ترجمہ و تفسیر — سورۃ النساء (4) — آیت 168

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَ ظَلَمُوۡا لَمۡ یَکُنِ اللّٰہُ لِیَغۡفِرَ لَہُمۡ وَ لَا لِیَہۡدِیَہُمۡ طَرِیۡقًا ﴿۱۶۸﴾ۙ
بے شک جن لوگوں نے کفر کیا اور ظلم کیا اللہ کبھی ایسا نہیں کہ انھیں بخشے اور نہ یہ کہ انھیں کسی راستے کی ہدایت دے۔ En
جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں رستہ ہی دکھائے گا
En
جن لوگوں نے کفر کیا اور ﻇلم کیا، انہیں اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز نہ بخشے گا اور نہ انہیں کوئی راه دکھائے گا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 168) {اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا ……:} ان کی گمراہی کی کیفیت بیان کرنے کے بعد اب ان کو وعید سنائی جا رہی ہے۔ (کبیر) یعنی گناہوں کا ارتکاب کرکے اپنی جانوں پر ظلم کیا، یا آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کو چھپا کر ان پر ظلم کیا، یا دوسرے لوگوں کو اسلام سے برگشتہ کر کے ان پر ظلم کیا۔ (قرطبی)

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

168۔ 1 کیونکہ مسلسل کفر اور ظلم کا ارتکاب کر کے، انہوں نے اپنے دلوں کو سیاہ کرلیا جس سے اب ان کی ہدایت و مغفرت کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

168۔ بلا شبہ جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے اللہ انہیں ہرگز نہ بخشے گا اور نہ ہی انہیں جہنم کی راہ کے سوا کوئی دوسرا راہ دکھائے گا

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