وَّ قَوۡلِہِمۡ اِنَّا قَتَلۡنَا الۡمَسِیۡحَ عِیۡسَی ابۡنَ مَرۡیَمَ رَسُوۡلَ اللّٰہِ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ وَ مَا صَلَبُوۡہُ وَ لٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ الَّذِیۡنَ اخۡتَلَفُوۡا فِیۡہِ لَفِیۡ شَکٍّ مِّنۡہُ ؕ مَا لَہُمۡ بِہٖ مِنۡ عِلۡمٍ اِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَ مَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًۢا ﴿۱۵۷﴾ۙ
اور ان کے یہ کہنے کی وجہسے کہ بلاشبہ ہم نے ہی مسیح عیسیٰ ابن مریم کو قتل کیا، جو اللہ کا رسول تھا، حالانکہ نہ انھوں نے اسے قتل کیا اور نہ اسے سولی پر چڑھایا اور لیکن ان کے لیے (کسی کو مسیح کا) شبیہ بنا دیا گیا اور بے شک وہ لوگ جنھوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے، یقینا اس کے متعلق بڑے شک میں ہیں، انھیں اس کے متعلق گمان کی پیروی کے سوا کچھ علم نہیں اور انھوں نے اسے یقینا قتل نہیں کیا۔
En
اور یہ کہنے کے سبب کہ ہم نے مریم کے بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو خدا کے پیغمبر (کہلاتے) تھے قتل کردیا ہے (خدا نے ان کو معلون کردیا) اور انہوں نے عیسیٰ کو قتل نہیں کیا اور نہ انہیں سولی پر چڑھایا بلکہ ان کو ان کی سی صورت معلوم ہوئی اور جو لوگ ان کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں وہ ان کے حال سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور پیروئی ظن کے سوا ان کو اس کا مطلق علم نہیں۔ اور انہوں نے عیسیٰ کو یقیناً قتل نہیں کیا
En
اور یوں کہنے کے باعﺚ کہ ہم نے اللہ کے رسول مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر دیا حاﻻنکہ نہ تو انہوں نے اسے قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا بلکہ ان کے لئے ان (عیسیٰ) کا شبیہ بنا دیا گیا تھا۔ یقین جانو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں اختلاف کرنے والے ان کے بارے میں شک میں ہیں، انہیں اس کا کوئی یقین نہیں بجز تخمینی باتوں پر عمل کرنے کے اتنا یقینی ہے کہ انہوں نے انہیں قتل نہیں کیا
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 157)➊ {وَقَوْلِهِمْ اِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيْحَ عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُوْلَ اللّٰهِ:} یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہود خود مسیح علیہ السلام کی رسالت کا اقرار کر کے اپنے گمان میں انھیں قتل کرنے کا دعویٰ اور اس پر فخر کر رہے ہیں، یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ مفسرین نے اس کے چند جواب دیے ہیں، پہلا یہ کہ وہ جو اپنے آپ کو ”رسول اﷲ “ سمجھتا تھا، ہم نے اسے قتل کر دیا۔ دوسرا یہ کہ وہ بطور طنز انھیں ”رسول اﷲ “ کہہ رہے تھے۔ تیسرا یہ کہ یہودیوں کا عیسیٰ علیہ السلام کے قتل کو بطور فخر ذکر کرنے پر اﷲ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کے اکرام اور شرف کے اظہار کے لیے اپنے پاس سے لفظ ”رسول اﷲ“ کا اضافہ کر دیا کہ ان ظالموں نے کتنی بڑی ہستی کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا۔ چوتھا یہ کہ یہودیوں کو نہ مریم علیھا اسلام کے پاکباز ہونے میں کوئی شک تھا، نہ عیسیٰ علیہ السلام کے رسول ہونے میں، کیونکہ پیدائش کے دن ہی بطور معجزہ اﷲ تعالیٰ نے مسیح علیہ السلام کی زبانی تمام یہودیوں کے سامنے مریم علیھا السلام کی پاکبازی اور مسیح علیہ السلام کی رسالت ثابت فرما دی تھی، مگر قوم یہود کو جب مسیح علیہ السلام نے ان کے کفر و شرک، ریا کاری اور سود خوری پر ٹوکا تو وہ ان کی جان کے درپے ہو گئے اور گناہوں نے ان کے دل اس طرح مسخ کر دیے تھے کہ جس عظیم خاتون کو وہ تیس سال تک پاکباز سمجھتے رہے اس پر زنا کی تہمت لگا دی اور جسے دل سے رسول مانتے رہے گناہوں سے ٹوکنے پر اسے قتل کرنے کے درپے ہو گئے، حتیٰ کہ اپنے خیال میں قتل میں کامیاب ہو گئے اور اس پر فخر بھی کرنے لگے۔ انسانی طبائع جب مسخ ہوتی ہیں تو ان کی شقاوت کہاں تک پہنچ جاتی ہے، یہ اس کی مثال ہے۔ اس سے پہلے بھی وہ کئی رسولوں کو قتل کر چکے تھے۔
