وَ نُفِخَ فِی الصُّوۡرِ فَصَعِقَ مَنۡ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنۡ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا مَنۡ شَآءَ اللّٰہُ ؕ ثُمَّ نُفِخَ فِیۡہِ اُخۡرٰی فَاِذَا ہُمۡ قِیَامٌ یَّنۡظُرُوۡنَ ﴿۶۸﴾
اور صور میں پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں میں اور جو زمین میں ہوں گے، مر کر گر جائیں گے مگرجسے اللہ نے چاہا، پھر اس میں دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو اچانک وہ کھڑے دیکھ رہے ہوں گے۔
En
اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمان میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر وہ جس کو خدا چاہے۔ پھر دوسری دفعہ پھونکا جائے گا تو فوراً سب کھڑے ہو کر دیکھنے لگیں گے
En
اور صور پھونک دیا جائے گا پس آسمانوں اور زمین والے سب بے ہوش ہوکر گر پڑیں گے مگر جسے اللہ چاہے، پھر دوباره صور پھونکا جائے گا پس وه ایک دم کھڑے ہو کر دیکھنے لگ جائیں گے
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 68) {وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ …:} اس کی مفصل تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ نمل کی آیت (۸۷) کی تفسیر۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
6 8۔ 1 بعض کے نزدیک نفخہ فزع کے بعد یہ نفخہ ثانیہ یعنی نفخہ صعق ہے جس سے سب کی موت واقع ہوجائے گی بعض نے ان نفحات کی ترتیب اس طرح بیان کی ہے پہلا نفخۃ الفناء دوسرا نفخۃ البعث تیسرا نفخۃ الصعق چوتھا نفخۃ القیام لرب العالمین۔ (ایسر التفاسیر) بعض کے نزدیک صرف دو ہی نفخے ہیں نفخہ الموت اور نفخہ نفخۃ البعث اور بعض کے نزدیک تین واللہ اعلم۔ 68۔ 2 یعنی جن کو اللہ چاہے گا ان کو موت نہیں آئے گی جیسے جبرائیل میکائیل اور اسرافیل بعض کہتے ہیں رضوان فرشتہ حملۃ العرش عرش اٹھانے والے فرشتے اور جنت و جہنم پر مقرر داروغے۔ فتح القدیر 68۔ 3 چار نفقوں کے قائلین کے نزدیک یہ چوتھا، تین کے قائلین کے نزدیک تیسرا اور دو کے قائلین کے نزدیک یہ دوسرا نفخہ ہے۔ بہرحال اس نفخے سے سب زندہ ہو کر میدان محشر میں رب العالمین کی بارگاہ میں حاضر ہوجائیں گے، جہاں حساب کتاب ہوگا۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
68۔ اور جب صور پھونکا جائے گا تو جو بھی آسمانوں اور زمین میں موجود مخلوق ہے سب بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے مگر جسے [85] اللہ (بچانا) چاہے۔ پھر جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو فوراً سب کے سب اٹھ کر [86] دیکھنے لگیں گے
[85] نفخۂ صور کی بے ہوشی سے کون مستثنیٰ ہو گا؟
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کچھ ایسی مخلوق بھی ہو گی جو بے ہوش نہیں ہو گی۔ بعض نے اس استثناء سے چاروں بزرگ فرشتے یعنی جبرائیل، میکائیکل، اسرافیل اور عزرائیل مراد لیے ہیں۔ بعض نے ان میں حاملین عرش کو بھی شامل کیا ہے اور بعض نے انبیاء صلحاء اور شہداء کو بھی۔ لیکن اگلے حاشیہ میں مندرج حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے کوئی بھی اس بے ہوشی سے نہ بچے گا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی بے ہوش ہوں گے تو دوسرے کیسے بچے رہ سکتے ہیں۔ البتہ موسیٰ علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستثنیٰ کیا۔ وہ بھی اس صورت میں کہ شاید وہ مجھ سے پہلے ہوش میں آگئے ہوں یا بے ہوش ہوئے ہی نہ ہوں۔ اس لئے کہ وہ دنیا میں ایک بار بے ہوش ہو چکے۔
[86] اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صور دو بار پھونکا جائے گا۔ درج ذیل احادیث اسی آیت کی تفسیر پیش کرتی ہیں:
[86] اس آیت سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ صور دو بار پھونکا جائے گا۔ درج ذیل احادیث اسی آیت کی تفسیر پیش کرتی ہیں:
