس کی طرف دوڑے اس میں یہ آیتیں «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ» ۱؎ [4-النساء:60]‏‏‏‏ سے «إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا» ۱؎ [4-النساء:62]‏‏‏‏ تک نازل ہوئیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس قسم کے لوگ یعنی منافقین کے دلوں میں جو کچھ ہے؟
اس کا علم اللہ تعالیٰ کو کامل ہے اس پر کوئی چھوٹی سے چھوٹی چیز بھی مخفی نہیں وہ ان کے ظاہر وباطن کا اسے علم ہے تو ان سے چشم پوشی کر ان کے باطنی ارادوں پر ڈانٹ ڈپٹ نہ کر ہاں انہیں نفاق اور دوسروں سے شر و فساد وابستہ رہنے سے باز رہنے کی نصیحت کر اور دل میں اترنے والی باتیں ان سے کہ بلکہ ان کے لیے دعا بھی کر۔