ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 41

فَکَیۡفَ اِذَا جِئۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍۭ بِشَہِیۡدٍ وَّ جِئۡنَا بِکَ عَلٰی ہٰۤؤُلَآءِ شَہِیۡدًا ﴿ؕ؃۴۱﴾
پھر کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ En
بھلا اس دن کا کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتائے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا حال (بتانے کو) گواہ طلب کریں گے
En
پس کیا حال ہوگا جس وقت کہ ہر امت میں سے ایک گواه ہم ﻻئیں گے اور آپ کو ان لوگوں پر گواه بناکر ﻻئیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 41) اوپر کی آیتوں میں قیامت کے دن ظلم کی نفی اور کئی گنا اجر کا وعدہ فرمایا، اب یہاں بیان فرمایا جا رہا ہے کہ اچھا یا برا بدلہ پیغمبروں یا ان لوگوں کی گواہی سے ملے گا جن کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ نے اپنا پیغام اپنی مخلوق تک پہنچایا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت پر اور پہلی امتوں پر دین پہنچانے کی گواہی دیں گے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

41۔ 1 ہر امت میں سے اس کا پیغمبر اللہ کی بارگاہ میں گواہی دے گا کہ یا اللہ! ہم نے تو تیرا پیغام اپنی قوم کو پہنچا دیا تھا، اب انہوں نے نہیں مانا تو ہمارا کیا قصور؟ پھر ان سب پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گواہی دیں گے کہ یا اللہ سچے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ گواہی اس قرآن کی وجہ سے دیں گے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوا اور جس میں گزشتہ انبیاء اور ان کی قوموں کی سرگزشت بھی حسب ضرورت بیان کی گئی ہے۔ یہ ایک سخت مقام ہوگا، اس کا تصور ہی لرزہ براندام کردینے والا ہے، حدیث میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے قرآن سننے کی خواہش ظاہر فرمائی وہ سناتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بس اب کافی ہے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ میں دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دونوں آنکھوں سے آنسو رواں تھے، بعض لوگ کہتے ہیں کہ گواہی وہی دے سکتا ہے، جو سب کچھ آنکوں سے دیکھے۔ اس لئے وہ ' شہید ' (گواہ) کے معنی ' حاضر ناظر ' کے کرتے ہیں اور یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ' حاضر ناظر ' باور کراتے ہیں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر ناظر سمجھنا، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی صفت میں شریک کرنا ہے، جو شرک ہے، کیونکہ حاضر ناظر صرف اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ شہید کے لفظ سے ان کا استدلال اپنے اندر کوئی قوت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ شہادت یقینی علم کی بنیاد پر بھی ہوتی ہے اور قرآن میں بیان کردہ حقائق و واقعات سے زیادہ یقینی علم کس کا ہوسکتا ہے؟ اسی یقینی علم کی بنیاد پر خود امت محمدیہ کو بھی قرآن نے (شہدآء علی الناس) (تمام کائنات کے لوگوں پر گواہ) کہا ہے۔ اگر گواہی کے لیے حاضر و ناظر ہونا ضروری ہے تو پھر امت محمدیہ کے ہر فرد کو حاضر و ناظر ماننا پڑیگا۔ بہرحال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ عقیدہ مشرکانہ اور بےبنیاد ہے۔ اعاذنا اللہ منہ۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

41۔ (ذرا سوچو) اس وقت ان لوگوں کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر امت سے ایک [73] گواہ لائیں گے، پھر ان گواہوں پر (اے نبی آپ کو گواہ بنا دیں گے
[73] سابقہ امتوں پر آپ کی گواہی:۔
