(آیت 48) {وَبَدَالَهُمْسَيِّاٰتُمَاكَسَبُوْا …:} اور ان کے سامنے ان کے اعمال کی برائیاں یعنی ان کے برے نتائج ظاہر ہو جائیں گے اور وہی عذاب جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے انھیں چاروں طرف سے گھیر لے گا۔ [أَعَاذَنَااللّٰہُمِنْہُ]
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
48۔ 1 یعنی دنیا میں جن محارم و ما ثم کا وہ ارتکاب کرتے رہے تھے، اس کی سزا ان کے سامنے آجائے گی۔ 48۔ 2 وہ عذاب انہیں گھیر لے گا جسے وہ دنیا میں ناممکن سمجھتے تھے، اس لئے کہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
48۔ اور جو کام وہ کرتے رہے اس کے برے نتائج [64] ان کے سامنے آ جائیں گے اور جس (عذاب) کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے وہ انہیں آگھیرے گا
[64] اللہ کی گستاخی کیسے ہوتی ہے؟
یعنی مشرکین اپنے معبودوں کی شان بڑھا چڑھا کر بیان کرتے تھے جس کا نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اللہ تعالیٰ ان کے معبودوں کے مقابلہ میں کچھ بھی نہیں۔ قیامت کے دن ان کو ٹھیک طرح سے یہ علم ہو جائے گا کہ ہر طرح کا اختیار اور قدرت صرف اللہ کے پاس ہے اور ان کے معبود بالکل بے بس ہیں۔ اس دن وہ اللہ کی شان میں گستاخیوں کے نتائج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ اور اللہ کے جس عذاب کا صرف اس لیے مذاق اڑایا کرتے تھے کہ روز آخرت کے ہی منکر تھے، وہی عذاب انہیں ہر طرف سے گھیرے میں لے لے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