وَ اِنۡ مِّنۡ اَہۡلِ الۡکِتٰبِ اِلَّا لَیُؤۡمِنَنَّ بِہٖ قَبۡلَ مَوۡتِہٖ ۚ وَ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ یَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ شَہِیۡدًا ﴿۱۵۹﴾ۚ
اور اہل کتاب میں کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے اس پر ضرور ایمان لائے گا اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوگا۔
En
اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔ اور وہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے
En
اہل کتاب میں ایک بھی ایسا نہ بچے گا جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت سے پہلے ان پر ایمان نہ ﻻچکے اور قیامت کے دن آپ ان پر گواه ہوں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 159) ➊ {وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ:} اس آیت کے دو مطلب ہیں اور دونوں درست ہیں، پہلا تو یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کا ہر شخص اپنے مرنے سے پہلے عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور ان کے زندہ اٹھائے جانے پر ایمان لے آئے گا، مگر یہ اس وقت کی بات ہے جب موت سامنے آ جاتی ہے، جیسا کہ فرعون مرتے وقت ایمان لے آیا تھا، مگر اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ دوسرا مطلب یہ ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام قیامت کے قریب عادل حاکم کی صورت میں اتریں گے اور دجال اور دوسرے تمام کفار سے جہاد کریں گے، تو ان کی موت سے پہلے پہلے تمام دنیا میں اسلام غالب ہو جائے گا۔ یہود و نصاریٰ یا تو مقابلے میں قتل ہو جائیں گے، یا اسلام لے آئیں گے۔ عیسیٰ علیہ السلام صلیب توڑ دیں گے، جزیہ ختم کر دیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، چنانچہ جب عیسیٰ علیہ السلام فوت ہوں گے تو ان کی وفات سے پہلے ہر موجود یہودی اور نصرانی ان کی نبوت اور ان کے آسمان پر زندہ اٹھائے جانے اور دوبارہ اترنے پر ایمان لا چکا ہو گا۔ چنانچہ بخاری اور مسلم میں مذکور اس حدیث کے آخر میں ہے کہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کر کے فرماتے: ”اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو: «وَ اِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ» ”اور اہل کتاب میں سے کوئی نہیں مگر اس کی موت سے پہلے ضرور اس پر ایمان لائے گا۔“
➋ {وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا:} اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۱۷)۔
➋ {وَ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ يَكُوْنُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا:} اس جملے کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ مائدہ (۱۱۷)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
159۔ 1 قبل موتہ میں ہ ضمیر کا مرجع بعض مفسرین کے نزدیک اہل کتاب (نصاریٰ) ہیں اور مطلب یہ کہ ہر عیسائی موت کے وقت حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لے آتا ہے۔ گو موت کے وقت ایمان نافع نہیں۔ لیکن سالف اور اکثر مفسرین کے نزدیک اس کا مرجع حضرت عیسیٰ ؑ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جب ان کا دوبارہ دنیا میں نزول ہوگا اور وہ دجال کو قتل کر کے اسلام کا بول بالا کریں گے تو اس وقت جتنے یہودی اور عیسائی ہونگے ان کو بھی قتل کر ڈالیں گے اور روئے زمین پر مسلمان کے سوا کوئی اور باقی نہ بچے گا اس طرح دنیا میں جتنے بھی اہل کتاب حضرت عیسیٰ ؑ پر ایمان لانے والے ہیں وہ حضرت عیسیٰ ؑ کی موت سے پہلے پہلے ان پر ایمان لا کر اس دنیا سے گزر چکے ہونگے۔ خواہ ان کا ایمان کسی بھی دھنگ کا ہو۔ صحیح احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ضرور ایک وقت آئے گا کہ تم میں ابن مریم حاکم و عادل بن کر نازل ہوں گے، وہ صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کردیں گے، جزیہ اٹھا دیں گے اور مال کی اتنی بہتات ہوجائے گی کہ کوئی اسے قبول کرنے والا نہیں ہوگا۔ یعنی صدقہ خیرات لینے والا کوئی نہیں ہوگا۔ حتی کہ ایک سجدہ دنیا ومافیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر حضرت ابو ہریرۃ ؓ فرماتے اگر تم چاہو تو قرآن کی یہ آیت پڑھ لو " وان من اھل الکتب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ " (صحیح بخاری۔ کتاب الانبیاء) یہ احادیث اتنی کثرت سے آئی ہیں کہ انہیں تواتر کا درجہ حاصل ہے اور انہی متواتر صحیح روایات کی بنیاد پر اہلسنت کے تمام مکاتب کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ آسمان پر زندہ ہیں اور قیامت کے قریب دنیا میں ان کا نزول ہوگا اور دجال کا اور تمام ادیان کا خاتمہ فرما کر اسلام کو غالب فرمائیں گے۔ یاجوج ماجوج کا خروج بھی حضرت عیسیٰ ؑ ہی کی موجودگی میں ہوگا اور حضرت عیسیٰ ؑ کی دعا کی برکت سے ہی اس فتنے کا بھی خاتمہ ہوگا جیسا کہ احادیث سے واضح ہے۔ 159۔ 2 یہ گواہی اپنی پہلی زندگی کے حالات سے متعلق ہوگی جیسا کہ سورة مائدہ کے آخر میں وضاحت ہے (وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيْدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ) 5۔ المائدہ:117) ' میں جب تک ان میں موجود رہا، ان کے حالات سے باخبر رہا ـ '
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
159۔ اور یہ جتنے اہل کتاب ہیں عیسیٰ ابن مریم کی (طبعی) موت سے پہلے ضرور اس پر ایمان [208] لائیں گے اور قیامت کے دن وہ ان کے خلاف گواہی دیں گے
[208] یعنی جب قیامت کے نزدیک عیسیٰؑ آسمان سے اس دنیا پر نزول فرمائیں گے تو سارے اہل کتاب (یہود بھی عیسائی بھی) سیدنا عیسیٰؑ کی طبعی موت سے پیشتر ان پر ضرور ایمان لائیں گے۔ اس ضمن میں درج ذیل احادیث خاصی روشنی ڈالتی ہیں: 1۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ عنقریب تم میں ابن مریم عادل حکمران کی حیثیت سے نازل ہوں گے۔ وہ صلیب توڑ ڈالیں گے، جزیہ اٹھا دیں گے۔ اس زمانے میں مال کی اتنی کثرت ہو گی کہ اسے کوئی قبول نہ کرے گا اور ایک سجدہ ان کے نزدیک دنیا و مافیہا سے بہتر ہو گا۔ اگر چاہو تو پڑھ لو۔
«وان من اهل الكتٰب الا ليومنن به قبل موته»
[بخاري، كتاب الانبياء، باب نزول عيسيٰ بن مريم۔۔ مسلم، كتاب الايمان، باب نزول عيسيٰ بن مريم]
2۔ سیدنا ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس وقت تمہارا کیا حال ہو گا جب عیسیٰ بن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔ (یعنی وہ بھی شریعت محمدی کی پیروی کریں گے۔)“
[بخاری، کتاب الانبیاء، باب نزول عیسیٰ بن مریم]
3۔ عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ”میں رات کو اپنے تئیں خواب میں دیکھتا ہوں جیسے میں کعبہ کے پاس ہوں۔ میں نے دیکھا کہ ایک خوش شکل آدمی، گندمی رنگ، بال کندھوں تک اور سنہرے تھے اور سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ وہ اپنے دونوں ہاتھوں کو دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے کعبہ کا طواف کر رہا ہے۔ میں نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا ’یہ مسیح ابن مریم ہیں۔ ‘ ان کے پیچھے میں نے ایک اور شخص کو دیکھا جس کے بال سخت گھونگریالے، رنگ کا سرخ اور داہنی آنکھ سے کانا اور اس کی آنکھ جیسے پھولا ہوا انگور ہو، جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سے عبد العزیٰ بن قطن کے بہت مشابہ جو دور جاہلیت میں مر گیا تھا اپنے دونوں ہاتھ ایک شخص کے کندھوں پر رکھے طواف کر رہا ہے۔ میں نے پوچھا 'یہ کون ہے؟' لوگوں نے کہا 'یہ مسیح دجال ہے۔
[حواله ايضاً]
4۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میری امت میں سے ایک جماعت ہمیشہ حق پر لڑتی رہے گی اور قیامت تک غالب رہے گی۔ پھر عیسیٰ بن مریم نازل ہوں گے تو اس جماعت کا امیر کہے گا آئیے! ہمیں نماز پڑھائیے۔“ وہ کہیں گے ”نہیں! اللہ کی طرف سے اس امت کو یہ شرف حاصل ہے کہ ان میں سے ہی کوئی دوسروں پر امیر ہو۔“
