یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تَقۡرَبُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَنۡتُمۡ سُکٰرٰی حَتّٰی تَعۡلَمُوۡا مَا تَقُوۡلُوۡنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیۡ سَبِیۡلٍ حَتّٰی تَغۡتَسِلُوۡا ؕ وَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مَّرۡضٰۤی اَوۡ عَلٰی سَفَرٍ اَوۡ جَآءَ اَحَدٌ مِّنۡکُمۡ مِّنَ الۡغَآئِطِ اَوۡ لٰمَسۡتُمُ النِّسَآءَ فَلَمۡ تَجِدُوۡا مَآءً فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا فَامۡسَحُوۡا بِوُجُوۡہِکُمۡ وَ اَیۡدِیۡکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَفُوًّا غَفُوۡرًا ﴿۴۳﴾
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! نماز کے قریب نہ جائو، اس حال میں کہ تم نشے میں ہو، یہاں تک کہ تم جانو جو کچھ کہتے ہو اور نہ اس حال میں کہ جنبی ہو، مگر راستہ عبور کرنے والے، یہاں تک کہ غسل کر لو۔ اور اگر تم بیمار ہو، یا سفر پر، یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو، یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو، پھر کوئی پانی نہ پائو تو پاک مٹی کا قصد کرو، پس اپنے چہروں اور اپنے ہاتھوں پر ملو۔ بے شک اللہ ہمیشہ سے بہت معاف کرنے والا، بے حد بخشنے والا ہے۔
En
مومنو! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر رستے چلے جارہے ہو اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کرکے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی بیت الخلاء سے ہو کر آیا ہو یا تم عورتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی لو اور منہ اور ہاتھوں پر مسح (کرکے تیمم) کرلو بےشک خدا معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے
En
اے ایمان والو! جب تم نشے میں مست ہو نماز کے قریب بھی نہ جاؤ، جب تک کہ اپنی بات کو سمجھنے نہ لگو اور جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کر لو، ہاں اگر راه چلتے گزر جانے والے ہو تو اور بات ہے اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو یا تم نے عورتوں سے مباشرت کی ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی کا قصد کرو اور اپنے منھ اور اپنے ہاتھ مل لو۔ بے شک اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ، بخشنے واﻻ ہے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 43) ➊ {لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى …:} شراب کی مذمت اور قباحت کے سلسلے میں سب سے پہلے سورۂ بقرہ کی آیت (۲۱۹) نازل ہوئی، جس میں شراب اور جوئے کے گناہ کو ان کے نفع سے بڑا قرار دیا، اس پر بہت سے مسلمانوں نے شراب چھوڑ دی، تاہم بعض بدستور پیتے رہے کہ ہم اس سے نفع اٹھاتے ہیں۔ علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے ہمارے لیے کھانا پکایا، پھر ہمیں بلایا اور ہمیں شراب پلائی، شراب نے ہمیں مدہوش کر دیا، اتنے میں نماز کا وقت آ گیا اور انھوں نے مجھے امام بنا دیا، میں نے پڑھا: {”قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُوْنَ لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ، وَ نَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ“} ”کہہ دے اے کافرو! میں اس کی عبادت نہیں کرتا جس کی تم کرتے ہو اور ہم اس کی عبادت کرتے ہیں جس کی تم عبادت کرتے ہو۔“ (ظاہر ہے اس سے آیت کے معنی کچھ سے کچھ ہو گئے) تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «{ لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى }» [ترمذی، تفسیر القرآن، باب و من سورۃ النساء: ۳۰۲۶ و قال حسن صحیح غریب] اس پر لوگوں نے نماز کے اوقات میں شراب ترک کر دی، یہاں تک کہ سورۂ مائدہ کی آیات (۹۰، ۹۱) نازل ہوئیں، جس سے شراب قطعی طور پر حرام کر دی گئی۔ (ابن کثیر) بعض علماء نے یہاں { ”وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى“ } (جمع سکران) سے نیند کا غلبہ مراد لیا ہے اور اس کے مناسب صحیح بخاری کی وہ حدیث ذکر کی ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نیند کی حالت میں نماز سے منع فرمایا کہ معلوم نہیں کیا پڑھے اور کیا نہ پڑھے، مگر صحیح یہ ہے کہ اس سے شراب کا نشہ مراد ہے اور یہی جمہور صحابہ و تابعین کا قول ہے، نیز تمام مفسرین اس پر متفق ہیں کہ یہ آیت شراب نوشی سے متعلق نازل ہوئی۔
➋ { وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ:} بعض مفسرین نے اس سے مراد سفر لیا ہے مگر سفر کا ذکر { ”اَوْ عَلٰى سَفَرٍ“ } آگے آ رہا ہے اس تفسیر کی بنا پر سفر کے ذکر میں تکرار لازم آتا ہے، اس لیے اکثر سلف نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ { ”الصَّلٰوةَ“ } سے مراد نماز کی جگہ یعنی مسجد ہے، مطلب یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں {” الصَّلٰوةَ “} یعنی نماز کی جگہوں (مسجدوں) میں نہ جاؤ۔ ہاں، اگر مسجد سے گزرنا پڑے تو مجبوری کی صورت میں گزر سکتے ہو (ٹھہر نہیں سکتے)۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے راجح قرار دیا ہے، پس یہاں مضاف محذوف ہے، یعنی { ”لَا تَقْرَبُوْا مَوَاضِعَ الصَّلاَةِ“ } (طبری) اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے کہ جنبی یا حائضہ کے لیے مسجد سے گزرنا جائز ہے، ٹھہرنا جائز نہیں، کیونکہ بہت سے صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے، ان کے لیے غسل کر کے گزرنا مشکل تھا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مگر آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دریچے کے سوا مسجد میں کھلنے والے تمام دریچے بند کروا دیے۔ [بخاری، الصلاۃ، باب الخوخۃ …: ۴۶۷، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما] بعض لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رکھنے کی روایت بھی بیان کی ہے، مگر اہل علم نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (ابن کثیر) خلاصہ یہ کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے، ٹھہر نہیں سکتا۔ گویا آیت کے دو حصے ہیں، پہلے حصے: «{ لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى }» اس میں { ”الصَّلٰوةَ“ } سے مراد نماز ہی ہے کہ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ اور دوسرے حصے: «{ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا }» میں { ”لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ“ } سے مراد نماز کی جگہ ہے، یعنی اس جنبی ہونے کی حالت میں مسجد کے قریب نہ جاؤ، الا یہ کہ راستہ عبور کر کے گزر جانے والے ہو۔ (طنطاوی)
➌ { وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ …: } سفر سے مراد مطلق سفر ہے، اکثر علماء کے نزدیک تیمم کے جواز کے لیے اتنے سفر کی کوئی شرط نہیں جس میں نماز قصر پڑھی جا سکتی ہے۔ ” یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو“ کے تحت ہر وہ چیز آ جاتی ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ عورتوں کو چھونے یا مباشرت سے مراد (راجح مسلک کی بنا پر) جماع ہے، ورنہ صرف چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ میں گھر میں لیٹی ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھتے تو سجدہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے میرے پاؤں سامنے سے ہٹا دیتے۔ [بخاری، الصلوۃ، باب التطوع خلف المرأۃ: ۵۱۳، ۵۱۴۔ مسلم: ۴۸۶] { ”اَوْ عَلٰى سَفَرٍ“ } کا مقصد ہے کہ سفر میں پینے کے لیے تو پانی ہے مگر وضو یا غسل کے لیے نہیں۔ بیماری کا مطلب یہ ہے کہ پانی کے استعمال سے بیمار ہونے یا بیماری بڑھنے کا خطرہ ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ایک سرد رات میں احتلام ہوگیا، انھوں نے تیمم کر لیا اور یہ آیت پڑھی: «{ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا }» [النساء: ۲۹] ” اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر ہمیشہ سے بے حد مہربان ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ [بخاری، التیمم، باب إذا خاف الجنب علی نفسہ المرض…، قبل ح: ۳۴۵، تعلیقاً]
➍ { فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً:} پانی نہ پانے میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ پانی میسر ہی نہ ہو اور یہ بھی کہ بیماری یا عذر کی بنا پر پانی استعمال نہ کیا جا سکے۔
➎ {فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا …:} تیمم کا معنی ہے قصد کرنا۔ { ”صَعِيْدًا طَيِّبًا“ } سے مراد پاک مٹی ہے، خواہ کپڑے، کاغذ یا کسی جگہ کی گرد سے حاصل ہو جائے۔ اس کی تائید صحیح مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں تین باتوں میں لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے، جن میں سے ایک یہ ہے: [وَ جُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُوْرًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ] ”جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔“ [مسلم، المساجد، باب المساجد ومواضع الصلٰوۃ: ۵۲۲] تیمم خواہ وضو کے لیے ہو یا غسل کے لیے، دونوں کا ایک ہی طریقہ ہے، صرف نیت مختلف ہو گی۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ایک جہادی سفر میں انھیں احتلام ہو گیا تو انھوں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمھیں اتنا ہی کافی تھا۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک مار کر انھیں اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں پر مل لیا۔ [بخاری، التیمم، باب المتیمم ھل ینفخ فیھما؟: ۳۳۸]
اس سے معلوم ہوا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا تیمم کا طریقہ یہی ہے کہ صرف ایک دفعہ زمین پر ہاتھ مار کر اس میں پھونک مار کر چہرے اور ہتھیلیوں پر مل لیا جائے۔ بعض احادیث میں دو دفعہ زمین پر ہاتھ مارنے کا اور کہنیوں تک ملنے کا ذکر ہے، مگر وہ احادیث یا تو صحابہ کا اجتہاد ہیں یا کمزور ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ترین حدیث وہی ہے جو عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما سے آئی ہے۔
➋ { وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ:} بعض مفسرین نے اس سے مراد سفر لیا ہے مگر سفر کا ذکر { ”اَوْ عَلٰى سَفَرٍ“ } آگے آ رہا ہے اس تفسیر کی بنا پر سفر کے ذکر میں تکرار لازم آتا ہے، اس لیے اکثر سلف نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ { ”الصَّلٰوةَ“ } سے مراد نماز کی جگہ یعنی مسجد ہے، مطلب یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں {” الصَّلٰوةَ “} یعنی نماز کی جگہوں (مسجدوں) میں نہ جاؤ۔ ہاں، اگر مسجد سے گزرنا پڑے تو مجبوری کی صورت میں گزر سکتے ہو (ٹھہر نہیں سکتے)۔ ابن جریر رحمہ اللہ نے اسے راجح قرار دیا ہے، پس یہاں مضاف محذوف ہے، یعنی { ”لَا تَقْرَبُوْا مَوَاضِعَ الصَّلاَةِ“ } (طبری) اور یہی جمہور علماء کا مسلک ہے کہ جنبی یا حائضہ کے لیے مسجد سے گزرنا جائز ہے، ٹھہرنا جائز نہیں، کیونکہ بہت سے صحابہ کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے، ان کے لیے غسل کر کے گزرنا مشکل تھا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ مگر آخر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دریچے کے سوا مسجد میں کھلنے والے تمام دریچے بند کروا دیے۔ [بخاری، الصلاۃ، باب الخوخۃ …: ۴۶۷، عن ابن عباس رضی اللہ عنھما] بعض لوگوں نے علی رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رکھنے کی روایت بھی بیان کی ہے، مگر اہل علم نے اسے ضعیف کہا ہے۔ (ابن کثیر) خلاصہ یہ کہ مراد اس سے یہ ہے کہ جنبی مسجد سے گزر سکتا ہے، ٹھہر نہیں سکتا۔ گویا آیت کے دو حصے ہیں، پہلے حصے: «{ لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى }» اس میں { ”الصَّلٰوةَ“ } سے مراد نماز ہی ہے کہ نشہ کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ اور دوسرے حصے: «{ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا }» میں { ”لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ“ } سے مراد نماز کی جگہ ہے، یعنی اس جنبی ہونے کی حالت میں مسجد کے قریب نہ جاؤ، الا یہ کہ راستہ عبور کر کے گزر جانے والے ہو۔ (طنطاوی)
