(آیت 107) {وَلَاتُجَادِلْعَنِالَّذِيْنَ …:} مطلب یہ کہ یہ لوگ جنھوں نے دوسروں کی خیانت کی ہے، در حقیقت سب سے پہلے انھوں نے اپنی جانوں سے خیانت کی ہے، کیونکہ دوسروں سے دغا کرنے والا پہلے اپنے آپ سے دغا کرتا ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
107۔ اور نہ ہی آپ کو ان لوگوں کی حمایت میں جھگڑنا چاہئے جو آپ نے آپ سے خیانت [146] کرتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والے مجرموں کو پسند نہیں کرتا
[146] ان لوگوں سے مراد وہی چور انصاری کے خاندان کے لوگ ہیں جنہوں نے محض خاندانی تعصب کی بنا پر چور کی حمایت کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے چور کے مجرم نہ ہونے کے متعلق قسمیں بھی کھائی تھیں اور سارا الزام بے گناہ یہودی کے سر تھوپ دیا تھا اور مجرم کے گناہ دو تھے، ایک چوری، دوسرے اس یہودی کو مورد الزام ٹھہرانا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