اس آیت کی تفسیر آیت 39 میں تا آیت 41 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
40۔ 1 جس سے واضح ہوجائے گا کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون؟ اس سے مراد دنیا کا عذاب ہے جیسا کہ جنگ بدر میں ہوا کافروں کے ستر آدمی قتل اور ستر ہی آدمی قید ہوئے حتی کہ فتح مکہ کے بعد غلبہ وتمکن بھی مسلمانوں کو حاصل ہوگیا جس کے بعد کافروں کے لیے سوائے ذلت و رسوائی کے کچھ باقی نہ رہا 4۔ 2 اس سے مراد عذاب جہنم ہے جس میں ہمیشہ مبتلا رہیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
40۔ کس پر ایسا عذاب آتا ہے جو اسے رسوا کر دے اور اس پر دائمی عذاب [56] نازل ہوتا ہے۔
[56] رسوا کرنے والے عذاب سے مراد دنیا کا عذاب ہے۔ گویا تھوڑی ہی مدت بعد تم اس رسوائی کے عذاب سے دوچار ہو جاؤ گے اور دائمی عذاب سے مراد آخرت کا عذاب ہے جس کا علم تمہیں مرنے کے ساتھ ہی ہو جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