➌ { وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ …: } سفر سے مراد مطلق سفر ہے، اکثر علماء کے نزدیک تیمم کے جواز کے لیے اتنے سفر کی کوئی شرط نہیں جس میں نماز قصر پڑھی جا سکتی ہے۔ ” یا تم میں سے کوئی قضائے حاجت سے آیا ہو“ کے تحت ہر وہ چیز آ جاتی ہے جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ عورتوں کو چھونے یا مباشرت سے مراد (راجح مسلک کی بنا پر) جماع ہے، ورنہ صرف چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا، چنانچہ عائشہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے کہ میں گھر میں لیٹی ہوتی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھتے تو سجدہ کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے میرے پاؤں سامنے سے ہٹا دیتے۔ [بخاری، الصلوۃ، باب التطوع خلف المرأۃ: ۵۱۳، ۵۱۴۔ مسلم: ۴۸۶] { ”اَوْ عَلٰى سَفَرٍ“ } کا مقصد ہے کہ سفر میں پینے کے لیے تو پانی ہے مگر وضو یا غسل کے لیے نہیں۔ بیماری کا مطلب یہ ہے کہ پانی کے استعمال سے بیمار ہونے یا بیماری بڑھنے کا خطرہ ہے۔ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو ایک سرد رات میں احتلام ہوگیا، انھوں نے تیمم کر لیا اور یہ آیت پڑھی: «{ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا }» [النساء: ۲۹] ” اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر ہمیشہ سے بے حد مہربان ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے کوئی ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ [بخاری، التیمم، باب إذا خاف الجنب علی نفسہ المرض…، قبل ح: ۳۴۵، تعلیقاً]
➍ { فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً:} پانی نہ پانے میں یہ صورت بھی شامل ہے کہ پانی میسر ہی نہ ہو اور یہ بھی کہ بیماری یا عذر کی بنا پر پانی استعمال نہ کیا جا سکے۔
➎ {فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا …:} تیمم کا معنی ہے قصد کرنا۔ { ”صَعِيْدًا طَيِّبًا“ } سے مراد پاک مٹی ہے، خواہ کپڑے، کاغذ یا کسی جگہ کی گرد سے حاصل ہو جائے۔ اس کی تائید صحیح مسلم کی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمیں تین باتوں میں لوگوں پر فضیلت دی گئی ہے، جن میں سے ایک یہ ہے: [وَ جُعِلَتْ تُرْبَتُهَا لَنَا طَهُوْرًا إِذَا لَمْ نَجِدِ الْمَاءَ] ”جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک کرنے والی بنا دی گئی ہے۔“ [مسلم، المساجد، باب المساجد ومواضع الصلٰوۃ: ۵۲۲] تیمم خواہ وضو کے لیے ہو یا غسل کے لیے، دونوں کا ایک ہی طریقہ ہے، صرف نیت مختلف ہو گی۔ عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ ایک جہادی سفر میں انھیں احتلام ہو گیا تو انھوں نے زمین پر لوٹ پوٹ ہو کر نماز پڑھ لی، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تمھیں اتنا ہی کافی تھا۔“ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھوں کو زمین پر مارا، پھر ان میں پھونک مار کر انھیں اپنے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں پر مل لیا۔ [بخاری، التیمم، باب المتیمم ھل ینفخ فیھما؟: ۳۳۸]
اس سے معلوم ہوا کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا تیمم کا طریقہ یہی ہے کہ صرف ایک دفعہ زمین پر ہاتھ مار کر اس میں پھونک مار کر چہرے اور ہتھیلیوں پر مل لیا جائے۔ بعض احادیث میں دو دفعہ زمین پر ہاتھ مارنے کا اور کہنیوں تک ملنے کا ذکر ہے، مگر وہ احادیث یا تو صحابہ کا اجتہاد ہیں یا کمزور ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح ترین حدیث وہی ہے جو عمار بن یاسر رضی اللہ عنھما سے آئی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
43۔ 1 یہ حکم اس وقت دیا گیا کہ ابھی شراب کی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی۔ چناچہ ایک دعوت میں شراب نوشی کے بعد جب نماز لئے کھڑے ہوئے تو نشے میں قرآن کے الفاظ بھی امام صاحب غلط پڑھ گئے (تفصیل کے لئے دیکھئے ترمذی، تفسیر سورة النساء) جس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ نشے کی حالت میں نماز مت پڑھا کرو۔ گویا اسوقت صرف نماز کے وقت کے قریب شراب نوشی سے منع کیا گیا۔ بالکل ممانعت اور حرمت کا حکم اس کے بعد نازل ہوا۔ (یہ شراب کی بابت دوسرا حکم ہے جو مشروطہ ہے) 43۔ 2 یعنی ناپاکی کی حالت میں بھی نماز مت پڑھو۔ کیونکہ نماز کے لئے طہارت بہت ضروری ہے۔ 43۔ 3 اس کا مطلب یہ نہیں کہ مسافری کی حالت میں اگر پانی نہ ملے تو جنابت کی حالت میں ہی نماز پڑھ لو (جیسا کہ بعض نے کہا ہے) بلکہ جمہور علماء کے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ جنابت کی حالت میں تم مسجد کے اندر مت بیٹھو، البتہ مسجد کے اندر سے گزرنے کی ضرورت پڑے تو گزر سکتے ہو بعض صحابہ کے مکان اس طرح تھے کہ انہیں ہر صورت میں مسجد نبوی کے اندر سے گزر کر جانا پڑتا تھا۔ یہ رخصت ان ہی کے پیش نظر دی گئی ہے (ابن کثیر) ورنہ مسافر کا حکم آگے آرہا ہے۔ 43۔ 4 (1) بیمار سے مراد وہ بیمار جسے وضو کرنے سے نقصان یا بیماری میں اضافے کا اندیشہ ہو، (2) مسافر عام ہے لمبا سفر کیا ہو یا مختصر۔ اگر پانی دستیاب نہ ہو تو تیمم کرنے کی اجازت ہے۔ پانی نہ ملنے کی صورت میں یہ اجازت مقیم کو بھی حاصل ہے۔ لیکن بیمار اور مسافر کو چونکہ اس قسم کی ضرورت عام طرر پر پیش آتی تھی اس لیے بطور خاص ان کے لیے اجازت بیان کردی گئی ہے (3) قضائے حاجت سے آنے والا (4) اور بیوی سے مباشرت کرنے والا ان کو بھی پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرکے نماز پڑھنے کی اجازت ہے تیمم کا طریقہ یہ ہے کہ ایک ہی مرتبہ ہاتھ زمین پر مار کر کلائی تک دونوں ہاتھ ایک دوسرے پر پھیرلے۔ (کہنیوں تک ضروری نہیں) اور منہ پر بھی پھیر لے قال فی التیمم: (ضربۃ للوجہ والکفین) (مسند احمد۔ عمار ؓ جلد 4 حفحہ 263) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کے بارے میں فرمایا کہ یہ دونوں ہتھیلیوں اور چہرے کے لیے ایک ہی مرتبہ مارنا ہے (صعیدا طیبا) سے مراد پاک مٹی ہے۔ زمین سے نکلنے والی ہر چیز نہیں جیسا کہ بعض کا خیال ہے حدیث میں اس کی مذید وضاحت کردی گئی ہے (جعلت ترب تھا لنا طھورا اذا لم نجد الماء) (صحیح مسلم۔ کتاب المساجد) جب ہمیں پانی نہ ملے تو زمین کی مٹی ہمارے لیے پاکیزگی کا ذریعہ بنادی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
43۔ اے ایمان والو! نشے کی حالت میں [75] نماز کے قریب تک نہ جاؤ تا آنکہ تمہیں یہ معلوم ہو سکے کہ تم نماز میں کہہ کیا رہے ہو۔ اور نہ ہی جنبی نہائے بغیر نماز کے قریب جائے الا یہ کہ وہ راہ طے کر رہا ہو۔ اور اگر بیمار ہو یا حالت سفر میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کر کے آئے یا تم نے اپنی بیویوں کو چھوا ہو، پھر تمہیں پانی نہ ملے تو تم اپنے چہروں اور ہاتھوں کا [76] مسح کر لو (اور نماز ادا کر لو) یقیناً اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشنے والا ہے۔
[75] حرمت شراب کے احکام میں تدریج:۔
یہ آیت حرمت شراب کے تدریجی احکام کی دوسری کڑی ہے۔ اس سلسلہ میں پہلی آیت جو نازل ہوئی وہ سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 219 ہے جس میں فقط یہ بتایا گیا کہ شراب اور جوئے میں گو کچھ فائدے بھی ہیں تاہم ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں۔ چند محتاط صحابہ کرام نے اسی وقت سے شراب چھوڑ دی تھی۔ پھر اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کے شان نزول کے متعلق درج ذیل حدیث ملاحظہ فرمائیے: سیدنا علیؓ بن ابی طالب سے روایت ہے کہ عبد الرحمنؓ بن عوف نے ہمارے لیے کھانا بنایا، دعوت دی اور ہمیں شراب پلائی۔ شراب نے ہمیں مد ہوش کر دیا، اتنے میں نماز کا وقت آ گیا۔ انہوں نے مجھے امام بنایا۔ میں نے پڑھا
﴿قُلْ يَايُّهَا الْكٰفِرُوْنَ لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْن﴾
تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [ترمذي ابواب التفسير] پھر اس کے بعد سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 90 تا 91 کی رو سے شراب کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔ اس میں لفظ خمر (شراب) کے بجائے سکر (نشہ) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس سے از خود یہ معلوم ہو گیا کہ شراب کی طرح ہر نشہ آور چیز حرام ہوتی ہے جیسا کہ احادیث میں اس کی تصریح بھی موجود ہے۔ دوسرے یہ معلوم ہوا کہ چونکہ نشہ کی حالت بھی نیند کی غشی کی طرح ایک طرح کی غشی ہی ہوتی ہے لہٰذا انسان کو یہ معلوم رہنا مشکل ہے کہ آیا اس کا وضو بھی بحال ہے یا ٹوٹ چکا ہے۔ غالباً اسی نسبت سے اس آیت میں آگے طہارت کے احکام بیان ہو رہے ہیں۔
﴿قُلْ يَايُّهَا الْكٰفِرُوْنَ لاَ اَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْنَ وَنَحْنُ نَعْبُدُ مَا تَعْبُدُوْن﴾
تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ [ترمذي ابواب التفسير] پھر اس کے بعد سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 90 تا 91 کی رو سے شراب کو ہمیشہ کے لیے حرام قرار دے دیا گیا۔ اس میں لفظ خمر (شراب) کے بجائے سکر (نشہ) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ جس سے از خود یہ معلوم ہو گیا کہ شراب کی طرح ہر نشہ آور چیز حرام ہوتی ہے جیسا کہ احادیث میں اس کی تصریح بھی موجود ہے۔ دوسرے یہ معلوم ہوا کہ چونکہ نشہ کی حالت بھی نیند کی غشی کی طرح ایک طرح کی غشی ہی ہوتی ہے لہٰذا انسان کو یہ معلوم رہنا مشکل ہے کہ آیا اس کا وضو بھی بحال ہے یا ٹوٹ چکا ہے۔ غالباً اسی نسبت سے اس آیت میں آگے طہارت کے احکام بیان ہو رہے ہیں۔
[76] تیمم اور غسل جنابت:۔
نماز کے لیے طہارت فرض ہے لہٰذا عام حالت میں تو وضو کرنے سے یہ طہارت حاصل ہو جاتی ہے لیکن جنبی آدمی کے لیے نماز سے پہلے غسل فرض ہے۔ خواہ یہ جنابت احتلام کی وجہ سے ہو یا صحبت کی وجہ سے۔ اس آیت میں بتایا یہ جا رہا ہے کہ اگر کسی کو وضو کے لیے یا جنبی کو غسل کے لیے پانی میسر نہ آئے یا کوئی ایسا بیمار ہو جسے پانی کے استعمال سے نقصان پہنچتا ہو تو ان صورتوں میں وہ تیمم کر سکتا ہے۔ اس آیت کے شان نزول، طریق تیمم اور طریق غسل سے متعلق درج ذیل احادیث ملاحظہ فرمائیے:
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ میں (غزوہ بنی مصطلق میں) اپنی بہن اسماء کا ہار عاریتاً لے گئی ہار کہیں گر گیا۔ آپ نے کئی آدمیوں کو ہار ڈھونڈنے کے لیے بھیجا۔ نماز کا وقت آ گیا۔ وہاں پانی نہ تھا اور لوگ با وضو نہ تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ سیدنا عمرانؓ فرماتے ہیں کہ کسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ وضو کے لیے پانی منگایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز کے لیے اذان کہی گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو ایک شخص کو علیحدہ بیٹھے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا ”اے فلاں! تجھے کس چیز نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنے سے روکے رکھا؟“ وہ کہنے لگا ”میں جنبی ہو گیا ہوں اور پانی موجود نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ”تمہیں مٹی سے تیمم کر لینا چاہیے تھا وہ تجھے کافی ہو جاتا۔“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مٹی سے تیمم کرنے کا حکم دیا۔“
[بخاری، کتاب التیمم، باب الصعید الطیب وضوء المسلم۔ نیز کتاب بدء الخلق۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام]
نیز دیکھئے سورۃ مائدہ (5) کی آیت نمبر 6 کا حاشیہ۔
3۔
1۔ سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دفعہ میں (غزوہ بنی مصطلق میں) اپنی بہن اسماء کا ہار عاریتاً لے گئی ہار کہیں گر گیا۔ آپ نے کئی آدمیوں کو ہار ڈھونڈنے کے لیے بھیجا۔ نماز کا وقت آ گیا۔ وہاں پانی نہ تھا اور لوگ با وضو نہ تھے اس وقت اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ سیدنا عمرانؓ فرماتے ہیں کہ کسی سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا۔ وضو کے لیے پانی منگایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور نماز کے لیے اذان کہی گئی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز سے سلام پھیرا تو ایک شخص کو علیحدہ بیٹھے دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پوچھا ”اے فلاں! تجھے کس چیز نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنے سے روکے رکھا؟“ وہ کہنے لگا ”میں جنبی ہو گیا ہوں اور پانی موجود نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا ”تمہیں مٹی سے تیمم کر لینا چاہیے تھا وہ تجھے کافی ہو جاتا۔“ اور ایک روایت میں ہے کہ ”پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مٹی سے تیمم کرنے کا حکم دیا۔“
[بخاری، کتاب التیمم، باب الصعید الطیب وضوء المسلم۔ نیز کتاب بدء الخلق۔ باب علامات النبوۃ فی الاسلام]
نیز دیکھئے سورۃ مائدہ (5) کی آیت نمبر 6 کا حاشیہ۔
3۔
تیمم کا طریقہ:۔
سیدنا عمار بن یاسرؓ فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کسی مہم پر بھیجا (اس دوران) میں جنبی ہو گیا، مجھے پانی نہ ملا تو میں نے مٹی میں اس طرح لوٹ لگائی جس طرح چوپایہ لوٹ لگاتا ہے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تمہیں اس طرح کرنا کافی تھا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو ایک بار مٹی پر مارا پھر انہیں اپنے منہ کے قریب کیا اور ان پر پھونک ماری (زائد مٹی اڑا دی) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بائیں ہتھیلی سے داہنے ہاتھ کی پشت پر اور داہنی ہتھیلی سے بائیں ہاتھ کی پشت پر مسح کیا۔ پھر دونوں ہتھیلیوں سے اپنے چہرے کا مسح کیا۔“