اس آیت میں میدان حشر کی کیفیت اور اللہ تعالیٰ کی عدالت کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس وقت ہر امت میں سے ایک گواہ لایا جائے گا جو اس امت کا نبی ہو گا اور وہ یہ گواہی دے گا کہ یا اللہ! میں نے تیرا پیغام اور تیرے احکام امت کو من و عن پہنچا دیئے تھے اور فلاں فلاں لوگوں نے تو انہیں تسلیم کر لیا تھا اور فلاں فلاں نے نافرمانی اور کفر کیا تھا لیکن اس امت کے نافرمان لوگ صاف مکر جائیں گے اور کہہ دیں گے کہ ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے والا آیا ہی نہ تھا۔ بالفاظ دیگر یہ نافرمان لوگ اللہ تعالیٰ کے دربار میں بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آئیں گے اور اپنے نبی کی شہادت کو جھٹلا کر اسے مشکوک بنا دینے کی کوشش کریں گے، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لایا جائے گا تو آپ ان انبیاء کی شہادت کی تصدیق کریں گے۔ اس وقت بھی نافرمان لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئیں گے اور کہیں گے کہ یہ تو اس وقت موجود ہی نہ تھے یہ کیسے انبیاء کی تصدیق کر سکتے ہیں؟ اس وقت آپ فرمائیں گے کہ میں تو منزل من اللہ وحی کی رو سے دنیا میں بھی سابقہ انبیاء کی تصدیق کرتا رہا پھر آج کیسے تصدیق نہ کروں گا۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا کہ ”مجھے کچھ قرآن سناؤ“ میں نے عرض کی ”بھلا میں آپ کو کیا سناؤں؟ آپ ہی پر تو قرآن اترا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ٹھیک ہے مگر مجھے دوسرے سے سننا اچھا لگتا ہے۔“ ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ ”پھر میں نے سورۃ نساء پڑھنا شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچا
﴿فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ....﴾
تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس کرو میں نے دیکھا تو اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔“
[بخاری، کتاب التفسیر]
اس آیت سے آپ کی تمام انبیاء پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ کیونکہ سابقہ تمام انبیاء پر شہادت دینے کا شرف آپ کو حاصل ہو گا۔ اور سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ جب سورۃ نساء پڑھتے پڑھتے اس آیت پر پہنچے، تو فرمایا کہ تشکر و امتنان اور مسرت و انبساط کی وجہ سے آپ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے یعنی ایک طرف تو اللہ کی عطا کردہ فضیلت پر انتہائی خوشی کی وجہ سے، دوسرے اللہ کی اس عطا پر انتہائی شکر گزاری کے طور پر آپ کے آنسو بہہ رہے تھے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

بے مثال خریدار؟ ٭٭
باری تعالیٰ رب العالمین فرماتا ہے کہ میں کسی پر ظلم نہیں کرتا، کسی کی نیکی کو ضائع نہیں کرتا، بلکہ بڑھا چڑھا کر قیامت کے روز اس کا اجر و ثواب عطا فرماؤں گا۔
جیسے فرمایا تھا «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا» ۱؎ [21-الأنبياء:47]‏‏‏‏ ’ ہم عدل کی ترازو رکھیں گے ‘۔
اور فرمایا کہ لقمان علیہ السلام نے اپنے صاحبزادے سے فرمایا تھا «يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16]‏‏‏‏ ’ اے بیٹے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے برابر ہو گو وہ کسی پتھر میں یا آسمانوں میں ہو یا زمین کے اندر ہو اللہ اسے لا حاضر کرے گا، بیشک اللہ تعالیٰ باریک بین خریدار ہے ‘۔
اور جگہ فرمایا «يَوْمَئِذٍ يَصْدُرُ النَّاسُ أَشْتَاتًا لِّيُرَوْا أَعْمَالَهُمْ» * «فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ» * «وَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ» ‏‏‏‏۱؎ [99-الزلزلة:6-8]‏‏‏‏ ’ اس دن لوگ اپنے مختلف احوال پر لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ برابر برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا ‘۔