نفخہ صور دو بار یا تین بار :۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ دونوں نفخۂ صور میں چالیس کا فاصلہ ہو گا۔ لوگوں نے پوچھا:” ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کیا چالیس دن کا؟“ انہوں نے کہا: ”یہ میں نہیں کہہ سکتا“ پھر لوگوں نے کہا: ”کیا چالیس برس کا؟“ کہنے لگے ”یہ میں نہیں کہہ سکتا“ پھر لوگوں نے کہا: ”کیا چالیس ماہ کا؟“ کہنے لگے: ”یہ میں نہیں کہہ سکتا“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ انسان کا سارا جسم (مٹی میں) گھل جاتا ہے ماسوائے ریڑھ کی ہڈی کے سرے کے۔ (جورائی کے دانہ برابر ہوتی ہے) اسی سے تمام خلقت کو ترکیب دے کر اٹھا کھڑا کیا جائے گا۔ [بخاري۔ كتاب التفسير]
2۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوسری دفعہ صور پھونکنے پر سب سے پہلے میں سر اٹھاؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش تھامے لٹک رہے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ پہلے صور پر بے ہوش ہی نہ ہوں گے یا دوسرے صور پر مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے۔ (کیونکہ دنیا میں وہ ایک دفعہ بے ہوش ہو چکے)“ لیکن سورۃ نمل کی آیت 87 میں ایک اور نفخہ کا بھی ذکر آیا ہے۔ جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہو جائے گی۔ پھر اس کی بعض احادیث سے بھی تائید ہو جاتی ہے اسی لئے بعض علماء کہتے ہیں کہ نفخہ صور تین بار ہو گا۔ پہلے نفخہ پر صرف گھبراہٹ واقع ہو گی دوسرے نفخہ پر لوگ بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے اور مر جائیں گے۔ اور تیسرے نفخہ پر سب انسان جی اٹھیں گے اور اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کے حضور چل کھڑے ہوں گے۔
2۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دوسری دفعہ صور پھونکنے پر سب سے پہلے میں سر اٹھاؤں گا تو دیکھوں گا کہ موسیٰ علیہ السلام عرش تھامے لٹک رہے ہیں۔ اب میں نہیں جانتا کہ وہ پہلے صور پر بے ہوش ہی نہ ہوں گے یا دوسرے صور پر مجھ سے پہلے ہوش میں آجائیں گے۔ (کیونکہ دنیا میں وہ ایک دفعہ بے ہوش ہو چکے)“ لیکن سورۃ نمل کی آیت 87 میں ایک اور نفخہ کا بھی ذکر آیا ہے۔ جسے سن کر زمین و آسمان کی ساری مخلوق دہشت زدہ ہو جائے گی۔ پھر اس کی بعض احادیث سے بھی تائید ہو جاتی ہے اسی لئے بعض علماء کہتے ہیں کہ نفخہ صور تین بار ہو گا۔ پہلے نفخہ پر صرف گھبراہٹ واقع ہو گی دوسرے نفخہ پر لوگ بے ہوش ہو کر گر پڑیں گے اور مر جائیں گے۔ اور تیسرے نفخہ پر سب انسان جی اٹھیں گے اور اپنی قبروں سے نکل کر اپنے پروردگار کے حضور چل کھڑے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
قیامت کی ہولناکی کا بیان ٭٭
قیامت کی ہولناکی اور دہشت و وحشت کا ذکر ہو رہا ہے کہ صور پھونکا جائے گا۔ یہ دوسرا صور ہو گا جس سے ہر زندہ مردہ ہو جائے گا خواہ آسمان میں ہو خواہ زمین میں۔ مگر جسے اللہ چاہے۔
صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ { پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی و قیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد و قہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہرچیز کو اپنی ماتحتی میں کر رکھا ہے آج میں نے سب کو فنا کا حکم دیدیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ سب سے پہلے اسرافیل علیہ السلام کو زندہ کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ دوبارہ نفخہ پھونکیں یہ تیسرا صور ہو گا جس سے ساری مخلوق جو مردہ تھی زندہ ہو جائے گی جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اور نفخہ پھونکا جائے گا اور سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں دوڑانے لگیں گیے۔ یعنی قیامت کی دل دوز حالت دیکھنے لگیں گے }۔
جیسے فرمان ہے «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» ۱؎ [79-النازعات:14،13] یعنی ’ وہ تو صرف ایک ہی سخت آواز ہو گی جس سے سب لوگ فوراً ہی ایک میدان میں آموجود ہوں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ ۱؎ [17-الإسراء:52]، یعنی ’ جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا تو سب اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کو مان لو گے اور دنیا کی زندگی کو کم سمجھنے لگو گے ‘۔