[بخاری، کتاب التیمم۔ باب التیمم ضربہ۔ باب التیمم للوجہ والکفین مسلم فی باب التیمم]
4۔
[بخاری، کتاب التیمم۔ باب التیمم ضربہ۔ باب التیمم للوجہ والکفین مسلم فی باب التیمم]
4۔
غسل کا طریقہ:۔
سیدہ عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل جنابت کرنا چاہتے تو (برتن میں ہاتھ ڈالنے سے) پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے پھر نماز کے وضو کی طرح وضو کرتے پھر انگلیاں پانی میں ڈال کر بالوں کی جڑوں کا خلال کرتے۔ پھر دونوں ہاتھوں میں تین چلو لے کر اپنے سر پر ڈالتے پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہاتے۔
[بخاری، کتاب الغسل۔ باب الوضو قبل الغسل]
5۔ سعید بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمرؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا ”اگر مجھے جنابت لاحق ہو جائے اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟“ عمار بن یاسرؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا، کیا آپ کو یاد نہیں جب ہم دونوں ایک سفر میں جنبی ہو گئے تھے اور آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹا اور نماز پڑھ لی۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تجھے اتنا ہی کافی تھا، پھر آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور ان کو پھونک دیا۔ پھر منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کیا۔“
[بخاری کتاب التیمم، باب ھل ینفخ فی یدیہ]
6۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ ایک ٹھنڈی رات میں جنبی ہو گئے تو تیمم کر لیا اور یہ آیت پڑھی:
﴿ وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا ﴾
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ ملامت نہیں کی۔
[بخاری، کتاب التیمم باب اذا خاف الجنب علی نفسہ المرض و الموت]
اس آیت سے معلوم ہوا کہ تیمم کی مندرجہ ذیل چار صورتوں میں رخصت ہے:
1۔ انسان سفر میں ہو اور اسے پانی نہ مل رہا ہو۔ سفر کی قید محض اس لیے ہے کہ عموماً سفر میں پانی ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ورنہ اگر حضر میں بھی پانی نہ مل رہا ہو تو بھی تیمم کی رخصت ہے۔
2۔ وضو کرنے والا بیمار ہو تو وضو کرنے سے یا نہانے سے اسے اپنی جان کا یہ مرض بڑھنے کا خطرہ ہو۔
3۔ حدث اصغر یعنی پاخانہ، پیشاب اور ہوا یا مذی خارج ہونے پر وضو کرنا واجب ہے اگر وضو کے لیے پانی نہ ملے تو تیمم کی رخصت ہے۔
4۔ حدث اکبر یعنی احتلام یا جماع کے بعد غسل کرنا واجب ہے لیکن اگر پانی نہیں ملتا تو تیمم کی رخصت ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت میں ﴿الصلٰوة﴾ سے مراد نماز کے علاوہ مسجد بھی لی ہے۔ اور ”عابری سبیل“ کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ اگر جنبی شخص کو مسجد میں سے گزرنے کے بغیر کوئی راستہ ہی نہ ہو تو وہ مسجد سے گزر سکتا ہے۔ مگر نماز کے لیے یا کسی دوسرے کام کے لیے مسجد میں رک نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص مسجد میں سویا ہوا تھا اور اسے احتلام ہو گیا تو بیدار ہونے پر وہ مسجد میں رکے نہیں بلکہ وہاں سے نکل جائے۔ واضح رہے کہ سیدنا عمرؓ سفر میں جنبی ہو جانے پر تیمم کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور یہ ان کی کچھ سیاسی مصلحت تھی کہ لوگ اس رعایت سے نا جائز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ وہ اس سنت کا انکار نہیں کرتے تھے۔ جیسا کہ اوپر درج شدہ حدیث نمبر 5 سے واضح ہے۔ تاہم بہت سے صحابہ نے سیدنا عمرؓ کی اس مصلحت سے اتفاق نہیں کیا۔ اور حدیث نمبر 6 سے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دین میں سختی کی بجائے نرمی ہے۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ کے پاس سوائے شدید سردی کے اور کوئی عذر نہ تھا اور انہیں خطرہ تھا کہ اگر نہا لیا تو بیمار پڑ جائیں گے۔ لہٰذا آپ نے جنبی ہونے پر نہانے کی بجائے تیمم کر لیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر نہیں فرمائی۔
[بخاری، کتاب الغسل۔ باب الوضو قبل الغسل]
5۔ سعید بن عبد الرحمن بن ابزی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص سیدنا عمرؓ کے پاس آیا اور کہنے لگا ”اگر مجھے جنابت لاحق ہو جائے اور پانی نہ ملے تو کیا کروں؟“ عمار بن یاسرؓ نے سیدنا عمرؓ سے کہا، کیا آپ کو یاد نہیں جب ہم دونوں ایک سفر میں جنبی ہو گئے تھے اور آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹا اور نماز پڑھ لی۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تجھے اتنا ہی کافی تھا، پھر آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں اور ان کو پھونک دیا۔ پھر منہ اور دونوں پہنچوں پر مسح کیا۔“
[بخاری کتاب التیمم، باب ھل ینفخ فی یدیہ]
6۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ ایک ٹھنڈی رات میں جنبی ہو گئے تو تیمم کر لیا اور یہ آیت پڑھی:
﴿ وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيْمًا ﴾
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کچھ ملامت نہیں کی۔
[بخاری، کتاب التیمم باب اذا خاف الجنب علی نفسہ المرض و الموت]
اس آیت سے معلوم ہوا کہ تیمم کی مندرجہ ذیل چار صورتوں میں رخصت ہے:
1۔ انسان سفر میں ہو اور اسے پانی نہ مل رہا ہو۔ سفر کی قید محض اس لیے ہے کہ عموماً سفر میں پانی ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ورنہ اگر حضر میں بھی پانی نہ مل رہا ہو تو بھی تیمم کی رخصت ہے۔
2۔ وضو کرنے والا بیمار ہو تو وضو کرنے سے یا نہانے سے اسے اپنی جان کا یہ مرض بڑھنے کا خطرہ ہو۔
3۔ حدث اصغر یعنی پاخانہ، پیشاب اور ہوا یا مذی خارج ہونے پر وضو کرنا واجب ہے اگر وضو کے لیے پانی نہ ملے تو تیمم کی رخصت ہے۔
4۔ حدث اکبر یعنی احتلام یا جماع کے بعد غسل کرنا واجب ہے لیکن اگر پانی نہیں ملتا تو تیمم کی رخصت ہے۔ بعض مفسرین نے اس آیت میں ﴿الصلٰوة﴾ سے مراد نماز کے علاوہ مسجد بھی لی ہے۔ اور ”عابری سبیل“ کا مفہوم یہ بتایا ہے کہ اگر جنبی شخص کو مسجد میں سے گزرنے کے بغیر کوئی راستہ ہی نہ ہو تو وہ مسجد سے گزر سکتا ہے۔ مگر نماز کے لیے یا کسی دوسرے کام کے لیے مسجد میں رک نہیں سکتا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص مسجد میں سویا ہوا تھا اور اسے احتلام ہو گیا تو بیدار ہونے پر وہ مسجد میں رکے نہیں بلکہ وہاں سے نکل جائے۔ واضح رہے کہ سیدنا عمرؓ سفر میں جنبی ہو جانے پر تیمم کو اچھا نہیں سمجھتے تھے اور یہ ان کی کچھ سیاسی مصلحت تھی کہ لوگ اس رعایت سے نا جائز فائدہ نہ اٹھائیں ورنہ وہ اس سنت کا انکار نہیں کرتے تھے۔ جیسا کہ اوپر درج شدہ حدیث نمبر 5 سے واضح ہے۔ تاہم بہت سے صحابہ نے سیدنا عمرؓ کی اس مصلحت سے اتفاق نہیں کیا۔ اور حدیث نمبر 6 سے تو واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ دین میں سختی کی بجائے نرمی ہے۔ سیدنا عمرو بن عاصؓ کے پاس سوائے شدید سردی کے اور کوئی عذر نہ تھا اور انہیں خطرہ تھا کہ اگر نہا لیا تو بیمار پڑ جائیں گے۔ لہٰذا آپ نے جنبی ہونے پر نہانے کی بجائے تیمم کر لیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکیر نہیں فرمائی۔
دین میں تنگی نہیں:۔
اس سلسلہ میں وہ واقعہ بھی مد نظر رکھنا چاہیے جسے ابو داؤد نے تیمم کے باب میں سیدنا جابرؓ سے روایت کیا ہے۔ سیدنا جابرؓ کہتے ہیں کہ ہم ایک سفر پر نکلے۔ اثنائے سفر ہمارے ایک ساتھی کو سر پر ایک پتھر لگا جس سے اس کا سر زخمی ہو گیا۔ اسی دوران اسے احتلام ہو گیا تو وہ اپنے ساتھیوں سے پوچھنے لگا کیا تمہارے خیال میں تیمم کی رخصت سے فائدہ اٹھا سکتا ہوں؟ انہوں نے جواب دیا کہ تم کیسے فائدہ اٹھا سکتے ہو جبکہ پانی موجود ہے۔ چنانچہ اس نے غسل کیا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی۔ پھر جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آئے تو آپ سے اس واقعہ کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اللہ انہیں غارت کرے ان لوگوں نے اسے مار ڈالا۔ جب انہیں یہ مسئلہ معلوم نہ تھا تو انہوں نے کیوں نہ پوچھ لیا؟ جہالت کی درماندگی کا علاج تو پوچھ لینا ہی ہوتا ہے۔ اسے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اپنے زخم پر پٹی باندھ لیتا اور اس پر مسح کر لیتا اور باقی جسم کو دھو لیتا۔“ اور وضو کے متعلق احادیث سورۃ مائدہ کی آیت نمبر 6 کے تحت درج کی جائیں گی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
بتدریج حرمت شراب اور پس منظر ٭٭
اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے ایماندار بندوں کو نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے روک رہا ہے کیونکہ اس وقت نمازی کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور ساتھ ہی محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے اور ساتھ جنبی شخص جسے نہانے کی حاجت ہو محل نماز یعنی مسجد میں آنے سے روکا جا رہا ہے۔ ہاں ایسا شخص کسی کام کی وجہ سے مسجد کے ایک دروازے سے داخل ہو کر دوسرے دروازے سے نکل جائے تو جائز ہے۔
نشے کی حالت میں نماز کی قریب نہ جانے کا حکم شراب کی حرمت سے پہلے تھا، جیسے اس حدیث سے ظاہر ہے جو ہم نے سورۃ البقرہ کی «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ» ۱؎ [2-البقرة:219] کی تفسیر میں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وہ آیت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تلاوت کی تو آپ نے دعا مانگی کہ اے اللہ! شراب کے بارے میں اور صاف صاف بیان نازل فرما پھر نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانے کی یہ آیت اتری اس پر نمازوں کے وقت اس کا پینا لوگوں نے چھوڑ دیا۔
اسے سن کر بھی سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی دعا مانگی تو «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» * «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» ۱؎ [5-المائدة:90-91] تک نازل ہوئی جس میں شراب سے بچنے کا حکم صاف موجود ہے اسے سن کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم باز آئے۔ اسی روایت کی ایک سند میں ہے کہ جب سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی اور نشے کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت ہوئی اس وقت یہ دستور تھا کہ جب نماز کھڑی ہوتی تو ایک شخص آواز لگاتا کہ کوئی نشہ والا نماز کے قریب نہ آئے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3670،قال الشيخ الألباني: صحیح]
نشے کی حالت میں نماز کی قریب نہ جانے کا حکم شراب کی حرمت سے پہلے تھا، جیسے اس حدیث سے ظاہر ہے جو ہم نے سورۃ البقرہ کی «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ قُلْ فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِن نَّفْعِهِمَا وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُونَ» ۱؎ [2-البقرة:219] کی تفسیر میں بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وہ آیت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے تلاوت کی تو آپ نے دعا مانگی کہ اے اللہ! شراب کے بارے میں اور صاف صاف بیان نازل فرما پھر نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جانے کی یہ آیت اتری اس پر نمازوں کے وقت اس کا پینا لوگوں نے چھوڑ دیا۔
اسے سن کر بھی سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ نے یہی دعا مانگی تو «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ» * «إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَن يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ فَهَلْ أَنتُم مُّنتَهُونَ» ۱؎ [5-المائدة:90-91] تک نازل ہوئی جس میں شراب سے بچنے کا حکم صاف موجود ہے اسے سن کر سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہم باز آئے۔ اسی روایت کی ایک سند میں ہے کہ جب سورۃ نساء کی یہ آیت نازل ہوئی اور نشے کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت ہوئی اس وقت یہ دستور تھا کہ جب نماز کھڑی ہوتی تو ایک شخص آواز لگاتا کہ کوئی نشہ والا نماز کے قریب نہ آئے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3670،قال الشيخ الألباني: صحیح]