➋ {وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ:} قرآن پاک نے یہودیوں کے دعویٰ کی صاف نفی کی اور فرمایا کہ نہ انھوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ ان کے لیے کسی اور آدمی کو مسیح علیہ السلام کی شبیہ (ان جیسا) بنا دیا گیا۔ وہ اسے سولی دے کر سمجھتے رہے کہ ہم نے مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا۔ یہ آدمی کون تھا اور کیسے شبیہ بنایا گیا، قرآن مجید یا حدیث رسول میں اس کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، ہاں اگلی آیت میں آ رہا ہے کہ (عیسیٰ علیہ السلام کو نہ انھوں نے قتل کیا نہ سولی دیا بلکہ) اﷲ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بنائے جانے کی کیفیت کی ایک روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ امام ابن کثیر اور ابن جریر نے بیان فرمائی ہے کہ جب یہودی مسیح علیہ السلام کو پکڑنے کے لیے گئے تو آپ نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس بات پر راضی ہے کہ اسے میرا شبیہ بنا دیا جائے؟ ایک حواری اس پر راضی ہو گیا، چنانچہ مسیح علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا اور اس نوجوان کو مسیح علیہ السلام کی شکل و صورت میں تبدیل کر دیا گیا، یہودی آئے اور اس نوجوان کو سولی دے دی۔
➌ {وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ:} عیسیٰ علیہ السلام کے ہم شکل کو قتل کرنے کے بعد وہ لوگ خود تردد میں پڑ گئے کہ جسے ہم نے سولی دی ہے، کون ہے! بعض نے کہا، مسیح ہی قتل ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ مسیح تو نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔ خود انھیں بھی یقین نہ ہو سکا کہ واقعی ہم نے انھی کو صلیب پر چڑھایا ہے، بس ایک گمان کی پیروی کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں۔ یقینی علم تو بہت دور ہے، خود وہ بھی اختلاف کا شکار ہیں اور شک میں مبتلا ہیں کہ کون قتل ہوا۔ یہ اختلاف یہود میں بھی تھا اور نصاریٰ کے فرقوں میں بھی ہے، جن میں سے بعض کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے ناسوت (انسانی جسم) کو سولی دی گئی اور لاہوت (ان کا وہ حصہ جو خدا تھا) اوپر اٹھا لیا گیا۔ بعض دونوں کی سولی کے قائل ہیں وغیرہ، قرآن مجید نے ان سب کو جھوٹا قرار دیا۔
➋ {وَ مَا قَتَلُوْهُ وَ مَا صَلَبُوْهُ وَ لٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ:} قرآن پاک نے یہودیوں کے دعویٰ کی صاف نفی کی اور فرمایا کہ نہ انھوں نے مسیح علیہ السلام کو قتل کیا اور نہ سولی دی، بلکہ ان کے لیے کسی اور آدمی کو مسیح علیہ السلام کی شبیہ (ان جیسا) بنا دیا گیا۔ وہ اسے سولی دے کر سمجھتے رہے کہ ہم نے مسیح کو صلیب پر چڑھا دیا۔ یہ آدمی کون تھا اور کیسے شبیہ بنایا گیا، قرآن مجید یا حدیث رسول میں اس کی تفصیل بیان نہیں ہوئی، ہاں اگلی آیت میں آ رہا ہے کہ (عیسیٰ علیہ السلام کو نہ انھوں نے قتل کیا نہ سولی دیا بلکہ) اﷲ تعالیٰ نے انھیں اپنی طرف اٹھا لیا۔عیسیٰ علیہ السلام کی شبیہ بنائے جانے کی کیفیت کی ایک روایت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ امام ابن کثیر اور ابن جریر نے بیان فرمائی ہے کہ جب یہودی مسیح علیہ السلام کو پکڑنے کے لیے گئے تو آپ نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص اس بات پر راضی ہے کہ اسے میرا شبیہ بنا دیا جائے؟ ایک حواری اس پر راضی ہو گیا، چنانچہ مسیح علیہ السلام کو اﷲ تعالیٰ نے آسمان کی طرف اٹھا لیا اور اس نوجوان کو مسیح علیہ السلام کی شکل و صورت میں تبدیل کر دیا گیا، یہودی آئے اور اس نوجوان کو سولی دے دی۔
➌ {وَ اِنَّ الَّذِيْنَ اخْتَلَفُوْا فِيْهِ لَفِيْ شَكٍّ مِّنْهُ:} عیسیٰ علیہ السلام کے ہم شکل کو قتل کرنے کے بعد وہ لوگ خود تردد میں پڑ گئے کہ جسے ہم نے سولی دی ہے، کون ہے! بعض نے کہا، مسیح ہی قتل ہوئے ہیں اور بعض نے کہا کہ یہ مسیح تو نہیں بلکہ کوئی اور ہے۔ خود انھیں بھی یقین نہ ہو سکا کہ واقعی ہم نے انھی کو صلیب پر چڑھایا ہے، بس ایک گمان کی پیروی کے سوا ان کے پاس کچھ نہیں۔ یقینی علم تو بہت دور ہے، خود وہ بھی اختلاف کا شکار ہیں اور شک میں مبتلا ہیں کہ کون قتل ہوا۔ یہ اختلاف یہود میں بھی تھا اور نصاریٰ کے فرقوں میں بھی ہے، جن میں سے بعض کہتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام کے ناسوت (انسانی جسم) کو سولی دی گئی اور لاہوت (ان کا وہ حصہ جو خدا تھا) اوپر اٹھا لیا گیا۔ بعض دونوں کی سولی کے قائل ہیں وغیرہ، قرآن مجید نے ان سب کو جھوٹا قرار دیا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