[مسلم، کتاب الایمان۔ باب نزول عیسیٰ بن مریم]
5۔
نزول مسیح اور فتنہ دجال:۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال اسی حال میں ہو گا کہ اللہ مسیح ابن مریم کو مبعوث فرمائے گا جو دمشق کے شرقی سفید مینار کے پاس اتریں گے اور زرد رنگ کا جوڑا پہنے اور اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے بازوؤں پر رکھے ہوں گے۔ جب اپنا سر جھکائیں گے تو قطرے ٹپکیں گے اور جب اٹھائیں گے تو بھی موتیوں کی طرح قطرے گریں گے۔ کافر ان کے سانس کی بو پاتے ہی مر جائے گا اور ان کا سانس حد نگاہ تک پہنچے گا۔ پھر وہ دجال کی تلاش کریں گے تو اسے باب لد پر پائیں گے۔ پھر اسے قتل کر دیں گے۔“
[مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال]
6۔ عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال میری امت میں نکلے گا تو وہ چالیس۔۔ رہے گا مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن یا چالیس ماہ یا چالیس سال۔ (نواس بن سمعان کی روایت میں چالیس دن ہے) پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا۔ وہ ایسے ہوں گے جیسے عروہ بن مسعود ہے۔ عیسیٰ دجال کو تلاش کریں گے پھر اسے مار ڈالیں گے۔ پھر سات سال تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ دو آدمیوں میں دشمنی نہ ہو گی۔“
[مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال]
[مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال]
6۔ عبد اللہ بن عمرؓ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دجال میری امت میں نکلے گا تو وہ چالیس۔۔ رہے گا مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن یا چالیس ماہ یا چالیس سال۔ (نواس بن سمعان کی روایت میں چالیس دن ہے) پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو بھیجے گا۔ وہ ایسے ہوں گے جیسے عروہ بن مسعود ہے۔ عیسیٰ دجال کو تلاش کریں گے پھر اسے مار ڈالیں گے۔ پھر سات سال تک لوگ اس طرح رہیں گے کہ دو آدمیوں میں دشمنی نہ ہو گی۔“
[مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال]
اہل کتاب کا سیدنا عیسیٰ پر ایمان لانا:۔
اہل کتاب میں سے عیسائی تو پہلے ہی رفع عیسیٰؑ کے قائل ہیں البتہ یہودی بزعم خود ضرور یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا عیسیٰؑ کو سولی پر چڑھا کر مار ڈالا تھا۔ قیامت کے قریب جب سیدنا عیسیٰ نزول فرمائیں گے تو ان کی شان و شوکت کو دیکھ کر یہود کو بھی اعتراف کرنا پڑے گا کہ سیدنا عیسیٰؑ واقعی اللہ کے رسول تھے اور انہوں نے ولد الحرام ہونے سے متعلق جو الزام لگایا تھا وہ سراسر غلط تھا۔ نیز ان کا یہ گمان باطل کہ انہوں نے سیدنا عیسیٰؑ کو مار ڈالا ہے، بھی غلط ثابت ہو جائے گا۔
نزول عیسیٰ کے منکرین کی تاویل:۔
بعض منکرین معجزات یہ کہتے ہیں کہ:
﴿وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ﴾
کی ضمیر اہل کتاب کی طرف لوٹتی ہے۔ اس لحاظ سے وہ اس کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ اہل کتاب اپنی موت کے وقت جبکہ غیب کے سب پردے ہٹ جاتے ہیں مرنے سے پیشتر ضرور عیسیٰؑ کی رسالت اور نبوت پر ایمان لے آئیں گے۔ اس تاویل کے بعد وہ احادیث مندرجہ بالا کو ناقابل اعتماد قرار دے کر نزول مسیح سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہ تاویل اس لحاظ سے غلط ہے کہ موت کے وقت غیب کے پردے ہٹ جانے سے تو بے شمار حقائق منکشف ہو جاتے ہیں اور یہود کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ جن جن انبیاء کو یہود نے جھوٹا سمجھ کر قتل کر دیا تھا وہ سب سچے تھے پھر اس میں سیدنا عیسیٰ کی کیا تخصیص رہ گئی اور ان کی کیا خصوصیت اور فوقیت ثابت ہوئی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے؟ علاوہ ازیں ہمیں کوئی کمزور سے کمزور روایت بھی ایسی نہیں ملتی جو ان لوگوں کے اس نظریہ کی تائید کرتی ہو۔ جبکہ نزول عیسیٰ سے متعلق اس قدر احادیث کتب احادیث میں موجود ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔
﴿وَاِنْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهٖ قَبْلَ مَوْتِهٖ﴾
کی ضمیر اہل کتاب کی طرف لوٹتی ہے۔ اس لحاظ سے وہ اس کا مطلب یہ بتاتے ہیں کہ اہل کتاب اپنی موت کے وقت جبکہ غیب کے سب پردے ہٹ جاتے ہیں مرنے سے پیشتر ضرور عیسیٰؑ کی رسالت اور نبوت پر ایمان لے آئیں گے۔ اس تاویل کے بعد وہ احادیث مندرجہ بالا کو ناقابل اعتماد قرار دے کر نزول مسیح سے انکار کر دیتے ہیں۔ یہ تاویل اس لحاظ سے غلط ہے کہ موت کے وقت غیب کے پردے ہٹ جانے سے تو بے شمار حقائق منکشف ہو جاتے ہیں اور یہود کو یہ بھی معلوم ہو جائے گا کہ جن جن انبیاء کو یہود نے جھوٹا سمجھ کر قتل کر دیا تھا وہ سب سچے تھے پھر اس میں سیدنا عیسیٰ کی کیا تخصیص رہ گئی اور ان کی کیا خصوصیت اور فوقیت ثابت ہوئی جو اس آیت میں بیان کی گئی ہے؟ علاوہ ازیں ہمیں کوئی کمزور سے کمزور روایت بھی ایسی نہیں ملتی جو ان لوگوں کے اس نظریہ کی تائید کرتی ہو۔ جبکہ نزول عیسیٰ سے متعلق اس قدر احادیث کتب احادیث میں موجود ہیں جو حد تواتر کو پہنچتی ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک شخص سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا کہ یہ کیا بات ہے جو مجھے پہنچی ہے کہ آپ فرماتے ہیں قیامت یہاں یہاں تک آ جائے گی آپ نے سبحان اللہ یا لا الہٰ الا اللہ کہہ کر فرمایا میرا تو اب جی چاہتا ہے کہ تمہیں اب کوئی حدیث ہی نہ سناؤں، میں نے تو یہ کہا تھا کہ کچھ زمانے کے بعد تم بڑے بڑے امر دیکھو گے، بیت اللہ جلا دیا جائے گا اور یہ ہو گا وہ ہو گا وغیرہ۔
پھر فرمایا { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دجال نکلے گا اور میری امت میں چالیس تک ٹھہرے گا، مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، آپ کی صورت مثل سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہے۔ آپ اسے تلاش کر کے قتل کریں گے پھر سات سال تک لوگ اسی طرح رہیں گے کہ وہ بھی کچھ عداوت ہو گی،
پھر ٹھنڈی ہوا شام کی طرف سے چلے گی اور سب ایمان والوں کو فوت کر دے گی، جس کے دل میں ایک ذرے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہو گا اگرچہ وہ کسی پہاڑ کے غار میں ہو وہ بھی فوت ہو جائے گا، پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور درندوں جیسے دماغوں والے ہوں گے، اچھائی برائی کی کی کوئی تمیز ان میں نہ ہو گی۔
شیطان ان کے پاس انسانی صورت میں آ کر انہیں بت پرستی کی طرف مائل کرے گا لیکن ان کی اس حالت میں بھی ان کی روزی کے دوازے ان پر کھلے ہوں گے اور زندگی بہ آرام گذر رہی ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا، جس سے لوگ گرنے مرنے لگیں گے،}
پھر فرمایا { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ دجال نکلے گا اور میری امت میں چالیس تک ٹھہرے گا، مجھے نہیں معلوم کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال۔ پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو بھیجے گا، آپ کی صورت مثل سیدنا عروہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ہے۔ آپ اسے تلاش کر کے قتل کریں گے پھر سات سال تک لوگ اسی طرح رہیں گے کہ وہ بھی کچھ عداوت ہو گی،
پھر ٹھنڈی ہوا شام کی طرف سے چلے گی اور سب ایمان والوں کو فوت کر دے گی، جس کے دل میں ایک ذرے برابر بھی بھلائی یا ایمان ہو گا اگرچہ وہ کسی پہاڑ کے غار میں ہو وہ بھی فوت ہو جائے گا، پھر بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو پرندوں جیسے ہلکے اور درندوں جیسے دماغوں والے ہوں گے، اچھائی برائی کی کی کوئی تمیز ان میں نہ ہو گی۔