ابن ماجہ شریف میں ہے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئی ہیں، ایک انصاری نے بہت سے لوگوں کی دعوت کی ہم سب نے خوب کھایا پیا پھر شرابیں پیں اور مخمور ہو گئے پھر آپس میں فخر جتانے لگے ایک شخص نے اونٹ کے جبڑے کی ہڈی اٹھا کر سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو ماری جس سے ناک پر زخم آیا اور اس کا نشان باقی رہ گیا اس وقت تک شراب کو اسلام نے حرام نہیں کیا تھا پس یہ آیت نازل ہوئی یہ حدیث صحیح مسلم شریف میں بھی پوری مروی ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1748]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے دعوت کی لوگ گئے سب نے کھانا کھایا پھر شراب پی اور مست ہو گئے اتنے میں نماز کا وقت آ گیا ایک شخص کو امام بنایا اس نے نماز میں سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» میں اس طرح پڑھا «ما اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» اس پر یہ آیت اتری اور نشے کی حالت میں نماز کا پڑھنا منع کیا گیا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3026،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی، سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما اور تیسرے ایک اور صاحب نے شراب پی اور سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نماز میں امام بنائے گئے اور قرآن کی قرأت خلط ملط کر دی اس پر یہ آیت اتری۔ ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3671،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے امامت کی اور جس طرح پڑھنا چاہیئے تھا نہ پڑھ سکے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/9525:صحیح بالشواھد]
اور ایک روایت میں مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے امامت کرائی اور اس طرح پڑھا «قل ایھا الکافرون اعبدما تعبدما تعبدون وانتم عابدون ما اعبدو انا عابد ما عبدتم ما عبدتم لکم دینکم ولی دین» پس یہ آیت نازل ہوئی اور اس حالت میں نماز پڑھنا حرام کر دیا گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/9527:صحیح بالشواھد]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت سے پہلے لوگ نشہ کی حالت میں نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے پس اس آیت سے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔ [ابن جریر]
ابن ابی حاتم کی روایت میں ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے دعوت کی لوگ گئے سب نے کھانا کھایا پھر شراب پی اور مست ہو گئے اتنے میں نماز کا وقت آ گیا ایک شخص کو امام بنایا اس نے نماز میں سورۃ «قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ» میں اس طرح پڑھا «ما اعبد ما تعبدون ونحن نعبد ما تعبدون» اس پر یہ آیت اتری اور نشے کی حالت میں نماز کا پڑھنا منع کیا گیا۔ یہ حدیث ترمذی میں بھی ہے اور حسن ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3026،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی روایت میں ہے کہ سیدنا علی، سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہما اور تیسرے ایک اور صاحب نے شراب پی اور سیدنا عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نماز میں امام بنائے گئے اور قرآن کی قرأت خلط ملط کر دی اس پر یہ آیت اتری۔ ابوداؤد اور نسائی میں بھی یہ روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ابوداود:3671،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی ایک اور روایت میں ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے امامت کی اور جس طرح پڑھنا چاہیئے تھا نہ پڑھ سکے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/9525:صحیح بالشواھد]
اور ایک روایت میں مروی ہے کہ سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ نے امامت کرائی اور اس طرح پڑھا «قل ایھا الکافرون اعبدما تعبدما تعبدون وانتم عابدون ما اعبدو انا عابد ما عبدتم ما عبدتم لکم دینکم ولی دین» پس یہ آیت نازل ہوئی اور اس حالت میں نماز پڑھنا حرام کر دیا گیا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/9527:صحیح بالشواھد]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ شراب کی حرمت سے پہلے لوگ نشہ کی حالت میں نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے پس اس آیت سے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا۔ [ابن جریر]
قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کے نازل ہونے کے بعد لوگ اس سے رک گئے پھر شراب کی مطلق حرمت نازل ہونے کے بعد لوگ اس سے بالکل تائب ہو گئے۔
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے شراب کا نشہ مراد نہیں بلکہ نیند کا خمار مراد ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک یہی ہے کہ مراد اس سے شراب کا نشہ ہے اور یہاں خطاب ان سے کیا گیا ہے جو نشہ میں ہیں لیکن اتنے نشہ میں بھی نہیں کہ احکام شرع ان پر جاری ہی نہ ہو سکیں کیونکہ نشے کی ایسی حالت والا شخص مجنون کے حکم میں ہے۔
بہت سے اصولی حضرات کا قول ہے کہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو کلام کو سمجھ سکیں ایسے نشہ والوں کی طرف نہیں جو سمجھتے ہی نہیں کہ ان سے کیا کہا جا رہا ہے اس لیے کہ خطاب کا سمجھنا شرط ہے تکلیف کی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ گو الفاظ یہ ہیں کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو لیکن مراد یہ ہے کہ نشے کی چیز کھاؤ پیو بھی نہیں اس لیے کہ دن رات میں پانچ وقت نماز فرض ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ایک شرابی ان پانچویں وقت نمازیں ٹھیک وقت پر ادا کر سکے حالانکہ شراب برابر پی رہا ہے۔ «واللہ اعلم»
پس یہ حکم بھی اسی طرح ہو گا جس طرح یہ حکم ہے کہ ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرنا تم مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی تیاری ہر وقت رکھو اور ایسے پاکیزہ اعمال ہر وقت کرتے رہو کہ جب تمہیں موت آئے تو اسلام پر دم نکلے یہ جو اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ یہاں تک کہ تم معلوم کر سکو جو تم کہہ رہے ہو، یہ نشہ کی حد ہے یعنی نشہ کی حالت میں اس شخص کو سمجھا جائے گا جو اپنی بات نہ سمجھ سکے نشہ والا انسان قرات میں غلط ملط کردے گا اسے سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کا موقعہ نہ ملے گا نہ ہی اسے عاجزی اور خشوع خضوع حاصل ہو سکتا ہے۔
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب تم میں سے اگر کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیئے کہ وہ نماز چھوڑ کر سو جائے جب تک کہ وہ جاننے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:213] بخاری اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے اور اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ممکن ہے کہ چاہے تو وہ اپنے لیے استغفار کرے لیکن اس کی زبان سے اس کے خلاف نکلے۔۱؎ [صحیح بخاری:212]
ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس سے شراب کا نشہ مراد نہیں بلکہ نیند کا خمار مراد ہے، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ٹھیک یہی ہے کہ مراد اس سے شراب کا نشہ ہے اور یہاں خطاب ان سے کیا گیا ہے جو نشہ میں ہیں لیکن اتنے نشہ میں بھی نہیں کہ احکام شرع ان پر جاری ہی نہ ہو سکیں کیونکہ نشے کی ایسی حالت والا شخص مجنون کے حکم میں ہے۔
بہت سے اصولی حضرات کا قول ہے کہ خطاب ان لوگوں سے ہے جو کلام کو سمجھ سکیں ایسے نشہ والوں کی طرف نہیں جو سمجھتے ہی نہیں کہ ان سے کیا کہا جا رہا ہے اس لیے کہ خطاب کا سمجھنا شرط ہے تکلیف کی، اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ گو الفاظ یہ ہیں کہ نشہ کی حالت میں نماز نہ پڑھو لیکن مراد یہ ہے کہ نشے کی چیز کھاؤ پیو بھی نہیں اس لیے کہ دن رات میں پانچ وقت نماز فرض ہے تو کیسے ممکن ہے کہ ایک شرابی ان پانچویں وقت نمازیں ٹھیک وقت پر ادا کر سکے حالانکہ شراب برابر پی رہا ہے۔ «واللہ اعلم»
پس یہ حکم بھی اسی طرح ہو گا جس طرح یہ حکم ہے کہ ایمان والو! اللہ سے ڈرتے رہو جتنا اس سے ڈرنے کا حق ہے اور نہ مرنا تم مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔ تو اس سے مراد یہ ہے کہ ایسی تیاری ہر وقت رکھو اور ایسے پاکیزہ اعمال ہر وقت کرتے رہو کہ جب تمہیں موت آئے تو اسلام پر دم نکلے یہ جو اس آیت میں ارشاد ہوا ہے کہ یہاں تک کہ تم معلوم کر سکو جو تم کہہ رہے ہو، یہ نشہ کی حد ہے یعنی نشہ کی حالت میں اس شخص کو سمجھا جائے گا جو اپنی بات نہ سمجھ سکے نشہ والا انسان قرات میں غلط ملط کردے گا اسے سوچنے سمجھنے اور غور و فکر کا موقعہ نہ ملے گا نہ ہی اسے عاجزی اور خشوع خضوع حاصل ہو سکتا ہے۔
مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”جب تم میں سے اگر کوئی نماز میں اونگھنے لگے تو اسے چاہیئے کہ وہ نماز چھوڑ کر سو جائے جب تک کہ وہ جاننے لگے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:213] بخاری اور نسائی میں بھی یہ حدیث ہے اور اس کے بعض طرق میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ ممکن ہے کہ چاہے تو وہ اپنے لیے استغفار کرے لیکن اس کی زبان سے اس کے خلاف نکلے۔۱؎ [صحیح بخاری:212]
آداب مسجد اور مسائل تیمم ٭٭
پھر فرمان ہے کہ جنبی نماز کے قریب نہ جائے جب تک غسل نہ کر لے ہاں بطور گزر جانے کے مسجد میں گزرنا جائز ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایسی ناپاکی کی حالت میں مسجد میں جانا ناجائز ہے ہاں مسجد کے ایک طرف سے نکل جانے میں کوئی حرج نہیں مسجد میں بیٹھے نہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/382]
اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے یزید بن ابوحبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض انصار جو مسجد کے گرد رہتے تھے اور جنبی ہوتے تھے گھر میں پانی نہیں ہوتا تھا اور گھر کے دروازے مسجد سے متصل تھے انہیں اجازت مل گئی کہ مسجد سے اسی حالت میں گزر سکتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/381]
بخاری شریف کی ایک حدیث سے بھی یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے کہ لوگوں کے گھروں کے دروازے مسجد میں تھے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری مرض الموت میں فرمایا تھا کہ مسجد میں جن جن لوگوں کے دروازے پڑتے ہیں سب کو بند کر دو ابوبکر کا دروازہ رہنے دو۔۱؎ [صحیح بخاری:467] اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کے بعد آپ کے جانشین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں گے تو انہیں ہر وقت اور بکثرت مسجد میں آنے جانے کی ضرورت رہے گی تاکہ مسلمانوں کے اہم امور کا فیصلہ کر سکیں اس لیے آپ نے سب کے دروازے بند کرنے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رکھنے کی ہدایت فرمائی۔
بعض سنن کی اس حدیث میں بجائے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3732،قال الشيخ الألباني:صحیح] وہ بالکل غلط ہے صحیح یہی ہے جو صحیح میں ہے اس آیت سے اکثر ائمہ نے دلیل پکڑی ہے کہ جنبی شخص کو مسجد میں ٹھہرانا حرام ہے ہاں گزر جانا جائز ہے، اسی طرح حیض و نفاس والی عورتوں کو بھی بعض کہتے ہیں ان دونوں کے گزرنا بھی جائز نہیں ممکن ہے مسجد میں آلودگی ہو اور بعض کہتے اگر اس بات کا خوف نہ ہو انکا گزرنا بھی جائز ہے۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مسجد سے مجھے بوریا اٹھا دو تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حیض سے ہوں آپ نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:298] اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ مسجد میں آ جا سکتی۔ ہے اور نفاس والی کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ یہ دونوں بطور راستہ چلنے کے جا سکتی ہیں۔ ابو داؤد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ میں حائض اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:232،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ایسی ناپاکی کی حالت میں مسجد میں جانا ناجائز ہے ہاں مسجد کے ایک طرف سے نکل جانے میں کوئی حرج نہیں مسجد میں بیٹھے نہیں ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/382]
اور بھی بہت سے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہ اللہ علیہم کا یہی قول ہے یزید بن ابوحبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں بعض انصار جو مسجد کے گرد رہتے تھے اور جنبی ہوتے تھے گھر میں پانی نہیں ہوتا تھا اور گھر کے دروازے مسجد سے متصل تھے انہیں اجازت مل گئی کہ مسجد سے اسی حالت میں گزر سکتے ہیں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/381]
بخاری شریف کی ایک حدیث سے بھی یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے کہ لوگوں کے گھروں کے دروازے مسجد میں تھے چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آخری مرض الموت میں فرمایا تھا کہ مسجد میں جن جن لوگوں کے دروازے پڑتے ہیں سب کو بند کر دو ابوبکر کا دروازہ رہنے دو۔۱؎ [صحیح بخاری:467] اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آپ کے بعد آپ کے جانشین سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ہوں گے تو انہیں ہر وقت اور بکثرت مسجد میں آنے جانے کی ضرورت رہے گی تاکہ مسلمانوں کے اہم امور کا فیصلہ کر سکیں اس لیے آپ نے سب کے دروازے بند کرنے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا دروازہ کھلا رکھنے کی ہدایت فرمائی۔