بخاری و مسلم کی شفاعت کے ذکر والی مطول حدیث میں ہے کہ پھر اللہ فرمائے گا لوٹ کر جاؤ اور جس کے دل میں رائی کے دانے برابر ایمان دیکھو اسے جہنم سے نکال لاؤ۔ ‏‏‏‏۱؎ [صحیح بخاری:7439]‏‏‏‏ پس بہت سی مخلوق جہنم سے آزاد ہو گی۔
ابوسعید رحمہ اللہ یہ حدیث بیان فرما کر فرماتے ہیں اگر تم چاہو تو آیت قرآنی کے اس جملے کو پڑھ لو «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40]‏‏‏‏
ابن ابی حاتم میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا فرمان مروی ہے کہ قیامت کے دن کسی اللہ کے بندے یا بندی کو لایا جائے گا اور ایک پکارنے والا سب اہل محشر کو با آواز بلند سنا کر کہے گا یہ فلاں کا بیٹا یا بیٹی ہے اس کا نام یہ ہے جس کسی کا کوئی حق اس کے ذمہ باقی ہو وہ آئے اور لے جائے اس وقت یہ حالت ہو گی کہ عورت چاہے گی کہ اس کا کوئی حق اس کے باپ پر یا ماں پر یا بھائی پر یا شوہر پر ہو تو دوڑ کر آئے اور لے۔ «فَإِذَا نُفِخَ فِي الصُّورِ فَلَا أَنسَابَ بَيْنَهُمْ يَوْمَئِذٍ وَلَا يَتَسَاءَلُونَ» ۱؎ [23-المؤمنون:101]‏‏‏‏ ’ رشتے ناتے کٹ جائیں گے کوئی کسی کا پر سان حال نہ ہو گا ‘۔
اللہ تعالیٰ اپنا جو حق چاہے معاف فرما دے گا لیکن لوگوں کے حقوق میں سے کوئی حق معاف نہ فرمائے گا اسی طرح جب کوئی حقدار آئے گا تو کہا جائے گا کہ ان کے حق ادا کر یہ کہے گا دنیا تو ختم ہو چکی آج میرے ہاتھ میں کیا ہے جو میں دوں؟ پس اس کے نیک اعمال لیے جائیں گے اور حقداروں کو دئیے جائیں گے اور ہر ایک کا حق اسی طرح ادا کیا جائے گا۔
اب یہ شخص اگر اللہ کا دوست ہے تو اس کے پاس ایک رائی کے دانے برابر نیکی بچ رہے گی جسے بڑھا چڑھا کر صرف اسی کی بنا پر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں لے جائے گا پھر آپ نے اسی آیت کی تلاوت کی اور اگر وہ بندہ اللہ کا دوست نہیں ہے بلکہ بدبخت اور سرکش ہے تو یہ حال ہو گا کہ فرشتہ کہے گا کہ باری تعالیٰ اس کی سب نیکیاں ختم ہو گئیں اور ابھی حقدار باقی رہ گئے حکم ہو گا کہ ان کی برائیاں لے کر اس پر لاد دو پھر اسے جہنم واصل کرو۔ «اعاذنا اللہ منہا» اس موقوف اثر کے بعض شواہد مرفوع احادیث میں بھی موجود ہیں۔
ابن ابی حاتم میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ آیت «مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا» ۱؎ [6-الأنعام:160]‏‏‏‏ اعراب کے بارے میں اتری ہے اس پر ان سے سوال ہوا کہ پھر مہاجرین کے بارے میں کیا ہے، آپ نے فرمایا: اس سے بہت ہی اچھی آیت «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40]‏‏‏‏۔
سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشرک کے بھی عذابوں میں اس کے باعث کمی کر دی جاتی ہے ہاں جہنم سے نکلے گا تو نہیں، چنانچہ صحیح حدیث میں ہے کہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! آپ کے چچا ابوطالب آپ کے پشت پناہ بنے ہوئے تھے، آپ کو لوگوں کی ایذاؤں سے بچاتے رہتے تھے، آپ کی طرف سے ان سے لڑتے تھے، تو کیا انہیں کچھ نفع بھی پہنچے گا، آپ نے فرمایا ہاں وہ بہت تھوڑی سی آگ میں ہے اور اگر میرا یہ تعلق نہ ہوتا تو جہنم کے نیچے کے طبقے میں ہوتا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:209]‏‏‏‏
لیکن یہ بہت ممکن ہے کہ یہ فائدہ صرف ابوطالب کے لیے ہی ہو یعنی اور کفار اس حکم میں نہ ہوں اس لیے کہ مسند طیالسی کی حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ مومن کی کسی نیکی پر ظلم نہیں کرتا دنیا میں روزی رزق وغیرہ کی صورت میں اس کا بدلہ ملتا رہے گا اور آخرت میں اجر و ثواب کی شکل میں بدلہ ملے گا۔ ہاں کافر تو اپنی نیکی دنیا میں ہی کھا جاتا ہے قیامت کے دن اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہو گی۔۱؎ [صحیح مسلم:2808]‏‏‏‏
«اجر عظیم» سے مراد اس آیت میں جنت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم لطف و رحم سے اپنی رضا مندی عطا فرمائے اور جنت نصیب کرے۔ آمین
