قُلۡ اَفَغَیۡرَ اللّٰہِ تَاۡمُرُوۡٓنِّیۡۤ اَعۡبُدُ اَیُّہَا الۡجٰہِلُوۡنَ ﴿۶۴﴾
کہہ دے پھر کیا تم مجھے غیراللہ کے بارے میں حکم دیتے ہو کہ میں (ان کی) عبادت کروں اے جاہلو!
En
کہہ دو کہ اے نادانو! تم مجھ سے یہ کہتے ہو کہ میں غیر خدا کی پرستش کرنے لگوں
En
آپ کہہ دیجئے اے جاہلو! کیا تم مجھ سے اللہ کے سوا اوروں کی عبادت کو کہتے ہو
En
تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
(آیت 64) ➊ {قُلْ اَفَغَيْرَ اللّٰهِ تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ اَعْبُدُ: ” قُلْ “} کے بعد جملہ ”فاء“ سے شروع ہوتا ہے، مگر ہمزہ استفہام چونکہ کلام کی ابتدا میں ہوتا ہے، اس لیے ”فاء“ کو اس کے بعد کر دیا ہے، اسی طرح جملہ فعلیہ کا آغاز فعل {” تَاْمُرُوْٓنِّيْۤ “} سے ہونا تھا اور {”غَيْرَ اللّٰهِ“} کو {” اَعْبُدُ “} کے بعد ہونا تھا، مگر {”غَيْرَ اللّٰهِ“} کی تحقیر کو نمایاں کرنے کے لیے اسے پہلے ذکر فرمایا۔ یعنی جب ہر چیز کا خالق اللہ ہے اور وہی ہر چیز پر نگران ہے اور اسی کے پاس آسمانوں اور زمین کی کنجیاں ہیں تو پھر کیا اس کے ہوتے ہوئے تم مجھے اس کے غیر کی عبادت کا حکم دیتے ہو، جس کے اختیار میں خود اپنا وجود بھی نہیں؟
➋ { اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ:} جہل کا لفظ حلم کے مقابلے میں آتا ہے اور علم کے مقابلے میں بھی، یہاں علم کے مقابلے میں آیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ”وحدہ لا شریک لہ معبود“ ہونے کے اتنے واضح دلائل اپنے کانوں سے سننے اور آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود پتھروں، قبروں، جانوروں یا اپنے جیسی بے بس اور بے اختیار مخلوق کی عبادت کی پستی میں گرے ہوئے جاہلو! جو نہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا کچھ علم رکھتے ہو کہ صرف اسی کی عبادت کرو، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے واقف ہو کہ انھیں غیر اللہ کی عبادت کی دعوت کی جرأت کر رہے ہو اور نہ ہی اس شرف کا کچھ علم رکھتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں انسان بنا کر عطا کیا ہے کہ اتنی اونچی مخلوق ہو کر اپنے جیسی یا اپنے سے بھی ادنیٰ مخلوق کی عبادت کر رہے ہو۔ اقبال نے کہا ہے:
آدم از بے بصری بندگیٔ آدم کرد
من نہ دیدم کہ سگے پیش سگے سر خم کرد
”آدمی بے سمجھی کی وجہ سے آدمی کی بندگی کرنے لگا۔ میں نے تو یہ بھی نہیں دیکھا کہ کسی کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو۔“
➋ { اَيُّهَا الْجٰهِلُوْنَ:} جہل کا لفظ حلم کے مقابلے میں آتا ہے اور علم کے مقابلے میں بھی، یہاں علم کے مقابلے میں آیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے ”وحدہ لا شریک لہ معبود“ ہونے کے اتنے واضح دلائل اپنے کانوں سے سننے اور آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود پتھروں، قبروں، جانوروں یا اپنے جیسی بے بس اور بے اختیار مخلوق کی عبادت کی پستی میں گرے ہوئے جاہلو! جو نہ اللہ تعالیٰ کی ذات و صفات کا کچھ علم رکھتے ہو کہ صرف اسی کی عبادت کرو، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان سے واقف ہو کہ انھیں غیر اللہ کی عبادت کی دعوت کی جرأت کر رہے ہو اور نہ ہی اس شرف کا کچھ علم رکھتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمھیں انسان بنا کر عطا کیا ہے کہ اتنی اونچی مخلوق ہو کر اپنے جیسی یا اپنے سے بھی ادنیٰ مخلوق کی عبادت کر رہے ہو۔ اقبال نے کہا ہے:
آدم از بے بصری بندگیٔ آدم کرد
من نہ دیدم کہ سگے پیش سگے سر خم کرد
”آدمی بے سمجھی کی وجہ سے آدمی کی بندگی کرنے لگا۔ میں نے تو یہ بھی نہیں دیکھا کہ کسی کتے نے کسی کتے کے آگے سر جھکایا ہو۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
64۔ 1 یہ کفار کی اس دعوت کے جواب میں ہے جو وہ پیغمبر اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا کرتے تھے کہ اپنے آبائی دین کو اختیار کرلیں، جس میں بتوں کی عبادت تھی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
64۔ آپ ان سے کہئے: نادانو! کیا تم مجھے یہ مشورہ دیتے ہو کہ میں اللہ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت [81] کروں؟
[81] کفار کے سمجھوتہ کی شکلیں :۔
کفار مکہ نے اسلام کی راہ روکنے کے لئے کئی قسم کے حربے استعمال کئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ عام طریقہ یہ تھا کہ اسلام لانے والوں پر اس قدر ظلم و ستم ڈھائے جائیں کہ اگر وہ اپنے دین پر واپس نہ آئیں تو دوسروں کو ضرور عبرت حاصل ہو اور وہ اسلام قبول کرنے کا نام تک نہ لیں۔ ان سختیوں کے باوجود بھی جب اسلام پھیلتا گیا تو پھر اس کے سیاسی حل سوچے جانے لگے اور مذاکرات کے سلسلے شروع ہوئے۔ کبھی ابو طالب کی وساطت سے آپ کو دھمکی دی گئی۔ کبھی لالچ کی راہیں دکھائی گئیں اور کبھی باہمی سمجھوتہ کی۔ پھر باہمی سمجھوتہ کی بھی کئی شکلیں تھیں۔ ایک یہ کہ تم بھی لچک اختیار کرو کچھ ہم کرتے ہیں اور اس شکل کا ذکر سورۃ القلم کی آیات نمبر 9 میں مذکور ہے۔ انہیں میں سے ایک شکل یہ تھی کہ زیادہ نہیں تو صرف ایک دفعہ ہی آپ ہمارے بتوں کو سجدہ کر دیں تو پھر ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی باقی باتیں تسلیم کرنے پر آمادہ ہیں۔ انہیں مذاکرات کی ایک قسم ایسی بھی تھی جس پر غور کرنے کے لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم آمادہ ہوچلے تھے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے خیال سے بھی آپ کو سختی سے روک دیا اور اس کا ذکر سورۃ بنی اسرائیل کی آیت نمبر 74 میں آیا ہے۔ یہاں بھی آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ ان مشرکوں کو نہایت سختی سے دو ٹوک جواب دے دیں اور کہہ دیں کہ اے نادانو! ہم سب کا خالق بھی اللہ ہو، مالک بھی اللہ ہو، رازق بھی اللہ ہو، کائنات میں ہر قسم کے تصرفات پر قبضہ بھی اللہ کا ہو، تو آخر میں کس خوشی میں ان بتوں کی عبادت کروں۔ اس سے بڑھ کر بھی کوئی نادانی کی بات ہو سکتی ہے؟ یہ تم مجھے کیسا غلط مشورہ دے رہے ہو؟ علاوہ ازیں مجھ پر بھی یہ وحی آ چکی ہے اور سابقہ تمام انبیاء پر بھی اسی قسم کی وحی آئی تھی کہ جو شخص بھی اور اسی طرح اگر میں خود بھی شرک کروں تو میرے تمام تر اعمال برباد ہو جائیں گے۔ پھر بھلا میں تمہارا یہ مشورہ کیسے قبول کر سکتا ہوں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