ترجمہ و تفسیر — سورۃ الزمر (39) — آیت 69

وَ اَشۡرَقَتِ الۡاَرۡضُ بِنُوۡرِ رَبِّہَا وَ وُضِعَ الۡکِتٰبُ وَ جِایۡٓءَ بِالنَّبِیّٖنَ وَ الشُّہَدَآءِ وَ قُضِیَ بَیۡنَہُمۡ بِالۡحَقِّ وَ ہُمۡ لَا یُظۡلَمُوۡنَ ﴿۶۹﴾
اور زمین اپنے رب کے نور کے ساتھ روشن ہو جائے گی اور لکھا ہوا (سامنے) رکھا جائے گا اور نبی اور گواہ لائے جائیں گے اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کر دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ En
اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اُٹھے گی اور (اعمال کی) کتاب (کھول کر) رکھ دی جائے گی اور پیغمبر اور (اور) گواہ حاضر کئے جائیں گے اور ان میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی
En
اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے جگمگا اٹھے گی، نامہٴ اعمال حاضر کیے جائیں گے نبیوں اور گواہوں کو ﻻیا جائے گا اور لوگوں کے درمیان حق حق فیصلے کر دیے جائیں گے، اور وه ﻇلم نہ کیے جائیں گے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 69) ➊ {وَ اَشْرَقَتِ الْاَرْضُ …:} قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور فرشتے زمین پر تشریف لائیں گے (دیکھیے سورۂ فجر: ۲۲) اور زمین اپنے رب کے نور سے روشن ہو جائے گی۔ بعض لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے زمین پر آنے کے منکر ہیں اور اس کے آسمان دنیا پر اترنے کا بھی صاف انکار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نہ اللہ تعالیٰ عرش پر ہے، نہ وہ آسمان دنیا پر اترتا ہے اور نہ قیامت کے دن زمین پر آئے گا، بلکہ یہ سب مجاز ہیں، عرش سے مراد سلطنت ہے، آسمان دنیا پر اترنے کا مطلب اس کی رحمت کا نزول ہے اور قیامت کے دن آنے کا مطلب اس کا حکم آنا ہے وغیرہ۔ حالانکہ یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ مجازی معنی اس وقت مراد لیا جاتا ہے جب حقیقی معنی مراد لینا محال ہو، جب کہ یہاں حقیقی معنی لینے میں کوئی مشکل نہیں۔ ان لوگوں نے یونان کے مشرک فلسفیوں کی یہ بات مان لی کہ ہر محل حوادث حادث ہوتا ہے، اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ پر آنے والی ہر نئی حالت اور نئی شان کا انکار کر دیا۔ چنانچہ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ نہ سنتا ہے، نہ دیکھتا ہے، نہ بات کرتا ہے، نہ عرش پر ہے، نہ اترتا ہے، نہ چڑھتا ہے، نہ ناراض ہوتا ہے اور نہ راضی ہوتا ہے، کیونکہ یہ سب حوادث (نئے احوال) ہیں جو ان کے خیال میں اللہ تعالیٰ پر نہیں آ سکتے۔
یہ لوگ قرآن و حدیث میں آنے والے ایسے تمام الفاظ کی ایسی ایسی تاویلیں کرتے ہیں جو درحقیقت تحریف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب استعارے ہیں جو عرب کے بدوؤں کے ذہن کے مطابق اللہ تعالیٰ کو ایک بادشاہ کی صورت میں پیش کرتے ہوئے استعمال کیے گئے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ اور اس کی ذات و صفات کو نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانا نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے۔ اصل حقیقت یونانی فلسفیوں پر منکشف ہوئی اور ان کی بدولت ان حضرات تک پہنچی۔ قرآن مجید جا بجا ان کے اس قاعدے کی نفی کرتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏يَسْـَٔلُهٗ مَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ» ‏‏‏‏ [الرحمٰن: ۲۹] اسی سے مانگتا ہے جو کوئی آسمانوں اور زمین میں ہے، ہر دن وہ ایک (نئی) شان میں ہے۔ اور فرمایا: «قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا» ‏‏‏‏ [المجادلۃ: ۱] یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی۔ اور فرمایا: «اُجِيْبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۱۸۶] میں پکارنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِيْمًا» ‏‏‏‏ [النساء: ۱۶۴] اور اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا، خود کلام کرنا۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ مَا يَاْتِيْهِمْ مِّنْ ذِكْرٍ مِّنَ الرَّحْمٰنِ مُحْدَثٍ اِلَّا كَانُوْا عَنْهُ مُعْرِضِيْنَ» [الشعرآء: ۵] اور ان کے پاس رحمان کی طرف سے کوئی نصیحت نہیں آتی جو نئی ہو، مگر وہ اس سے منہ موڑنے والے ہوتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ فجر (۲۲) اور سورۂ حاقہ (۱۷) کی تفسیر۔
➋ { وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ: } یعنی تمام لوگوں کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دیے جائیں گے۔ دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل (۱۳) اور سورۂ کہف (۴۹)۔