157۔ 1 اس سے واضح ہوگیا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کو یہودی قتل کرنے میں کامیاب ہو سکے نہ سولی چڑھانے میں۔ جیسا کہ ان کا منصوبہ تھا۔ جیسا کہ) سورة آل عمران کی آیت نمبر 55 کے حاشیہ) مختصر تفصیل گزر چکی ہے۔ 157۔ 2 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب حضرت عیسیٰ ؑ کو یہودیوں کی سازش کا پتہ چلا تو انہوں نے اپنے حواریوں کو جن کی تعداد 12 یا 17 تھی جمع کیا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص میری جگہ قتل ہونے کے لئے تیار ہے؟ تاکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی شکل و صورت میری جیسی بنادی جائے۔ ایک نوجوان اس کے لئے تیار ہوگیا۔ چناچہ حضرت عیسیٰ ؑ کو وہاں سے آسمان پر اٹھا لیا گیا۔ بعد میں یہودی آئے اور انہوں نے اس نوجوان کو لے جا کر سولی چڑھا دیا۔ جسے حضرت عیسیٰ ؑ کا ہم شکل بنادیا گیا تھا۔ یہودی یہی سمجھتے رہے کہ ہم نے عیسیٰ ؑ کو سولی دی ہے درآنحالیکہ حضرت عیسیٰ ؑ اس وقت وہاں موجود ہی نہ تھے وہ زندہ جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر اٹھائے جاچکے تھے (ابن کثیر و فتح القدیر) 157۔ 3 عیسیٰ ؑ کے ہم شکل شخص کو قتل کرنے کے بعد ایک گروہ تو یہی کہتا رہا حضرت عیسیٰ ؑ کو قتل کردیا گیا جب کہ دوسرا گروہ جسے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ مصلوب شخص عیسیٰ ؑ نہیں کوئی اور ہے، بعض کہتے ہیں کہ انہوں نے عیسیٰ ؑ کو آسمان پر جاتے ہوئے بھی دیکھا تھا بعض کہتے ہیں کہ اس اختلاف سے مراد وہ اختلاف ہے جو خود عیسائیوں کے ایک فرقے نے کہا کہ عیسیٰ ؑ جسم کے لحاظ تو سولی دے دیے گئے لیکن لاہوت (خداوندی) کے اعتبار سے نہیں۔ ملکانیہ فرقے نے کہا یہ قتل و صلب ناسوت اور لاہوت دونوں اعتبار سے مکمل طور پر ہوا ہے (فتح القدیر) بہرحال وہ اختلاف اور تردد اور شک کا شکار رہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
157۔ نیز یہ کہنے کی وجہ سے کہ ”ہم نے اللہ کے رسول [207] مسیح عیسیٰ بن مریم کو قتل کر ڈالا ہے۔“ حالانکہ انہوں نے اسے نہ تو قتل کیا اور نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ یہ معاملہ ان کے لیے مشتبہ کر دیا تھا۔ اور جن لوگوں نے اس معاملہ میں اختلاف کیا وہ خود بھی شک میں مبتلا ہیں۔ انہیں حقیقت حال کا کچھ علم نہیں محض ظن کے پیچھے لگے ہوئے ہیں اور یہ یقینی بات ہے کہ انہوں نے عیسیٰ ابن مریم کو قتل نہیں کیا تھا
[207] یہود کی الزام تراشیاں:۔
یہود کے دلوں پر اللہ نے جو بدبختی کی مہر لگائی تھی تو اس کی وجوہ صرف وہی نہیں جو اوپر مذکور ہو چکیں۔ بلکہ ان کے جرائم کی فہرست آگے بھی چلتی ہے۔ جن میں سے ان کا ایک جرم یہ تھا کہ سیدہ مریمؑ پر تہمت لگا دی اور سیدنا عیسیٰؑ کو ولد الحرام کہتے تھے اور سیدنا زکریاؑ سے منسوب کرتے تھے اور دوسرا جرم یہ تھا کہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے سیدنا عیسیٰؑ کو سولی پر چڑھا کر مار ڈالا ہے۔ یعنی سیدنا عیسیٰؑ کی پیدائش اور وفات جو دونوں معجزانہ طور پر واقع ہوئی تھیں ان کا صرف انکار ہی نہیں بلکہ ماں بیٹا دونوں پر الزامات بھی لگاتے رہے۔ ان الزامات اور ان کے جوابات کے لیے دیکھیے سورۃ آل عمران کی آیت نمبر 54، 55 کے حواشی۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
باب
صحیح بخاری میں ہے اس وقت کیا ہو گا، جب تم میں مسیح بن مریم علیہ السلام اتریں گے اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہو گا۔ ۱؎ [صحیح بخاری:3449]
ابوداؤد، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“انبیاء کرام علیہم السلام سب ایک باپ کے بیٹے بھائی کی طرح ہیں، مائیں جدا جدا اور دین ایک۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ تر نزدیک میں ہوں اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں، یقیناً وہ اترنے والے ہیں پس تم انہیں پہچان رکھو۔ درمیان قد ہے، سرخ سفید رنگ ہے۔ وہ دو گیروے رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے اوڑھے اور باندھے ہوں گے، بال خشک ہونے کے باوجود ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ قبول نہ کریں گے، لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔
ان کے زمانے میں تمام ملتیں مٹ جائیں گی، صرف اسلام ہی اسلام رہے گا، ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ پھر زمین پر امن ہی امن ہو گا یہاں تک کہ کالے ناگ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گایوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے، انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے، چالیس برس تک ٹھہریں گے، پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4324،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی اسی روایت میں ہے، { آپ لوگوں سے اسلام کے لیے جہاد کریں گے،} اس حدیث کا ایک ٹکڑا بخاری شریف میں بھی ہے اور روایت میں ہے { سب سے زیادہ قریب تر عیسیٰ علیہ السلام سے دنیا اور آخرت میں میں ہوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3443]