بعض سنن کی اس حدیث میں بجائے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا نام ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3732،قال الشيخ الألباني:صحیح] وہ بالکل غلط ہے صحیح یہی ہے جو صحیح میں ہے اس آیت سے اکثر ائمہ نے دلیل پکڑی ہے کہ جنبی شخص کو مسجد میں ٹھہرانا حرام ہے ہاں گزر جانا جائز ہے، اسی طرح حیض و نفاس والی عورتوں کو بھی بعض کہتے ہیں ان دونوں کے گزرنا بھی جائز نہیں ممکن ہے مسجد میں آلودگی ہو اور بعض کہتے اگر اس بات کا خوف نہ ہو انکا گزرنا بھی جائز ہے۔
صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ مسجد سے مجھے بوریا اٹھا دو تو ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں حیض سے ہوں آپ نے فرمایا: ”تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:298] اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حائضہ مسجد میں آ جا سکتی۔ ہے اور نفاس والی کے لیے بھی یہی حکم ہے۔ یہ دونوں بطور راستہ چلنے کے جا سکتی ہیں۔ ابو داؤد میں فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے کہ میں حائض اور جنبی کے لیے مسجد کو حلال نہیں کرتا۔ ۱؎ [سنن ابوداود:232،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ابومسلم خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کو ایک جماعت نے ضعیف کہا ہے کیونکہ ”افلت“ اس کا راوی مجہول ہے۔ لیکن ابن ماجہ میں یہ روایت ہے اس میں افلت کی جگہ مخدوج ذہلی ہیں۔۱؎ [سنن ابن ماجہ:645،قال الشيخ الألباني:ضعیف] پہلی حدیث بروایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دوسری بروایت سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہے لیکن ٹھیک نام سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہی ہے۔
ایک اور حدیث ترمذی میں ہے جس میں ہے کہ اے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس مسجد میں جنبی ہونا میرے اور تیرے سوا کسی کو حلال نہیں۔۱؎ [سنن ترمذي:3727،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی اس میں سالم راوی ہے جو متروک ہے اور ان کے استاد عظیہ بھی ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔
اس آیت کی تفسیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جنبی شخص بغیر غسل کئے نماز نہیں پڑھ سکتا لیکن اگر وہ مسافر ہو اور پانی نہ ملے تو پانی کے ملنے تک پڑھ سکتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سعید بن جبیر اور ضحاک رحمہ اللہ علیہما سے بھی یہی مروی ہے، مجاہد، حسن، حکم، زید اور عبدالرحمٰن رحمہ اللہ علیہم سے بھی اس کے مثل مروی ہے۔
عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سنا کرتے تھے کہ یہ آیت سفر کے حکم میں ہے، اس حدیث سے بھی مسئلہ کی شہادت ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پاک مٹی مسلمان کی طہارت ہے گو دس سال تک پانی نہ ملے اور جب مل جائے تو اسی کو استعمال کرے یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“۱؎ [سنن ترمذي:124،قال الشيخ الألباني:صحیح] [سنن اور احمد]
ایک اور حدیث ترمذی میں ہے جس میں ہے کہ اے سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس مسجد میں جنبی ہونا میرے اور تیرے سوا کسی کو حلال نہیں۔۱؎ [سنن ترمذي:3727،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث بالکل ضعیف ہے اور ہرگز ثابت نہیں ہو سکتی اس میں سالم راوی ہے جو متروک ہے اور ان کے استاد عظیہ بھی ضعیف ہیں۔ واللہ اعلم۔
اس آیت کی تفسیر میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جنبی شخص بغیر غسل کئے نماز نہیں پڑھ سکتا لیکن اگر وہ مسافر ہو اور پانی نہ ملے تو پانی کے ملنے تک پڑھ سکتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سعید بن جبیر اور ضحاک رحمہ اللہ علیہما سے بھی یہی مروی ہے، مجاہد، حسن، حکم، زید اور عبدالرحمٰن رحمہ اللہ علیہم سے بھی اس کے مثل مروی ہے۔
عبداللہ بن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہم سنا کرتے تھے کہ یہ آیت سفر کے حکم میں ہے، اس حدیث سے بھی مسئلہ کی شہادت ہو سکتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پاک مٹی مسلمان کی طہارت ہے گو دس سال تک پانی نہ ملے اور جب مل جائے تو اسی کو استعمال کرے یہ تیرے لیے بہتر ہے۔“۱؎ [سنن ترمذي:124،قال الشيخ الألباني:صحیح] [سنن اور احمد]
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں قولوں میں اولیٰ قول ان ہی لوگوں کا ہے جو کہتے ہیں مراد بطور گزر جانے کے کیونکہ جس مسافر کو جنابت کی حالت میں پانی نہ ملے اس کا حکم تو آگے صاف بیان ہوا ہے پس اگر یہی مطلب یہاں بھی لیا جائے تو پھر دوسرے جملہ میں اسے لوٹانے کی ضرورت باقی نہیں رہتی پس معنی آیت کے اب یہ ہوئے کہ ایمان والو! نماز کے لیے مسجد میں نہ جاؤ جب کہ تم نشے میں ہو جب تک تم اپنی بات کو آپ نہ سمجھنے لگو۔
اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی مسجد میں نہ جاؤ جب تک نہا نہ لو ہاں صرف گزر جانا جائز ہے «عابر» کے معنی آنے جانے یعنی گزر جانے والے ہیں اس کا مصدر «عبراً» اور «عبورًا» آتا ہے جب کوئی نہر سے گزرے تو عرب کہتے ہیں «عبرفلان النھر» فلاں شخص نے نہر کو عبور کر لیا اسی طرح قوی اونٹنی کو جو سفر کاٹتی ہو «عبرالاسفار» کہتے ہیں۔
امام ابن جیریر رحمہ اللہ جس قول کی تائید کرتے ہیں یہی قول جمہور کا ہے اور آیت سے ظاہر بھی یہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس ناقص حالت میں نماز سے منع فرما رہا ہے جو مقصود نماز کے خلاف ہے اسی طرح نماز کی جگہ میں بھی ایسی حالت میں آنے کو روکتا ہے جو اس جگہ کی عظمت اور پاکیزگی کے خلاف ہے۔ «واللہ اعلم»
پھر جو فرمایا کہ یہاں تک کہ تم غسل کر لو امام ابوحنیفہ، امام مالک اور شافعی رحمہ اللہ علیہم اسی دلیل کی روشنی میں کہتے ہیں کہ جنبی کو مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے جب تک غسل نہ کر لے یا اگر پانی نہ ملے یا پانی ہو لیکن اس کے استعمال کی قدرت نہ ہو تو تیمم کر لے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب جنبی نے وضو کر لیا تو اسے مسجد میں ٹھہرنا جائز ہے چنانچہ مسند احمد اور سنن سعید بن منصور میں مروی ہے۔ عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ جنبی ہوتے اور وضو کر کے مسجد میں بیٹھے رہتے۔ «واللہ اعلم»
اسی طرح جنابت کی حالت میں بھی مسجد میں نہ جاؤ جب تک نہا نہ لو ہاں صرف گزر جانا جائز ہے «عابر» کے معنی آنے جانے یعنی گزر جانے والے ہیں اس کا مصدر «عبراً» اور «عبورًا» آتا ہے جب کوئی نہر سے گزرے تو عرب کہتے ہیں «عبرفلان النھر» فلاں شخص نے نہر کو عبور کر لیا اسی طرح قوی اونٹنی کو جو سفر کاٹتی ہو «عبرالاسفار» کہتے ہیں۔
امام ابن جیریر رحمہ اللہ جس قول کی تائید کرتے ہیں یہی قول جمہور کا ہے اور آیت سے ظاہر بھی یہی ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس ناقص حالت میں نماز سے منع فرما رہا ہے جو مقصود نماز کے خلاف ہے اسی طرح نماز کی جگہ میں بھی ایسی حالت میں آنے کو روکتا ہے جو اس جگہ کی عظمت اور پاکیزگی کے خلاف ہے۔ «واللہ اعلم»
پھر جو فرمایا کہ یہاں تک کہ تم غسل کر لو امام ابوحنیفہ، امام مالک اور شافعی رحمہ اللہ علیہم اسی دلیل کی روشنی میں کہتے ہیں کہ جنبی کو مسجد میں ٹھہرنا حرام ہے جب تک غسل نہ کر لے یا اگر پانی نہ ملے یا پانی ہو لیکن اس کے استعمال کی قدرت نہ ہو تو تیمم کر لے۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب جنبی نے وضو کر لیا تو اسے مسجد میں ٹھہرنا جائز ہے چنانچہ مسند احمد اور سنن سعید بن منصور میں مروی ہے۔ عطا بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ وہ جنبی ہوتے اور وضو کر کے مسجد میں بیٹھے رہتے۔ «واللہ اعلم»
پھر تیمم کے مواقع بیان فرمائے جس بیماری کی وجہ سے تیمم جائز ہو جاتا ہے وہ وہ بیماری ہے کہ اس وقت پانی کے استعمال سے عضو کے فوت ہو جانے یا اس کے خراب ہو جانے یا مرض کی مدت بڑھ جانے کا خوف ہو۔
بعض علماء نے ہر مرض پر تیمم کی اجازت کا فتویٰ دیا ہے کیونکہ آیت میں عموم ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک انصاری بیمار تھے نہ تو کھڑے ہو کر وضو کر سکتے تھے، نہ ان کا کوئی خادم تھا جو انہیں پانی دے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اس پر یہ حکم اترا یہ روایت مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:3/5365:مرسل و ضعیف] دوسری حالت میں تیمم کے جواز کی وجہ سفر ہے خواہ لمبا سفر اور خواہ چھوٹا۔
«غائط» نرم زمین کو یہاں سے کنایہ کیا گیا ہے پاخانہ پیشاب سے۔ «لَامَسْتُمُ» کی دوسری قرأت «لمَسْتُمُ» ہے اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک یہ کہ مراد جماع ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ» ۱؎ [2-البقرة:237] یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو مجامعت سے پہلے طلاق دو اور ان کا مہر مقرر ہو تو جو مقرر ہے اس کا آدھا دو اور آیت میں ہے، اے ایمان والو! جب تم ایمان والی عورتوں سے نکاح کرو پھر مجامعت سے پہلے انہیں طلاق دے دو تو ان کے ذمہ عدت نہیں، یہاں بھی لفظ «مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ» ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ» سے مراد مجامعت ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/392]
سیدنا علی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما مجاہد، طاؤس، حسن، عبید بن عمیر، سعید بن جبیر، شعبی، قتادہ، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/392]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ اس لفظ پر مذاکرہ ہوا تو چند موالی نے کہا یہ جماع نہیں اور چند عرب نے کہا جماع ہے، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا آپ نے پوچھا تم کن کے ساتھ تھے میں نے کہا موالی کے فرمایا موالی مغلوب ہو گئے لمس اور مس اور مباشرت کا معنی جماع ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں کنایہ کیا ہے۔
بعض علماء نے ہر مرض پر تیمم کی اجازت کا فتویٰ دیا ہے کیونکہ آیت میں عموم ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک انصاری بیمار تھے نہ تو کھڑے ہو کر وضو کر سکتے تھے، نہ ان کا کوئی خادم تھا جو انہیں پانی دے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا اس پر یہ حکم اترا یہ روایت مرسل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:3/5365:مرسل و ضعیف] دوسری حالت میں تیمم کے جواز کی وجہ سفر ہے خواہ لمبا سفر اور خواہ چھوٹا۔
«غائط» نرم زمین کو یہاں سے کنایہ کیا گیا ہے پاخانہ پیشاب سے۔ «لَامَسْتُمُ» کی دوسری قرأت «لمَسْتُمُ» ہے اس کی تفسیر میں دو قول ہیں ایک یہ کہ مراد جماع ہے جیسے اور آیت میں ہے «وَإِن طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ» ۱؎ [2-البقرة:237] یعنی اگر تم اپنی بیویوں کو مجامعت سے پہلے طلاق دو اور ان کا مہر مقرر ہو تو جو مقرر ہے اس کا آدھا دو اور آیت میں ہے، اے ایمان والو! جب تم ایمان والی عورتوں سے نکاح کرو پھر مجامعت سے پہلے انہیں طلاق دے دو تو ان کے ذمہ عدت نہیں، یہاں بھی لفظ «مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ» ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ «أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ» سے مراد مجامعت ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/392]
سیدنا علی سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہما مجاہد، طاؤس، حسن، عبید بن عمیر، سعید بن جبیر، شعبی، قتادہ، مقاتل بن حیان رحمہ اللہ علیہم سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:8/392]
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ اس لفظ پر مذاکرہ ہوا تو چند موالی نے کہا یہ جماع نہیں اور چند عرب نے کہا جماع ہے، میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کا ذکر کیا آپ نے پوچھا تم کن کے ساتھ تھے میں نے کہا موالی کے فرمایا موالی مغلوب ہو گئے لمس اور مس اور مباشرت کا معنی جماع ہے، اللہ تعالیٰ نے یہاں کنایہ کیا ہے۔
بعض اور حضرات نے اس سے مراد مطلق چھونا لیا ہے۔ خواہ جسم کے کسی حصہ کو عورت کے کسی حصہ سے ملایا جائے تو وضو کرنا پڑے گا۔ «لمس» سے مراد چھونا ہے اور اس سے بھی وضو واجب ہو جاتا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں «لمس» جماع کے ہم معنی نہیں، آپ فرماتے ہیں بوسہ بھی «لمس» میں داخل ہے اور اس سے بھی وضو کرنا پڑے گا فرماتے ہیں مباشرت سے ہاتھ لگانے سے بوسہ لینے سے وضو کرنا پڑے گا۔ «لمس» سے مراد چھونا ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی عورت کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کے قائل تھے اور اسے «لمس» میں داخل جانتے تھے۔ عبیدہ، ابوعثمان، ثابت، ابراہیم، زید رحمہ اللہ علیہم بھی کہتے ہیں کہ «لمس» سے مراد جماع کے علاوہ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انسان کا اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اسے ہاتھ لگانا ملامست ہے اس سے وضو کرنا پڑے گا۔ ۱؎ [موطا:64]
