(آیت 133) یعنی اگر تم تقویٰ اختیار نہ کرو تو مت بھولو کہ وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ تم سب کو فنا کر دے اور تمھاری جگہ اور لوگوں کو یہاں بسا دے، جیسا کہ فرمایا: «{ وَاِنْتَتَوَلَّوْايَسْتَبْدِلْقَوْمًاغَيْرَكُمْثُمَّلَايَكُوْنُوْۤااَمْثَالَكُمْ }»[محمد: ۳۸]” اور اگر تم پھر جاؤ گے تو وہ تمھاری جگہ تمھارے سوا اور لوگوں کو لے آئے گا، پھر وہ تمھاری طرح نہیں ہوں گے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
133۔ 1 یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت قاہرہ و کاملہ کا اظہار ہے جب کہ ایک دوسرے مقام پر فرمایا (وَاِنْتَتَوَلَّوْايَسْتَبْدِلْقَوْمًاغَيْرَكُمْ ۙ ثُمَّلَايَكُوْنُوْٓااَمْثَالَكُمْ) 47:38 اگر تم پھرو گے تو وہ تمہاری جگہ اوروں کو لے آئے گا اور وہ تمہاری طرح کے نہیں ہونگے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
133۔ لوگو! اگر اللہ چاہے تو تمہیں ہٹا کر تمہاری جگہ دوسرے لوگ لا [176] سکتا ہے اور اللہ اس بات پر پوری قدرت رکھتا ہے
[176] اور جو تیسری بار اس جملہ کو دہرایا تو اس کا مدلول مسلمانوں کے مستقبل کے حالات ہیں یعنی اے مسلمانو! اگر تم اللہ کی نافرمانی کرو گے تو اس کے کاموں کا انحصار تمہیں پر نہیں وہ ایسا کرنے کی پوری قدرت رکھتا ہے کہ اس صورت میں کوئی اور قوم آگے لے آئے اور اس کے ہاتھ سے تمہیں پٹوا کر پیچھے دھکیل دے جیسا کہ یہود اللہ کی نافرمانیوں اور بد کرداریوں میں مبتلا ہوئے تو انہیں عیسائیوں کے ہاتھوں پٹوا کر پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اور اب تمہارے ہاتھوں ان دونوں کو پٹوا رہا ہے۔ اللہ کو تو اپنے دین کو سربلند کرنا ہے لہٰذا جو لوگ بھی اللہ کے اس مشن کو جاری رکھنے قابل ہوں گے وہ انہی کو آگے لے آئے گا لہٰذا تمہارا مفاد اسی میں ہے کہ تم ہی اس کے فرمانبردار بن کر رہو۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