ابوداؤد، مسند احمد وغیرہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“انبیاء کرام علیہم السلام سب ایک باپ کے بیٹے بھائی کی طرح ہیں، مائیں جدا جدا اور دین ایک۔ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے زیادہ تر نزدیک میں ہوں اس لیے کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی اور نبی نہیں، یقیناً وہ اترنے والے ہیں پس تم انہیں پہچان رکھو۔ درمیان قد ہے، سرخ سفید رنگ ہے۔ وہ دو گیروے رنگ میں رنگے ہوئے کپڑے اوڑھے اور باندھے ہوں گے، بال خشک ہونے کے باوجود ان کے سر سے قطرے ٹپک رہے ہوں گے، خنزیر کو قتل کریں گے، جزیہ قبول نہ کریں گے، لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں گے۔
ان کے زمانے میں تمام ملتیں مٹ جائیں گی، صرف اسلام ہی اسلام رہے گا، ان کے زمانے میں اللہ تعالیٰ مسیح دجال کو ہلاک کرے گا۔ پھر زمین پر امن ہی امن ہو گا یہاں تک کہ کالے ناگ اونٹوں کے ساتھ، چیتے گایوں کے ساتھ اور بھیڑیئے بکریوں کے ساتھ چرتے پھریں گے اور بچے سانپوں سے کھیلیں گے، انہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں گے، چالیس برس تک ٹھہریں گے، پھر فوت ہوں گے اور مسلمان آپ کے جنازے کی نماز ادا کریں گے۔ } ۱؎ [سنن ابوداود:4324،قال الشيخ الألباني:صحیح]
ابن جریر کی اسی روایت میں ہے، { آپ لوگوں سے اسلام کے لیے جہاد کریں گے،} اس حدیث کا ایک ٹکڑا بخاری شریف میں بھی ہے اور روایت میں ہے { سب سے زیادہ قریب تر عیسیٰ علیہ السلام سے دنیا اور آخرت میں میں ہوں۔} ۱؎ [صحیح بخاری:3443]
صحیح مسلم میں ہے { قیامت قائم نہ ہو گی، جب تک رومی اعماق یا والق میں نہ اتریں اور ان کے مقابلہ کے لیے مدینہ سے مسلمانوں کا لشکر نہ نکلے گا، جو اس وقت تمام زمین کے لوگوں سے زیادہ اللہ کے پسندیدہ بندے ہوں گے، جب صفیں بندھ جائیں گی تو رومی کہیں گے تم سے ہم لڑنا نہیں چاہتے، ہم میں سے جو دین بدل کر تم میں ملے ہم ان سے لڑنا چاہتے ہیں تم بیچ میں سے ہٹ جاؤ لیکن مسلمان کہیں گے واللہ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ ہم اپنے ان کمزور بھائیوں کو تمہارے حوالے کر دیں۔
چنانچہ لڑائی شروع ہو گی مسلمانوں کے اس لشکر کا تہائی حصہ تو شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہو گا، ان کی توبہ اللہ تعالیٰ ہرگز قبول نہ فرمائے گا اور تہائی حصہ شہید ہو جائے گا، جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل شہید ہیں لیکن آخری تہائی حصہ فتح حاصل کرے گا اور رومیوں پر غالب آ جائے گا۔
پھر یہ کسی فتنے میں نہ پڑیں گے، قسطنطنیہ کو فتح کریں گے، ابھی تو وہ اپنی تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکائے ہوئے مال غنیمت تقسیم کر ہی رہے ہوں گے جو شیطان چیخ کر کہے گا کہ تمہارے بال بچوں میں دجال آ گیا، اس کے اس جھوٹ کو سچ جان کر مسلمان یہاں سے نکل کھڑے ہوں گے، شام میں پہنچیں گے، دشمنوں سے جنگ آزما ہونے کے لیے صفیں ٹھیک کر رہے ہوں گے کہ دوسری جانب نماز کی اقامت ہو گی۔
اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، ان کی امامت کرائیں گے، جب دشمن رب انہیں دیکھے گا تو اسی طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے، اگر عیسیٰ علیہ السلام اسے یونہی چھوڑ دیں، جب بھی وہ گھلتے گھلتے ختم ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آپ کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور آپ اپنے حربے پر اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2897]
چنانچہ لڑائی شروع ہو گی مسلمانوں کے اس لشکر کا تہائی حصہ تو شکست کھا کر بھاگ کھڑا ہو گا، ان کی توبہ اللہ تعالیٰ ہرگز قبول نہ فرمائے گا اور تہائی حصہ شہید ہو جائے گا، جو اللہ کے نزدیک سب سے افضل شہید ہیں لیکن آخری تہائی حصہ فتح حاصل کرے گا اور رومیوں پر غالب آ جائے گا۔
پھر یہ کسی فتنے میں نہ پڑیں گے، قسطنطنیہ کو فتح کریں گے، ابھی تو وہ اپنی تلواریں زیتون کے درختوں پر لٹکائے ہوئے مال غنیمت تقسیم کر ہی رہے ہوں گے جو شیطان چیخ کر کہے گا کہ تمہارے بال بچوں میں دجال آ گیا، اس کے اس جھوٹ کو سچ جان کر مسلمان یہاں سے نکل کھڑے ہوں گے، شام میں پہنچیں گے، دشمنوں سے جنگ آزما ہونے کے لیے صفیں ٹھیک کر رہے ہوں گے کہ دوسری جانب نماز کی اقامت ہو گی۔