دارقطنی میں خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن دوسری روایت آپ سے اس کے خلاف بھی پائی جاتی ہے آپ باوضو تھے،آپ نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا پھر وضو نہ کیا اور نماز ادا کی۔ پس دونوں روایتوں کو صحیح ماننے کے بعد یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آپ وضو کو مستحب جانتے تھے واللہ اعلم۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بھی عورت کا بوسہ لینے سے وضو کرنے کے قائل تھے اور اسے «لمس» میں داخل جانتے تھے۔ عبیدہ، ابوعثمان، ثابت، ابراہیم، زید رحمہ اللہ علیہم بھی کہتے ہیں کہ «لمس» سے مراد جماع کے علاوہ ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انسان کا اپنی بیوی کا بوسہ لینا اور اسے ہاتھ لگانا ملامست ہے اس سے وضو کرنا پڑے گا۔ ۱؎ [موطا:64]
دارقطنی میں خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے لیکن دوسری روایت آپ سے اس کے خلاف بھی پائی جاتی ہے آپ باوضو تھے،آپ نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا پھر وضو نہ کیا اور نماز ادا کی۔ پس دونوں روایتوں کو صحیح ماننے کے بعد یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ آپ وضو کو مستحب جانتے تھے واللہ اعلم۔
مطلق چھونے سے وضو کے قائل امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے ساتھی امام مالک رحمہ اللہ ہیں اور مشہور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے بھی یہی روایت ہے۔ اس قول کے قائل کہتے ہیں کہ یہاں دو قرأتیں ہیں «لَامَسْتُمُ» اور «لمَسْتُمُ» اور لمس کا اطلاق ہاتھ لگانے پر بھی قرآن کریم میں آیا ہے چنانچہ ارشاد ہے «وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَيْكَ كِتٰبًا فِيْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَيْدِيْهِمْ لَقَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْٓا اِنْ هٰذَآ اِلَّا سِحْـرٌ مُّبِيْنٌ» ۱؎ [6-الأنعام:7] ظاہر ہے کہ یہاں ہاتھ لگانا ہی مراد ہے۔
اسی طرح سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ شاید تم نے بوسہ لیا ہو گا ہاتھ لگایا ہو گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6844] وہاں بھی لفظ «لَمَسْتُ» ہے۔ اور صرف ہاتھ لگانے کے معنی میں ہی اور حدیث میں ہے «والیدز ناھا اللمس» ہاتھ کا ”زنا“ چھونا اور ہاتھ لگانا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:8/238:صحیح]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بہت کم دن ایسے گزرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ کر بوسہ نہ لیتے ہوں اور ہاتھ نہ لگاتے ہوں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامست سے منع فرمایا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2144] یہ بھی ہاتھ لگانے کے بیع ہے پس یہ لفظ جس طرح جماع پر بولا جاتا ہے، ہاتھ سے چھونے پر بھی بولا جاتا ہے۔
شاعر کہتا ہے «ولمست کفی کفہ اطلب الغنی» میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملا تو میں تونگری چاہتا تھا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ اے اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں کیا فیصلہ ہے جو ایک اجنبی عورت کے ساتھ تمام وہ کام کرتا ہے جو میاں بیوی میں ہوتے ہیں سوائے جماع کے تو «وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ» ۱؎ [11-هود:114] نازل ہوتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وضو کر کے نماز ادا کر لے“، اس پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے یا سب مسلمانوں کے لیے عام ہے آپ جواب دیتے ہیں تمام ایمان والوں کے لیے ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3113،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
اسی طرح سیدنا ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ شاید تم نے بوسہ لیا ہو گا ہاتھ لگایا ہو گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:6844] وہاں بھی لفظ «لَمَسْتُ» ہے۔ اور صرف ہاتھ لگانے کے معنی میں ہی اور حدیث میں ہے «والیدز ناھا اللمس» ہاتھ کا ”زنا“ چھونا اور ہاتھ لگانا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:8/238:صحیح]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں بہت کم دن ایسے گزرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آ کر بوسہ نہ لیتے ہوں اور ہاتھ نہ لگاتے ہوں۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2135،قال الشيخ الألباني:صحیح]
بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع ملامست سے منع فرمایا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2144] یہ بھی ہاتھ لگانے کے بیع ہے پس یہ لفظ جس طرح جماع پر بولا جاتا ہے، ہاتھ سے چھونے پر بھی بولا جاتا ہے۔
شاعر کہتا ہے «ولمست کفی کفہ اطلب الغنی» میرا ہاتھ اس کے ہاتھ سے ملا تو میں تونگری چاہتا تھا۔
ایک اور روایت میں ہے کہ ایک شخص سرکار محمد صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر عرض کرتا ہے کہ اے اللہ کے رسول! اس شخص کے بارے میں کیا فیصلہ ہے جو ایک اجنبی عورت کے ساتھ تمام وہ کام کرتا ہے جو میاں بیوی میں ہوتے ہیں سوائے جماع کے تو «وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ» ۱؎ [11-هود:114] نازل ہوتی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”وضو کر کے نماز ادا کر لے“، اس پر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ پوچھتے ہیں کیا یہ اسی کے لیے خاص ہے یا سب مسلمانوں کے لیے عام ہے آپ جواب دیتے ہیں تمام ایمان والوں کے لیے ہے۔۱؎ [سنن ترمذي:3113،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
امام ترمذی رحمہ اللہ اسے زائدہ کی حدیث سے روایت کر کے فرماتے ہیں اس کی سند متصل نہیں۔ امام نسائی رحمہ اللہ اسے مرسلاً روایت کرتے ہیں الغرض اس قول کے قائل اس حدیث سے یہ کہتے ہیں کہ اسے وضو کا حکم اسی لیے دیا تھا کہ اس نے عورت کو چھوا تھا جماع نہیں کیا تھا۔ اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اولاً تو یہ منقطع ہے ابن ابی لیلیٰ اور معاذ کے درمیان ملاقات کا ثبوت نہیں دوسرے یہ کہ ہو سکتا ہے اسے وضو کا حکم فرض نماز کی ادائیگی کے لیے دیا ہو جیسے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ والی حدیث ہے کہ جو بندہ کوئی گناہ کرے پھر وضو کر کے دو رکعت نماز ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف فرما دیتا ہے۔ یہ پوری حدیث سورۃ آل عمران میں «ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِھِمْ ۠ وَ مَنْ يَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ» ۱؎ [3-آل عمران:135] کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں قولوں میں سے اولیٰ قول ان کا ہے جو کہتے ہیں کہ مراد اس سے جماع نہ کہ اور کیونکہ صحیح مرفوع حدیث میں آ چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کا بوسہ لیا اور بغیر وضو کئے نماز پڑھی، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9634]
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے بوسہ لیتے پھر بغیر وضو کیے نماز پڑھتے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان دونوں قولوں میں سے اولیٰ قول ان کا ہے جو کہتے ہیں کہ مراد اس سے جماع نہ کہ اور کیونکہ صحیح مرفوع حدیث میں آ چکا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کا بوسہ لیا اور بغیر وضو کئے نماز پڑھی، ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9634]
ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرتے بوسہ لیتے پھر بغیر وضو کیے نماز پڑھتے۔
حبیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں { ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی بیوی کا بوسہ لیتے نماز کو جاتے، میں نے کہا وہ آپ ہی ہوں گی تو آپ مسکرا دیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:86،قال الشيخ الألباني:صحیح] اس کی سند میں کلام ہے لیکن دوسری سندوں سے ثابت ہے کہ اوپر کے راوی یعنی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے سننے والے سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ ہیں۔
اور روایت میں ہے کہ { وضو کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیا اور پھر وضو کیے بغیر نماز ادا کی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:178،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے، پھر نہ تو روزہ جاتا، نہ نیا وضو کرتے }۔ ۱؎ [الطبری:9638:ضعیف] [ابن جریر]
{ سیدہ زینت بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لینے کے بعد وضو نہ کرتے اور نماز پڑھتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:62/6:ضعیف]
اور روایت میں ہے کہ { وضو کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرا بوسہ لیا اور پھر وضو کیے بغیر نماز ادا کی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:178،قال الشيخ الألباني:صحیح]
{ ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لیتے حالانکہ آپ روزے سے ہوتے، پھر نہ تو روزہ جاتا، نہ نیا وضو کرتے }۔ ۱؎ [الطبری:9638:ضعیف] [ابن جریر]
{ سیدہ زینت بنت خزیمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بوسہ لینے کے بعد وضو نہ کرتے اور نماز پڑھتے }۔ ۱؎ [مسند احمد:62/6:ضعیف]
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کر لو، اس سے اکثر فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ پانی نہ پانے والے کے لیے تیمم کی اجازت پانی کی تلاش کے بعد ہے۔
کتب فروع میں تلاش کی کیفیت بھی لکھی ہے بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ الگ تھلگ ہے اور لوگوں کے ساتھ اس نے نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی تو آپ نے اس سے پوچھا: ”تو نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟ کیا تو مسلمان نہیں؟“، اس نے کہا: یا رسول اللہ! ہوں تو مسلمان لیکن جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس صورت میں تجھے مٹی کافی ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:348]
«تیمم» کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «تیممک اللہ بحفظہ» یعنی اللہ اپنی حفاظت کے ساتھ تیرا قصد کرے، امراء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔
«صعید» کے معنی میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جو زمین میں سے اوپر کو چڑھے پس اس میں مٹی، ریت، درخت، پتھر، گھاس بھی داخل ہو جائیں گے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور کہا گیا ہے کہ جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے ریت ہڑتال اور چونا یہ مذہب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ صرف مٹی ہے مگر یہ قول ہے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہما اور ان کے تمام ساتھیوں کا ہے اس کی دلیل ایک تو قرآن کریم کے یہ الفاظ ہیں «فَتُصْبِحَ صَعِيْدًا زَلَقًا» ۱؎ [18-الكهف:40] یعنی ہو جائے وہ مٹی پھسلتی۔
کتب فروع میں تلاش کی کیفیت بھی لکھی ہے بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ الگ تھلگ ہے اور لوگوں کے ساتھ اس نے نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھی تو آپ نے اس سے پوچھا: ”تو نے لوگوں کے ساتھ نماز کیوں نہ پڑھی؟ کیا تو مسلمان نہیں؟“، اس نے کہا: یا رسول اللہ! ہوں تو مسلمان لیکن جنبی ہو گیا اور پانی نہ ملا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اس صورت میں تجھے مٹی کافی ہے۔“ ۱؎ [صحیح بخاری:348]
«تیمم» کے لفظی معنی قصد کرنے کے ہیں۔ عرب کہتے ہیں «تیممک اللہ بحفظہ» یعنی اللہ اپنی حفاظت کے ساتھ تیرا قصد کرے، امراء القیس کے شعر میں بھی یہ لفظ اسی معنی میں آیا ہے۔
«صعید» کے معنی میں کہا گیا ہے کہ ہر وہ چیز جو زمین میں سے اوپر کو چڑھے پس اس میں مٹی، ریت، درخت، پتھر، گھاس بھی داخل ہو جائیں گے۔ امام مالک رحمہ اللہ کا قول یہی ہے اور کہا گیا ہے کہ جو چیز مٹی کی جنس سے ہو جیسے ریت ہڑتال اور چونا یہ مذہب ابوحنیفہ رحمہ اللہ کا ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ صرف مٹی ہے مگر یہ قول ہے امام شافعی اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ علیہما اور ان کے تمام ساتھیوں کا ہے اس کی دلیل ایک تو قرآن کریم کے یہ الفاظ ہیں «فَتُصْبِحَ صَعِيْدًا زَلَقًا» ۱؎ [18-الكهف:40] یعنی ہو جائے وہ مٹی پھسلتی۔
