اے لوگو! بلا شبہ تمھارے پاس یہ رسول حق کے ساتھ تمھارے رب کی طرف سے آیا ہے، پس تم ایمان لے آئو، تمھارے لیے بہتر ہوگا اور اگر کفر کرو تو بے شک اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔
En
لوگو! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خداہی کا ہے اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے
اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف حق لے کر رسول آگیا ہے، پس تم ایمان ﻻؤ تاکہ تمہارے لئے بہتری ہو اور اگر تم کافر ہوگئے تو اللہ ہی کی ہے ہر وه چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور اللہ دانا ہے حکمت واﻻ ہے
En
(آیت 170) {يٰۤاَيُّهَاالنَّاسُقَدْجَآءَكُمُالرَّسُوْلُبِالْحَقِّ ……:} متعدد طریقوں سے یہود کے اعتراضات و شبہات کی تردید اور قرآن کی حقانیت ثابت کرنے کے بعد اب سب لوگوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت اور قرآن پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے، جن میں یہود بھی شامل ہیں کہ جب یہ رسول برحق ہے اور قرآن بھی اﷲ کی سچی کتاب ہے تو تمھیں لازم ہے کہ اس دعوت کو قبول کر لو، اس میں تمھارا بھلا ہے اور انجام کے لحاظ سے بھی بہتر ہے، ورنہ یاد رکھو کہ زمین و آسمان میں جتنی مخلوق ہے سب کا مالک اﷲ تعالیٰ ہے، اس کا تمھارے ایمان نہ لانے سے کچھ نہیں بگڑتا۔ دیکھیے سورۂ ابراہیم(۸)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
170۔ 1 یعنی تمہارے کفر سے اللہ کا کیا بگڑے گا جیسے حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا (اِنْتَكْفُرُوْٓااَنْتُمْوَمَنْفِيالْاَرْضِجَمِيْعًا ۙ فَاِنَّاللّٰهَلَغَنِيٌّحَمِيْدٌ) 14:8 (ابراہیم۔ 8) اگر تم اور روئے زمین پر بسنے والے سب کے سب کفر کا راستہ اختیار کرلیں تو وہ اللہ کا کیا بگاڑیں گے؟ یقیناً اللہ تعالیٰ تو بےپروا تعریف کیا گیا ہے، اور حدیث قدسی میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ' اے میرے بندو! اگر تمہارے اوّل وآخر تمام انسان اور جن اس ایک آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں جو تم میں سب میں متقی ہے تو اس سے میری بادشاہی میں اضافہ نہیں ہوگا اور اگر تمہارے اول و اخر انس و جن اس کے ایک آدمی کے دل کی طرح ہوجائیں جو تم میں سب میں بڑا نافرمان ہے تو اس سے میری اس سے میری بادشاہی میں کوئی کمی نہیں ہوگی۔ اے میرے بندو! اگر تم سب ایک میدان میں جمع ہوجاؤ اور مجھ سے سوال کرو اور میں ہر انسان کو اس کے سوال کے مطابق عطا کروں تو اس سے میرے خزانے میں اتنی ہی کمی ہوگی جتنی سوئی کے سمندر میں ڈبو کر نکالنے سے سمندر کے پانی میں ہوتی ہے (صحیح مسلم کتاب البر، باب تحریم، الظلم)
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
170۔ لوگو! تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے رسول دین حق [223] لے کر آچکا ہے لہذا تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ تم ایمان لے آؤ اور کفر کرو گے تو (یاد رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب اللہ ہی کا ہے اور اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے
[223] یعنی اللہ کی طرف سے تم پر اتمام حجت ہو چکی ہے اور روز آخرت تمہارے پاس پیش کرنے کو کوئی عذر نہ ہو گا اور سب شہادتیں تمہارے خلاف جائیں گی لہٰذا بہتر یہی ہے کہ بروقت سنبھل جاؤ اور رسول پر اور اللہ کی آیات پر ایمان لا کر اخروی زندگی سنوار لو، ورنہ اس روز اللہ کی گرفت اور اس کے عذاب سے کبھی بچ نہ سکو گے۔ جو کائنات کی ہر چیز پر مکمل قبضہ و اختیار رکھتا ہے۔ وہ تمہاری سب شرارتوں کو بھی جانتا ہے اور اپنے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں سے نمٹنے کا طریقہ بھی اسے آتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