اور عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، ان کی امامت کرائیں گے، جب دشمن رب انہیں دیکھے گا تو اسی طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے، اگر عیسیٰ علیہ السلام اسے یونہی چھوڑ دیں، جب بھی وہ گھلتے گھلتے ختم ہو جائے لیکن اللہ تعالیٰ اسے آپ کے ہاتھ سے قتل کرائے گا اور آپ اپنے حربے پر اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:2897]
مسند احمد اور ابن ماجہ میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { معراج والی رات میں نے ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ علیہم السلام سے ملاقات کی، آپس میں قیامت کی نسبت بات چیت ہونے لگی، ابراہیم علیہ السلام نے اپنی لاعلمی ظاہر کی، اس طرح موسیٰ علیہ السلام نے بھی، لیکن عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا اس کے آنے کا ٹھیک وقت تو سوائے اللہ عزوجل کے کوئی نہیں جانتا، ہاں مجھ سے میرے رب نے جو عہد لیا ہے وہ یہ ہے کہ دجال نکلے گا اس کے ہمراہ دو شاخیں ہوں گی، مجھے دیکھ کر اس طرح پگھلنے لگے گا جس طرح سیسہ پگھلتا ہے۔
پس اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرے گا جب وہ مجھے دیکھ لے گا یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان یہاں میرے پیچھے ایک کافر ہے آو اور اسے قتل کر لیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو غارت کر دے گا اور لوگ امن و امان کے ساتھ اپنے اپنے وطن اور شہروں کو لوٹ جائیں گے۔
اب یاجوج ماجوج نکلیں گے، ہر طرف سے چڑھ دوڑیں گے، تمام شہرں کو روندیں گے، جس جس چیز پر گذر ہو گا اسے ہلاک کر دیں گے، جس پانی کے پاس سے گذریں گے پی جائیں گے، لوگ پھر لوٹ کر میرے پاس آئیں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا، اللہ ان سب کو ایک ساتھ فنا کر دے گا لیکن ان کے مردہ جسموں سے ہوا بگڑ جائے گی، بدبو پھیل جائے گی۔
پھر مینہ برسے گا اور اس قدر کہ ان کی تمام لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گا۔ بس اس وقت قیامت کی اس طرح آمد آمد ہو گی جس طرح پورے دن کی حاملہ عورت ہو کہ اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ صبح کو بچہ ہو جائے یا شام کو، رات کو پیدا ہو یا دن کو؟ } ۱؎ [مسند احمد:375/1:ضعیف]
پس اللہ تعالیٰ اسے ہلاک کرے گا جب وہ مجھے دیکھ لے گا یہاں تک کہ پتھر اور درخت بھی بولنے لگیں گے کہ اے مسلمان یہاں میرے پیچھے ایک کافر ہے آو اور اسے قتل کر لیں، اللہ تعالیٰ ان سب کو غارت کر دے گا اور لوگ امن و امان کے ساتھ اپنے اپنے وطن اور شہروں کو لوٹ جائیں گے۔
اب یاجوج ماجوج نکلیں گے، ہر طرف سے چڑھ دوڑیں گے، تمام شہرں کو روندیں گے، جس جس چیز پر گذر ہو گا اسے ہلاک کر دیں گے، جس پانی کے پاس سے گذریں گے پی جائیں گے، لوگ پھر لوٹ کر میرے پاس آئیں گے، میں اللہ سے دعا کروں گا، اللہ ان سب کو ایک ساتھ فنا کر دے گا لیکن ان کے مردہ جسموں سے ہوا بگڑ جائے گی، بدبو پھیل جائے گی۔
پھر مینہ برسے گا اور اس قدر کہ ان کی تمام لاشوں کو بہا کر سمندر میں ڈال دے گا۔ بس اس وقت قیامت کی اس طرح آمد آمد ہو گی جس طرح پورے دن کی حاملہ عورت ہو کہ اس کے گھر والے نہیں جانتے کہ صبح کو بچہ ہو جائے یا شام کو، رات کو پیدا ہو یا دن کو؟ } ۱؎ [مسند احمد:375/1:ضعیف]
مسند احمد میں ہے ابونضرہ فرماتے ہیں ہیں ہم سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ کے پاس جمعہ والے دن آئے کہ ہم اپنا لکھا ہوا قرآن ان کے قرآن سے ملائیں، جب جمعہ کا وقت آیا تو آپ نے ہم سے فرمایا ”غسل کر لو“ پھر خوشبو لے آئے جو ہم نے ملی، پھر ہم مسجد میں آئے اور ایک شخص کے پاس بیٹھ گئے جنہوں نے ہم سے دجال والی حدیث بیان کی پھر سیدنا عثمان بن ابوالعاص رضی اللہ عنہ آئے، ہم کھڑے ہو گئے، پھر سب بیٹھ گئے۔
آپ نے فرمایا { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہو جائیں گے، ایک دونوں سمندر کے ملنے کی جگہ پر، دوسرا حیرہ میں اور تیسرا شام میں، پھر تین گھبراہٹیں لوگوں کو ہوں گی، پھر دجال نکلے گا، یہ پہلے شہر کی طرف جائے گا، وہاں کے لوگ تین حصوں میں بٹ جائیں گے، ایک حصہ تو کہے گا ہم اس کے مقابلہ پر ٹھہرے رہیں گے اور دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے؟