شیطان ان کے پاس انسانی صورت میں آ کر انہیں بت پرستی کی طرف مائل کرے گا لیکن ان کی اس حالت میں بھی ان کی روزی کے دوازے ان پر کھلے ہوں گے اور زندگی بہ آرام گذر رہی ہو گی، پھر صور پھونکا جائے گا، جس سے لوگ گرنے مرنے لگیں گے،}
{ ایک شخص جو اپنے اونٹوں کو پانی پلانے کے لیے ان کا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا، سب سے پہلے صور کی آواز اس کے کان میں پڑے گی، جس سے یہ اور تمام اور لوگ بیہوش ہو جائیں گے۔ غرض سب کچھ فنا ہو چکنے کے بعد اللہ تعالیٰ مینہ برسائے گا، جو مثل شبنم کے یا مثل سائے کے ہو گا، اس سے دوبارہ جسم پیدا ہوں گے۔
پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا، سب کے سب جی اٹھیں گے، پھر کہا جائے گا لوگو اپنے رب کی طرف چلو، انہیں ٹھہرا کر ان سے سوال کیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا جہنم کا حصہ نکالو، پوچھا جائے گا کتنوں سے کتنے؟ جواب ملے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے، یہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا اور یہی دن ہے جس میں پنڈلی کھولی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2940]
پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا، سب کے سب جی اٹھیں گے، پھر کہا جائے گا لوگو اپنے رب کی طرف چلو، انہیں ٹھہرا کر ان سے سوال کیا جائے گا پھر فرمایا جائے گا جہنم کا حصہ نکالو، پوچھا جائے گا کتنوں سے کتنے؟ جواب ملے گا ہر ہزار میں سے نو سو ننانوے، یہ دن ہے جو بچوں کو بوڑھا بنا دے گا اور یہی دن ہے جس میں پنڈلی کھولی جائے گی۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2940]
مسند احمد میں ہے ابن مریم علیہ السلام باب لد کے پاس یا لد کی جانب مسیح دجال کو قتل کریں گے۔ ۱؎ [مسند احمد:420/3:صحیح لغیرہ] ترمذی میں باب لد ہے اور یہ حدیث صحیح ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2244،قال الشيخ الألباني:صحیح]
اس کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ نے چند اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام بھی لیے ہیں کہ ان سے بھی اس باب کی حدیثیں مروی ہیں تو اس سے مراد وہ حدیثیں ہیں جن میں دجال کا مسیح علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل ہونا مذکور ہے۔ صرف دجال کے ذکر کی حدیثیں تو بےشمار ہیں، جنہیں جمع کرنا سخت دشوار ہے۔
مسند میں ہے کہ { عرفے سے آتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک مجمع کے پاس سے گذرے اس وقت وہاں قیامت کے ذکر افکار ہو رہے تھے تو آپ نے فرمایا جب تک دس باتیں نہ ہو لیں، قیامت قائم نہ ہو گی، آفتاب کا مغرب کی جانب سے نکلنا، دھوئیں کا آنا، دابتہ الارض کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا آنا، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا، دجال کا آنا، تین جگہ زمین کا دھنس جانا، شرق میں، غرب میں اور جزیرہ عرب میں اور عدن سے ایک آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہنکا کر ایک جگہ کر دے گی۔
وہ شب باشی بھی انہی کے ساتھ کرے گی اور جب دوپہر کو وہ آرام کریں گے یہ آگ ان کے ساتھ ٹھہری رہے گی۔ } یہ حدیث مسلم اور سنن میں بھی ہے ۱؎ [صحیح مسلم:2901] اور سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یہی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ متواتر حدیثیں جو سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابن مسعود، سیدنا عثمان بن ابوالعاص، سیدنا ابوامامہ، سیدنا نواس بن سمعان، سیدنا عبداللہ بن عمرو، مجمع بن جاریہ، ابو شریحہ، حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہیںیہ صاف دلالت کرتی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، ساتھ ہی ان میں یہ بھی بیان ہے کہ کس طرح اتریں گے اور کہاں اتریں گے اور کس وقت اتریں گے؟