➌ {وَ جِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ:} شہداء (گواہوں) سے مراد نبیوں کے علاوہ ہماری امت اور پہلی تمام امتوں کے وہ نیک لوگ ہیں جنھوں نے اپنی اپنی امت کے لوگوں تک حق کا پیغام پہنچایا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا» ‏‏‏‏ [بني إسرائیل: ۱۵] اور ہم کبھی عذاب دینے والے نہیں، یہاں تک کہ کوئی پیغام پہنچانے والا بھیجیں۔ ان شہداء میں امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ افراد بھی شامل ہیں جو نوح علیہ السلام اور دوسرے انبیاء کے حق میں شہادت دیں گے کہ انھوں نے اپنی اپنی امت کو اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۱۴۳) اور سورۂ نساء (۴۱) کی تفسیر۔ ان گواہوں میں کراماً کاتبین بھی شامل ہیں اور انسان کے اعضا بھی جو اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اسی طرح زمین بھی، جس پر کسی شخص نے کوئی نیک یا برا عمل کیا ہو گا، فرمایا: «‏‏‏‏يَوْمَىِٕذٍ تُحَدِّثُ اَخْبَارَهَا (4) بِاَنَّ رَبَّكَ اَوْحٰى لَهَا» [الزلزال: ۴، ۵] اس دن وہ اپنی خبریں بیان کرے گی۔ اس لیے کہ تیرے رب نے اسے وحی کی ہو گی۔
➍ { وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ …:} یعنی تمام نیکیاں اور بدیاں سامنے لا کر گواہوں کے ذریعے سے حجت پوری کرنے کے بعد سب لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور لوگوں پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا۔ دیکھیے سورۂ انبیاء (۴۷) اور سورۂ نساء (۴۰)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

69۔ 1 اس نور سے بعض نے عدل اور بعض نے حکم مراد لیا ہے لیکن اس حقیقیٰ معنوں پر اٹھانے میں کوئی چیز مانع نہیں ہے، کیونکہ اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ 6 9۔ 2۔ نبیوں سے پوچھا جائے گا کہ تم نے میرا پیغام اپنی اپنی قوم یا امت کو پہنچا دیا تھا؟ یا یہ پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا اسے قبول کیا یا اس کا انکار کیا؟ امت محمدیہ کو بطور گواہ لایا جائے گا جو اس بات کی گواہی ان امور پر مطلع فرمایا تھا۔ 19۔ 3 یعنی کسی کے اجر وثواب میں کمی نہیں ہوگی اور کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا نہیں دی جائے گی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

69۔ اور زمین اپنے پروردگار کے نور سے [87] جگمگا اٹھے گی اور (سب کی) کتاب اعمال لا کر رکھ دی جائے گی اور انبیاء اور تمام گواہ [88] حاضر کئے جائیں گے اور لوگوں میں انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔
[87] یعنی آج تو زمین سورج کی روشنی سے منور ہوتی ہے مگر میدان محشر کے لئے جو زمین تیار کی جائے گی۔ وہ براہ راست اپنے پروردگار کے نور سے جگ مگ جگمگ کر رہی ہو گی۔
[88] قیامت کو گواہی کس کس کی ہو گی؟
شہداء سے مراد سر فہرست انبیاء ہیں اور ان کا ذکر اس آیت میں پہلے ہی الگ طور پر آگیا ہے پھر ان سے وہ لوگ مراد ہیں جن کے ذریعہ انہیں اللہ کا پیغام پہنچا تھا پھر وہ فرشتے بھی جو ان کے اعمال قلم بند کرتے رہے اور اگر وہ مجرم پھر بھی اپنے گناہوں کا اعتراف نہ کریں گے تو ان کے اپنے اعضاء اور اس ماحول کے در و دیوار اور شجر و حجر سب مجرموں کے خلاف گواہی دیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

قیامت کی ہولناکی کا بیان ٭٭
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہو گا جس سے ہر زندہ مردہ ہو جائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔
صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ { پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی و قیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد و قہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہرچیز کو اپنی ماتحتی میں کر رکھا ہے آج میں نے سب کو فنا کا حکم دیدیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ سب سے پہلے اسرافیل علیہ السلام کو زندہ کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ دوبارہ نفخہ پھونکیں یہ تیسرا صور ہو گا جس سے ساری مخلوق جو مردہ تھی زندہ ہو جائے گی جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اور نفخہ پھونکا جائے گا اور سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں دوڑانے لگیں گیے۔ یعنی قیامت کی دل دوز حالت دیکھنے لگیں گے }۔
جیسے فرمان ہے «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» ۱؎ [79-النازعات:14،13]‏‏‏‏ یعنی ’ وہ تو صرف ایک ہی سخت آواز ہو گی جس سے سب لوگ فوراً ہی ایک میدان میں آموجود ہوں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ ۱؎ [17-الإسراء:52]‏‏‏‏، یعنی ’ جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا تو سب اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کو مان لو گے اور دنیا کی زندگی کو کم سمجھنے لگو گے ‘۔
اللہ جل و علا کا اور جگہ ارشاد ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:25]‏‏‏‏ ’ اس کی نشانیوں میں سے زمین آسمان کا اس کے حکم سے قائم رہنا ہے پھر جب وہ تمہیں زمین میں سے پکار کر بلائے گا تو تم سب یکبارگی نکل پکڑو گے ‘۔