دوسری جماعت گاؤں کے لوگوں میں مل جائے گی اور تیسری جماعت دوسرے شہر میں چلی جائے گی جو ان سے قریب ہو گا، دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے، جن کے سروں پر تاج ہوں گے، ان کی اکثریت یہودیوں کی اور عورتوں کی ہو گی۔
یہاں کے یہ مسلمان ایک گھاٹی میں سمٹ کر محصور ہو جائیں گے، ان کے جانور جو چرنے چگنے کو گئے ہوں گے، وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے، اس سے ان کے مصائب بہت بڑھ جائیں گے اور بھوک کے مارے برا حال ہو جائے گا، یہاں تک کہ اپنی کمانوں کی تانیں سینک سینک کر کھا لیں گے، جب سخت تنگی کا عالم ہو گا تو انہیں سمندر میں سے آواز آئے گی کہ لوگو تمہاری مدد آ گئی، اس آواز کو سن کر یہ لوگ خوش ہوں گے، کیونکہ آواز سے جان لیں گے کہ یہ کسی آسودہ شخص کی آواز ہے
آپ نے فرمایا { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ مسلمانوں کے تین شہر ہو جائیں گے، ایک دونوں سمندر کے ملنے کی جگہ پر، دوسرا حیرہ میں اور تیسرا شام میں، پھر تین گھبراہٹیں لوگوں کو ہوں گی، پھر دجال نکلے گا، یہ پہلے شہر کی طرف جائے گا، وہاں کے لوگ تین حصوں میں بٹ جائیں گے، ایک حصہ تو کہے گا ہم اس کے مقابلہ پر ٹھہرے رہیں گے اور دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے؟
دوسری جماعت گاؤں کے لوگوں میں مل جائے گی اور تیسری جماعت دوسرے شہر میں چلی جائے گی جو ان سے قریب ہو گا، دجال کے ساتھ ستر ہزار لوگ ہوں گے، جن کے سروں پر تاج ہوں گے، ان کی اکثریت یہودیوں کی اور عورتوں کی ہو گی۔
یہاں کے یہ مسلمان ایک گھاٹی میں سمٹ کر محصور ہو جائیں گے، ان کے جانور جو چرنے چگنے کو گئے ہوں گے، وہ بھی ہلاک ہو جائیں گے، اس سے ان کے مصائب بہت بڑھ جائیں گے اور بھوک کے مارے برا حال ہو جائے گا، یہاں تک کہ اپنی کمانوں کی تانیں سینک سینک کر کھا لیں گے، جب سخت تنگی کا عالم ہو گا تو انہیں سمندر میں سے آواز آئے گی کہ لوگو تمہاری مدد آ گئی، اس آواز کو سن کر یہ لوگ خوش ہوں گے، کیونکہ آواز سے جان لیں گے کہ یہ کسی آسودہ شخص کی آواز ہے
{ عین صبح کی نماز کے وقت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے، ان کا امیر آپ سے کہے گا کہ اے روح اللہ علیہ السلام آگے بڑھئے اور نماز پڑھایئے لیکن آپ کہیں گے کہ اس امت کے بعض بعض کے امیر ہیں، چنانچہ انہی کا امیر آگے بڑھے گا اور نماز پڑھائے گا، نماز سے فارغ ہو کر اپنا حربہ ہاتھ میں لے کر مسیح علیہ السلام دجال کا رخ کریں گے۔
دجال آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، آپ اس کے سینہ پر وار کریں گے جس سے وہ ہلاک ہو جائے گا اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے، لیکن انہیں کہیں امن نہیں ملے گا، یہاں تک کہ اگر وہ کسی درخت تلے چھپیں گے تو وہ درخت پکار کر کہے گا کہ اے مومن یہ ایک کافر میرے پاس چھپا ہوا ہے اور اسی طرح پتھر بھی۔ } ۱؎ [مسند احمد:216/3:ضعیف]
دجال آپ کو دیکھ کر سیسے کی طرح پگھلنے لگے گا، آپ اس کے سینہ پر وار کریں گے جس سے وہ ہلاک ہو جائے گا اور اس کے ساتھی شکست کھا کر بھاگ کھڑے ہوں گے، لیکن انہیں کہیں امن نہیں ملے گا، یہاں تک کہ اگر وہ کسی درخت تلے چھپیں گے تو وہ درخت پکار کر کہے گا کہ اے مومن یہ ایک کافر میرے پاس چھپا ہوا ہے اور اسی طرح پتھر بھی۔ } ۱؎ [مسند احمد:216/3:ضعیف]
ابن ماجہ میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک خطبہ کا کم و بیش حصہ دجال کا واقعہ بیان کرنے اور اس سے ڈرانے میں ہی صرف کیا، جس میں یہ بھی فرمایا کہ دنیا کی ابتداء سے لے کر انتہا تک کوئی فتنہ اس سے بڑا نہیں، تمام انبیاء اپنی اپنی امتوں کو اس سے آگاہ کرتے رہے ہیں۔
میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو، وہ یقیناً تمہیں میں آئے گا، اگر میری موجودگی میں آ گیا تو میں آپ اس سے نمٹ لوں گا اور اگر بعد میں آیا تو ہر شخص کو اپنے آپ کو اس سے بچانا پڑے گا۔
میں اللہ تعالیٰ کو ہر مسلمان کا خلیفہ بناتا ہوں۔ وہ شام و عراق کے درمیان نکلے گا، دائیں بائیں خوب گھومے گا، لوگو اے اللہ کے بندو! دیکھو دیکھو تم ثابت قدم رہنا،
سنو میں تمہیں اس کی ایسی صفت بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی۔ وہ ابتداء میں دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، پھر وہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور کہے گا میں اللہ ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ اللہ کو ان آنکھوں سے کوئی نہیں دیکھ سکتا، ہاں مرنے کے بعد دیدار باری تعالیٰ ہو سکتا ہے۔