دوسری دلیل صحیح مسلم شریف کی یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمیں تمام لوگوں پر تین فضیلتیں دی گئی ہیں، ہماری صفیں مثل فرشتوں کی صفوں کی ہیں، ہمارے لیے تمام زمین مسجد بنائی گئی اور زمین کی مٹی ہمارے لیے پاک اور پاک کرنے والی بنائی گئی جبکہ ہم پانی نہ پائیں۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:522]
اور ایک سند سے بجائے «تربت» کے «تراب» کا لفظ مروی ہے۔ پس اس حدیث میں احسان کے جتاتے وقت مٹی کی تخصیص کی گئی، اگر کوئی اور چیز بھی وضو کے قائم مقام کام آنے والی ہوتی تو اس کا ذکر بھی ساتھ ہی کر دیتے۔
یہاں یہ لفظ «طیب» اسی کے معنی میں آیا ہے۔ مراد حلال ہے اور کہا گیا ہے کہ مراد پاک ہے، جیسے حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پاک مٹی مسلمانوں کا وضو ہے گو دس سال تک پانی نہ پائے،، پھر جب پانی ملے تو اسے اپنے جسم سے بہائے یہ اس کے لیے بہتر ہے“، ۱؎ [سنن ترمذي:124،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں حافظ ابوالحسن قطان رحمہ اللہ بھی اسے صحیح کہتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سب سے زیادہ پاک مٹی کھیت کی زمین کی مٹی ہے بلکہ تفسیر ابن مردویہ میں تو اسے مرفوعاً وارد کیا ہے۔
پھر فرمان ہے کہ اسے اپنے چہرے پر ملو تیمم وضو کا بدل ہے صرف پاکيزگی حاصل کرنے میں نہ کہ تمام اعضاء کے بارے میں م تو صرف منہ اور ہاتھ پر ملنا کافی ہے اور اس پر اجماع ہے، لیکن کیفیت تیمم میں ائمہ کا اختلاف ہے۔
جدید مذہب شافعی یہ ہے کہ دو دفعہ کر کے منہ اور دونوں ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کرنا واجب ہے اس لیے کہ «یدین» کا اطلاق بغلوں تک اور کہنیوں تک ہوتا ہے جیسے آیت وضو میں اور اسی لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور مراد صرف ہتھیلیاں ہی ہوتی ہیں جیسے کہ چور کی حد کے بارے میں فرمایا «فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا» ۱؎ [5-المائدة:38] کہتے ہیں یہاں تیمم کے حکم میں ہاتھ کا ذکر مطلق ہے اور وضو کے حکم سے مشروط ہے اس لیے اس مطلق کو اس مشروط پر محمول کیا جائے گا کیونکہ طہوریت جامع موجود ہے۔
اور بعض لوگ اس کی دلیل میں دارقطنی والی روایت پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیمم کی دو ضربیں ہیں ایک مرتبہ ہاتھ مار کر منہ پر ملنا اور ایک مرتبہ ہاتھ مار کر دونوں کہنیوں تک ملنا۔“ ۱؎ [:مستدرک حاکم:1/179:ضعیف] لیکن یہ حدیث صحیح نہیں اس لیے کہ اس کی اسناد میں ضعف ہے حدیث ثابت نہیں۔
اور ایک سند سے بجائے «تربت» کے «تراب» کا لفظ مروی ہے۔ پس اس حدیث میں احسان کے جتاتے وقت مٹی کی تخصیص کی گئی، اگر کوئی اور چیز بھی وضو کے قائم مقام کام آنے والی ہوتی تو اس کا ذکر بھی ساتھ ہی کر دیتے۔
یہاں یہ لفظ «طیب» اسی کے معنی میں آیا ہے۔ مراد حلال ہے اور کہا گیا ہے کہ مراد پاک ہے، جیسے حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”پاک مٹی مسلمانوں کا وضو ہے گو دس سال تک پانی نہ پائے،، پھر جب پانی ملے تو اسے اپنے جسم سے بہائے یہ اس کے لیے بہتر ہے“، ۱؎ [سنن ترمذي:124،قال الشيخ الألباني:صحیح] امام ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح کہتے ہیں حافظ ابوالحسن قطان رحمہ اللہ بھی اسے صحیح کہتے ہیں۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں سب سے زیادہ پاک مٹی کھیت کی زمین کی مٹی ہے بلکہ تفسیر ابن مردویہ میں تو اسے مرفوعاً وارد کیا ہے۔
پھر فرمان ہے کہ اسے اپنے چہرے پر ملو تیمم وضو کا بدل ہے صرف پاکيزگی حاصل کرنے میں نہ کہ تمام اعضاء کے بارے میں م تو صرف منہ اور ہاتھ پر ملنا کافی ہے اور اس پر اجماع ہے، لیکن کیفیت تیمم میں ائمہ کا اختلاف ہے۔
جدید مذہب شافعی یہ ہے کہ دو دفعہ کر کے منہ اور دونوں ہاتھوں کا کہنیوں تک مسح کرنا واجب ہے اس لیے کہ «یدین» کا اطلاق بغلوں تک اور کہنیوں تک ہوتا ہے جیسے آیت وضو میں اور اسی لفظ کا اطلاق ہوتا ہے اور مراد صرف ہتھیلیاں ہی ہوتی ہیں جیسے کہ چور کی حد کے بارے میں فرمایا «فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا» ۱؎ [5-المائدة:38] کہتے ہیں یہاں تیمم کے حکم میں ہاتھ کا ذکر مطلق ہے اور وضو کے حکم سے مشروط ہے اس لیے اس مطلق کو اس مشروط پر محمول کیا جائے گا کیونکہ طہوریت جامع موجود ہے۔
اور بعض لوگ اس کی دلیل میں دارقطنی والی روایت پیش کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تیمم کی دو ضربیں ہیں ایک مرتبہ ہاتھ مار کر منہ پر ملنا اور ایک مرتبہ ہاتھ مار کر دونوں کہنیوں تک ملنا۔“ ۱؎ [:مستدرک حاکم:1/179:ضعیف] لیکن یہ حدیث صحیح نہیں اس لیے کہ اس کی اسناد میں ضعف ہے حدیث ثابت نہیں۔
ابوداؤد کی ایک حدیث میں ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ ایک دیوار پر مارے اور منہ پر ملے پھر دوبارہ ہاتھ مار کر اپنی دونوں بازوؤں پر ملے}۔۱؎ [سنن ابوداود:330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] لیکن اس کی اسناد میں محمد بن ثابت عبدی ضعیف ہیں انہیں بعض حافظان حدیث نے ضعیف کہا ہے۔
اور یہی حدیث ثقہ راویوں نے بھی روایت کی ہے لیکن وہ مرفوع نہیں کرتے بلکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل بتاتے ہیں۔ امام بخاری، امام ابوزرعہ اور امام ابن عدی رحمہ اللہ علیہما کا فیصلہ ہے کہ یہ موقوف ہی ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کو مرفوع کرنا منکر ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کیا اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں بازؤں پر ہاتھ پھیرا۔ ۱؎ [بیہقی:205/1:ضعیف]
سیدنا ابو جہیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے ہیں میں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا فارغ ہو کر آپ ایک دیوار کے پاس گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اس پر مار کر منہ پر ملے پھر میرے سلام کا جواب دیا}۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9673:ضعیف] یہ تو تھا امام شافعی رحمہ اللہ کا جدید مذہب۔
اور یہی حدیث ثقہ راویوں نے بھی روایت کی ہے لیکن وہ مرفوع نہیں کرتے بلکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا فعل بتاتے ہیں۔ امام بخاری، امام ابوزرعہ اور امام ابن عدی رحمہ اللہ علیہما کا فیصلہ ہے کہ یہ موقوف ہی ہے اور امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس حدیث کو مرفوع کرنا منکر ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیمم کیا اور اپنے چہرے اور اپنے دونوں بازؤں پر ہاتھ پھیرا۔ ۱؎ [بیہقی:205/1:ضعیف]
سیدنا ابو جہیم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے دیکھا کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے ہیں میں نے آپ کو سلام کیا لیکن آپ نے جواب نہ دیا فارغ ہو کر آپ ایک دیوار کے پاس گئے اور اپنے دونوں ہاتھ اس پر مار کر منہ پر ملے پھر میرے سلام کا جواب دیا}۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:9673:ضعیف] یہ تو تھا امام شافعی رحمہ اللہ کا جدید مذہب۔
آپ کا قدیم مذہب یہ ہے کہ ضربیں تو تیمم میں دو ہی ہیں لیکن دوسری ضرب میں ہاتھوں کو پہنچوں تک ملنا چاہیئے۔
تیسرا قول یہ ہے کہ صرف ایک ہی ضرب یعنی ایک ہی مرتبہ دونوں ہاتھوں کا مٹی پر مار لینا کافی ہے۔ ان گرد آلود ہاتھوں کو منہ پر پھیر لے اور دونوں پر پہنچے تک مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ ملا تو مجھے کیا کرنا چاہیئے آپ نے فرمایا: نماز نہ پڑھنی چاہیئے دربار میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے فرمانے لگے امیر المؤمنین کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے اور ہم جنبی ہو گئے تھے اور ہمیں پانی نہ ملا تو آپ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز ادا کر لی جب ہم واپس پلٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو میں نے اس واقعہ کا بیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”مجھے اتنا کافی تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونک مار دی اور اپنے منہ کو ملا اور ہتھیلیوں کو ملا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:338]
تیسرا قول یہ ہے کہ صرف ایک ہی ضرب یعنی ایک ہی مرتبہ دونوں ہاتھوں کا مٹی پر مار لینا کافی ہے۔ ان گرد آلود ہاتھوں کو منہ پر پھیر لے اور دونوں پر پہنچے تک مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا کہ میں جنبی ہو گیا اور مجھے پانی نہ ملا تو مجھے کیا کرنا چاہیئے آپ نے فرمایا: نماز نہ پڑھنی چاہیئے دربار میں سیدنا عمار رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے فرمانے لگے امیر المؤمنین کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ ایک لشکر میں تھے اور ہم جنبی ہو گئے تھے اور ہمیں پانی نہ ملا تو آپ نے تو نماز نہ پڑھی اور میں نے مٹی میں لوٹ پوٹ کر نماز ادا کر لی جب ہم واپس پلٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے تو میں نے اس واقعہ کا بیان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا: ”مجھے اتنا کافی تھا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مارے اور ان میں پھونک مار دی اور اپنے منہ کو ملا اور ہتھیلیوں کو ملا“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:338]
مسند احمد میں ہے شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اگر کوئی شخص پانی نہ پائے، تو نماز نہ پڑھے اس پر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا تمہیں یاد نہیں جبکہ مجھے اور آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹوں کے بارے میں بھیجا تھا وہاں میں جنبی ہو گیا اور مٹی میں لوٹ پوٹ لیا، واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس دئیے اور فرمایا: ”تجھے اس طرح ہی کافی تھا“، پھر آپ نے دونوں ہاتھ زمین پر مارے اور اپنی ہتھیلیوں کو ایک ساتھ مل لیا اور اپنے چہرے پر ایک بار ہاتھ پھیر لیے اور ضرب ایک ہی رہی، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر قناعت نہیں کی یہ سن کر سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: پھر تم اس آیت کا کیا کرو گے جو سورۃ نساء میں ہے کہ پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی کا قصد کرو اس کا جواب سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نہ دے سکے اور فرمانے لگے سنو! ہم نے لوگوں کو تیمم کی رخصت دیدی تو بہت ممکن ہے کہ پانی جب انہیں ٹھنڈا معلوم ہو گا تو وہ تیمم کرنے لگیں گے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:345]
سورۃ المائدہ میں فرمان ہے «فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ» ۱؎ [5-المائدة:6] ’ اسے اپنے چہرے اور ہاتھ پر ملو ‘۔ اس سے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل پکڑی ہے کہ تیمم کا پاک مٹی سے ہونا اور اس کا بھی غبارآلود ہونا جس سے ہاتھوں پر غبار لگے اور وہ منہ اور ہاتھ پر ملا جائے ضروری ہے جیسے کہ سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ والی حدیث میں گزرا ہے۔ کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو استنجاء کرتے ہوئے دیکھا اور سلام کیا اس میں یہ بھی ہے کہ فارغ ہو کر ایک دیوار کے پاس گئے اور اپنی لکڑی سے کھرچ کر پھر ہاتھ مار کر تیمم کیا۔
سورۃ المائدہ میں فرمان ہے «فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ مِّنْهُ» ۱؎ [5-المائدة:6] ’ اسے اپنے چہرے اور ہاتھ پر ملو ‘۔ اس سے امام شافعی رحمہ اللہ نے دلیل پکڑی ہے کہ تیمم کا پاک مٹی سے ہونا اور اس کا بھی غبارآلود ہونا جس سے ہاتھوں پر غبار لگے اور وہ منہ اور ہاتھ پر ملا جائے ضروری ہے جیسے کہ سیدنا ابوجہیم رضی اللہ عنہ والی حدیث میں گزرا ہے۔ کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو استنجاء کرتے ہوئے دیکھا اور سلام کیا اس میں یہ بھی ہے کہ فارغ ہو کر ایک دیوار کے پاس گئے اور اپنی لکڑی سے کھرچ کر پھر ہاتھ مار کر تیمم کیا۔
پھر فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ تم پر تمہارے دین میں تنگی اور سختی کرنا نہیں چاہتا بلکہ وہ تمہیں پاک صاف کرنا چاہتا ہے اسی لیے پانی نہ پانے کے وقت مٹی کے ساتھ تیمم کر لینے کو مباح قرار دے کر تم پر اپنی نعمت کا اتمام فرمایا تاکہ تم شکر کرو۔ پس یہ امت اس نعمت کے ساتھ مخصوص ہے۔
جیسے کہ بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، مہینے بھر کی راہ تک میری مدد رعب سے کی گئی ہے، میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے میرے جس امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہ وہیں پڑھ لے اس کی مسجد اور اس کا وضو وہیں اس کے پاس موجود ہے، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھے، مجھے شفاعت دی گئی ہے تمام انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا“ } ۱؎ [صحیح بخاری:335]