اس کے بعد امام ترمذی رحمہ اللہ نے چند اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے نام بھی لیے ہیں کہ ان سے بھی اس باب کی حدیثیں مروی ہیں تو اس سے مراد وہ حدیثیں ہیں جن میں دجال کا مسیح علیہ السلام کے ہاتھ سے قتل ہونا مذکور ہے۔ صرف دجال کے ذکر کی حدیثیں تو بےشمار ہیں، جنہیں جمع کرنا سخت دشوار ہے۔
مسند میں ہے کہ { عرفے سے آتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کے ایک مجمع کے پاس سے گذرے اس وقت وہاں قیامت کے ذکر افکار ہو رہے تھے تو آپ نے فرمایا جب تک دس باتیں نہ ہو لیں، قیامت قائم نہ ہو گی، آفتاب کا مغرب کی جانب سے نکلنا، دھوئیں کا آنا، دابتہ الارض کا نکلنا، یاجوج ماجوج کا آنا، عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا نازل ہونا، دجال کا آنا، تین جگہ زمین کا دھنس جانا، شرق میں، غرب میں اور جزیرہ عرب میں اور عدن سے ایک آگ کا نکلنا جو لوگوں کو ہنکا کر ایک جگہ کر دے گی۔
وہ شب باشی بھی انہی کے ساتھ کرے گی اور جب دوپہر کو وہ آرام کریں گے یہ آگ ان کے ساتھ ٹھہری رہے گی۔ } یہ حدیث مسلم اور سنن میں بھی ہے ۱؎ [صحیح مسلم:2901] اور سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے موقوفاً یہی مروی ہے «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔
پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ متواتر حدیثیں جو سیدنا ابوہریرہ، سیدنا ابن مسعود، سیدنا عثمان بن ابوالعاص، سیدنا ابوامامہ، سیدنا نواس بن سمعان، سیدنا عبداللہ بن عمرو، مجمع بن جاریہ، ابو شریحہ، حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہم اجمعین سے مروی ہیںیہ صاف دلالت کرتی ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے، ساتھ ہی ان میں یہ بھی بیان ہے کہ کس طرح اتریں گے اور کہاں اتریں گے اور کس وقت اتریں گے؟
یعنی صبح کی نماز کی اقامت کے وقت شام کے شہر دمشق کے شرقی مینارہ پر آپ اتریں گے۔ اس زمانہ میں یعنی سن سات سو اکتالیس میں جامع اموی کا مینارہ سفید پتھر سے بہت مضبوط بنایا گیا ہے، اس لیے کہ آگ کے شعلہ سے یہ جل گیا ہے آگ لگانے والے غالباً ملعون عیسائی تھے کیا عجب کہ یہی وہ مینارہ ہو جس پر مسیح بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور خنزیروں کو قتل کریں گے، صلیبوں کو توڑ دیں گے، جزیئے کو ہٹا دیں گے اور سوائے دین اسلام کے اور کوئی دین قبول نہ فرمائیں گے۔
جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیثیں گذر چکیں، جن میں پیغمبر صادق و مصدق علیہ السلام نے یہ خبر دی ہے اور اسے ثابت بتایا ہے۔ یہ وہ وقت ہو گا جبکہ تمام شک شبے ہٹ جائیں گے، اور لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کے ماتحت اسلام قبول کر لیں گے۔
جیسے اس آیت میں ہے اور جیسے فرمان ہے آیت «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ» ۱؎ [43-الزخرف:61] اور ایک قرأت میں «لعلم» ہے۔ یعنی جناب مسیح علیہ السلام قیامت کا ایک زبردست نشان ہے، یعنی قرب قیامت کا اس لیے کہ آپ دجال کے آچکنے کے بعد تشریف لائیں گے اور اسے قتل کریں گے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی جس کا علاج نہ مہیا کیا ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5678] آپ ہی کے وقت میں یاجوج ماجوج نکلیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے ہلاک کرے گا۔ قرآن کریم ان کے نکلنے کی خبر بھی دیتا ہے،
جیسے کہ بخاری و مسلم کی حدیثیں گذر چکیں، جن میں پیغمبر صادق و مصدق علیہ السلام نے یہ خبر دی ہے اور اسے ثابت بتایا ہے۔ یہ وہ وقت ہو گا جبکہ تمام شک شبے ہٹ جائیں گے، اور لوگ عیسیٰ علیہ السلام کی پیروی کے ماتحت اسلام قبول کر لیں گے۔
جیسے اس آیت میں ہے اور جیسے فرمان ہے آیت «وَإِنَّهُ لَعِلْمٌ لِّلسَّاعَةِ فَلَا تَمْتَرُنَّ بِهَا وَاتَّبِعُونِ» ۱؎ [43-الزخرف:61] اور ایک قرأت میں «لعلم» ہے۔ یعنی جناب مسیح علیہ السلام قیامت کا ایک زبردست نشان ہے، یعنی قرب قیامت کا اس لیے کہ آپ دجال کے آچکنے کے بعد تشریف لائیں گے اور اسے قتل کریں گے۔