مسند احمد کی ایک غریب حدیث میں ہے ابوعثمان رحمہ اللہ فرماتے ہیں مجھے خبر ملی کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہے اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کو ایک نیکی کے بدلے ایک لاکھ نیکی کا ثواب دے گا مجھے بڑا تعجب ہوا اور میں نے کہا: ابوہریرہ کی خدمت میں تم سے زیادہ رہا ہوں میں نے تو کبھی آپ سے یہ حدیث نہیں سنی اب میں نے پختہ ارادہ کر لیا کہ جاؤں، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مل کر ان سے خود پوچھ آؤں چنانچہ میں نے سامان سفر درست کیا اور اس روایت کی چھان بین کے لیے روانہ ہوا معلوم ہوا کہ وہ تو حج کو گئے ہیں تو میں بھی حج کی نیت سے وہاں پہنچا، ملاقات ہوئی تو میں نے کہا: ابوہریرہ! میں نے سنا آپ نے ایسی حدیث بیان کی ہے؟ کیا یہ سچ ہے؟ آپ نے فرمایا کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے؟ تم نے قرآن میں نہیں پڑھا؟ کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص اللہ کو اچھا قرض دے اللہ اسے بہت بہت بڑھا کر عنایت فرماتا ہے اور دوسری آیت میں ساری دنیا کو کم کہا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کی قسم! میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک نیکی کو بڑھا کر اس کے بدلے دو لاکھ ملیں گی۔ ۱؎ [مسند احمد:2/521:ضعیف]‏‏‏‏ یہ حدیث اور طریقوں سے بھی مروی ہے۔
پھر قیامت کے دن کی سختی اور ہولناکی بیان فرما رہا ہے کہ اس دن انبیاء علیہ السلام کو بطور گواہ کے پیش کیا جائے گا جیسے اور آیت میں ہے «وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا وَوُضِعَ الْكِتَابُ وَجِيءَ بِالنَّبِيِّينَ وَالشُّهَدَاءِ وَقُضِيَ بَيْنَهُم بِالْحَقِّ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ» ۱؎ [39-الزمر:69]‏‏‏‏ ’ زمین اپنے رب کے نور سے چمکنے لگے گی نامہ اعمال دئیے جائیں گے اور نبیوں اور گواہوں کو لاکھڑا کیا جائے گا ‘۔
اور جگہ فرمان ہے «وَيَوْمَ نَبْعَثُ فِي كُلِّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِم مِّنْ أَنفُسِهِمْ» ۱؎ [16-النحل:89]‏‏‏‏ ’ ہر امت پر انہی میں سے ہم گواہ کھڑا کریں گے‘۔
صحیح بخاری شریف میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: مجھے کچھ قرآن پڑھ کر سناؤ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ! میں آپ کو کیا پڑھ کر سناؤں گا، آپ پر تو اترا ہی ہے، فرمایا: ہاں لیکن میرا جی چاہتا ہے کہ دوسرے سے سنوں، پس میں نے سورۃ نساء کی تلاوت شروع کی پڑھتے پڑھتے جب میں نے اس آیت «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41]‏‏‏‏ کی تلاوت کی تو آپ نے فرمایا بس کرو میں نے دیکھا کہ آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:5050]‏‏‏‏
سیدنا محمد بن فضالہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ قبیلہ بنی ظفر کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چٹان پر بیٹھ گئے جو اب تک ان کے محلے میں ہے، آپ کے ساتھ سیدنا ابن مسعود، سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم بھی تھے، آپ نے ایک قاری سے فرمایا: قرآن پڑھو، پڑھتے پڑھتے جب اس آیت «فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِن كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَـؤُلَاءِ شَهِيدًا» ۱؎ [4-النساء:41]‏‏‏‏ تک پہنچا تو آپ اس قدر روئے کہ دونوں رخسار اور داڑھی تر ہو گئی اور عرض کرنے لگے، یا رب! جو موجود ہیں ان پر تو خیر میری گواہی ہو گی لیکن جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہی نہیں ان کی بابت کیسے؟ ۱؎ [مسند احمد:374/1:حسن]‏‏‏‏ [ابن ابی حاتم]‏‏‏‏
ابن جریر میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں ان پر گواہ ہوں جب تک کہ ان میں ہوں پس جب تو مجھے فوت کرے گا تب تو تو ہی ان پر نگہبان ہے۔ ۱؎ [:تفسیر ابن جریر الطبری:9520:صحیح]‏‏‏‏