اور صحیح مسلم کے حوالے سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے کہ { تمام لوگوں پر ہمیں تین فضیلتیں عنایت کی گئی، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئیں، ہمارے لیے زمین مسجد بنائی گئی اور اس کی مٹی وضو بنائی گئی جب ہمیں پانی نہ ملے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:521]
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر حکم دیتا ہے کہ اپنے چہرے اور اپنے ہاتھ پر مسح کر لو۔ پانی نہ ملنے کے وقت اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اس کی عفو و درگزر کی شان ہے کہ اس نے تمہارے لیے پانی نہ ملنے کے وقت تیمم کو مشروع کر کے نماز ادا کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اگر یہ رخصت نہ ہوتی تو تم ایک گونہ مشکل میں پڑ جاتے کیونکہ اس آیت کریمہ میں نماز کو ناقص حالت میں ادا کرنا منع کیا گیا ہے مثلاً نشے کی حالات میں ہو یا جنابت کی حالت میں ہو یا بے وضو ہو تو جب تک اپنی باتیں خود سمجھنے جتنا ہوش اور باقاعدہ غسل اور شرعی طریق پر وضو نہ ہو نماز نہیں پڑھ سکتے، لیکن بیماری میں، جنابت کی حالت میں اور پانی نہ ملنے کی صورت میں غسل اور وضو کے قائم مقام تیمم کر دیا، پس اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر ہم اس کے شکر گزار ہیں۔ «الحمداللہ»
جیسے کہ بخاری و مسلم میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”مجھے پانچ چیزیں ایسی دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کو نہیں دی گئیں، مہینے بھر کی راہ تک میری مدد رعب سے کی گئی ہے، میرے لیے ساری زمین مسجد اور پاک کرنے والی بنائی گئی ہے میرے جس امتی کو جہاں نماز کا وقت آ جائے وہ وہیں پڑھ لے اس کی مسجد اور اس کا وضو وہیں اس کے پاس موجود ہے، میرے لیے غنیمت کے مال حلال کیے گئے ہیں جو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہ تھے، مجھے شفاعت دی گئی ہے تمام انبیاء صرف اپنی قوم کی طرف بھیجے جاتے رہے لیکن میں تمام دنیا کی طرف بھیجا گیا“ } ۱؎ [صحیح بخاری:335]
اور صحیح مسلم کے حوالے سے وہ حدیث بھی پہلے گزر چکی ہے کہ { تمام لوگوں پر ہمیں تین فضیلتیں عنایت کی گئی، ہماری صفیں فرشتوں کی صفوں کی طرح بنائی گئیں، ہمارے لیے زمین مسجد بنائی گئی اور اس کی مٹی وضو بنائی گئی جب ہمیں پانی نہ ملے۔“ ۱؎ [صحیح مسلم:521]
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ بزرگ و برتر حکم دیتا ہے کہ اپنے چہرے اور اپنے ہاتھ پر مسح کر لو۔ پانی نہ ملنے کے وقت اللہ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے اس کی عفو و درگزر کی شان ہے کہ اس نے تمہارے لیے پانی نہ ملنے کے وقت تیمم کو مشروع کر کے نماز ادا کرنے کی اجازت مرحمت فرمائی اگر یہ رخصت نہ ہوتی تو تم ایک گونہ مشکل میں پڑ جاتے کیونکہ اس آیت کریمہ میں نماز کو ناقص حالت میں ادا کرنا منع کیا گیا ہے مثلاً نشے کی حالات میں ہو یا جنابت کی حالت میں ہو یا بے وضو ہو تو جب تک اپنی باتیں خود سمجھنے جتنا ہوش اور باقاعدہ غسل اور شرعی طریق پر وضو نہ ہو نماز نہیں پڑھ سکتے، لیکن بیماری میں، جنابت کی حالت میں اور پانی نہ ملنے کی صورت میں غسل اور وضو کے قائم مقام تیمم کر دیا، پس اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر ہم اس کے شکر گزار ہیں۔ «الحمداللہ»
تیمم کی رخصت نازل ہونے کا واقعہ بھی سن لیجئے ہم اس واقعہ کو سورۃ نساء کی اس آیت کی تفسیر میں اسی لیے بیان کرتے ہیں کہ سورۃ المائدہ میں جو تیمم کی آیت ہے وہ نازل میں اس کے بعد کی ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ واضح ہے کہ یہ آیت شراب کی حرمت سے پہلے نازل ہوئی تھی اور شراب جنگ احد کے کچھ عرصہ کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بنو نصیر کے یہودیوں کا محاصرہ کئے ہوئے تھے حرام ہوئی اور سورۃ المائدہ قرآن میں نازل ہونے والی آخری سورتوں میں ہے بالخصوص اس سورت کا ابتدائی حصہ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ تیمم کا شان نزول یہیں بیان کیا جائے۔ اللہ نیک توفیق دے اسی کا بھروسہ ہے۔
مسند احمد میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار واپس کر دینے کے وعدے پر مستعار لیا تھا وہ سفر میں کہیں گم ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈھونڈ نے کے لیے آدمی بھیجے انہیں ہار مل گیا لیکن نماز کا وقت اس کی تلاش میں ہی آ گیا اور ان کے ساتھ پانی نہ تھا۔ انہوں نے بے وضو نماز ادا کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر اس کی شکایت کی اس پر تیمم کا حکم نازل ہوا، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ام المؤمنین! آپ کو جزائے خیر دے اللہ کی قسم جو تکلیف آپ کو پہنچتی ہے اس کا انجام ہم مسلمانوں کے لیے خیر ہی خیر ہوتا ہے }۔۱؎ [صحیح بخاری:336]
مسند احمد میں ہے کہ { سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا سے ایک ہار واپس کر دینے کے وعدے پر مستعار لیا تھا وہ سفر میں کہیں گم ہو گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ڈھونڈ نے کے لیے آدمی بھیجے انہیں ہار مل گیا لیکن نماز کا وقت اس کی تلاش میں ہی آ گیا اور ان کے ساتھ پانی نہ تھا۔ انہوں نے بے وضو نماز ادا کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ کر اس کی شکایت کی اس پر تیمم کا حکم نازل ہوا، سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ام المؤمنین! آپ کو جزائے خیر دے اللہ کی قسم جو تکلیف آپ کو پہنچتی ہے اس کا انجام ہم مسلمانوں کے لیے خیر ہی خیر ہوتا ہے }۔۱؎ [صحیح بخاری:336]
بخاری میں ہے { سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم اپنے کسی سفر میں تھے بیداء میں یا ذات الجیش میں میرا ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا جس کے ڈھونڈنے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مع قافلہ ٹھہر گئے، اب نہ تو ہمارے پاس پانی تھا، نہ وہاں میدان میں کہیں پانی تھا، لوگ میرے والد سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس میری شکایتیں کرنے لگے کہ دیکھو ہم ان کی وجہ سے کیسی مصیبت میں پڑ گئے، چنانچہ میرے والد صاحب میرے پاس آئے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری ران پر اپنا سر مبارک رکھ کر سو گئے تھے، آتے ہی مجھے کہنے لگے، تو نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو روک دیا اب نہ تو ان کے پاس پانی ہے، نہ یہاں اور کہیں پانی نظر آتا ہے الغرض مجھے خوب ڈانٹا ڈپٹا اور اللہ جانے کیا کیا کہا اور میرے پہلو میں اپنے ہاتھ سے کچوکے بھی مارتے رہے، لیکن میں نے ذرا سی بھی جنبش نہ کی کہ ایسا نہ ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آرام میں خلل واقع ہو، ساری رات گزر گئی صبح کو لوگ جاگے لیکن پانی نہ تھا، اللہ نے تیمم کی آیت نازل فرمائی اور سب نے تیمم کیا سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کہنے لگے اے ابوبکر کے گھرانے والو! یہ کچھ تمہاری پہلی ہی برکت نہیں، اب جب ہم نے اس اونٹ کو اٹھایا جس پر میں سوار تھی تو اس کے نیچے سے ہی ہار مل گیا }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:334]
مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ ذات الجیش سے گزرے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یمنی خر مہروں کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا تھا اور گم ہو گیا تھا اس کی تلاش میں یہاں ٹھہر گئے ساری رات آپ کے ہم سفر مسلمانوں نے اور آپ نے یہیں گزاری صبح اٹھے تو پانی بالکل نہیں تھا، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر پاک مٹی سے تیمم کر کے پاکی حاصل کرنے کی رخصت کی آیت اتاری اور مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو کر زمین پر اپنے ہاتھ مارے اور جو مٹی ان سے لت پت ہوئی اسے جھاڑے بغیر اپنے چہرے پر اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور ہاتھوں کے نیچے سے بغل تک مل لی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:320]
مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہمراہ ذات الجیش سے گزرے۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا یمنی خر مہروں کا ہار ٹوٹ کر کہیں گر پڑا تھا اور گم ہو گیا تھا اس کی تلاش میں یہاں ٹھہر گئے ساری رات آپ کے ہم سفر مسلمانوں نے اور آپ نے یہیں گزاری صبح اٹھے تو پانی بالکل نہیں تھا، پس اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی پر پاک مٹی سے تیمم کر کے پاکی حاصل کرنے کی رخصت کی آیت اتاری اور مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھڑے ہو کر زمین پر اپنے ہاتھ مارے اور جو مٹی ان سے لت پت ہوئی اسے جھاڑے بغیر اپنے چہرے پر اور اپنے ہاتھوں پر مونڈھوں تک اور ہاتھوں کے نیچے سے بغل تک مل لی }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:320]
ابن جریر کی روایت میں ہے کہ { اس سے پہلے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پر سخت غصہ ہو کر گئے تھے لیکن تیمم کی رخصت کے حکم کو سن کر خوشی خوشی اپنی صاحبزادی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے اور کہنے لگے تم بڑی مبارک ہو مسلمانوں کو اتنی بڑی رخصت ملی پھر مسلمانوں نے زمین پر ایک ضرب سے چہرے ملے اور دوسری ضرب سے کہنیوں اور بغلوں تک ہاتھ لے گئے۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:9675]
ابن مردویہ میں روایت ہے { سیدنا اسلع بن شریک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو چلا رہا تھا۔ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے، جاڑوں کا موسم تھا، رات کا وقت تھا، سخت سردی پڑ رہی تھی اور میں جنبی ہو گیا، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا ارادہ کیا تو میں نے اپنی اس حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو چلانا پسند نہ کیا، ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ اگر سرد پانی سے نہاؤں گا تو مر جاؤں گا یا بیمار پڑ جاؤں گا تو میں نے چپکے سے ایک انصاری کو کہا کہ آپ اونٹنی کی نکیل تھام لیجئے، چنانچہ وہ چلاتے رہے اور میں نے آگ سلگا کر پانی گرم کر کے غسل کیا، پھر دوڑ بھاگ کر قافلہ میں پہنچ گیا، آپ نے مجھے فرمایا ”اسلع کیا بات ہے؟، اونٹنی کی چال کیسے بگڑی ہوئی ہے؟، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے نہیں چلا رہا تھا بلکہ فلاں انصاری صاحب چلا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ کیوں؟“، تو میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا اس پر اللہ عزوجل نے «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا» ۱؎ [4-النساء:43] نازل فرمائی۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:877] یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
ابن مردویہ میں روایت ہے { سیدنا اسلع بن شریک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو چلا رہا تھا۔ جس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے، جاڑوں کا موسم تھا، رات کا وقت تھا، سخت سردی پڑ رہی تھی اور میں جنبی ہو گیا، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کوچ کا ارادہ کیا تو میں نے اپنی اس حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو چلانا پسند نہ کیا، ساتھ ہی یہ بھی خیال آیا کہ اگر سرد پانی سے نہاؤں گا تو مر جاؤں گا یا بیمار پڑ جاؤں گا تو میں نے چپکے سے ایک انصاری کو کہا کہ آپ اونٹنی کی نکیل تھام لیجئے، چنانچہ وہ چلاتے رہے اور میں نے آگ سلگا کر پانی گرم کر کے غسل کیا، پھر دوڑ بھاگ کر قافلہ میں پہنچ گیا، آپ نے مجھے فرمایا ”اسلع کیا بات ہے؟، اونٹنی کی چال کیسے بگڑی ہوئی ہے؟، میں نے کہا: یا رسول اللہ! میں اسے نہیں چلا رہا تھا بلکہ فلاں انصاری صاحب چلا رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”یہ کیوں؟“، تو میں نے سارا واقعہ کہہ سنایا اس پر اللہ عزوجل نے «يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَاَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَلَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِيْ سَبِيْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا وَاِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰٓى اَوْ عَلٰي سَفَرٍ اَوْ جَاءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَاىِٕطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَاءً فَتَيَمَّمُوْا صَعِيْدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَاَيْدِيْكُمْ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا» ۱؎ [4-النساء:43] نازل فرمائی۔ ۱؎ [طبرانی کبیر:877] یہ روایت دوسری سند سے بھی مروی ہے۔