اللہ جل و علا کا اور جگہ ارشاد ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:25] ’ اس کی نشانیوں میں سے زمین آسمان کا اس کے حکم سے قائم رہنا ہے پھر جب وہ تمہیں زمین میں سے پکار کر بلائے گا تو تم سب یکبارگی نکل پکڑو گے ‘۔
صور کی مشہور حدیث میں ہے کہ { پھر باقی والوں کی روحیں قبض کی جائیں گی یہاں تک کہ سب سے آخر خود ملک الموت کی روح بھی قبض کی جائے گی اور صرف اللہ تعالیٰ ہی باقی رہ جائے گا جو حی و قیوم ہے جو اول سے تھا اور آخر میں دوام کے ساتھ رہ جائے گا۔ پھر فرمائے گا کہ آج کس کا راج پاٹ ہے؟ تین مرتبہ یہی فرمائے گا پھر خود آپ ہی اپنے آپ کو جواب دے گا کہ اللہ واحد و قہار کا، میں ہی اکیلا ہوں جس نے ہرچیز کو اپنی ماتحتی میں کر رکھا ہے آج میں نے سب کو فنا کا حکم دیدیا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کو دوبارہ زندہ کرے گا۔ سب سے پہلے اسرافیل علیہ السلام کو زندہ کرے گا اور انہیں حکم دے گا کہ دوبارہ نفخہ پھونکیں یہ تیسرا صور ہو گا جس سے ساری مخلوق جو مردہ تھی زندہ ہو جائے گی جس کا بیان اس آیت میں ہے کہ اور نفخہ پھونکا جائے گا اور سب لوگ اٹھ کھڑے ہوں گے اور نظریں دوڑانے لگیں گیے۔ یعنی قیامت کی دل دوز حالت دیکھنے لگیں گے }۔
جیسے فرمان ہے «فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُم بِالسَّاهِرَةِ» ۱؎ [79-النازعات:14،13] یعنی ’ وہ تو صرف ایک ہی سخت آواز ہو گی جس سے سب لوگ فوراً ہی ایک میدان میں آموجود ہوں گے ‘۔
اور آیت میں ہے «يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا» ۱؎ ۱؎ [17-الإسراء:52]، یعنی ’ جس دن اللہ تعالیٰ انہیں بلائے گا تو سب اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کو مان لو گے اور دنیا کی زندگی کو کم سمجھنے لگو گے ‘۔
اللہ جل و علا کا اور جگہ ارشاد ہے «وَمِنْ اٰيٰتِهٖٓ اَنْ تَــقُوْمَ السَّمَاءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِهٖ ثُمَّ اِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِّنَ الْاَرْضِ اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:25] ’ اس کی نشانیوں میں سے زمین آسمان کا اس کے حکم سے قائم رہنا ہے پھر جب وہ تمہیں زمین میں سے پکار کر بلائے گا تو تم سب یکبارگی نکل پکڑو گے ‘۔
مسند احمد ہے کہ { ایک شخص نے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اتنے اتنے وقت تک قیامت آ جائے گی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے ناراض ہو کر فرمایا ”جی تو چاہتا ہے کہ تم سے کوئی بات بیان ہی نہ کروں۔ میں نے تو کہا تھا کہ بہت تھوڑی مدت میں تم اہم امر دیکھو گے“، پھر فرمایا ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے میری امت میں دجال آئے گا اور وہ چالیس سال تک رہے گا میں نہیں جانتا کہ چالیس دن یا چالیس مہینے یا چالیس سال یا چالیس راتیں پھر اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم علیہا السلام کو بھیجے گا۔ وہ بالکل صورت شکل میں عروہ بن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ جیسے ہوں گے اللہ آپ علیہ السلام کو غالب کرے گا اور دجال آپ علیہ السلام کے ہاتھوں ہلاک ہو گا پھر سات سال تک لوگ اس طرح ملے جلے رہیں گے کہ ساری دنیا میں دو شخصوں کے درمیان بھی آپس میں رنجش و عداوت نہ ہو گی۔
پھر پروردگار عالم شام کی طرف ایک ہلکی ٹھنڈی ہوا چلائے گا۔ جس سے تمام ایمان والوں کی روح قبض کر لی جائے گی یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہ کہیں بھی ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی پہاڑی کی کھوہ میں بھی کوئی مسلمان ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچے گی۔
میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر تو بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اپنے کمینہ پن میں مثل پرندوں کے ہلکے اور اپنی بیوقوفی میں مثل درندوں کے بیوقوف ہوں گے نہ اچھائی اچھائی کو سمجھیں گے نہ برائی کو برائی جانیں گے۔ ان پر شیطان ظاہر ہو گا اور کہے گا شرماتے نہیں کہ تم نے بت پرستی چھوڑ رکھی ہے چنانچہ وہ اس کے بہکاوے میں آ کر بت پرستی شروع کر دیں گے اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی روزی اور معاش میں کشادگی عطا فرمائے ہوئے ہو گا۔
پھر صور پھونک دیا جائے گا جس کے کان میں اس کی آواز جائے گی وہ ادھر گرے گا ادھر کھڑا ہو گا پھر گرے گا۔ سب سے پہلے اس کی آواز جس کے کان میں پڑے گی۔ یہ وہ شخص ہو گا جو اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ پھر تو ہر شخص بے ہوش اور خود فراموش ہو جائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی اس سے لوگوں کے جسم اگ نکلیں گے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو۔ انہیں ٹھہرالو ان سے سوالات کئے جائیں گے پھر فرمایا جائے گا کہ جہنم کا حصہ نکال لو پوچھا جائے گا کس قدر۔ جواب ملے گا ہر ہزار سے نو سو نناوے۔ یہ دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور یہی دن ہو گا جس میں پنڈلی کھولی جائے گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2940]
پھر پروردگار عالم شام کی طرف ایک ہلکی ٹھنڈی ہوا چلائے گا۔ جس سے تمام ایمان والوں کی روح قبض کر لی جائے گی یہاں تک کہ جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر ایمان ہو گا وہ بھی ختم ہو جائے گا۔ یہ خواہ کہیں بھی ہو۔ یہاں تک کہ اگر کسی پہاڑی کی کھوہ میں بھی کوئی مسلمان ہو گا تو یہ ہوا وہاں بھی پہنچے گی۔
میں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ پھر تو بدترین لوگ باقی رہ جائیں گے جو اپنے کمینہ پن میں مثل پرندوں کے ہلکے اور اپنی بیوقوفی میں مثل درندوں کے بیوقوف ہوں گے نہ اچھائی اچھائی کو سمجھیں گے نہ برائی کو برائی جانیں گے۔ ان پر شیطان ظاہر ہو گا اور کہے گا شرماتے نہیں کہ تم نے بت پرستی چھوڑ رکھی ہے چنانچہ وہ اس کے بہکاوے میں آ کر بت پرستی شروع کر دیں گے اس حالت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی روزی اور معاش میں کشادگی عطا فرمائے ہوئے ہو گا۔
پھر صور پھونک دیا جائے گا جس کے کان میں اس کی آواز جائے گی وہ ادھر گرے گا ادھر کھڑا ہو گا پھر گرے گا۔ سب سے پہلے اس کی آواز جس کے کان میں پڑے گی۔ یہ وہ شخص ہو گا جو اپنا حوض ٹھیک کر رہا ہو گا فوراً بے ہوش ہو کر زمین پر گر پڑے گا۔ پھر تو ہر شخص بے ہوش اور خود فراموش ہو جائے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ بارش نازل فرمائے گا جو شبنم کی طرح ہو گی اس سے لوگوں کے جسم اگ نکلیں گے، پھر دوسرا صور پھونکا جائے گا تو سب زندہ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھنے لگیں گے۔ پھر کہا جائے گا اے لوگو! اپنے رب کی طرف چلو۔ انہیں ٹھہرالو ان سے سوالات کئے جائیں گے پھر فرمایا جائے گا کہ جہنم کا حصہ نکال لو پوچھا جائے گا کس قدر۔ جواب ملے گا ہر ہزار سے نو سو نناوے۔ یہ دن ہو گا کہ بچے بوڑھے ہو جائیں گے اور یہی دن ہو گا جس میں پنڈلی کھولی جائے گی“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2940]
صحیح بخاری میں ہے { دونوں نفحوں کے درمیان چالیس ہوں گے راوی حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہا سے سوال ہوا کہ کیا چالیس دن؟ فرمایا میں اس کا جواب نہیں دوں گا کہ کہا گیا چالیس ماہ؟ فرمایا میں اس کا بھی انکار کرتا ہوں۔ انسان کی سب چیز گل سڑ جائے گی مگر ریڑھ کی ہڈی اسی سے مخلوق ترتیب دی جائے گی }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4935]