ابوعبداللہ قرطبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب تذکرہ میں باب باندھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی امت پر شہادت کے بارے میں کیا آیا ہے؟ اس میں سعید بن مسیب رحمہ اللہ کا یہ قول لائے ہیں کہ ہر دن صبح شام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر آپ کی امت کے اعمال پیش کئے جاتے ہیں مع ناموں کے پس آپ قیامت کے دن ان سب پر گواہی دیں گے پھر یہی آیت تلاوت فرمائی لیکن اولاً تو یہ سعید رحمہ اللہ کا خود کا قول ہے، دوسرے یہ کہ اس کی سند میں انقطاع ہے، اس میں ایک راوی مبہم ہے جس کا نام ہی نہیں تیسرے یہ حدیث مرفوع کر کے بیان ہی نہیں کرتے۔ ہاں امام قرطبی رحمہ اللہ اسے قبول کرتے ہیں وہ اس کے لانے کے بعد فرماتے ہیں کہ پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے ہر پیر اور ہر جمعرات کو اعمال پیش کئے جاتے ہیں پس وہ انبیاء علیہ السلام پر اور ماں باپ پر ہر جمعہ کو پیش کئے جاتے ہیں اور اس میں کوئی تعارض نہیں ممکن ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر جمعہ کو بھی پیش ہوتے ہوں اور ہر دن بھی (‏‏‏‏ٹھیک یہی ہے کہ یہ بات صحت کے ساتھ ثابت نہیں واللہ اعلم۔ مترجم)‏‏‏‏‏‏‏‏
پھر فرماتا ہے کہ اس دن کافر اور رسول کا نافرمان آرزو کرے گا کہ کاش زمین پھٹ جاتی اور یہ اس میں سما جاتا پھر زمین برابر ہو جاتی کیونکہ ناقابل برداشت ہولناکیوں، رسوائیوں اور ڈانٹ ڈپٹ سے گھبرا اٹھے گا، جیسے اور آیت میں ہے «يَّوْمَ يَنْظُرُ الْمَرْءُ مَا قَدَّمَتْ يَدٰهُ وَيَقُوْلُ الْكٰفِرُ يٰلَيْتَــنِيْ كُنْتُ تُرٰبًا» ۱؎ ‏‏‏‏[78-النبأ:40]‏‏‏‏ جس دن انسان اپنے آگے بھیجے ہوئے اعمال اپنی آنکھوں دیکھ لے گا اور کافر کہے گا کاش کہ میں مٹی ہو گیا ہوتا۔
پھر فرمایا یہ ان تمام بدافعالیوں کا اس دن اقرار کریں گے جو انہوں نے کی تھیں اور ایک چیز بھی پوشیدہ نہ رکھیں گے۔
ایک شخص نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا ایک جگہ تو قرآن میں ہے کہ مشرکین قیامت کے دن کہیں گے «وَاللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ» ۱؎ [6-الأنعام:23]‏‏‏‏‏‏‏‏ اللہ تعالیٰ کی قسم رب کی قسم ہم نے شرک نہیں کیا اور دوسری جگہ ہے کہ «وَلَا يَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِيْثًا» ۱؎ ‏‏[4-النساء:42]‏‏‏‏ اللہ سے ایک بات بھی نہ چھپائیں گے پھر ان دونوں آیتوں کا کیا مطلب ہے؟ آپ نے فرمایا اس کا اور وقت ہے اس کا وقت اور ہے اور جب موحدوں کو جنت میں جاتے ہوئے دیکھیں گے تو کہیں گے آؤ تم بھی اپنے شرک کا انکار کرو کیا عجب کام چل جائے۔ پھر ان کے منہ پر مہریں لگ جائیں گی اور ہاتھ پاؤں بولنے لگیں گے اب اللہ تعالیٰ سے ایک بات بھی نہ چھپائیں گے۔ [ابن جریر]‏‏‏‏
مسند عبدالزاق میں ہے کہ اس شخص نے آ کر کہا تھا بہت سی چیزیں مجھ پر قرآن میں مختلف ہوتی، آپ نے فرمایا کیا مطلب تجھے کیا قرآن میں شک ہے؟ اس نے کہا شک تو نہیں ہاں میری سمجھ میں اختلاف نظر آ رہا ہے، آپ نے فرمایا جہاں جہاں اختلاف تجھے نظر آیا ہو ان مقامات کو پیش کر، تو اس نے یہ دو آیتیں پیش کیں کہ ایک سے چھپانا ثابت ہوتا ہے، دوسرے سے نہ چھپانا پایا جاتا ہے، تو آپ نے اسے یہ جواب دے کر دونوں آیتوں کی تطبیق سمجھا دی۔ ایک اور روایت میں سائل کا نام بھی آیا ہے کہ وہ نافع بن ازرق تھے یہ بھی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان سے یہ بھی فرمایا کہ شاید تم کسی ایسی مجلس سے آ رہے ہو جہاں ان کا تذکرہ ہو رہا ہو گا یا تم نے کیا ہو گا کہ میں جاتا ہوں اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کرتا ہوں اگر میرا یہ گمان صحیح ہے تو تمہیں لازم ہے کہ جواب سن کر انہیں بھی جا کر سنا دو پھر یہی جواب دیا۔