اور پیروری کرو اس بہترین چیزکی جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی طرف سے نازل کی گئی ہے، اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تمہیں اطلاع بھی نہ ہو
En
(آیت 55) ➊ {وَاتَّبِعُوْۤااَحْسَنَمَاۤاُنْزِلَاِلَيْكُمْ …:} یہاں {”اَحْسَنَ“} کی اضافت {”مَاۤاُنْزِلَاِلَيْكُمْ“} کی طرف اضافت بیانیہ ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی قرآن و حدیث کی پیروی کرو، جو ساری کی ساری ہی احسن اور دوسرے ہر کلام سے اچھی ہے، فرمایا: «اَللّٰهُنَزَّلَاَحْسَنَالْحَدِيْثِكِتٰبًامُّتَشَابِهًامَّثَانِيَ» [الزمر: ۲۳]”اللہ نے سب سے اچھی بات نازل فرمائی، ایسی کتاب جو آپس میں ملتی جلتی ہے۔“ مزید تفصیل سورۂ زمر کی آیات (۱۷، ۱۸) کی تفسیر میں دیکھیے۔ ➋ { مِنْقَبْلِاَنْيَّاْتِيَكُمُالْعَذَابُبَغْتَةً:} اچانک عذاب سے اس لیے ڈرایا کہ اس میں نہ سنبھلنے کی مہلت ملے گی نہ توبہ کی، اس لیے جلد از جلد اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی اختیار کر لو، اس سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت تم پر اچانک آ جائے، جب کہ تم سوچتے بھی نہ ہو، کیونکہ عذاب آنے کے بعد کی جانے والی توبہ قبول نہ ہو گی۔ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۱۸)، یونس (۵۱ اور ۹۰، ۹۱) اور سورۂ مومن (۸۴، ۸۵)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
55۔ 1 یعنی عذاب آنے سے قبل توبہ اور عمل صالح کا اہتمام کرلو، کیونکہ جب عذاب آئے گا تو اس کا علم و شعور بھی نہیں ہوگا، اس سے مراد دنیاوی عذاب ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
55۔ اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے پروردگار کے ہاں سے نازل ہوا ہے اس کے بہترین [73] پہلو کی پیروی کرو پیشتر اس کے کہ اچانک تم پر عذاب آجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو
[73] اتباع احسن سے کیا مراد ہے؟
اس آیت کے دو مطلب ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ قرآن کریم سارے کا سارا ہی احسن الحدیث ہے۔ لہٰذا اس میں جو اوامر ہیں ان کی تعمیل کرے، نواہی سے اجتناب کرے، امثال اور قصوں میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے اس سے عبرت اور نصیحت حاصل کرے۔ اس کے برعکس جو شخص جو نہ اوامر کی تعمیل کرے نہ نواہی سے اجتناب کرے اور نہ وعظ و نصیحت سے کوئی اثر قبول کرے۔ ایسا شخص وہ پہلو اختیار کرتا ہے جسے کتاب اللہ بد ترین پہلو قرار دیتی ہے۔ اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ اس کے اوامر کو اچھی سے اچھی شکل میں بجا لائے۔ نواہی سے پوری طرح اجتناب کرے بلکہ جس بات میں شک ہو اسے بھی چھوڑ دے اور پند و نصیحت سے بھی وہ مطلب لے اور اثر قبول کرے جو ایک قلب سلیم کا تقاضا ہوتا ہے۔ اپنے نظریات اور خواہشات کو قرآن سے کشید کرنے کی کوشش نہ کرے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