اور سنو وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان“کافر“ لکھا ہو گا جسے پڑھا لکھا اور ان پڑھ غرض ہر ایماندار پڑھ لے گا۔ اس کے ساتھ آگ ہو گی اور باغ ہو گا اس کی آگ دراصل جنت ہو گی اور اس کا باغ دراصل جہنم ہو گا،}
میں سب سے آخری نبی ہوں اور تم سب سے آخری امت ہو، وہ یقیناً تمہیں میں آئے گا، اگر میری موجودگی میں آ گیا تو میں آپ اس سے نمٹ لوں گا اور اگر بعد میں آیا تو ہر شخص کو اپنے آپ کو اس سے بچانا پڑے گا۔
میں اللہ تعالیٰ کو ہر مسلمان کا خلیفہ بناتا ہوں۔ وہ شام و عراق کے درمیان نکلے گا، دائیں بائیں خوب گھومے گا، لوگو اے اللہ کے بندو! دیکھو دیکھو تم ثابت قدم رہنا،
سنو میں تمہیں اس کی ایسی صفت بتاتا ہوں جو کسی نبی نے اپنی امت کو نہیں بتائی۔ وہ ابتداء میں دعویٰ کرے گا کہ میں نبی ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں، پھر وہ اس سے بھی بڑھ جائے گا اور کہے گا میں اللہ ہوں، پس تم یاد رکھنا کہ اللہ کو ان آنکھوں سے کوئی نہیں دیکھ سکتا، ہاں مرنے کے بعد دیدار باری تعالیٰ ہو سکتا ہے۔
اور سنو وہ کانا ہو گا اور تمہارا رب کانا نہیں، اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان“کافر“ لکھا ہو گا جسے پڑھا لکھا اور ان پڑھ غرض ہر ایماندار پڑھ لے گا۔ اس کے ساتھ آگ ہو گی اور باغ ہو گا اس کی آگ دراصل جنت ہو گی اور اس کا باغ دراصل جہنم ہو گا،}
{ سنو تم میں سے جسے وہ آگ میں ڈالے، وہ اللہ سے فریاد رسی چاہے اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیتیں پڑھے، اس کی وہ آگ اس پر ٹھنڈک اور سلامتی بن جائے گی جیسے کہ خلیل اللہ علیہ السلام پر نمرود کی آگ ہو گئی، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک اعرابی سے کہے گا کہ اگر میں تیرے مرے ہوئے باپ کو زندہ کر دوں تو تو مجھے رب مان لے گا وہ اقرار کرے گا، اتنے میں دو شیطان اس کی ماں اور باپ کی شکل میں ظاہر ہوں گے اور ان سے کہیں گے بیٹے یہی تیرا رب ہے تو اسے مان لے،
اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کر دیا جائے گا اسے آرے سے چروا کر دو ٹکڑے کروا دے گا، پھر لوگوں سے کہے گا میرے اس بندے کو دیکھنا اب میں اسے زندہ کر دوں گا۔
لیکن پھر بھی یہی کہے گا کہ اس کا رب میرے سوا اور ہے، چنانچہ یہ اسے اٹھا بیٹھائے گا اور یہ خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دے گا میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے۔ اللہ کی قسم اب تو مجھے پہلے سے بھی بہت زیادہ یقین ہو گیا۔ } دوسری سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“یہ مومن میری تمام امت سے زیادہ بلند درجہ کا جنتی ہو گا۔}
اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک شخص پر مسلط کر دیا جائے گا اسے آرے سے چروا کر دو ٹکڑے کروا دے گا، پھر لوگوں سے کہے گا میرے اس بندے کو دیکھنا اب میں اسے زندہ کر دوں گا۔
لیکن پھر بھی یہی کہے گا کہ اس کا رب میرے سوا اور ہے، چنانچہ یہ اسے اٹھا بیٹھائے گا اور یہ خبیث اس سے پوچھے گا کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ جواب دے گا میرا رب اللہ ہے اور تو اللہ کا دشمن دجال ہے۔ اللہ کی قسم اب تو مجھے پہلے سے بھی بہت زیادہ یقین ہو گیا۔ } دوسری سند سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا“یہ مومن میری تمام امت سے زیادہ بلند درجہ کا جنتی ہو گا۔}
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس حدیث کو سن کر ہمارا خیال تھا کہ یہ شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہما ہی ہوں گے آپ کی شہادت تک ہمارا یہی خیال رہا۔ ۱؎ [سنن ابن ماجہ:4077،قال الشيخ الألباني:ضعیف]
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے کا حکم دے گا اور آسمان سے بارش ہو گی، وہ زمین کو پیداوار اگانے کا حکم دے گا اور زمین سے پیداوار نکلے گی، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس جائے گا وہ اسے نہ مانیں گے، اسی وقت ان کی تمام چیزیں برباد اور ہلاک ہو جائیں گی، ایک اور قبیلے کے پاس جائے گا جو اسے خدا مان لے گا، اسی وقت اس کے حکم سے ان پر آسمان سے بارش برسے گی اور زمین پھل اور کھیتی اگائے گی، ان کے جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور دودھ والے ہو جائیں گے۔