جیسے کہ صحیح حدیث میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری ایسی نہیں پیدا کی جس کا علاج نہ مہیا کیا ہو۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:5678] آپ ہی کے وقت میں یاجوج ماجوج نکلیں گے، جنہیں اللہ تعالیٰ آپ کی دعا کی برکت سے ہلاک کرے گا۔ قرآن کریم ان کے نکلنے کی خبر بھی دیتا ہے،
فرمان ہے آیت «حَتَّىٰ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَإِذَا هِيَ شَاخِصَةٌ أَبْصَارُ الَّذِينَ كَفَرُوا يَا وَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِي غَفْلَةٍ مِّنْ هَـٰذَا بَلْ كُنَّا ظَالِمِينَ» ۱؎ [21-الأنبياء:96] یعنی ان کا نکلنا بھی قرب قیامت کی دلیل ہے۔
اب عیسیٰ کی صفتیں ملاحظہ ہوں۔ پہلے کی دو احادیث میں بھی آپ کی صفت گذر چکی ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { لیلتہ المعراج میں میں نے موسیٰ سے ملاقات کی وہ درمیانہ قد صاف بالوں والے ہیں، جیسی شنوہ قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں اور عیسیٰ سے بھی ملاقات کی، وہ سرخ رنگ میانہ قد ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ابھی حمام سے نکلے ہیں، ابراہیم کو بھی میں نے دیکھا بس وہ بالکل مجھ جیسے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3437]
بخاری کی اور روایت میں ہے { حضرت عیسیٰ سرخ رنگ، گھنگریالے بالوں والے، چوڑے چکلے سینے والے تھے، موسیٰ گندمی رنگ کے جسم اور سیدھے بالوں والے تھے، جیسے زط کے لوگ ہوتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:3438] اسی طرح آپ نے دجال کی شکل و صورت بھی بیان فرما دی ہے کہ { اس کی داہنی آنکھ کافی ہو گی، جیسے پھولا ہوا انگور۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3439]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے کعبہ کے پاس خواب میں دکھلایا گیا کہ ایک بہت گندمی رنگ والے آدمی جن کے سر کے پٹھے دونوں کندھوں تک تھے، صاف بالوں والے جن کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں، میں نے ان کے پیچھے ہی ایک شخص کو دیکھا جس کی داہنی آنکھ کافی تھی، ابن قطن سے بہت ملتا جلتا تھا، سخت الجھے ہوئے بال تھے، وہ بھی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، میں نے کہا یہ کون یہ؟ کہا گیا یہ مسیح دجال ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:169]
اب عیسیٰ کی صفتیں ملاحظہ ہوں۔ پہلے کی دو احادیث میں بھی آپ کی صفت گذر چکی ہے، بخاری مسلم میں ہے کہ { لیلتہ المعراج میں میں نے موسیٰ سے ملاقات کی وہ درمیانہ قد صاف بالوں والے ہیں، جیسی شنوہ قبیلے کے لوگ ہوتے ہیں اور عیسیٰ سے بھی ملاقات کی، وہ سرخ رنگ میانہ قد ہیں ایسا معلوم ہوتا ہے گویا ابھی حمام سے نکلے ہیں، ابراہیم کو بھی میں نے دیکھا بس وہ بالکل مجھ جیسے تھے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3437]
بخاری کی اور روایت میں ہے { حضرت عیسیٰ سرخ رنگ، گھنگریالے بالوں والے، چوڑے چکلے سینے والے تھے، موسیٰ گندمی رنگ کے جسم اور سیدھے بالوں والے تھے، جیسے زط کے لوگ ہوتے ہیں } ۱؎ [صحیح بخاری:3438] اسی طرح آپ نے دجال کی شکل و صورت بھی بیان فرما دی ہے کہ { اس کی داہنی آنکھ کافی ہو گی، جیسے پھولا ہوا انگور۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3439]
{ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں مجھے کعبہ کے پاس خواب میں دکھلایا گیا کہ ایک بہت گندمی رنگ والے آدمی جن کے سر کے پٹھے دونوں کندھوں تک تھے، صاف بالوں والے جن کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے طواف کر رہے ہیں، میں نے پوچھا یہ کون ہیں؟ تو مجھے بتلایا گیا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں، میں نے ان کے پیچھے ہی ایک شخص کو دیکھا جس کی داہنی آنکھ کافی تھی، ابن قطن سے بہت ملتا جلتا تھا، سخت الجھے ہوئے بال تھے، وہ بھی دو شخصوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، میں نے کہا یہ کون یہ؟ کہا گیا یہ مسیح دجال ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:169]