مسند احمد ہے کہ { ایک شخص نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ناراض ہو کر فرمایا جی تو چاہتا ہے کہ تم سے کوئی بات بیان ہی نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ بہت تھوڑی مدت میں تم اہم امر دیکھو گے، پھر فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میری امت میں دجال آئے گا اور وہ چالیس سال تک رہے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال یا چالیس راتیں پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کو بھیجے گا۔ وہ بالکل صورت شکل میں عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ جیسے ہوں گے اللہ آپ علیہ السلام کو غالب کرے گا اور دجال آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہو گا پھر سات سال تک لوگ اس طرح ملے جلے رہیں گے کہ ساری دنیا میں دو شخصوں کے درمیان بھی آپس میں رنجش و عداوت نہ ہو گی۔
پھر پروردگار عالم شام کی طرف ایک ہلکی ٹھنڈی ہوا چلائے گا۔ جس سے تمام ایمان والوں کی روح قبض کر لی جائے گی یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہ کہیں بھی ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی پہاڑی کی کھوہ میں بھی کوئی مسلمان ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچے گی۔
میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر تو بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اپنے کمینہ پن میں مثل پرندوں کے ہلکے اور اپنی بیوقوفی میں مثل درندوں کے بیوقوف ہوں گے نہ اچھائی اچھائی کو سمجھیں گے نہ برائی کو برائی جانیں گے۔ ان پر شیطان ظاہر ہو گا اور کہے گا شرماتے نہیں کہ تم نے بت پرستی چھوڑ رکھی ہے چنانچہ وہ اس کے بہکاوے میں آ کر بت پرستی شروع کر دیں گے اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی روزی اور معاش میں کشادگی عطا فرمائے ہوئے ہو گا۔
پھر صور پھونک دیا جائے گا جس کے کان میں اس کی آواز جائے گی وہ ادھر گرے گا ادھر کھڑا ہو گا پھر گرے گا۔ سب سے پہلے اس کی آواز جس کے کان میں پڑے گی۔ یہ وہ شخص ہو گا جو اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ پھر تو ہر شخص بے ہوش اور خود فراموش ہو جائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی اس سے لوگوں کے جسم اگ نکلیں گے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو۔ انہیں ٹھہرالو ان سے سوالات کئے جائیں گے پھر فرمایا جائے گا کہ جہنم کا حصہ نکال لو پوچھا جائے گا کس قدر۔ جواب ملے گا ہر ہزار سے نو سو نناوے۔ یہ دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور یہی دن ہو گا جس میں پنڈلی کھولی جائے گی۱؎ [صحیح مسلم:2940]‏‏‏‏
صحیح بخاری میں ہے { دونوں نفحوں کے درمیان چالیس ہوں گے راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا چالیس دن؟ فرمایا میں اس کا جواب نہیں دوں گا کہ کہا گیا چالیس ماہ؟ فرمایا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں۔ انسان کی سب چیز گل سڑ جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی اسی سے مخلوق ترتیب دی جائے گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935]‏‏‏‏
مسند ابو یعلیٰ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ { اس آیت میں جو استثناء ہے یعنی جسے اللہ چاہے اس سے کون لوگ مراد ہیں }؟ فرمایا شہداء۔ یہ اپنی تلواریں لٹکائے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گے فرشتے اپنے جھرمٹ میں انہیں محشر کی طرف لے جائیں گے۔ یاقوت کی اونٹنیوں پر وہ سوار ہوں گے جن کی گدیاں ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گی۔ انسان کی نگاہ جہاں تک کام کرتی ہے اس کا ایک قدم ہو گا یہ جنت میں خوش وقت ہوں گے وہاں عیش و عشرت میں ہوں گے پھر ان کے دل میں آئے گا کہ چلو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کر رہا ہو گا چنانچہ ان کی طرف دیکھ کر الہ العالمین ہنس دے گا۔ اور اس جگہ جسے دیکھ کر رب ہنس دے اس پر حساب کتاب نہیں ہے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف]‏‏‏‏ اس کے کل راوی ثقہ ہیں مگر اسماعیل بن عیاش کے استاد غیر معروف ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کیلئے آئے گا اس وقت اس کے نور سے ساری زمین روشن ہو جائے گی۔ نامہ اعمال لائے جائیں گے۔ نبیوں کو پیش کیا جائے گا جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کر دی تھی۔ اور بندوں کے نیک و بد اعمال کے محافظ فرشتے لائے جائیں گے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ مخلوق کے فیصلے کئے جائیں گے۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم وستم نہ کیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47]‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے اور کسی پر بالکل ظلم نہ ہو گا گو رائی کے دانے کے برابر عمل ہو ہم اسے بھی موجود کر دیں گے۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرً‌ا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40]‏‏‏‏ ’ اللہ تعالیٰ بہ قدر ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا وہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے ‘۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ ہر شخص کو اس کے بھلے برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے ‘۔