سوائے مکہ اور مدینہ کے تمام کا گشت کرے گا، جب مدینہ کا رخ کرے گا تو یہاں ہر ہر راہ پر فرشتوں کو کھلی تلواریں لیے ہوئے پائے گا تو ضریب کی انتہائی حد پر ضریب احمر کے پاس ٹھہر جائے گا، پھر مدینے میں تین بھونچال آئیں گے، اس وجہ سے جتنے منافق مرد اور جس قدر منافقہ عورتیں ہوں گی۔
سب مدینہ سے نکل کر اس کے لشکر میں مل جائیں گے اور مدینہ ان گندے لوگوں کو اس طرح اپنے میں سے دور پھینک دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو لاگ کر دیتی ہے، اس دن کا نام یوم الخلاص ہو گا۔
{ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ آسمان کو پانی برسانے کا حکم دے گا اور آسمان سے بارش ہو گی، وہ زمین کو پیداوار اگانے کا حکم دے گا اور زمین سے پیداوار نکلے گی، اس کا ایک فتنہ یہ بھی ہو گا کہ وہ ایک قبیلے کے پاس جائے گا وہ اسے نہ مانیں گے، اسی وقت ان کی تمام چیزیں برباد اور ہلاک ہو جائیں گی، ایک اور قبیلے کے پاس جائے گا جو اسے خدا مان لے گا، اسی وقت اس کے حکم سے ان پر آسمان سے بارش برسے گی اور زمین پھل اور کھیتی اگائے گی، ان کے جانور پہلے سے زیادہ موٹے تازے اور دودھ والے ہو جائیں گے۔
سوائے مکہ اور مدینہ کے تمام کا گشت کرے گا، جب مدینہ کا رخ کرے گا تو یہاں ہر ہر راہ پر فرشتوں کو کھلی تلواریں لیے ہوئے پائے گا تو ضریب کی انتہائی حد پر ضریب احمر کے پاس ٹھہر جائے گا، پھر مدینے میں تین بھونچال آئیں گے، اس وجہ سے جتنے منافق مرد اور جس قدر منافقہ عورتیں ہوں گی۔
سب مدینہ سے نکل کر اس کے لشکر میں مل جائیں گے اور مدینہ ان گندے لوگوں کو اس طرح اپنے میں سے دور پھینک دے گا جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو لاگ کر دیتی ہے، اس دن کا نام یوم الخلاص ہو گا۔
سیدہ ام شریک رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ { یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن عرب کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا اولاً تو ہوں گے ہی بہت کم اور اکثریت ان کی بیت المقدس میں ہو گی، ان کا امام ایک صالح شخص ہو گا جو آگے بڑھ کر صبح کی نماز پڑھا رہا ہوگا، جیسے ہی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہونگے۔ امام پچھلے پیروں پیچھے ہٹے گا تاکہ آپ آگے بڑھ کر امامت کرائیں لیکن آپ اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے کہ آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ، اقامت تمہارے لیے کی گی ہے پس ان کا امام ہی نماز پڑھائے گا، فارغ ہو کر آپ فرمائیں گے، دروازہ کھول دو، پس کھول دیا جائے گا۔
ادھر دجال ستر ہزار یہودیوں کا لشکر لیے ہوئے موجود ہو گا، جن کے سر پر تاج اور جن کی تلواروں پر سونا ہو گا، دجال آپ کو دیکھ کر اس طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے اور ایک دم پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کر دے گا لیکن آپ فرمائیں گے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ تو میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھائے تو اسے ٹال نہیں سکتا۔
چنانچہ آپ اسے مشرقی باب لد کے پاس پکڑ لیں گے اور وہیں اسے قتل کریں گے، اب یہودی بد حواسی سے منتشر ہو کر بھاگیں گے لیکن انہیں کہیں سر چھپانے کو جگہ نہ ملے گی، ہر پتھر ہر درخت ہر دیوار اور ہر جانور بولتا ہو گا کہ اے مسلمان یہاں یہودی ہے، آ اسے مار ڈال، ہاں ببول کا درخت یہودیوں کا درخت ہے یہ نہیں بولے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا رہنا چالیس سال تک ہو گا، سال آدھے سال کے برابر اور سال مہینہ بھر جیسا اور مہینہ جمعہ جیسا اور باقی دن مثل شرارہ کے۔
ادھر دجال ستر ہزار یہودیوں کا لشکر لیے ہوئے موجود ہو گا، جن کے سر پر تاج اور جن کی تلواروں پر سونا ہو گا، دجال آپ کو دیکھ کر اس طرح گھلنے لگے گا جس طرح نمک پانی میں گھلتا ہے اور ایک دم پیٹھ پھیر کر بھاگنا شروع کر دے گا لیکن آپ فرمائیں گے اللہ تعالیٰ نے یہ فیصلہ کر دیا ہے کہ تو میرے ہاتھ سے ایک ضرب کھائے تو اسے ٹال نہیں سکتا۔
چنانچہ آپ اسے مشرقی باب لد کے پاس پکڑ لیں گے اور وہیں اسے قتل کریں گے، اب یہودی بد حواسی سے منتشر ہو کر بھاگیں گے لیکن انہیں کہیں سر چھپانے کو جگہ نہ ملے گی، ہر پتھر ہر درخت ہر دیوار اور ہر جانور بولتا ہو گا کہ اے مسلمان یہاں یہودی ہے، آ اسے مار ڈال، ہاں ببول کا درخت یہودیوں کا درخت ہے یہ نہیں بولے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اس کا رہنا چالیس سال تک ہو گا، سال آدھے سال کے برابر اور سال مہینہ بھر جیسا اور مہینہ جمعہ جیسا اور باقی دن مثل شرارہ کے۔