بخاری کی اور روایت میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { اللہ کی قسم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عیسیٰ علیہ السلام کو سرخ رنگ نہیں بتایا بلکہ آپ نے گندمی رنگ بتایا ہے۔ } پھر اوپر والی پوری حدیث ہے۔ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں ابن قطن قبیلہ خزاعہ کا ایک شخص تھا، جو جاہلیت میں مر چکا تھا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3441]
وہ حدیث بھی گذر چکی جس میں یہ بیان ہے کہ { جناب مسیح علیہ السلام اپنے نزول کے بعد چالیس سال یہاں رہیں گے پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4324] ہاں مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ یہاں سال ہا سال رہیں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2940]
تو ممکن ہے کہ چالیس سال کا فرمان اس مدت سمیت کا ہو جو آپ نے دنیا میں اپنے آسمانوں پر اٹھائے جانے پہلے گذاری ہے۔ جس وقت آپ اٹھائے گئے اس وقت آپ کی عمر تینتیس سال کی تھی اور سات سال اب آخر زمانے کے تو پورے چالیس سال ہو گئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (ابن عساکر)
بعض کا قول ہے کہ جب آپ آسمانوں پر چڑھائے گئے اس وقت آپ کی عمر ڈیڑھ سال کی تھی، یہ بالکل فضول سا قول ہے، ہاں حافظ ابوالقاسم رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں بعض سلف سے یہ بھی لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں آپ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3617،قال الشيخ الألباني:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر ارشاد ہے کہ یہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے یعنی اس بات کے کہ اللہ کی رسالت آپ نے انہیں پہنچا دی تھی اور خود آپ نے اللہ کی عبودیت کا اقرار کیا تھا، جیسے سورۃ المائدہ کے آخر میں آیت «وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ» سے «أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [5-المائدة:116-118] تک ہے یعنی آپ کی گواہی کا وہاں ذکر ہے اور اللہ کے سوال کا۔
وہ حدیث بھی گذر چکی جس میں یہ بیان ہے کہ { جناب مسیح علیہ السلام اپنے نزول کے بعد چالیس سال یہاں رہیں گے پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4324] ہاں مسلم کی ایک حدیث میں ہے کہ آپ یہاں سال ہا سال رہیں گے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2940]
تو ممکن ہے کہ چالیس سال کا فرمان اس مدت سمیت کا ہو جو آپ نے دنیا میں اپنے آسمانوں پر اٹھائے جانے پہلے گذاری ہے۔ جس وقت آپ اٹھائے گئے اس وقت آپ کی عمر تینتیس سال کی تھی اور سات سال اب آخر زمانے کے تو پورے چالیس سال ہو گئے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» (ابن عساکر)
بعض کا قول ہے کہ جب آپ آسمانوں پر چڑھائے گئے اس وقت آپ کی عمر ڈیڑھ سال کی تھی، یہ بالکل فضول سا قول ہے، ہاں حافظ ابوالقاسم رحمہ اللہ نے اپنی تاریخ میں بعض سلف سے یہ بھی لکھا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حجرے میں آپ کے ساتھ دفن کئے جائیں گے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3617،قال الشيخ الألباني:ضعیف] «وَاللهُ اَعْلَمُ»
پھر ارشاد ہے کہ یہ قیامت کے دن ان پر گواہ ہوں گے یعنی اس بات کے کہ اللہ کی رسالت آپ نے انہیں پہنچا دی تھی اور خود آپ نے اللہ کی عبودیت کا اقرار کیا تھا، جیسے سورۃ المائدہ کے آخر میں آیت «وَإِذْ قَالَ اللَّـهُ يَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ» سے «أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ» [5-المائدة:116-118] تک ہے یعنی آپ کی گواہی کا وہاں ذکر ہے اور اللہ کے سوال کا۔