مسند ابو یعلیٰ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ { اس آیت میں جو استثناء ہے یعنی جسے اللہ چاہے اس سے کون لوگ مراد ہیں }؟ فرمایا شہداء۔ یہ اپنی تلواریں لٹکائے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گے فرشتے اپنے جھرمٹ میں انہیں محشر کی طرف لے جائیں گے۔ یاقوت کی اونٹنیوں پر وہ سوار ہوں گے جن کی گدیاں ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گی۔ انسان کی نگاہ جہاں تک کام کرتی ہے اس کا ایک قدم ہو گا یہ جنت میں خوش وقت ہوں گے وہاں عیش و عشرت میں ہوں گے پھر ان کے دل میں آئے گا کہ چلو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کر رہا ہو گا چنانچہ ان کی طرف دیکھ کر الہ العالمین ہنس دے گا۔ اور اس جگہ جسے دیکھ کر رب ہنس دے اس پر حساب کتاب نہیں ہے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] اس کے کل راوی ثقہ ہیں مگر اسماعیل بن عیاش کے استاد غیر معروف ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کیلئے آئے گا اس وقت اس کے نور سے ساری زمین روشن ہو جائے گی۔ نامہ اعمال لائے جائیں گے۔ نبیوں کو پیش کیا جائے گا جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کر دی تھی۔ اور بندوں کے نیک و بد اعمال کے محافظ فرشتے لائے جائیں گے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ مخلوق کے فیصلے کئے جائیں گے۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم وستم نہ کیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47]، یعنی ’ قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے اور کسی پر بالکل ظلم نہ ہو گا گو رائی کے دانے کے برابر عمل ہو ہم اسے بھی موجود کر دیں گے۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ’ اللہ تعالیٰ بہ قدر ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا وہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے ‘۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ ہر شخص کو اس کے بھلے برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے ‘۔
مسند ابو یعلیٰ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا کہ { اس آیت میں جو استثناء ہے یعنی جسے اللہ چاہے اس سے کون لوگ مراد ہیں }؟ فرمایا شہداء۔ یہ اپنی تلواریں لٹکائے اللہ کے عرش کے اردگرد ہوں گے فرشتے اپنے جھرمٹ میں انہیں محشر کی طرف لے جائیں گے۔ یاقوت کی اونٹنیوں پر وہ سوار ہوں گے جن کی گدیاں ریشم سے بھی زیادہ نرم ہوں گی۔ انسان کی نگاہ جہاں تک کام کرتی ہے اس کا ایک قدم ہو گا یہ جنت میں خوش وقت ہوں گے وہاں عیش و عشرت میں ہوں گے پھر ان کے دل میں آئے گا کہ چلو دیکھیں اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کر رہا ہو گا چنانچہ ان کی طرف دیکھ کر الہ العالمین ہنس دے گا۔ اور اس جگہ جسے دیکھ کر رب ہنس دے اس پر حساب کتاب نہیں ہے }۔ ۱؎ [مسند ابویعلیٰ:ضعیف] اس کے کل راوی ثقہ ہیں مگر اسماعیل بن عیاش کے استاد غیر معروف ہیں۔ «وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَ تَعَالىٰ اَعْلَمُ» ۔
قیامت کے دن جب کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے فیصلے کیلئے آئے گا اس وقت اس کے نور سے ساری زمین روشن ہو جائے گی۔ نامہ اعمال لائے جائیں گے۔ نبیوں کو پیش کیا جائے گا جو گواہی دیں گے کہ انہوں نے اپنی امتوں کو تبلیغ کر دی تھی۔ اور بندوں کے نیک و بد اعمال کے محافظ فرشتے لائے جائیں گے۔ اور عدل و انصاف کے ساتھ مخلوق کے فیصلے کئے جائیں گے۔ اور کسی پر کسی قسم کا ظلم وستم نہ کیا جائے گا۔
جیسے فرمایا «وَنَضَعُ الْمَوَازِيْنَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَـيْــــــًٔا» ۱؎ [21-الأنبياء:47]، یعنی ’ قیامت کے دن ہم میزان عدل قائم کریں گے اور کسی پر بالکل ظلم نہ ہو گا گو رائی کے دانے کے برابر عمل ہو ہم اسے بھی موجود کر دیں گے۔ اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں ‘۔
اور آیت میں ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40] ’ اللہ تعالیٰ بہ قدر ذرے کے بھی ظلم نہیں کرتا وہ نیکیوں کو بڑھاتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے ‘۔ اسی لیے یہاں بھی ارشاد ہو رہا ہے کہ ’ ہر شخص کو اس کے بھلے برے عمل کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ وہ ہر شخص کے اعمال سے باخبر ہے ‘۔